اصلاح کا سبب

تحریر : دانیا ل حسن چغتائی


رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔

 وہ اسکول میں سب سے نمایاں، تقریبات میں سب سے آگے اور اپنی شاندار مصوری کی صلاحیت کے باعث مشہور تھی۔ جب بھی کوئی اس کی پینٹنگ دیکھ کر تعریف کرتا تو اسے بہت خوشی ہوتی۔ 

رابیعہ کا شوق تھا کہ وہ صرف خوبصورت چیزوں کو ہی اپنی قربت میں رکھے۔ وہ رنگوں کو پسند کرتی تھی۔ دوستی بھی ان لڑکیوں سے کرتی جو اس کے خیال میں خوبصورت اور اس کے معیار کی ہوتیں۔ اس میں ایک بہت بڑی خامی بھی تھی کہ اگر کوئی اس کی تصویر میں معمولی سی خامی بھی نکالتا تو وہ سیخ پا ہو جاتی۔

ایک دن شہر میں لگنے والی پھولوں کی نمائش سے واپسی پر اس کی نظر سڑک کنارے چھوٹے سے لڑکے پر پڑی جس کے ہاتھ میں چند مرجھائے ہوئے پھول تھے، جنہیں وہ بڑی معصومیت سے بیچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

باجی پھول لے لیں؟ بہت سستے دے دوں گا۔

رابیعہ نے اسے اوپر سے نیچے تک حقارت بھری نظر سے دیکھا اور رخ موڑ لیا۔یہ بات گھر آ کر اس نے امی کو بھی بتائی جو حیران پریشان رہ گئیں۔ 

اگلے دن رابیعہ اپنے کمرے میں مصروف تھی۔ اس کے قریب رنگوں کی ڈبیاں، برش اور نا مکمّل پینٹنگ پڑی تھی۔ وہ پھولوں سے اپنا نیا گلدان سجا رہی تھی کہ اسی وقت امی اندر آئیں۔ امی نے پینٹنگ پر نظر ڈالی اور بغیر مسکرائے بولیں:رابیعہ، یہ تصویر مجھے اچھی نہیں لگی۔

رابیعہ حیران ہو کر بولی :امی! آپ کو تو ہمیشہ میری پینٹنگز پسند آتی ہیں تو آج کیوں نہیں؟

امی نے کرسی کھینچی اور بیٹھ گئیں۔اس لیے بیٹا کہ تصویر میں وہ جان نہیں، وہ احساس نہیں جو اچھے مصور کی پہچان ہوتا ہے۔

رابیعہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ امی بھی ایسا کہیں گی۔

امی نے اس کے قریب آکر اس کے آنسو صاف کیے اور محبت بھرے لہجے میں بولیں: رابیعہ کیا تم جانتی ہو کہ دنیا کا سب سے بڑا مصور کون ہے؟

رابیہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا ـ:اللہ

امی مسکرائیں اور کہا: ہاں، وہی جس نے پہاڑ، دریا، سمندر، رنگین پرندے، شبنم کے قطرے، پھول سب کچھ بنایا۔ اسی نے انسان کو بھی تخلیق کیا۔ کسی کو خوبصورتی دی، کسی کو ذہانت، کسی کو سہولتیں دیں اور کسی کو محروم رکھا۔ یہ سب اس کا نظام اور اس کی آزمائش ہے۔

امی نے بات جاری رکھی،کل تم نے اس بچے کا مذاق اڑایا تھا نا، دیکھو بیٹا، جب ہم کسی انسان میں عیب نکالتے ہیں تو ہم اللہ کی تخلیق میں عیب نکالتے ہیں۔ جس طرح تمہیں اپنی پینٹنگ میں امی کی تنقید بری لگی، اسی طرح اللہ کو بھی برا لگتا ہوگا کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق کو تم حقارت سے دیکھو۔

رابیعہ کا دل بیٹھنے لگا۔امی کی باتیں اس کے دل میں اتر رہی تھیں۔اسے شرمندگی محسوس ہونے لگی۔ 

امی میں غلطی پر تھی،اس نے ہلکی آواز میں کہا۔

امی نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا: غلطی ہو جائے تو انسان چھوٹا نہیں ہوتا لیکن غلطی مان کر بدل جانا انسان کو بڑا بنا دیتا ہے۔ 

اگلی صبح وہ وہاں سے گزری تو وہ بچہ وہاں موجود تھا۔ رابیعہ نے اسے مخاطب کر کے کہا:بھائی پھول کتنے کے ہیں؟

بچہ چونکا،پھر مسکرا کر بولا: باجی پچاس کا ہے۔

رابیعہ نے اس کے سارے پھول خرید لیے۔ اسے اب بہت سکون محسوس ہو رہا تھا۔ 

اس نے نئی پینٹنگ بنانی شروع کی، چھوٹا بچہ، ہاتھ میں پھول، پیچھے شام کا منظر۔

اس کی نئے موضوع کی اس تصویر کو اتنی پزیرائی ملی کہ وہ خود حیران رہ گئی۔ 

بظاہر چھوٹا سا ایک واقعہ اس کی اصلاح کا سبب بن گیا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)

صلوٰۃ التسبیح گناہوں کی معافی کا عظیم تحفہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، وہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ہے۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں۔

مسائل اور ان کا حل

تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔