جنت کا متلاشی (تیسری قسط )

تحریر : اشفاق احمد خاں


عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔

 آپؓ نے جلیل القدر صحابی زید بن ثابتؓ سے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ نازل شدہ تمام قرآن انہوں نے لکھ لیا تھا۔

آپؓ بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے اور کبھی اس سے اکتاتے نہیں تھے۔ آپ ؓقرآن پاک کو یاد کر لینا ہی کافی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے ساتھ دلوں کو آباد کرنا ضروری سمجھتے تھے، تاکہ اللہ کا فرماں بردار بندہ بن سکیں۔ اسی لئے جب آپؓ تلاوت کرتے تو پورے یقین اور ایمان کی کیفیت کے ساتھ ہر کلمے پر ٹھہرتے، اس پر غور و فکر کرتے۔ دوران تلاوت جب جنت کا ذکر آتا تو آپؓ کی کیفیت کچھ یوں ہو جاتی جیسے جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، جب دوزخ کا ذکر آتا تو اس طرح گھبرا جاتے جیسے دوزخ کے عذاب اور وہاں کی چیخ پکار کو سن رہے ہیں۔ تلاوت کے دوران آپؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ 

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ صرف قرآن ہی سے محبت نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ سنت رسولﷺ کے بھی شیدائی تھے۔ جو بات بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلتی یا آپﷺ جو بھی کام کرتے، عبداللہ رضی اللہ عنہ اسے ذہن میں نقش کر لیتے۔ انہوں نے نبی کریمﷺ کی اجازت کے ساتھ کئی احادیث مبارکہ کو لکھا۔ حالانکہ صحابہ کرام ؓ اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے کہ قرآن کی طرح، کسی اور چیز کو بھی لکھا جائے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو احادیث لکھنے سے منع فرمایا: ’’ تم میری بات نہ لکھو، جو کوئی تم میں سے قرآن کے علاوہ کچھ لکھ بیٹھا ہے اس کو مٹا دو‘‘۔

اس ہدایت اورتنبیہ کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قرآن ان کے دل و دماغ میں اچھی طرح مضبوط اور پائیدار ہو جائے۔ انہیں قرآن مجید کی لکھائی کے ساتھ احادیث مبارکہ کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اس سے یہ ثابت کرنا بھی مقصود تھا کہ قرآن جیسا کلام اور کتاب اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ لیکن یہ سب شروع شروع کی باتیں تھیں۔ جب صحابہ کرام ؓقرآن اور اس کی تعلیمات کو اچھی طرح پہچان گئے۔ قرآنی آیات اور احادیث کے آپس میں مل جانے کا خدشہ ختم ہو گیا۔ تب احادیث کو لکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ خود عبداللہ ؓ فرماتے ہیں: ’’ میں ہر وہ بات لکھ لیا کرتا تھا جو رسول اللہ ﷺکی زبان اطہر سے نکلتی تھی اور میرے کانوں میں پڑ جاتی تھی۔ مجھے لکھتے دیکھ کر صحابہ کرام ؓ نے منع کر دیا ‘‘۔میں نے صحابہ کرام ؓ کے کہنے پر لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر ایک دن میں نے رسول اللہﷺ سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ اے عبداللہ تم لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس زبان سے حق کے علاوہ کوئی کلمہ نکلتا ہی نہیں‘‘۔

لکھنے کی وجہ ہی سے آپؓ کو دوسرے صحابہ کرام ؓ سے زیادہ احادیث یاد تھیں۔ حتیٰ کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ احادیث آپؓ کو یاد تھیں۔ خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ’’ مجھ سے زیادہ کسی صحابیؓ کو احادیث مبارکہ یاد نہیں سوائے عبداللہ بن عمروؓکے، اس لئے کہ وہ لکھتے تھے‘‘۔

عبداللہ رضی اللہ عنہ کی لکھی ہوئی احادیث ایک مجموعے کی شکل اختیار کر گئی تھیں جسے لوگ ’’صحیفۂ صادقہ‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ صحیفہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بڑا محبوب تھا۔ آپؓ اس میں کسی لفظ کو  تبدیل کرتے نہ ہی کوئی کمی بیشی کرتے۔

امام مجاہد ؒ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں عبداللہ بن عمرو ؓکی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے سے اس صحیفہ کو نکال لیا، جب انہوں نے دیکھا تو مجھے کہا کہ اسے واپس رکھ دو۔ میں نے کہا ’’ آپؓ تو مجھے کسی چیز سے نہیں روکتے تھے، آج کیوں اس صحیفہ سے روک رہے ہیں‘‘؟ انہوں نے جواب دیا: ’’اس میں وہ باتیں ہیں جو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنی ہیں۔ جب میرے پاس یہ دو چیزیں محفوظ ہوں گی یعنی یہ صحیفہ اور اللہ کی کتاب تو مجھے اس کے مقابلے میں اپنی زرخیز زمین کی بھی کوئی پروا نہیں‘‘۔

صحیفۂ صادقہ سے چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد، غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہیں ہوتی۔ کھائو پیو، صدقہ خیرات کرو جو چاہو کپڑے پہنو، شرط یہ ہے کہ اس میں فضول خرچی اور تکبر نہ ہو۔وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا، بڑوں کا ادب نہیں کرتا۔ کیا میں تمہیں نہ بتائوں کہ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب کون ہے اور قیامت کے روز میرے سب سے زیادہ قریب کون ہوگا جس کا تم میں سے اخلاق اچھا ہوگا۔(جاری ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔