پاکستانی اعلان، بھارت نوازآئی سی سی پریشان

تحریر : زاہداعوان


پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار:پاکستان بائیکاٹ کے اعلان پر نظر ثانی کرے:سری لنکا کا پی سی بی کو خط،ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026ء میں بنگلہ دیش کیخلاف جانبدارانہ فیصلے کے بعد پاکستانی ردعمل نے آئی سی سی اور بھارت کی نیندیں اڑا دیں

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی بھارت نوازپالیسی کے باعث انتہائی متنازعہ اور جانبدارانہ فیصلہ تو کردیا لیکن جب بنگلہ دیش کے بڑے بھائی پاکستان نے اپنا ردعمل دیا تو اب آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ دونوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور منت سماجت پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن پاکستان اپنے موقف پرقائم ہے۔ 

ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی)واقعی سخت پریشان اور اس کی بھارت نوازی زمین بوس ہو گئی۔ آئی سی سی پاکستان کو منانے کیلئے راستے تلاش کرنے لگا ہے۔آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے معاملے پر پاکستان سے بیک چینل بات چیت کرنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو ذمے داری دی ہے۔عمران خواجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے ٹی 20 ورلڈ کپ کے معاملے پر بات کریں گے۔ سنگاپور کرکٹ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرنے والے عمران خواجہ کو پی سی بی کو کھیلنے پر آمادہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ کاگزشتہ روز7 فروری سے آغاز ہو چکا ہے جو 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز، امریکہ ہیں۔قومی ٹیم کا 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ شیڈول ہے تاہم بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر احتجاجاً بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی ملاقات میں ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی جس کے بعد حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ کیلئے میدان میں نہیں اترے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے تمام تر تحفظات مسترد کرتے ہوئے اسے ایونٹ سے باہر کرکے سکاٹ لینڈ کی ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شامل کرلیا تھا۔

ٹی 20 ورلڈکپ 2026ء میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر آئی سی سی کے ردِعمل میں کہا گیا کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے باضابطہ فیصلے سے آگاہ کرنے کا منتظر ہے۔  پاکستان ایونٹ کے مخصوص میچز میں شرکت کرے گا، اس پوزیشن کو عالمی کھیلوں کے ایونٹ کی بنیاد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے، جہاں تمام ٹیموں سے ایونٹ کے شیڈول کے مطابق مساوی شرائط پر مقابلہ کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ٹورنامنٹس کھیلوں کی سالمیت، مسابقت، مستقل مزاجی اور انصاف پر مبنی ہوتے ہیں اور مخصوص میچز میں شرکت مقابلوں کی افادیت کو مجروح کرتا ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتی ہے، فیصلہ پاکستان کے کروڑوں شائقین سمیت دنیا بھر کے فینز کے مفاد میں نہیں، یہ فیصلہ بین الاقوامی کرکٹ کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ آئی سی سی کی ترجیح مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا کامیاب انعقاد ہے، جس کی ذمہ داری پی سی بی سمیت اس کے تمام ممبران کی بھی ہونی چاہیے، آئی سی سی نے امید کا اظہار کیا کہ پاکستان ایسے تصفیے کی تلاش کرے گا، جو باہمی طور تمام سٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرے۔ 

ادھر پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی)کا ردِعمل بھی سامنے آگیا۔بی سی سی آئی کے ایک رکن نے بھارتی خبر ایجنسی کو بتایا کہ انڈین ٹیم آئی سی سی پروٹوکول کے مطابق سری لنکا کا سفر کرے گی۔ٹیم انڈیا سری لنکا جائے گی اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطوں پر عمل بھی کرے گی۔بھارتی ٹیم شیڈول کے مطابق پریکٹس کرے گی، پریس کانفرنس میں بھی شرکت کرے گی، مقررہ وقت پر سٹیڈیم پہنچے گی اور میچ ریفری کی جانب سے میچ منسوخ کیے جانے کا انتظار کرے گی۔

 حکومت پاکستان کے اس دلیرانہ فیصلے نے ایک طرف روایتی حریف کے خلاف قومی امنگوں کی ترجمانی کی ہے تو دوسری طرف اپنے مشرقی بھائیوں بنگلہ دیشی عوام سے اظہار یکجہتی کرکے بنگالیوں کے دل بھی جیت لیے ہیں۔ بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے سے پاکستان کو صرف 2 پوائنٹس کا نقصان ہوگا تاہم اس فیصلے سے آئی سی سی اور بھارتی مفادات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کے بائیکاٹ کے بعد بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر تقریباً 200 کروڑ بھارتی روپے کے نقصان کا امکان ہے۔ 

بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کو ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جو نشریاتی حقوق کی قیمت، سپانسر شپ معاہدوں اور اشتہارات کی بھاری آمدن کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔بھارتی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق تجارتی اعتبار سے ایک واحد پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی میچ کی مجموعی مالیت تقریباً 500 ملین ڈالر بنتی ہے، جو نشریاتی حقوق، اشتہاری پریمیئم، اسپانسر شپ سرگرمیوں، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے تقریباً 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے برابر ہے۔ پاک بھارت میچ کے دوران 10سیکنڈ کے اشتہاری سلاٹ کی قیمت 25 لاکھ سے 40 لاکھ بھارتی روپے تک ہوتی ہے، جو بھارت کے دیگر بڑے میچز، حتیٰ کہ ناک آٹ مقابلوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

پاک بھارت میچ نہ ہونے کی صورت میں سب سے زیادہ مالی نقصان بھارتی سرکاری براڈکاسٹ رائٹس رکھنے والے ادارے کو ہو گا۔ اس صنعت سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق صرف اس ایک میچ سے حاصل ہونے والی اشتہاری آمدن تقریباً 300 کروڑ بھارتی روپے تک ہو سکتی تھی۔اس حوالے سے سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف نے نشاندہی کی ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر کارپوریٹ سرمایہ کاری کی جا چکی ہے،ان کے مطابق بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کے میڈیا گروپ نے تقریباً 900 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ باقی دنیا کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 600 ملین ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ 

جب مارکیٹ میں اس قدر بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک براڈکاسٹر تک محدود نہیں رہتے، جب بھارت متاثر ہوتا ہے، بی سی سی آئی متاثر ہوتی ہے اور بالآخر آئی سی سی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ سری لنکا کرکٹ نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان سے سری لنکا کی ٹوورازم سیکٹر متاثر ہوا، بائیکاٹ کی وجہ سے بڑی تعداد میں فینز نے ہوٹلز کی بکنگ منسوخ کر دی۔ پاک بھارت میچ کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں، میچ کے ٹکٹس کی فروخت سمیت میزبانی کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ پاک بھارت میچ کے ٹکٹس کی فروخت مکمل ہو چکی، ٹکٹس کی ڈیمانڈ بھی سب سے زیادہ ہے۔ سری لنکا کرکٹ نے مشکل وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دیا ہے، متعدد چیلنجز، حساس حالات، سیکیورٹی واقعات کے باوجود سری لنکن ٹیم نے پاکستان کے دورے کیے۔ اس تناظر میں سری لنکا کرکٹ نے پاکستان سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، سری لنکا نے تمام میچز میں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کی یقین دہانی کروائی ہے۔دیگر کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کو بائیکاٹ نہ کرنے اور فیصلے پر نظر ثانی کا کہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تعلیم اور کامیابیوں میں والدین کا کردار

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اس معاشرے کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ سکول، اساتذہ اور تعلیمی ادارے بچوں کو علم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

موسم بہار کے صحت پر اثرات

رہنمائی، احتیاط اور مفید مشورے

آج کا پکوان:چکن وائٹ کڑاہی

اجزا:چکن :آدھا کلو،پیاز :تین عدد، لہسن کا پیسٹ : آدھا چائے کا چمچ،ادرک :ایک انچ کا ٹکڑا باریک کٹا ہوا،ہری مرچ: باریک کتری ہوئی 3 عدد،پسی کالی مرچ؛

فیض احمد فیض روایت اور انفرادیت سے کہیں آ گے

انہیں بجا طور پر انہیں نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض کا منفرد اسلوب

کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔

ٹی 20ورلڈ کپ2026ء:پاکستان کا فاتحانہ آغاز

عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست