فیض کا منفرد اسلوب
کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔
صاحبِ طرز شاعر اپنے عہد کی مروجہ شاعری سے ہٹ کر بہت سی تبدیلیاں لاتا ہے۔ اسلوب اور لہجے کا انفراد ہی شاعر کو دیگر شعرا میں ممتا ز کرتا ہے۔ فیض احمد فیض کی اُردو غزل کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگانا ان کے اسلوب کو سمجھے بغیر ممکن نہیں۔ ان کی شاعری مختلف اسالیب کی حامل ہے مگر ان کا رمزیہ اسلوب خاص اہمیت کا حامل ہے۔
غالب کے بعد اردو غزل میں رمزی و ایمائی لب و لہجہ کا استعمال کم ہونے لگا اور بیانیہ شاعری اپنے موضوعات کی تخصیص کی بنا پر رمز و ایما اور شعری محاسن سے گریز کرنے لگی۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس دور میں محمد حسین آزاد اور کرنل ہالرائیڈ کی تحریک سے جس قسم کی موضوعاتی نظموں کو ترویج ملی، نظم تو خیر نظم، غزل میں بھی شاعرانہ رمزو ایما سے دانستہ انحراف کیا گیابلکہ جدید شاعری میں اس ضرورت کو تکلفِ محض سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی کیونکہ شاعری کی قدرِ اول براہِ راست مقصدیت کے تحت عوام کے قریب تر ہونا تھا اور تحریکی سطح پر ایک قومی شعور کو اجاگر کرنا مقصود تھا،اس طرزِ فکر اور مقصدیت کے پیش نظر ہمارے سامنے اس عہد کی نمایاں مثال چکبست، سرور جہاں آبادی، خوشی محمد ناظر، سیماب اکبر آبادی جیسے شعرا ہیں جن کی نظمیں قومی فکر اور محاکاتی رنگ و آہنگ سے آراستہ ہیں۔مگر ایک بڑے شاعر کے ہاں بڑے امکانات کا در کھولنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی سو اقبال اس طرزِ فکر میں رہتے ہوئے بھی تخلیقی سطح پر ذخار ذہن کے مالک تھے اور ان کی طبعی اور شاعرانہ صلاحیت کہیں آگے تھی۔ چنانچہ اقبال کے ہاں وہ سب شعری محاسن ہمیں بڑی سطح پر نظر آتے ہیں جن کا اخذ و استفاد ہم ایک لحاظ سے غالب کی شاعری کو بھی قرار دے سکتے ہیں۔
فیض احمد فیض اس سارے پس منظر سے آگے بھی تھے اور خود ایک مدت تک انہوں نے اپنے پیشرو شعرا کی شعری کائنات کو دیکھا اور پرکھا بھی تھا۔ طبعی لحاظ سے وہ بہرحال ایک بڑا ذہن رکھتے تھے اور پیش پا راستے کے سارے مدّ و جزر سے واقف ہوتے ہوئے انہوں نے اپنا راستہ الگ بنانا شروع کر دیا۔ ان کے پہلے شعری مجموعہ ’’نقش فریادی‘‘ میں ہمیں بعض ایسی نظمیں ملتی ہے جو اگرچہ شاعرانہ تاثیر سے خالی نہیں مگر وہ رنگ ’’زنداں نامہ‘‘ اور ’’دست صبا‘‘ میں نظر آتا ہے اس کی تلاش ان کے پہلے شعری مجموعے میں لاحاصل ہوگی کہ فیض نے کہیں دانستہ و شعوری طور پر اور کہیں ناداستہ و غیر شعوری طور پر نئی اردو غزل میں اپنی شدتِ احساس کے تحت جو راستہ اپنایا وہ خالصتاً ان کا اپنا ہے۔ اس اعتبار سے اقبال کے بعد فیض احمد فیض ہی ایسے شاعر ہیں جنہوں نے غزل میں نئے رمزی وایمائی پیکر تراشے اور پرانی علامات و استعارات سے نئے مفاہیم اور نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ فیض کی غزل کا منفرد رمزیہ اسلوب خاص اہمیت رکھتا ہے چنانچہ اپنے اس منفرد اسلوب کے باعث فیض دیگر ترقی پسند شعرا کی صف میں نمایاں نظر آتے ہیں کہ انہوں نے براہ راست بیان کے بجائے علامتی اظہار کا پیرایہ اختیار کیا۔فیض نے ترقی پسند شعرا کے مخصوص اندازِ شعر اور ان کی اختیار کردہ لفظیات کو برتنے سے گریز کیا۔
اس دور میں تیشہ، پرچم، سرخ سویرا، اجرت،رات، صلیب، سایہ، سورج وغیرہ کی علامتیں کثرت سے استعمال ہو رہی تھیں۔ انہوں نے ان علامتی الفاظ کی یکسانی سے اپنے لیے علیحدہ راہ اختیار کرتے ہوئے کلاسیکی شاعری کی لفظیات کو نئے مفاہیم سے ہم کنار کیا کہ وہ مخصوص علامت جو ترقی پسند شعرا کی نعرہ بازی کی وجہ سے پامال ہونے لگی تھیں، فیض کے ہاں وہ معنوی سطح پر تہہ داری کے ساتھ اجاگر ہوئیں۔ یوں دیکھا جائے تو فیض احمد فیض نے ایک نئی شعری زبان وضع کی، گویا نئے موضوعات کے لیے نئے معنوی نظام کو متعارف کرایا۔ترقی پسند شعرا میں فیض ہی واحد شاعر تھے جو رمزی و ایمائی الفاظ کی طاقت اور افادیت سے پوری طرح واقف تھے۔چنانچہ فیض کی غزل کا کلاسیکی رنگ اور رچاؤ اسی تہہ داری سے تشکیل پاتا ہے۔اسی تہہ داری اور رمزیت کی خوبی نے ان کی غزل میں نئے سے نئے مضامین کا خوبصورت اضافہ کیا۔ مزاج کی اس خاصیتّ نے ان کی نظم کے آہنگ میں بھی غزل کی خوبصورتی بھر دی۔ فیض کی بہت سی نظمیں بلکہ شاید اکثر نظموں میں غزل ہی کے تیور دکھائی دیتے ہیں۔