سپر ایٹ :نئی گروپ بندی، نیاامتحان
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء:پاکستان نے ٹی 20 ورلڈکپ 2028 ء کیلئے براہ راست کوالیفائی کر لیا:سپرایٹ میں پاکستان اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل چکا،انگلینڈ اورسری لنکا کیخلاف امتحان باقی، سیمی فائنل میں رسائی کیلئے سپرایٹ کے دو میچز جیتنا لازمی
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 ء کا میلہ اب اپنے فیصلہ کن اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گروپ سٹیج کے اعصاب شکن مقابلوں کے بعد بالآخر وہ 8 ٹیمیں سامنے آ گئی ہیں جو اب ’’سپر8مرحلے‘‘ میں ٹرافی کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے نمیبیا کے خلاف اپنے آخری فیصلہ کن میچ میں 102 رنز کی شاندار فتح حاصل کر کے گروپ اے سے سپر ایٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کیا ہے، جس سے قوم اور شائقین کرکٹ کی امیدیں ایک بار پھر روشن ہو گئی ہیں۔پاکستان نے روایتی حریف دفاعی چیمپئن بھارت کے ساتھ گروپ اے سے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کی، سری لنکا اور زمبابوے گروپ بی، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ گروپ سی جبکہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ گروپ ڈی سے دوسرے(سپر8) مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔
اس کامیابی کے ساتھ قوم کیلئے ایک اور خوشخبری یہ بھی ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء کے سپر ایٹ تک پہنچنے والی ٹیموں نے 2028 ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے اگلے ایڈیشن کیلئے براہ راست کوالیفائی کر لیا ہے۔ 2028ء ایونٹ کے شریک میزبان کے طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کوبھی براہ راست اہلیت دی گئی ہے۔ اہلیت کے معیار کے مطابق آسٹریلیا کے ساتھ نیوزی لینڈ سمیت سپر ایٹ کی تمام ٹیموں نے اب 2028 ء کے ٹورنامنٹ کے لیے اپنی اپنی انٹری پکی کر لی ہے، اس طرح آسٹریلیا اور سپرایٹ کی آٹھ ٹیموں کیساتھ کل 9ٹیمیں اگلے ایڈیشن کیلئے کوالیفائی کرچکی ہیں جبکہ 12براہ راست کوالیفائرزٹیموں کی فہرست آئی سی سی مردوں کی ٹی 20 انٹرنیشنل ٹیم رینکنگ میں اگلی تین اعلیٰ درجہ کی ٹیموں کے ذریعے 9 مارچ تک مکمل ہوجائے گی۔آئی سی سی اعلامیے کے مطابق 2028ء کے ٹی 20ورلڈ کپ میں بھی 20 ٹیمیں شریک ہوں گی جبکہ باقی 8 ٹیموں کا فیصلہ ریجنل کوالیفائرز کی بنیاد پر ہوگا۔
جاری ٹی 20 ورلڈکپ ،پہلے رائونڈ کے گروپ میچوں میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اتار چڑھا ئو کے بعد گرین شرٹس نے جس طرح کم بیک کیا ہے اس سے یقینا شاہینوں کا مورال تو بلند ہوا ہے لیکن اسے برقرار رکھنے کیلئے بائولنگ اوربیٹنگ کے ساتھ فیلڈنگ میں بھی غلطیوں سے بچنا ہوگااور طے شدہ حکمت عملی کے مطابق میچز کھیلنا ہوں گے۔ پاکستان کا اس ورلڈ کپ میں سفر کسی رولر کوسٹر سے کم نہیں رہا۔ بھارت کے خلاف شکست اور نیدر لینڈز کے خلاف مشکل جیت نے کئی سوالات کھڑے کیے تھے، لیکن نمیبیا کے خلاف فتح نے ٹیم کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ صاحبزادہ فرحان کی ناقابلِ شکست سنچری نے ٹیم کی بیٹنگ لائن میں نئی روح ڈال دی ہے اورثابت کیا کہ پاکستان کا ٹاپ آرڈر فارم میں واپس آ رہا ہے۔ صائم ایوب کے ساتھ سلمان علی آغا کی قیادت میں مڈل آرڈر نے بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کیا ہے۔ نوجوان سپنر عثمان طارق کی بائولنگ کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا اور انہوں نے آخری گروپ میچ میں چار وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کے اعتماد میں مزید اضافہ کیا۔ اسی طرح شاداب خان کی آل رائونڈ کارکردگی بھی گرین شرٹس کیلئے نیک شگون ہے،خاص طور پر مڈل اوورز میں رنز روکنے کی صلاحیت پاکستان کو دیگر ٹیموں پر برتری دلا سکتی ہے۔
سپر ایٹ مرحلے میں نئی گروپ بندی اور سخت مقابلے ہوں گے، اب ٹورنامنٹ دو گروپس میں تقسیم ہو چکا ہے، جہاں ہر ٹیم تین تین میچ کھیلے گی اور ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ ببنائیں گی۔ گروپ1میں بھارت، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے جبکہ گروپ 2میں پاکستان، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاکستان کیلئے گروپ 2 میں راستہ آسان نہیں ہے۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیمیں ٹی 20 فارمیٹ کی ماہر مانی جاتی ہیں، جبکہ سری لنکا اپنے ہوم گرائونڈ پر کسی بھی ٹیم کو اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ سطور شائع ہونے تک پاکستان سپرایٹ میں اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل چکا ہوگا۔قومی ٹیم 24فروری کو انگلینڈ کے خلاف سپرایٹ مرحلے کا اپنا دوسرا میچ کھیلے گی، سیمی فائنل میں رسائی کیلئے پاکستان کو ٹورنامنٹ میں سب سے بڑا چیلنج یہی میچ ہوگا۔ انگلینڈ کا اٹیکنگ سٹائل ہمیشہ پاکستان کیلئے مشکل پیدا کرتا ہے، لہٰذا بائولروں کو پہلے اسپیل میں وکٹیں لینی ہوں گی۔گرین شرٹس سپرایٹ مرحلے میں آخری میچ میزبان سری لنکا کیخلاف 28فروری کو کھیلیں گی،سری لنکا کو ہوم گرائونڈ کا ایڈوانٹیج ہوگا اور وہ گرین شرٹس کو ٹف ٹائم دیں گے۔ اس میچ میں بھی پاکستان کے سپنرز (شاداب خان اور عثمان طارق)کا کردار کلیدی ہوگا۔سیمی فائنل تک رسائی کیلئے پاکستان کی کامیابی کا دارومدار اب مستقل مزاجی پر ہے۔