چوکوں چھکوں کی بہار،6میدان تیار
پاکستان سپرلیگ سیزن10:11روز بعد شروع ہونیوالے پی ایس ایل11میں8ٹیمیں شرکت کریں گی:ہر ٹیم لیگ مرحلے میں 10 میچ کھیلے گی، پلے آف مرحلہ 28 اپریل سے شروع ہوگا، لیگ میں 12 ڈبل ہیڈرز کھیلے جائیں گے
پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)کا گیارہواں سیزن اپنے ساتھ کئی ایسی تبدیلیاں لے کر آ رہا ہے جو اس لیگ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔ آٹھ ٹیموں کی شرکت، نئے شہروں کی شمولیت اور فرنچائزز کی ملکیت میں تبدیلیوں نے شائقینِ کرکٹ کے جوش و خروش کو دو بالا کر دیا ہے۔
پی ایس ایل 11 کی سب سے بڑی خاصیت اس کا توسیعی ماڈل ہے۔ پہلی بار لیگ میں 6 کے بجائے 8 ٹیمیں مدمقابل ہوں گی، جس کے باعث میچز کی تعداد بڑھ کر 44 ہو گئی ہے۔ ٹورنامنٹ 6 مختلف شہروں میں کھیلا جائے گا، جن میں فیصل آباد اور پشاور کی شمولیت ایک خوش آئند قدم ہے، جو ان علاقوں میں کرکٹ کے جنون کو مزید فروغ دے گی۔
ایونٹ کا آغاز 10روز بعد26 مارچ کو لاہور کے تاریخی قذافی سٹیڈیم سے ہوگا، جبکہ فائنل 3مئی کوکھیلا جائے گا۔ہر ٹیم لیگ مرحلے میں 10،10 میچ کھیلے گی جبکہ پلے آف مرحلے کا آغاز28 اپریل سے ہو گا۔ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں 11 میچ کھیلے جائیں گے اور ایک کوالیفائر بھی شامل ہے۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں پی ایس ایل 11 کے 15 میچ شیڈول ہیں، فیصل آباد میں پہلی بار 7 میچ کھیلے جائیں گے، پشاور کے کرکٹ سٹیڈیم پہلی بار پی ایس ایل کی میزبانی کرے گا۔اسی طرح، ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں چار میچ اور تمام میچز میں ملتان سلطانز ایکشن میں ہوگی، نیشنل سٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل کے 6 میچز شیڈول ہیں، لیگ میں 12 ڈبل ہیڈرز کھیلے جائیں گے۔
اس سیزن میں فرنچائزز کے ناموں اور ملکیت میں دلچسپ تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ ولی ٹیک کی جانب سے ملتان سلطانز کی خریداری کے بعد اسے ’’راولپنڈی پنڈیز‘‘کا نیا نام دیا گیا ہے۔ ٹیم کا نڈر انداز اور محمد عامر ونسیم شاہ جیسے سٹارز کی موجودگی اسے ایک خطرناک حریف بناتی ہے۔ٹیم کے نام کا اعلان سوشل میڈیا پر 25 سیکنڈ کی ایک ویڈیو کے ذریعے کیا گیا، جس میں راولپنڈی شہر کے مشہور مقامات دکھائے گئے، جبکہ پس منظر میں جوشیلی موسیقی شامل تھی۔ویڈیو کے کیپشن میں فرنچائز کی جانب سے کہا گیا کہ راولپنڈی ٹیم کا باضابطہ نام پنڈیز سامنے آ گیا ہے، ہم نڈر ہیں، ہم چیلنج دینے آئے ہیں، ہم نیا جوش لے کر آ رہے ہیں اور ہم کھیل کو بدلنے آ رہے ہیں، فرنچائز نے ایک غیرروایتی انداز میں ٹیم کا لوگوبھی متعارف کرا دیاہے جس کیلئے شہبازشریف سپورٹس کمپلیکس کی دیوار پر پنڈیز کا لوگو ڈیزائن کیا گیا اور پھر موٹرسائیکل ریلی کااہتمام کیاگیا، جس میں ٹیم کے سٹار فاسٹ بولر نسیم شاہ اور ٹیم کے مالک احسن طاہر بھی شریک ہوئے۔ سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کر کے دوبارہ’’ملتان سلطانز‘‘ رکھ دیا گیا ہے، جس کی قیادت آسٹریلوی آل رائونڈر ایشٹن ٹرنر کریں گے۔حیدر آباد کنگز مین اور راولپنڈی پنڈیز کی صورت میں دو نئے برانڈز لیگ کا حصہ بنے ہیں۔
فن کاری کا شاہکاراس سال کی ٹرافی محض ایک انعام نہیں بلکہ ایک فن پارہ ہے۔ مقامی جیولر کمپنی کی تیار کردہ اس ٹرافی میں پہلی بار سونا، چاندی اور تانباایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ ٹرافی میں تمام ٹیموں کی نمائندگی ان کے مخصوص رنگوں کے جیمز سٹونز(قیمتی پتھروں) کے ذریعے کی گئی ہے، جو لیگ کے تنوع اور اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔
غیر ملکی کھلاڑیوں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھا ہے۔ کراچی کنگز نے ڈیوڈ وارنر کو کپتانی پر برقرار رکھ کر اپنے جارحانہ عزائم ظاہر کر دئیے ہیں، جبکہ ملتان سلطانز نے ایشٹن ٹرنر پر بھروسہ کیا ہے۔ پی ایس ایل 11 محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پاکستان میں کھیلوں کی معیشت کی ترقی کا عکاس ہے۔ سپانسرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدے اور پانچ فرنچائزز کی 10 سالہ توسیع یہ ثابت کرتی ہے کہ پی ایس ایل اب ایک مستحکم اور عالمی سطح کا برانڈ بن چکا ہے۔ فیصل آباد اور پشاور میں میچز کا انعقاد نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔