مسائل اور ان کا حل
سرکاری نرخ مقررکرنا سوال:حکومت جو نرخ مقرر کرتی ہے کیا حکومت کو شرعاً اس کا اختیار ہے ؟اور اس نرخ سے کم وبیش پر قیمت وصول کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟اور اس نرخ کی پابندی کا شرعی تقاضہ کیا ہے ؟(محمد اجمل، لاہور)
جواب: عوام الناس کی مصلحت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے حکومت شرعی دائرہ میں رہتے ہوئے قوانین بناسکتی ہے۔ جن پر عوام کو عمل کرنا شرعاً واجب ہے،لہٰذا اگر حکومت عوام کی مصلحت کیلئے کسی چیز کی قیمت مقررکردے تویہ شرعاً درست ہے اور عوام کیلئے اس کی پابندی ضروری ہے۔ تاہم مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی صورت میں اگرچہ وہ آمدنی شرعاً حلال ہولیکن ایک جائز قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔(مأخذہ بتصرف:اسلام اور جدید معیشت، صفحہ:122)
وصیت اور وراثت کا معاملہ
سوال :میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے جو غیر شادی شدہ تھا۔ مرحوم کی 4بہنیں اور 2بھائی ہیں، والدین وفات پا چکے ہیں۔ مرحوم کاایک مکان ہے جو اس نے اپنے وراثتی پیسے سے خریدا تھا۔ اس کی 2 وصیتیں ہیں۔
(1)مرنے سے پہلے اس نے اپنی بیوہ بہن کو کہا تھا کہ تم پنجاب آجاؤ میں اپنا مکان تمہیں دینا چاہتا ہوں۔ لیکن وہ زندگی میں بیوہ بہن کو مکان کا قبضہ نہ دے سکا۔
(2)برادری کا ایک شخص کہتا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے مجھے یہ کہہ کر گیا ہے کہ میرا مکان مسجدکے نام کر دینا جبکہ کسی بھائی بہن کو اس بات کا علم نہیں۔
یہ دونوں وصیتیں زبانی ہیں۔ہم 4 بہنیں اور 1 بھائی اس کیلئے تیار ہیں کہ جو حکم شرعی فتویٰ سے معلوم ہو گا اس پر عمل کریں گے۔ بڑے بھائی کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے کسی مولانا صاحب سے پوچھا تھا ان کا کہنا ہے کہ جائیداد سب بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے۔
نیزہم نے گاؤں میں ایک مدرسہ سے تحریری فتویٰ بھی لیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ دونوں باتیں عدم گواہی کی صورت میں مثبت وصیت نہیں لہٰذا تمام جائیداد کو 8حصوں میں تقسیم کر کے ہر بھائی کو 2 اور بہنوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔(مقبول احمد، خانیوال)
جواب : صورت مسئولہ میں مرحوم بھائی نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد بیان کردہ تفصیل کے مطابق کل ترکہ کو 8مساوی حصوں میں تقسیم کر کے 2حصے مرحوم کے ہر ایک بھائی کو اور ایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بہن کوملے گا۔
(ب) بیوہ بہن کیلئے اگروصیت ثابت بھی ہوجائے تب بھی چونکہ بہن اس صورت میں وارث بن رہی ہے اور وارث کیلئے وصیت شرعاً درست نہیں اس لئے اس وصیت پرعمل نہیں کیا جائے گا بلکہ بیوہ بہن کوبھی دیگر بہنوں کی طرح حصہ وراثت ملے گا۔نیزمسجدکیلئے کی گئی وصیت پرچونکہ 2گواہ موجود نہیں ہیں ۔اس لئے اگر تمام ورثاء اس شخص کی بات کو تسلیم کرتے ہوں تب تو اس وصیت پر ایک تہائی جائیدادکی حد تک عمل کیا جائے گا اور ایک تہائی جائیداد مسجد میں دے کر باقی دوتہائی جائیداد تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔
غیر مسلم کی گواہی
سوال:کیا غیر مسلم گواہ بن سکتاہے؟(اکبرعلی، سکھر)
جواب: غیر مسلم کسی مسلمان کے حق میں گواہ نہیں بن سکتا۔ البتہ غیر مسلم،غیر مسلمکے حق میں گواہ بن سکتا ہے۔ (امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق اور مؤقف یہی ہے)
نکاح کے بعد دودھ کے رشتہ کا دعویٰ
سوال: میرا نکاح 4 سال قبل میرے چچا کی بیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اب رخصتی کی بات چلی اور تاریخ طے ہوگئی تو میری خالہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اپنے دعویٰ پر وہ جن افرادکے بارے میں کہہ رہی ہیں وہ اس سے انکاری ہیں۔ ان میں ایک ان کا بھائی اور 2 بہنیں شامل ہیں۔اس طرح کوئی گواہ بھی نہیں ہے، اور مجھے خود بھی ان کی بات پر اعتماد نہیں ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ خالہ کے دعویٰ کی کیا حیثیت ہے؟ اور کیا میرا نکاح شرعاً درست ہے؟ (جہانزیب ظہیر، کراچی)
جواب: صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً 2عادل مرد یا1 عادل مرد اور 2عادل عورتیں آپ کی خالہ کے اس دعویٰ پر گواہ نہ ہوں کہ اس نے مدت رضاعت میں آپ دونوں کو دودھ پلایا ہے اور شوہر اس کی بات کی تصدیق نہیں کرتا (جیساکہ سوال میں درج تفصیل سے معلوم ہوتا ہے) تو یہ نکاح حسب سابق برقرار ہے، لہٰذارخصتی کر سکتے ہیں۔ (کذا فی امدادالاحکام، 2؍849)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments