مسائل اور ان کا حل
تیمم کرکے پڑھی گئی نمازیں لوٹانا ضروری نہیں سوال:میں سانس کے مرض میں مبتلا ہوں، اس مرض کی وجہ سے کیا میں وضو کے بجائے تیمم کرسکتا ہوں؟ کیونکہ پانی کے استعمال سے مرض بڑھ جاتا ہے۔ جب طبیعت ٹھیک ہو جائے تو کیا ان نمازوں کو دوبارہ دہرانا پڑے گا؟ کیا میں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہوں؟ (جواد علی، لاہور)
جواب :جی آپ تیمم کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ نیز تندرستی کے بعد یہ نمازیں آپ کو دہرانا نہیں پڑیں گی ۔( تیمم ہندیہ، ج1، ص 28)
دورانِ خطبہ ٔ جمعہ4 سنتیں پڑھنا
سوال:اگر پہلے سنتیں نہیں پڑھ سکا تو کیا خطبہ ٔ جمعہ کے دوران سنتیں پڑھ سکتے ہیں ؟(وجاہت، کراچی)
جواب : خطبہ کے وقت سنتیں نہ پڑھیں جمعہ کی نماز کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔ (درمختار، ج1، ص4)
گھر میں تصاویر کی موجودگی میں نماز
سوال: آج کل لوگ پورٹریٹ اور اپنی اور اپنے مرحومین کی تصاویر گھر میں لگاتے ہیں۔ کیا ان تصاویر کی موجودگی میں نماز جائز ہے؟ (عبدالحق، کراچی)
جواب: جاندار کی تصاویر لگانا درست نہیں، اس سے احتراز کیا جائے۔ گھر میں اگر نمازی کے سامنے یا دائیں بائیں تصاویر ہوں تو نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
نفلی صدقہ سے خود کھانا
سوال :کوئی شخص کھانے کی کوئی چیزصدقہ کرے مثلا ًلوگوں کیلئے چاول کی دیگ پکائے۔ کیا اب اس میں سے خود کھا سکتا ہے؟ یعنی اپنی صدقہ کی ہوئی چیزوہ خود کھا سکتا ہے۔(کبیر علی، مرید کے)
جواب: اگر سوال سے مقصدیہ ہے کہ نفلی صدقہ کیلئے کوئی کھانا تیار کیاجائے اورپھراس میں سے کچھ خودکھالے اورکچھ بطور صدقہ فقراء کوکھلادے تویہ جائزہے۔ لیکن ثواب صرف اس کھانے کے صدقہ کا ہو گا جتنا فقراء نے کھایاہے ۔
خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا
سوال :کیا شرعاً خالہ اور بھانجی ایک ہی مرد کے نکاح میں ایک ہی وقت میں جمع ہوسکتی ہیں؟۔ ایک دوست ایسا کرنا چاہ رہا تھا اس کی ایک بیوی ہے اور اس کی سگی بھانجی ابھی بیوہ ہوئی ہے تو کیا یہ اس سے نکاح کرسکتا ہے ؟(مدثر یونس، کراچی)
جواب: بیوی کو نکاح میں رکھتے ہوئے بیوی کی بھانجی کے ساتھ نکاح جائز نہیں لہٰذا آپ کے دوست کیلئے اپنی بیوی کی بھانجی سے نکاح کرنا درست نہیں، اس سے احتراز کرنا لازم ہے ۔
کام میں مشغول لوگوں
کے پاس تلاوت قرآن کرنا
سوال: اگر کوئی بلند آواز سے قرآن شریف پڑھے اور آس پاس کے لوگ کسی کام میں مشغول ہوں تو کیا یہ درست ہے ؟(سلیم، کراچی)
جواب :اگر لوگ کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے تلاوت کی طرف متوجہ نہ ہوں تو پڑھنے والے کو آہستہ آواز سے پڑھنا چاہئے ۔(وفی الھندیہ)
بیٹوں کو میراث سے محروم
کرنے کی وصیت کرنا
سوال :ایک آدمی نے اپنی زندگی میں یہ خط لکھوایاکہ میرے مرنے کے بعدمیرے 2بیٹے میرے مال میں کوئی حق نہیں رکھتے،یعنی میراث میں سے ان کوکچھ بھی نہ دیاجائے۔آپ سے گزارش ہے کہ شرعی طورپررہنمائی فرمائیں کہ کیااس کایہ قول قابل عمل ہے ؟ اور مرحوم کے ان 2بیٹوں کوحصۂ وراثت ملے گایانہیں؟اس سلسلے میں احادیث کے حوالہ جات ضرور عطا فرمائیں ۔
جواب :کسی وارث کومیراث سے محروم کرنایا محروم کرنے کی وصیت کرنایااس کاحق وراثت نہ دیناشرعاًجائزنہیں۔احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں،لہٰذامرحوم نے جو منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادچھوڑی ہے اس میں مذکورہ 2 بیٹوں سمیت ان کے تمام ورثاء کاشرعاًحق ہے۔ دیگر ورثاء کیلئے مرحوم کی اس تحریرپرعمل جائزنہیں وہ اس سے سخت گناہگار ہو رہے ہیں۔ ان پرلازم ہے کہ ہروارث کوشرعی طریقہ کے مطابق اس کا حق دیا جائے۔ چنداحادیث ذیل میں ذکرکی جاتی ہیں۔ ’’جس شخص نے اپنے وارث کومیراث سے محروم کیاقیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جنت کے حصہ سے محروم کردیں گے‘‘( فی مشکوۃ المصابیح، ص:266)۔ ’’خبردار!ظلم نہ کرو،سنو!کسی شخص کامال اس کی طیب خاطر کے بغیرحلال نہیں‘‘ (فی مشکوۃ المصابیح،255)۔ ’’جس نے کسی کی بالشت بھرزمین ہتھیائی اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سات زمین طوق بنا کر پہنائیں گے‘‘(فی صحیح مسلم، 2؍33)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments