ربیع الاوّل:نوید صبح بہار اور عصر حاضر میں تقاضا ہائے اخوت و امن
ماہِ ربیع الاوّل شبِ تاریک میں طلوع ہونے والی وہ نویدِ صبحِ بہار اور دربارِ ایزدی کا وہ حیات پرور تحفہ ہے جس کی ضیا پاشیوں نے ظلمتِ جہالت کو کافور کر کے دہر کے ہر گوشے میں انوارِ حق کی روشنی بکھیر دی۔ لغوی لحاظ سے ’’ربیع‘‘ کے معنی فصلِ بہار اور زمین کو سیراب کرنے والی شاداب بارش کے ہیں، اور ’’الاوّل‘‘ کے معنی اوّلیت کے ہیں، یوں اس کا لغوی مفہوم ’’نو بہارِ اوّلیں‘‘ بنتا ہے۔
شرعی و علمی اصطلاح میں ربیع الشریف ہجری تقویم کا وہ مبارک ترین اور مسعود باب ہے جس کی نورانی آغوش میں خاتم المرسلین، سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی قدومِ میمنت لزوم سے اس بستانِ عالم کو جلا ملی اور انسانیت کو امن و شرف کی سر بلندی حاصل ہوئی۔ قرآنِ مجید کا صریح فرمان ہے: ’’اللہ ہی کے فضل اور اس کی رحمت پر چاہیے کہ وہ خوشی منائیں‘‘(سورہ یونس: 58)، اور یہ حتمی حقیقت ہے کہ نبی اکرمﷺ کی ذاتِ والا صفات سے بڑھ کر کائنات کیلئے اور کوئی رحمت عظمیٰ و تاجِ افتخار نہیں ہو سکتی۔
تاریخ اسلام کی روشنی میں یہ مبارک مہینہ فقط ولادتِ باسعادت ہی کا مظہر نہیں، بلکہ یہ عظیم الشان انقلابی، سیاسی اور اجتماعی واقعات کا نقطۂ آغاز بھی ہے۔ اسی متبرک مہینے میں سید الانبیاءﷺ کی مدینہ منورہ کی جانب تاریخ ساز ہجرت کی تکمیل ہوئی، جب آپﷺ نے مکہ کے ظلم و ستم کو خیرباد کہہ کر اسلام کا نیا مرکز قائم کیا۔
12ربیع الاوّل کو آپﷺ مقامِ قبا میں داخل ہوئے جہاں اسلام کی پہلی مسجدکی بنیاد رکھی گئی، جس کے بارے میں قرآن نے فرمایا کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ اسی سفرِ ہجرت کے دوران بنو سالم بن عوف کی وادی میں تاریخ اسلام کا پہلا باقاعدہ خطبہ اور نمازِ جمعہ ادا کی گئی، جس نے اسلامی اجتماعیت کی بنیاد رکھی۔ مدینہ منورہ پہنچ کر حضور اکرمﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان ’’مواخاتِ مدینہ‘‘ کا وہ بے مثال معاشی و روحانی معاہدہ قائم فرمایا جس نے طبقاتی و قبائلی تقسیم کو ختم کر کے اخوت و رواداری قائم کی۔
شخصیات اور تاریخی تحاریک کے حوالے سے بھی ربیع الاوّل کا مہینہ ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اہل بیت اطہار میں سے فقہ و روحانیت کے عظیم امام حضرت امام جعفر صادق ؒ کی ولادتِ با سعادت اسی مبارک ماہ میں ہوئی، جنہوں نے علومِ نبوی کی اشاعت اور فکر اسلامی کی آبیاری میں تاریخی کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں، تاریخِ اسلام کی متعدد عظیم بیداری کی تحاریک اور سلاسلِ طریقہ و تصوف نے ہمیشہ اس ماہ کو تزکیہ نفس اور تجدیدِ لوح و قلم کا ذریعہ بنایا۔ سلف صالحین، ائمہ معصومین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل یہ رہا کہ وہ اس پورے مہینے کو سیرتِ طیبہ کی ترویج، معارفِ قرآن کے بیان اور اتباعِ سنت کی تجدید کیلئے وقف فرماتے تھے۔
ربیع الاوّل شریف کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ مومن کا دل حبِ رسولﷺ کے جذبے سے معمور ہو جائے۔ اس ماہ میں سب سے افضل و اعلیٰ عمل کثرتِ درود و سلام ہے، کیونکہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریمﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اس مبارک دورانیے میں درودِ ابراہیمی اور دیگر معتبر درودِ پاک کا کثرت سے ورد، محافلِ ذکر و سیرت کا انعقاد سنت نبوی اور اسوہ صحابہ و اہل بیت ؓکا عین تقاضا ہے۔
اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادتِ باسعادت پر مسرت کا اظہار کرنا، اپنے آقاﷺ کی ولادت پر دل سے خوش ہونا، گھروں و گلیوں کو سجانا، نعت و درود کی صداؤں سے فضائیں معطر کرنا اور بندگانِ خدا میں خوشیاں بانٹنا اور خوشیاں تقسیم کرنا تمام عاشقین و مومنین کا سنہری طریقہ اور طرزِ حیات ہے۔
امت مسلمہ کیلئے ماہِ ربیع الاول صرف ایک رسمی خوشی کا نام نہیں، بلکہ یہ تجدیدِ ایمان، اصلاحِ احوال اور وحدتِ امت کا عالمگیر پیغام ہے۔ عصرِ حاضر کے نازک اور پیچیدہ تناظر میں، جہاں پورا انسانی معاشرہ فکری انارکی، عدمِ برداشت، باہمی تفرقہ بازی، نفاق اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہے، وہاں اسوہ نبویﷺ کی روشنی میں اخوت، رواداری اور امن عالم کا قیام وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ ربیع الاوّل کا آفاقی پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے قول و فعل سے امن و سلامتی کے سفیر بنیں، نفرتوں، تعصبات اور باہمی تفریق کا خاتمہ کر کے الفت و یگانگت کی شمعیں روشن کریں۔ اپنے آقا کریمﷺ کی ولادتِ پاک کی خوشی کا حقیقی حق تب ادا ہوگا جب ہم معاشرے کے محروم، بے سہارا اور پسے ہوئے طبقات کا ہاتھ تھام کر ان کی زندگیوں میں مسرتیں اور آسانیاں تقسیم کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments