پہیلیاں
نیچے سے اوپر جاتی ہے،اوپر سے نیچے آتی ہے
آپ کا سارا بوجھ اٹھا کر
یونہی وہ آتی جاتی ہے
(سیڑھی)
سر پر نور کے تاج سجائے
دو راجے اک دیس سے آئے
ایک سے ہر کوئی آنکھ ملائے
ایک سے ہر کوئی آنکھ چرائے
(چاند، سورج)
کبھی اٹھایا، کبھی بٹھایا
قدم قدم یوں اسے چلایا
(جوتا)
اک ہے چیز بڑی انمول
وہ چپٹی ہے اورنہ گول
پردوں کے پیچھے رہتی ہے
سب کچھ دیکھو وہ کہتی ہے
(آنکھ)
تن کی لمبی سر کی چھوٹی
کر دے سب کی بوٹی بوٹی
(چھری)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments