مسائل اور ان کا حل
وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں سوال : ایک شخص کے انتقال کے بعداس کی اولادمیں سے ایک بیٹایہ کہتاہے کہ میں حلفیہ کہتاہوں کہ والدصاحب نے انتقال سے کچھ دن پہلے مجھے یہ کہاتھاکہ میرے بعدیہ مکان اوریہ جگہ تم رکھ لینا،جبکہ اس بات کی خبراورکسی کوبھی نہیں۔کیاشرعاًاس شخص کی قسم معتبرہوگی؟ اور کیا اس مکان اورجگہ کاوارث صرف یہی بیٹاہو گا یا ساری اولاد برابر کی شریک ہوگی؟(محمد عبداللہ، بہاولپور)
جواب :مذکورہ صورت میں ایک بیٹے کواپنے بعدمکان اور جگہ دینے کی بات اگرشرعی طورپرثابت بھی ہوجائے تواس کی حیثیت شرعاًوصیت کی ہے اوروصیت وارث کیلئے درست نہیں،لہٰذامذکورہ مکان اورجگہ والد کی دیگر جائیدادسمیت ان کے تمام شرعی ورثاء میں شرعی طریقہ پر تقسیم کی جائیگی ۔
دوطلاق کا مسئلہ
سوال : میرااپنے سالے سے جھگڑاہوا،جس پراس نے کہاکہ میری بہن کو میرے گھر چھوڑ دو، جھگڑے کے دوسرے دن اپنی بیوی کواس کے والدکے گھرلے گیا۔ وہاں پنجائت بٹھائی گئی تھی ،جہاں میں نے اپنی بیوی کودو طلاقیں دے دیں ،آج اس واقعہ کو18دن ہوگئے ہیں، میں اپنے کئے پرشرمندہ ہوں اوراپنی بیوی سے دوبارہ زندگی بنانا چاہتا ہوں، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
وضاحت:طلاق نامے میں الفاظ یہ لکھے ہیں: ’’ر طلاق لینے پرراضی اورمیں دینے پر رضامند ہوکر تمام حق مہرکی معافی پرروبروگواہان کے دو طلاق دے کراپنے نکاح سے خارج کرتاہوں‘‘۔ (شانی خان،کراچی)
جواب : منسلکہ طلاق نامہ کی روسے آپ کی بیوی پر2طلاق بائن واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو گیا اب رجوع جائزنہیں۔ تاہم اگردونوں دوبارہ ساتھ رہنے پر رضامندہوں تو 2 گواہوں کی موجودگی میں از سرنو ایجاب وقبول کرکے نئے مہرپرنیانکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ نیز تجدید نکاح کی صورت میں آئندہ آپ کوصرف ایک طلاق کا اختیار ہو گا۔ واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس سے قبل یا بعدکبھی کوئی زبانی یا تحریری طلاق نہ دی ہو، بصورت دیگریہ حکم نہیں ہوگاایسی صورت میں تفصیل لکھ کرمسئلہ دوبارہ معلوم کرلیاجائے۔
بیوی کو گفٹ کیا گیا زیور
سوال : خاوندنے اپنی بیوی کو3 طلاقیں دیں ،حق مہر 10ہزارمقرر تھا،حق مہرکے علاوہ کچھ سونابطورگفٹ دیا تھا،جس کا ذکر نکاح نامہ میں بھی موجودنہیں ہے۔ اب خاوندمطالبہ کررہاہے کہ میراگفٹ دیاہواسوناواپس کرو۔ کیاشریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے؟ (محمدفاروق )
جواب:اگرواقعتاًشوہرنے بیوی کوزیورگفٹ کیاتھا (جیسا کہ سوال میں درج ہے)توزیوروصول کرلینے سے بیوی شرعاًاس کی مالک بن چکی ہے، اب شوہرکیلئے اس سے زیورواپس لیناجائزنہیں،اس سے احترازلازم ہے۔ (فی الدرالمختار،610/5)، (وفی الھندیۃ،337/4)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments