تبلیغ کے اصول اور مبلغ کے اوصاف

تحریر : مولانامحمد یوسف خان


’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ‘‘(النحل:125) مبلغ کا کام حکمت و تدبر سے دین کی بات ایسے انداز میں پہنچانا ہے کہ مخاطب کیلئے قبول کرنا آسان ہو جائے

تبلیغ کی اہمیت وضرورت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اصولوں کو سمجھنا بھی لازمی ہے، اہم اصول حسب ذیل ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ، بیشک تمہار ا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہو اور وہ ہدایت پانے والے کو بھی خوب جانتا ہے‘‘ ۔(النحل:125)

مذکورہ بالا آیت میں تبلیغ کے تین اصول بیان ہوئے ہیں،(1) حکمت و تدبر،(2) موعظۃ حسنہ، (3) مناظرہ بطریق احسن

حکمت و تدبر

دعوت کے اصولوں میں سب سے پہلا اصول حکمت بتایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مبلغ کا کام صرف ایک پیغام اور کلام کو لوگوں کے کانوں میں ڈال دینا کافی نہیں بلکہ حکمت و تدبر سے مناسب ماحول دیکھ کر دین کی بات ایسے انداز میں پہنچانا ہے کہ مخاطب کیلئے قبول کرنا آسان ہو جائے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ہدایت کا پیغام دلائل و براہین کی روشنی میں حکیمانہ انداز سے پیش کرے کہ سننے والا گردن جھکا دے۔

 عمدہ نصیحت

موعظۃ کے معنی نصیحت کے ہوتے ہیں۔ موعظۃ کے ساتھ حسنہ کی قید بھی لگا دی گئی ہے اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ نصیحت نرم اور دل نشین انداز میں ہو بعض اوقات خالص ہمدردی اور خیر خواہی سے کسی کو بھلائی کی طرف بلایا جاتا ہے مگر لب ولہجہ سخت، دوسرے کی ڈانٹ ڈپٹ، اس کی تضحیک والا ہوتا ہے تو دعوت موثر نہیں ہوتی اس لیے موعظۃ کے ساتھ حسنہ کی قید لگا دی ہے۔ یہ تبلیغ کا دوسرا اہم اصول ہے۔ عمدہ نصیحت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اسے محسوس نہ کروایا جائے کہ بتانے والا بڑا ماہر اور عالم ہے اور دوسرا شخص جاہل ہے۔

 مناظرہ بطریق احسن

اگر پہلے دو اصول کارگر نہ ہوں اور نوبت مناظر ہ اور مجادلہ تک پہنچ جائے تو مناظر ہ اچھے طریقے پر ہونا چاہیے ۔ اس مناظرہ میں بھی نرمی، خیر خواہی اور حسن خطاب کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس میں غصہ اتارنے یا اپنے نفس کی بڑائی پیش نظر نہ ہو بلکہ محض اللہ تعالیٰ کیلئے کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے ہو۔ اس مباحثے کی اوّلین شرط یہ ہے کہ اچھے اور سلجھے ہوئے طریقے پر ہو اور مخاطب کے دلائل کی تردید بڑے منطقی انداز میں ہو۔

 نرمی اور ملاطفت

نرمی سے بات کی جائے تو اس کا سننے والے پر خاطر خواہ اثر ہوتا ہے۔ دعوت اور تبلیغ میں یہ نرمی بنیادی اصول ہے۔ مخاطب خواہ کتنا ہی سرکش کیوں نہ ہو اس سے اچھی تاثیر پیدا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون جیسے سرکش کے سامنے پیغام ربانی کو لے کر جانے کی ہدایت کے ساتھ نرمی کا حکم بھی دیا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ’’اس سے نرم گفتگو کر نا شاید وہ نصیحت قبول کرے یا خدا سے ڈرے(طہ:44)۔اس لیے مبلغین کو نرمی، اپنا اصول بنا لینا چاہیے اور سخت کلامی اور بد تہذیبی سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ 

حضور ﷺ کی نرمی کی معجزانہ کشش لوگوں کو کھینچ کھینچ کر اسلام میں داخل کرتی تھی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ’’آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ان کیلئے نرم ہیں اور اگر آپ سخت خو اوراگر سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے‘‘ (آل عمران: 159)

 دین کو آسان کر کے پیش کرنا

حضورنبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓاور ابوموسی اشعریؓ کو یمن میں تبلیغ اسلام کیلئے روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ دین الٰہی کو آسان کر کے پیش کرنا، سخت بنا کر نہیں۔یہ اصول مبلغ کی کامیابی کی جان ہے۔ دین کو اس کی جائز آسانی اور سہولت کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

خوشخبری دینا

حضور اکرمﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓاور ابو موسی اشعری ؓ کو یہ بھی فرمایاکہ لوگوں کو خوشخبری سنانا اور نفرت نہ دلانا۔ اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم اور اس کی شفقت و محبت کے بیان سے لوگوں کے دلوں کو پر امید اور مسرور بنانا چاہیے۔ اسے تبشیر یعنی خوشخبری دینا کہا جاتا ہے۔ یہ پیغمبرانہ دعوت کا بنیادی اصول ہے جو ہر مبلغ کو اپنانا چاہیے، بات بات پر اللہ کی قہاری اور جباری کا ذکر کر کے دلوں کو مایوس اور خوف زدہ نہیں کرنا چاہیے۔

 تالیف قلوب

تالیف کے لغوی معنی ہیں دلوں کو ملانا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اسلام کی طرف مائل کرنا ہو اس کے ساتھ محبت و شفقت، امداد واعانت اور غم خواری و ہمدردی کا سلوک کیا جائے تا کہ وہ ان شریفانہ جذبات سے ممنون ہو کر ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دے اور اس کی دعوت کو قبول کرنے کیلئے آمادہ ہو جائے۔ ایک دفعہ ایک بدو نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ مجھے بکریوں کا ایک ریوڑ عنایت کیجئے۔ آپﷺنے اس کو پورار یوڑ عنایت فرمادیا۔ یہ فیاضی دیکھ کر اس نے اپنے قبیلے سے کہا بھائیو! اسلام قبول کر ومحمدﷺ اتنا دیتے ہیں کہ ان کو فقر و افلاس کا ڈر نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے نو مسلموں کی دلجمعی اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کیلئے زکوٰۃ میں سے کچھ مال انہیں دینے کی اجازت دی ہے جسے مولفۃ القلوب کہا جاتا ہے۔

مذمتی انداز نہ ہو

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ’’جنہیں یہ کافر اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں تم انہیں برا مت کہو (گالی نہ دو) تم ان کے جھوٹے معبودوں کو گالی دو گے تو وہ از راہ جہالت تمہارے حقیقی معبود کو گالی دیں گے‘‘۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مبلغ کیلئے جائز نہیں کہ دوسروں کے جھوٹے معبودوں اور پیشواؤں کو برا بھلا کہے۔ اس سے رنجش پیدا ہوتی ہے جو تبلیغ کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

 عملی نمونہ

مبلغ کیلئے سب سے مقدم بات یہ ہے کہ جس چیز کی وہ دوسروں کو دعوت دے رہا ہے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو وگر نہ اس کی دعوت بے اثر ہو کر رہ جائے گی داعی صرف گفتار کا غازی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔

 اکرام مسلم

جب مسلمانوں کو نیکی کی تلقین کی جائے تو ان کا اکرام کرنا چاہیے انہیں ان کی کسی غلطی کی وجہ سے حقیر اور ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے۔ 

 دین میں کوئی جبر نہیں

کسی سے بات قبول کرانے کیلئے سختی اور جبر کا استعمال اسلام میں جائز نہیں۔ جبر سے تو نفاق پیدا ہوتا ہے نہ کہ اسلام۔ اس وجہ سے قرآن کریم نے اعلان فرمایا: ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ (البقرہ: 256)۔ مبلغین کو چاہیے کہ وہ بھی اس اصول کو اختیار کریں اور کسی پر کوئی جبر روانہ رکھیں۔

مبلغ کے اوصاف (شرائط تبلیغ) 

(1) عملی نمونہ:مبلغ کیلئے سب سے مقدم بات یہ ہے کہ وہ جس بات کی دعوت دیتا ہے اس پر خود بھی عمل کرتا ہو اور تبلیغ کے  اصولوں پر کار بند ہو وگرنہ اس کی دعوت مؤثر نہیں ہوگی۔

(2)خوش خلقی:داعی کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ با اخلاق ہو، خندہ پیشانی سے پیش آئے تا کہ لوگ اس کی طرف مائل ہوں اور حق بات سنیں۔

(3)اخلاص: مبلغ کے دل میں اخلاص ہونا چاہیے۔ کوئی دنیاوی غرض اس کے پیش نظر نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بغیر اس کام سے نہ محبت ہو گی نہ انہماک۔

(4)علم دین:داعی کیلئے لازمی ہے کہ وہ تعلیمات اسلام سے خوب واقف ہو۔ اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونے کیلئے علم ایک بنیادی شرط ہے اگر علم نہ ہو تو اس فریضے کو کما حقہ سر انجام نہیں دے سکتا۔

(5) نفسیات سے واقفیت:دین کی تبلیغ کرنے والے میں ایک صفت یہ بھی ہونی چاہیے کہ لوگوں کی نفسیات کو جانتا ہوتا کہ اس کا طریقہ تبلیغ موثر ہو سکے۔

(6) دیگر مذاہب کی تعلیمات سے واقفیت:مبلغ کیلئے ضروری ہے کہ اسلام اور دنیا کے بڑے بڑے مذاہب میں جو باتیں مشترک ہیں وہ ان کی نشاندہی کر سکتا ہو، نیز ان تعلیمات میں اسلام کی فضیلت کے دلائل اسے معلوم ہوں تا کہ وہ غیر مسلموں کو دعوت دیتے وقت اسلام کی فضیلت ثابت کر سکے۔

(7) معاشرتی حالات سے واقفیت: جس قوم میں پہلے تبلیغ کرنا چاہتا ہے اس کے معاشرتی حالات سے خوب واقف ہونا چاہیے تا کہ وہ اس ماحول سے مثالیں پیش کر سکے اور اس معاشرے کے طور طریقے اور آداب کو دعوت کے وقت ملحوظ رکھ سکے۔ اگر اسے ان تمام باتوں کا علم نہیں ہوگا تو اجنبی معلوم ہوگا۔ یہ اجنبیت مبلغ کے کام میں حائل ہوتی ہے۔

(8)زبان پر عبور:جس قوم میں ایک مبلغ دعوت حق دینا چاہے اسے اس قوم کی زبان پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔ وگرنہ دل نشین انداز میں وہ مافی الضمیر (دل کی بات) کو دوسروں تک نہیں پہنچا سکے گا۔ زبان پر قدرت کے بغیر سامعین پر اچھا تاثر پیدا نہیں ہوتا۔

(9) عجز و انکساری:مبلغ کیلئے عجز و انکساری لازمی چیز ہے اگر اس کے دل میں تکبر پیدا ہو جائے اور دوسروں کیلئے حقارت کے جذبات اس کے دل میں پیدا ہو جا ئیں تو یہ بات اس کیلئے تباہ کن ہوتی ہے۔

(10) بیان کی صلاحیت: اگر مبلغ اپنی بات بہتر انداز سے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ تبلیغ کیلئے بڑی مددگار بات ہوگی۔اس طرح دوسرا شخص بات توجہ سے سنتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اصلاح معاشرہ کے بنیادی اصول

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہل صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘ (التوبہ:119) قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل ایک مثالی معاشرے کی ضمانت ہے معاشرہ کی اصلاح کاپہلااصول زبان کی حفاظت کرنا،سب سے زیادہ غلطیاں انسان اسی سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک’’صدق‘‘ یعنی سچائی بھی ہے

اخلاص اور حُسنِ نیت

’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے، نہ اُن کا خون، لیکن اُس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج:37) ’’اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے، جس کی بنیاد خلوص پر ہو‘‘(سنن نسائی) ’’اگر کسی شخص نے نیکی کرنے کی نیت کی، لیکن اُس کی نیکی کا وقوع نہیں ہوا، تب بھی اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے‘‘(صحیح بخاری)

مسائل اور ان کا حل

وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں سوال : ایک شخص کے انتقال کے بعداس کی اولادمیں سے ایک بیٹایہ کہتاہے کہ میں حلفیہ کہتاہوں کہ والدصاحب نے انتقال سے کچھ دن پہلے مجھے یہ کہاتھاکہ میرے بعدیہ مکان اوریہ جگہ تم رکھ لینا،جبکہ اس بات کی خبراورکسی کوبھی نہیں۔کیاشرعاًاس شخص کی قسم معتبرہوگی؟ اور کیا اس مکان اورجگہ کاوارث صرف یہی بیٹاہو گا یا ساری اولاد برابر کی شریک ہوگی؟(محمد عبداللہ، بہاولپور)

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔