اصلاح معاشرہ کے بنیادی اصول

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمدکریم خان


’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہل صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘ (التوبہ:119) قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل ایک مثالی معاشرے کی ضمانت ہے معاشرہ کی اصلاح کاپہلااصول زبان کی حفاظت کرنا،سب سے زیادہ غلطیاں انسان اسی سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک’’صدق‘‘ یعنی سچائی بھی ہے

معاشرے کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے اور اسے امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کیلئے اخلاق حسنہ سے تمسک اور اخلاق رذیلہ سے اجتناب ضروری ہے۔اچھے اخلاق نہ صر ف ذہن وفکر اور دل ودماغ پر پاکیزہ اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ دین اسلا م سے تعلق و ہم آہنگی کی راہیں بھی استوار کرتے ہیں۔اس کے برعکس برے اخلاق نہ صرف انسان کے سیرت و کردار کو گدلا کرتے ہیں بلکہ معاشرے کے امن و سکون کو بھی تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔

ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل میں ہر شعبۂ زندگی کیلئے ایک ایسا ضابطہ اخلاق ناگزیر ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات میں موجود ہے اور جس پر عمل پیرا ہوکر ہمارے اسلاف نے اپنے زمانے کی اصلاح فرمائی۔ ذیل میں ایک اعلیٰ معاشرہ کی تشکیل کیلئے چندبنیادی اصول بیان کیے جاتے ہیں۔

 زبان کی حفاظت

معاشرہ کی اصلاح کاپہلااصول زبان کی حفاظت کرناہے۔سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔ زبان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، اس کا سا ئز چھو ٹا لیکن اس کی اطاعت اورنافرمانی بڑی ہے، اس لئے کہ کفر و ایمان کا اظہارصرف زبان کی شہادت کے ساتھ ہوتا ہے۔ زبان ہی کی وجہ سے لوگ فضول گفتگو کے سبب جہنم میں منہ کے بل گرتے ہیں۔زبان کے شر سے وہی نجات پا سکتا ہے جو اسے شریعت کی لگام دے کر قابو کرے۔

نبی کریمﷺنے فرمایا: ’’جوچپ رہااس نے نجات پائی‘‘(جامع ترمذی: 2509)۔ دوسری حدیث مبارکہ میں ہے: ’’خاموشی حکمت ہے مگر اس کواختیارکرنے والے تھوڑے ہیں‘‘ (شعب الایمان:5027)۔

حضرت عبداللہ بن سفیان ؓکے والدبیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے عرض کی: یارسول اللہ!مجھے اسلام سے متعلق کسی ایسی بات کی خبر دیجئے جس کے بارے میں آپﷺ کے بعد میں کسی سے نہ پوچھوں؟ ارشاد فرمایا:یہ کہومیں ایمان لایا پھر اس پر قائم رہو۔ میں نے عرض کی: میں کس چیز سے ڈروں؟ تو آپ ﷺنے اپنے ہاتھ سے زبان کی طرف اشارہ فرمایا(جامع ترمذی: 2418)۔

زبان کی خرابیوں میں سے ایک خرابی لڑائی جھگڑاکرناہے۔اس سے بچنے والاایمان کی حقیقت کو پا لیتا ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا: چھ چیزیں جس شخص کے اندر ہوں گی وہ ایمان کی حقیقت کو پالے گا :(1)گرمیوں میں روزے رکھنا، (2)دشمنانِ خدا کے ساتھ تلوار(یعنی اسلحے) سے جنگ کرنا، (3)بارش وگھٹا والے دن نماز میں جلدی کرنا، (4)مصیبتوں پر صبر کرنا (5)مشقت (یعنی ٹھنڈک کی شدت وغیرہ) کے باوجود کامل وضو کرنا،(6) حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہ کرنا(شعب الایمان: 2755)۔ 

زبان کی خرابیوں میں سے دوسری خرابی بدکلامی اورفحش گفتگو کرنا ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا:مومن عیب نکالنے والا، لعنت کرنے والا ،فحش گو اور بے حیا نہیں ہوتا۔(جامع ترمذی: 1984)

امانت داری

معاشرے کی اصلاح کا دوسرا اہم پہلو امانت داری ہے،باہمی معاملات اور لین دین میں امانت داری کا مظاہرہ کرنا اوردیانت داری کا دامن تھامے رکھنا شریعت اسلامی کی اوّلین ترجیحات میں سے ہے۔امانت داری ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا: ’’جو امانت دار نہیں اس کا ایمان نہیں‘‘ (مسنداحمد: 12386)۔ 

اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ امانت کا دامن تھامے رکھیں۔امانت ودیانت پر عدل و انصاف کی عمارت قائم ہوتی ہے اور عدل و انصاف پر ہی کامیاب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں‘‘(النساء :58)۔

صداقت

 اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک’’صدق‘‘ بھی ہے۔ صدق زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔انسانی معاشرے کا امن و سکون ، راحت و چین اور اس کی تعمیر و ترقی کی بنیاد صدق پر ہے۔ قرآن مجیدمیں ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہل صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘ (التوبہ: 119)۔ نبی کریمﷺنے سچ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے، حتیٰ کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری: 5743)

لین دین کے معاملات میں بھی ہمیشہ سچ کو اہمیت دینایہ اسلام کاشعارہے۔حضرت اسماعیل  بن عبید بن رفاعہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز نبی کریمﷺ باہر تشریف لے گئے، آپﷺ نے دیکھا کہ لوگ لین دین میں مصروف ہیں، خریدوفروخت ہورہی ہے اور منڈی لگی ہوئی ہے۔نبی اکرمﷺ نے رک کر لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا:اے تاجرو میری بات سنو، قیامت کے روز سوائے تین کے تمام تاجر لوگ نافرمانوں میں شمار ہوں گے۔ جس نے خدا کا تقویٰ اختیار کیا اور اس سے ڈرتا رہا، جو نیکی کا دامن تھامے رہا اور جو سچ بولتا رہا (جامع ترمذی: 1210)۔

 قناعت

قناعت کا لغوی معنی قسمت پر راضی رہنا ہے۔نبی کریمﷺنے فرمایا: ’’غناکثرت مال کا نام نہیں ہے بلکہ دل کی بے نیازی کا نام ہے‘‘ (صحیح مسلم: 1051)۔

 حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : بلاشبہ وہ کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا، اسے حسب ضرورت رزق عطا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قناعت عطا فرمائی۔(صحیح مسلم: 1054)

 رزقِ حلال

معاشرتی اصلاح کااہم ترین اصول رزق حلال ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاکیزہ ہے کھاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘ (البقرہ: 168)۔

 اللہ تعالیٰ نے  مومنوں کو حلال اور پاکیزہ چیزوں کو حاصل کرنے کا حکم دیا، اس لیے پوری کوشش اور محنت رزق حلال کیلئے ہی ہونی چاہیے اور وہ بھی جائز ذرائع اور وسائل سے۔ قرآن مجید میں ہے: ’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھائو، جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو‘‘(البقرہ: 172)۔

اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مومنوں ،بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کوبھی حلال اورپاکیزہ روزی کے حصول کا حکم دیا ہے، قرآن مجیدمیں ہے: ’’اے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرتے رہو، بیشک تم جو بھی کام کرتے ہو میں اس کو خوب جاننے والا ہوں‘‘(المومنون :51 )۔اس آیت میں پاک چیزوں سے کھانے کا حکم دیا گیا ہے اور پاک چیزوں سے مراد حلال چیزیں ہیں اور سب سے زیادہ حلال چیز وہ ہے جس کو انسان نے اپنے کسب اور محنت سے حاصل کیا ہو۔

 پردہ پوشی

معاشرے کی اصلاح کاایک پہلوپردہ داری ہے ،جبکہ عصرحاضر میں ہماری اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائی یہ بھی ہے کہ لوگ ہمہ وقت دوسروں کے عیوب کوٹٹولنے کے درپے رہتے ہیں ،اور پھر جونہی کسی کی کوئی برائی یا  عیب ہمارے ہاتھ لگتا ہے ہم دوسرے کی تضحیک و استہزاء سے اپنے نفس کو سکون مہیا کرتے ہیں، یہ انتہائی نامناسب رویہ ہے، جو ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کرتا جا رہا ہے۔حالانکہ اسلام نے مسلمان بھائی کے عیب و نقص اور اْس کی کمی و کوتاہی کو چھپانے اور اس سے چشم پوشی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کو ظاہر کرنے اور اس کی پردہ داری  ناکرنے سے شدید نفرت اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(ابن ماجہ: 2546)

صبر و تحمل

دنیا کی زندگی راحت و آرام اور مصائب و آلام سے عبارت ہے۔ اِس میں کبھی تو مصائب و تکالیف اور مشکلات اپنے ڈیرے جمائے رکھتے ہیں تو کبھی راحت و سکون اورخوشیاں اپنے اپنے نغمے گاتے ہیں۔ مشکل وقت میں صبر و شکر اور رضا بالقضاء کا دامن تھام کر صبر و تحمل اور برداشت و روا داری کے ساتھ زندگی گزارنا نہ صرف یہ کہ بندہ مومن کی شان بلکہ اس کا طرہ امتیاز بھی ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺسے فرمایا: ’’آپ اپنے رب کیلئے صبر کیجیے (المدثر: 7)۔ ’’اور آپ ان (باتوں) پر صبر کریں جو کچھ وہ (کفار) کہتے ہیں، اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہو جائیں‘‘ (المزمل: 10)۔ اہل ایمان سے کلام کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔(البقرہ:153)

صبرکی اہمیت وفضیلت کوبیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مومن کا معاملہ کیا ہی خوب ہے۔اس کے سارے معاملات اس کیلئے باعث خیرہیں اوریہ سعادت مومن کے علاوہ کسی اورکوحاصل نہیں ہے۔ اگراسے خوشی حاصل ہوتی ہے اوراس پر وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس کیلئے خیر ہے اوراس کو تکلیف پہنچتی ہے اوروہ اس پر صبرکرتاہے تو یہ بھی اس کیلئے خیرہے۔(صحیح مسلم:2999)

 رحمت و محبت اور صلح جوئی

اخوت ، محبت اوررحمدلی یہ وہ چیزیں ہیں جو زندگی کو خوبصورت بنانے کا باعث بنتی ہیں۔ محبت ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو ہر چیز قربان کر دینے پر آمادہ کرتا ہے ، اور یہ محبت ہی ہے جو معاشرے میں حسن و نکھار پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اخوت و محبت کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہے۔انسان خواہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتاہواسے ہرایک سے بلاتفریق رنگ،نسل ومذہب اورمالی حیثیت کے محبت سے پیش آناچاہیے۔ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺکی صفت کایوں تذکرہ کیا: ’’پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کیلئے نرم طبع ہیں اور اگر آپ تندخو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے(آل عمران: 159)۔ 

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:جو انسانیت پر رحم نہیں کرتا، خدا س پر رحم نہیں کرتا(صحیح بخاری:6828)۔ 

 دوسروں کی ضروریات کوپورا کرنا

معاشرے کی اصلاح کااہم پہلودوسروں کی ضروریات میں تعاون کرناہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:نیکی اورپرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو (المائد: 2)۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو تو اُسے نفع پہنچائے(صحیح مسلم: 5731)۔ 

حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، جو اپنے (مسلمان) بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو، اللہ اس کی حاجت پوری فرمانے میں لگا ہوتا ہے اور جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرما دے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالی قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔(صحیح بخاری:2262)

 عدل و انصاف

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، جس کو خالق ارض وسماء نے زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے ساتھ عادلانہ و منصفانہ برتاؤ  پیش کرنے کیلئے بھیجا ہے۔ قرآن کریم اور حضرت محمدﷺ کی تعلیمات میں جگہ جگہ اس کاذکرملتاہے۔قرآن مجیدمیں ہے:بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ،اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے(النساء: 58)۔

کسی بھی معاشرہ کی اصلاح کیلئے زبان کی حفاظت،امانت داری، صداقت، قناعت، رزق حلال کا حصول، پردہ پوشی،صبروتحمل،صلح جوئی، ایثاراورعدل وانصاف بنیادی اصول ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن وحدیث سے مترشح ان اصولوں پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اخلاص اور حُسنِ نیت

’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے، نہ اُن کا خون، لیکن اُس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج:37) ’’اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے، جس کی بنیاد خلوص پر ہو‘‘(سنن نسائی) ’’اگر کسی شخص نے نیکی کرنے کی نیت کی، لیکن اُس کی نیکی کا وقوع نہیں ہوا، تب بھی اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے‘‘(صحیح بخاری)

تبلیغ کے اصول اور مبلغ کے اوصاف

’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ‘‘(النحل:125) مبلغ کا کام حکمت و تدبر سے دین کی بات ایسے انداز میں پہنچانا ہے کہ مخاطب کیلئے قبول کرنا آسان ہو جائے

مسائل اور ان کا حل

وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں سوال : ایک شخص کے انتقال کے بعداس کی اولادمیں سے ایک بیٹایہ کہتاہے کہ میں حلفیہ کہتاہوں کہ والدصاحب نے انتقال سے کچھ دن پہلے مجھے یہ کہاتھاکہ میرے بعدیہ مکان اوریہ جگہ تم رکھ لینا،جبکہ اس بات کی خبراورکسی کوبھی نہیں۔کیاشرعاًاس شخص کی قسم معتبرہوگی؟ اور کیا اس مکان اورجگہ کاوارث صرف یہی بیٹاہو گا یا ساری اولاد برابر کی شریک ہوگی؟(محمد عبداللہ، بہاولپور)

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔