اخلاص اور حُسنِ نیت

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے، نہ اُن کا خون، لیکن اُس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج:37) ’’اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے، جس کی بنیاد خلوص پر ہو‘‘(سنن نسائی) ’’اگر کسی شخص نے نیکی کرنے کی نیت کی، لیکن اُس کی نیکی کا وقوع نہیں ہوا، تب بھی اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے‘‘(صحیح بخاری)

انسان کے اعمال کی حقیقی قدر و منزلت کا تعین محض ان کی ظاہری صورت سے نہیں، بلکہ ان کے پسِ پردہ کارفرما نیت اور جذبے سے ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سا عمل خلوصِ نیت کی بدولت اللہ تعالیٰ کے ہاں غیر معمولی مقام حاصل کر لیتا ہے، جبکہ بڑے سے بڑا عمل ریاکاری اور خودنمائی کی آمیزش کے باعث اپنی روحانی تاثیر کھو بیٹھتا ہے۔ اسلام نے اسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے اخلاص اور حسنِ نیت کو عبادات، معاملات اور اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘ یہ مختصر مگر جامع فرمان انسان کو اپنی زندگی کے ہر عمل کا جائزہ لینے اور اپنے دل کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے وقف کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اخلاص وہ وصف ہے جو انسان کے ظاہر و باطن میں یکسانیت پیدا کرتا، اس کے کردار کو پاکیزگی عطا کرتا اور معمول کے کاموں کو بھی عبادت کا درجہ دے سکتا ہے۔

اسلام میں ’’اخلاص‘‘ اور’’حُسن نیت‘‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اسلام اپنے ماننے والوں کو تمام حالات میں خلوصِ نیت کی ترغیب دیتا ہے، چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اور احادیث نبویہ میں رسول اللہﷺ نے اہل ایمان کو تمام ظاہری و باطنی اقوال و افعال اور اعمال و احوال میں نیت کو مستحضر رکھنے، اُس کو ٹٹولتے رہنے اور اُس میں اخلاص کی چاشنی کو باقی رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ بلاشبہ تمام اعمال کا دار و مداراخلاصِ نیت پر ہی ہوتا ہے۔ اچھی نیت ہی تمام اعمال و افعال کی جڑ اور بنیاد ہوتی ہے، چنانچہ نیت اگر خالص ہو گی تو اعمال جاندار ہوں گے اور نیت اگر خراب ہو گی تو اعمال میں وزن نہیں رہے گا۔ اچھی نیت سے اعمال اچھے اور بری نیت سے اعمال برے ہو جاتے ہیں۔ نیت صاف ہو تو انسان کی منزل اُس کیلئے آسان ہو جاتی ہے اور اگر نیت خراب ہو یا اُس میں فتور واقع ہو جائے تو قدم قدم پر انسان کو ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، ذلیل و خوارہونا پڑتا ہے اور بالآخر منزل مقصودتک پہنچنا اُس کیلئے ناممکن ہوکر رہ جاتا ہے۔

اخلاصِ نیت کی اہمیت کے پیش نظر قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’اور اُنہیں اِس کے سوا اور کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اِس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یک سُو ہوکر صرف اُسی کیلئے خالص رکھیں، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھی سچی اُمت کا دین ہے۔ (سورۃ البینہ:05)، دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں ’’اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے، نہ اُن کا خون، لیکن اُس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘(سورۃ الحج: 37)۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں ’’اے رسولؐ! لوگوں کو بتا دو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اسے جان لے گا‘‘ (سورہ آلِ عمران:29)۔

اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی اخلاصِ نیت کی بڑی اہمیت وارد ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے، حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہر عمل کا دار و مدار نیت پر ہے، اگر نیت درُست ہے تو اجر کا مستحق ہے، جو اللہ اور رسول کیلئے ہجرت کرتا ہے تو اُس کی ہجرت اللہ اور رسول کیلئے ہوتی ہے، لیکن اگر دُنیا یا کسی عورت کے لالچ میں ہجرت کرتا ہے تو جس غرض کیلئے ہجرت کرتا ہے اُس کی ہجرت اسی غرض کیلئے شمار کی جاتی ہے۔‘‘ (بخاری: 6953، مسلم:1907)

دوسری حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے، جس کی بنیاد خلوص پر ہو‘‘ (سنن نسائی: 3140)۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’آخر زمانے میں ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا، لیکن جب یہ ’’بیداء‘‘ نامی مقام میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر یہ لوگ قیامت میں اپنی نیتوں کے موافق اُٹھائے جائیں گے، اِس لشکر میں بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو زبردستی شریک کر لئے گئے تھے، اُن کی نیت کعبہ پر حملہ کی نہ تھی، ایسے لوگوں سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا‘‘ (بخاری:2118، مسلم:2882)

ایک حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرما یا کہ ’’ایک شخص کے پاس مال بھی ہے اور علم بھی، اور یہ اچھے کام کرتا ہے اور غرباء کا حق سمجھتا ہے، تو قیامت میں یہ اعلیٰ منازل میں ہو گا، لیکن ایک شخص کے پاس مال اور علم تو نہیں، لیکن اُس کی یہ نیت ضرور ہے کہ اگر میرے پاس مال اور علم ہوتا، تو میں بھی یہی کام کرتا جو فلاں شخص کر رہا ہے تو قیامت میں دونوں کو اَجر برابر ملے گا‘‘ (جامع ترمذی:2325)۔

ایک اور حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر کسی شخص نے نیکی کرنے کی نیت کی، لیکن اُس کی نیکی کا وقوع نہیں ہوا، تب بھی اُس کیلئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے‘‘(بخاری :6491، مسلم: 128)۔ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ایک شخص نے بستر پر لیٹتے وقت یہ نیت کی کہ رات کو تہجد کی نماز پڑھوں گا، مگر رات کو آنکھ نہیں کھلی، یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو اُس کیلئے تہجد کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور یہ سونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس بندے پر احسان کے طور پررہا‘‘ (سنن نسائی:1787)۔

یقیناً اِنسان کی نیت کا اثر اُس کی زندگی کے تمام حالات پر پڑتا ہے۔ نیت اچھی اور خالص ہوگی تو زندگی بھی اچھی اور آسان گزرے گی، اہل و عیال میں برکت نصیب ہو گی، مال و دولت میں فراوانی حاصل ہوگی، عبادات ادا کرنے کی توفیق ملے گی، اللہ تعالیٰ کادھیان اور اُس کا قرب نصیب ہو گا۔ اگر نیت خراب ہوئی اور اُس میں فتور ہوا تو زندگی سے سکون اُٹھ جائے گا، مال و دولت میں کمی واقع ہو جائے گی، عبادات کی توفیق چھن جائے گی، اللہ تعالیٰ کی راضگی اور اُس کی خفگی مقدر بنے گی اور انسان کو زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہوتی نظر آئے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اصلاح معاشرہ کے بنیادی اصول

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہل صدق (کی معیت) میں شامل رہو‘‘ (التوبہ:119) قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل ایک مثالی معاشرے کی ضمانت ہے معاشرہ کی اصلاح کاپہلااصول زبان کی حفاظت کرنا،سب سے زیادہ غلطیاں انسان اسی سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیا ہے، ان میں سے ایک’’صدق‘‘ یعنی سچائی بھی ہے

تبلیغ کے اصول اور مبلغ کے اوصاف

’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ‘‘(النحل:125) مبلغ کا کام حکمت و تدبر سے دین کی بات ایسے انداز میں پہنچانا ہے کہ مخاطب کیلئے قبول کرنا آسان ہو جائے

مسائل اور ان کا حل

وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں سوال : ایک شخص کے انتقال کے بعداس کی اولادمیں سے ایک بیٹایہ کہتاہے کہ میں حلفیہ کہتاہوں کہ والدصاحب نے انتقال سے کچھ دن پہلے مجھے یہ کہاتھاکہ میرے بعدیہ مکان اوریہ جگہ تم رکھ لینا،جبکہ اس بات کی خبراورکسی کوبھی نہیں۔کیاشرعاًاس شخص کی قسم معتبرہوگی؟ اور کیا اس مکان اورجگہ کاوارث صرف یہی بیٹاہو گا یا ساری اولاد برابر کی شریک ہوگی؟(محمد عبداللہ، بہاولپور)

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔