میرا جی اُردو نظم کا جدید حوالہ

تحریر : محمد حسن عسکری


آ ج 77ویں برسی:انہوں نے اُردو شاعری خصوصاً نظم کو مخصوص رسوم و قیودسے آزادی حاصل کرانے میں تاریخی حصہ لیا:میرا جی جدید ادب کو تعمیری ادب خیال کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ زمانہ ایک نئے انقلاب سے ہم آہنگ ہو رہا تھا‘وہ نہ صرف یہ کہ خود نئی شاعری کر رہے تھے بلکہ اس رویے کے بڑے مبلغ بھی تھے :مغرب کے شاعروں کو میرا جی نے چاہے ٹھیک سمجھا ہو چاہے غلط لیکن انہوں نے نئے ادیبوں میں ذہنی تجسس ضرور پیدا کیا‘ یہی وجہ تھی کہ ادب سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والے ہر ماہ ’’ادبی دنیا‘‘ کا انتظار کرتے تھے

 میرا جی کی مختصر سوانح

میراجی کا اصل نام محمد ثنا اللہ ڈار تھا۔وہ 25 مئی 1912ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کشمیر سے آکر گوجرانوالہ میں آباد ہو گیا تھا۔ دوران تعلیم ہی میرا جی نظم گوئی کی  طرف مائل ہو گئے تھے۔ ابتدا میں ان کا تخلص ’’ ساحری‘‘ تھا۔  1938 ء میں میرا جی لاہور کے ایک رسالے، ادبی دنیا سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1941ء میں آل انڈیا ریڈیولا ہور میں ملازمت کرنے لگے۔ 1942ء میں ان کا تبادلہ دہلی ہو گیا۔ 1945ء میں فلموں میں قسمت آزمانے بمبئی گئے لیکن  کوئی کام نہ ملا۔ پھر پونا چلے گئے جہاں اختر الایمان نے ان کو محبت سے اپنے پاس رکھا مگر ملازمت یہاں بھی نہیں ملی۔ اکتوبر 1947ء میں بمبئی واپس گئے۔ کچھ دنوں بعد اختر الایمان بھی بمبئی آ گئے تو انہوں نے رسالہ ’’خیال‘‘ نکالا اور میرا جی کو اس کی ادارت سونپ دی۔ 38سال کی عمر میں 3 نومبر 1949ء کو میرا جی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں بمبئی کے میری لائن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

میراجی کی حیات ہی میں ان کے تین شعری مجموعے’ میرا جی کے گیت‘  ، ’میراجی کی نظر میں‘ اور ’گیت ہی گیت‘ منظر عام پر آچکے تھے۔ ان کی وفات کے بعد 1968ء میں کتاب نما راولپنڈی نے ان کی پابند نظموں کا ایک انتخاب شائع کیا۔ جمیل جالبی نے میراجی کا کلیات ’’کلیات میراجی ‘‘کے نام سے مرتب کیا جو 1988ء میں شائع ہوا۔ میرا جی کی کئی تخلیقات غیر مطبوعہ صورت میں بھی مختلف لوگوں کے پاس محفوظ ہیں یا مختلف رسائل میں بکھری پڑی ہیں مثلاً ان کے بیشتر مضامین’’ ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوئے۔ ادبی دنیا کے علاوہ ہمایوں ، شیرازہ اور بمبئی سے نکلنے والے رسالے خیال میں بھی ان کے نثر پارے چھپتے رہے۔ دہلی کے ساقی میں ’’باتیں‘‘ اور بمبئی کے ’’ خیال‘‘ میں ’’ کتاب پریشاں‘‘ کے عنوان سے میرا جی نے جو کچھ لکھا اس کا کچھ حصہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی مرتب کردہ کتاب ’’ میرا جی: ایک مطالعہ ‘‘ میں شامل ہے۔ میرا جی کی نثری تحریروں کو شیما مجید نے ’’باقیاتِ میرا جی‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔ میرا جی نے بعض ادبی متون کے ترجمے بھی کیے۔ زیادہ تر تراجم شعر و ادب سے متعلق ہیں اس لیے ان کے ذریعے ہماری شاعری خصوصاً نظم میں ایک نئی معنوی اور فکری لہر پیدا ہوئی۔ میرا جی نے اپنے بعض سیاسی، سماجی اور اقتصادی نوعیت کے مضامین کو ترجمے کی مدد سے لکھا۔ ان مضامین کے ذریعے انہوں نے دنیا میں ہونے والی سیاسی سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں سے اپنے عہد کو آشنا کرانے کی کوشش کی۔ ’’ مشرق و مغرب کے نغمے‘‘ 1936ء سے 1941 ء کے دوران لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے جو 1958ء میں اکادمی پنجاب لاہور سے شائع ہوا تھا۔

میراجی کی نظموں سے لوگوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور شاعر نے پڑھنے والوں کا خیال ہی نہیں رکھا، لیکن ذاتی زندگی میں میراجی دوستوں کو خوش رکھنے کے سخت قائل تھے۔ ایک طرح دیکھئے تو انہوں نے اپنی زندگی ہی دوستوں کے لیے تفننِ طبع کی خاطر لٹا دی۔جب وہ آٹھویں یا نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو ان کے ہر دوست کی ایک نہ ایک محبوبہ تھی۔ کوئی فارغ البال تھا بس ایک میرا جی۔ وہ اپنا دل دوسروں کی آگ سے گرم رکھتے تھے۔ایک دن کوئی بنگالی لڑکی میرا سامنے سے گزر رہی تھی ، دوستوں نے یوں ہی مذاق میں کہہ دیا یہ ہے ان کی محبوبہ۔ دو چار دن لڑکوں نے میرا کا نام لے کر انہیں چھیڑا ، اور وہ ایسے بنتے رہے جیسے واقعی چڑ رہے ہوں۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ دوست انہیں ایک افسانہ بنا دیا چاہتے ہیں تو وہ بے تامل افسانہ بھی بن گئے۔ اس کے بعد ان کی ساری عمر اس افسانے کو نبھانے میں گزری۔ لاہور سے دلی گئے، دلی سے بمبئی، ہر جگہ نئے دوست بنائے اور ان لوگوں کی دلچسپی کی خاطر میں اس افسانے میں نئی پیچیدگیاں اور الجھنیں شامل کرتے رہے۔ اپنی موت میں بھی انہوں نے افسانوی روایات برقرار رکھیں۔ ان کا تخیل اس قدر افسانوی واقع ہوا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ زندگی چاہے زندگی نہ رہے مگر افسانہ ضرور بن جائے۔ خاص طور سے اس وقت جبکہ اس افسانے کو دیکھنے والے بھی موجود ہوں۔ غرض ایک طرف تو خود انہیں افسانہ بن جانے میں مزا آتا تھا دوسری طرف شاید شروع ہی سے ان کے اندر کوئی ایسی بات تھی کہ میراجی کو دیکھ کر آدمی کا جی چاہتا تھا کہ انہیں افسا نہ بنادیا جائے۔ یہ بات کچھ ان کے دوستوں اور جاننے والوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ جس نے کوئی ان کی تحریر پڑھ لی اس نے ایک افسانہ گھڑنا شروع کر دیا۔ 

یہ 39ء کی بات ہے کہ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں الہ آباد سے گھر آیا۔ میں نے ان دنوں ادب خاص طور سے اردو ادب پڑھنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ فلسفہ سیاسیات سے میری دلچسپی بڑھ گئی تھی لیکن میرے ایک دوست تھے سلطان احمد نقوی جن کے دنیا میں میں دو کام تھے۔ اردوکے اچھے برے سب رسالے خریدنا اور گپ اڑانا۔ ایک دن انہوں نے مجھے’’ ادبی دنیا‘‘ کا سالنامہ لا کے دیا اور بتایا کہ لاہور میں شاعروں اور ادیبوں کا ایک نیا گر وہ ایک دم سے ابھراہے اور اس کے قائد میں میر اجی اور قیوم نظر۔انہوں نے اس پر اکتفا نہیں کی بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ میں تو ان سب لوگوں سے لاہور میں مل کر آرہا ہوں۔خیر میں نے رسالہ پڑھ کے دیکھا تو نظم و نثر دونوں میں ذہنی اور جذباتی نازکی نظر آئی۔ اس دن سے میں ادبی دنیا باقاعدہ پڑھنے لگا۔کچھ تو میرا جی کی ذاتی جاذبیت کی وجہ سے اور دو چار نظموں کے ان تجزیوں کی وجہ سے جو وہ ہر مہینے پیش کیا کرتے تھے۔ ان تجزیوں میں جو بات سب سے نمایاں رہتی تھی وہ یہ کہ ایک نئی ادبی تحریک اور احساس کا ایک نیا انداز پیدا ہورہا ہے۔ شاعروں کی تعریف میں تو میرا جی ضرور مبالغہ کوبرتتے تھے لیکن اصل کوشش ان کی یہ رہتی تھی کہ نئے رحجانات اور اسالیب کو سمجھیں اور سمجھائیں۔ بعض شاعروں کو انہوں نے اپنی تعریفوں سے بگاڑا بھی۔ لیکن چاہتے وہ یہی تھے کہ شاعر اپنی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ لگائیں اور ان کی نشود نما با لکل نامیاتی طریقے سے ہو۔ پھر وہ اردو ادیبوں کو یہ بتاتے رہتے تھے کہ اردو کے علاوہ دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی کچھ لکھا گیا ہے۔

مغرب کے شاعروں کو میرا جی نے چاہے ٹھیک سمجھا ہو چاہے غلط لیکن انہوں نے ہمارے نئے ادیبوں میں ذہنی تجسس ضرور پیدا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ادب سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والے نوجوان ہر مہینے ادبی دنیا کے انتظار میں رہتے تھے اور میں تو ان دنوں اپنی ادبی کامیابی کی معراج یہ سمجھتا تھاکہ میرا افسانہ ’’ادبی دنیا‘‘ میں چھپ جائے لیکن مجھ سے افسانہ لکھا ہی نہ جاتا تھا۔ آخر خدا خدا کر کے ایک افسانہ ہوا تو میں نے فوراً میراجی کو بھیجا لیکن اس زمانے میں افسانہ چھپواتے ہوئے ڈریہ لگتا تا کہ گھر والے کیا کہیں گے اس لیے میں نے شرط لگائی کہ افسانہ فرضی نام سے شائع ہو۔ ہفتے بھر بعد میراجی کا خشک سا جواب آیا۔ با لکل دفتری زبان میں کہ: صاحب ہم فرضی نام سے کوئی چیز نہیں چھاپتے۔ مجھے انسانے کی واپسی نے کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچائی لیکن یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جو شخص لمبے بال رکھتا ہو وہ ایسا سرکاری قسم کا خط کیسے لکھ سکتا ہے۔ خیر میں نے افسانہ ادھر ادھرڈال دیا۔ اس عرصے میں ’’نیا ادب‘‘ شائع ہونے لگا تھا اور اس سے بھی نئے ادیبوں کا ایک گردہ متعلق تھا۔ تین مہینے بعد میں نے افسانہ اس رسالے کو بھیج دیا۔ وہ صدائے برنخاست کا مضمون رہا۔ تین مہینے اور گزرے تو میں نے سوچا کہ میرا نام ہی چھپ گیا تو کونسی قیامت آجائے گی لہٰذامیں نے افسانہ پھر میر اجی کی خدمت میں روانہ کیا ، اب کے ادھر سے بھی رسید نہ آئی اور میں یہی سوچتا رہ گیا کہ میرے افسانے میں آخرایسی کیا خرابی تھی۔آخر ایک دن اچانک میر اجی کا کارڈ ملا۔ انہوں نے بس تین چار جملے لکھے تھے کہ افسانہ فلاں مہینے میں چھپے گا، مجھے بہت پسند آیا ہے وغیرہ۔ یوں بات تو ذرا سی تھی لیکن آخر میرا جی کا سرٹیفکٹ تھا۔

میرا نتیجہ بھی دو چار دن پہلے نکلا تھا۔ اتنی خوشی تو مجھے بی اے میں فرسٹ کلاس پا کر بھی نہ ہوئی تھی۔ میرا جی کے اس کارڈ کو میں نے پانچ چھ سال تعویذ کی طرح محفوظ رکھا۔ بعد میں میرا جی نے مجھے بتایا کہ میرا افسانہ انہوں نے مضمونوں کے ڈھیر میں سے محض اس لیے اٹھایا تھا کہ ذرا صاف صاف لکھا ہوا تھا۔بہر حال میرا جی نے مجھے فوراً ادیب بنا دیا۔ سنا ہے کہ بعض لوگوں سے ان کے تعلقات استادی شاگردی کے ہوتے تھے لیکن نہ جانے کیا بات ہوئی کہ مجھ سے وہ تو بالکل شروع ہی سے بے تکلفی برتنے لگے۔ خط لکھنے کے بڑے چور تھے، بعض دفعہ مجھے قیوم نظر یا یوسف ظفر کے ذریعے تقاضا کرناپڑتا تھا۔ تب کہیں جا کے جواب دیتے تھے لیکن خط ہمیشہ اس انداز کا ہوتا تھا جیسے وہ اور میں دونوں بڑی زبر دست تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیئے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ میرا جی نے مجھے افسانہ نگار بنا دیا تو اور نیا ادب گروپ کے بھی بعض حضرات مجھے خط لکھنے لگے لیکن وہ صرف شاباشی دیتے تھے۔ میرا جی یہ بھی پوچھا کرتے تھے کہ آئندہ کس قسم کا افسانہ لکھو گے ؟خطوں کے ذریعے میراجی اور ان کے دو قریبی دوستوں یعنی قیوم نظر اور یوسف ظفر سے میری اتنی دوستی بڑھی کہ یہ لوگ مجھے لکھا کرتے کہ تم رہتے تو ہو الہ آباد میں لیکن ادیب ہو لاہور گروپ کے اور میر اجی کی شفقت تو اس حد تک پہنچی کہ وہ اپنے حالات زندگی کبھی نہیں لکھتے تھے مگر میں نے نظموں کا ایک مجموعہ مرتب کیا تو وہ بھی لکھ دیئے۔ لیکن اس بے تکلفی کے باوجودوہ رہے میرے لئے ایک افسانہ ہی۔

خوبصورت کلام

نگری نگری پھرا مسافر

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

کیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو

کارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا

کیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں

من بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا

اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی

دھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا

یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی

دکھ میں سکھ ہے، سکھ میں دکھ ہے، بھید یہ نیارا بھول گیا

ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی

ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا

سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ

لہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا

نغمہ محبت

مجھے چاہے نہ چاہے دل تیرا تو مجھ کو چاہ بڑھانے دے

اک پاگل پریمی کو اپنی چاہت کے نغمے گانے دے

تورانی پریم کہانی کی چپ چاپ کہانی سنتی جا

یہ پریم کی بانی سنتی جا پریمی کو گیت سنانے دے

یہ چاہت میرا جذبہ ہے میرے دل کا میٹھا نغمہ

ان باتوں سے کیا کام تجھے اِن باتوں کو کہہ جانے دے

تو دور اکیلی بیٹھی ہے سکھ سندرتاکی مستی میں

میں دور بہا جاتا ہوں پریم کی ندی میں بہہ جانے دے

گر بھولے سے اس جذبے کا تو گیت جوابی گا بیٹھی

یہ جادو سب مٹ جائے گا اس کو جو بن پر آنے دے

ہاں جیت میں کوئی نہیں ہے نشہ، یہ بات ہے جیت سے دوری میں

جو راہ رسیلی چلتا ہوں اس راہ پر چلتا جانے دے

نظم

میں ڈرتا ہوں مسرت سے

میں ڈرتا ہوں مسرت سے کہیں یہ میری ہستی کو

پریشاں کائناتی نغمہ مہم میں اْلجھا دے

 کہیں یہ میری ہستی کو بنادے خواب کی صورت

مری ہستی ہے اک ذرہ

کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے مہر عالم تاب کا نشہ

 ستاروں کا علمبر دار کر دے گی، مسرت میری ہستی کو

 اگر پھر سے اسی پہلی بلندی سے ملا دے گی

 تو میں ڈرتا ہوں۔۔۔۔ڈرتا ہوں

 کہیں یہ میری بستی کو بنادے خواب کی صورت

میں ڈرتا ہوں مسرت سے

 کہیں یہ میری ہستی کو

بھلا کر تلخیاں ساری

بنا دے دیوتاؤں سا

تو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا

زمانہ اپنی ہستی کا

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

جستجوئے غزل

میری ناقص رائے کے مطابق میرے لیے شاعری کر نا نا ممکن ہے۔بہت عرصہ تک اچھی شاعری میری کمزوری رہی۔ میں ادب کی کسی بھی صنف سے بہت محفوظ ہوتا ہوں۔ خاص طور پر جب اس کے ساتھ نازک کا لاحقہ لگا ہو۔

فتح کی نئی داستان ،ٹرافی پاکستان کے نام

ٹرائی نیشن سیریز 2026:پاکستان 18سال بعد ون ڈے فریقی سیریز کا ٹائٹل جیتنے میں کامیاب: فخرزمان اور سعد بیگ نے تیسری وکٹ پر 149 رنزکی شاندار شراکت قائم کی،عرفات منہاس نے31 گیندوں پر61 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی

پاکستان میں بیس بال کابڑھتا ہوا رجحان

27واں خاور شاہ مینز بیس بال چیمپئن شاہ کا میلہ 2تا 8نومبر قاسم باغ سٹیڈیم میں سجے گا:پاکستان ویمنز بیس بال ٹیم 20سے 23نومبر تک ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں ملائشیا 2026ویمنز بیس بال چیمپئن شپ‘‘ میں شرکت کرے گی

خوشیاں بانٹنا !

آج چھٹی کا دن ہونے کے باوجود فرحان بہت اداس بیٹھا تھا۔ اس کی اداسی کو دیکھ کر اس کی اماں نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ کیوں اداس ہو؟ کل ٹیسٹ ٹھیک ہوا تھا ؟۔تو اس نے جواب دیا:جی سب ٹھیک ہے۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

کارمیلا چلری واٹسن:کم عمری میں خدمتِ خلق کا عظیم کارنامہ دینے والی کم عمر بچی

جادوئی خوشبو

نیلے شفاف پانیوں کی گہرائی میں جادوئی دنیا آباد تھی۔ اسی سمندری سلطنت میں چنبیلی نامی خوبصورت جل پری رہتی تھی۔ چنبیلی کا دل سمندر کی وسعت سے زیادہ اپنے پیارے پھولوں سے جڑا تھا۔