کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!
وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔
اگر سیاسی مخالفین حکومت پر الزامات لگاتے ہوں تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر جب کوئی حکومت کا اتحادی ہو اور چھوٹے بھائی حکومت میں وزیر ہوں تو اس صورت میں یہ کہنا کہ کرپشن کی فائلیں نہیں یہاں تو الماریاں بھری پڑی ہیں، تو معاملہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت پر الزامات سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے،مگر وفاقی وزیرچوہدری سالک نے پنجاب حکومت پر جو الزام عائد کیا ہے اطلاعات یہی ہیں کہ اس کے پیچھے ڈپٹی کمشنر گجرات کی تبدیلی کا عمل ہے۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں،پنجاب کی سیاست میں ہمیشہ کسی اتحادی یا وزیر کے حکومت سے اختلافات کا آغاز افسران کی ٹرانسفر کے عمل سے ہی شروع ہوتا ہے اور پھربات آگے بڑھ جاتی ہے۔ پنجاب میں پوسٹنگ ٹرانسفر کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب حکومت اس حوالہ سے دباؤ قبول کرتی دکھائی نہیں دیتی اور اس حوالہ سے یہاں پیپلز پارٹی یا (ق) لیگ ہی نہیں خود( ن) لیگ کے اراکین اسمبلی کے تحفظات بھی ہیں اور اس کا فائدہ حکومت کو یہ ہے کہ اب سارا لوڈ خود انتظامی حکام کو لینا پڑتا ہے اور وہ خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں اور حکومت کو نتائج فراہم کرنے کے پابند ہیں اور حکومت تبادلوں کے عمل میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتی۔ یہاں بھی بظاہر ایسے ہی لگتا ہے، لیکن اس میں ایک ایسی بات چوہدری سالک حسین نے کہہ دی جسے پنجاب حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے مریم نواز کی حکومت کے مقابلہ میں چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت کو بہترین قرار دیا اور یہ وہ نکتہ ہے جو بڑی لڑائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جس پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی شدید رد عمل دیا کہ چوہدریوں کے گجرات میں بارش کے پانی میں ان کی لینڈ کروزر ڈوب گئی تھی۔ آج کا گجرات اور منظر پیش کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ اپنی حکومتی کارکردگی پر تنقید برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔چوہدری سالک حسین اورچوہدری شافع حسین چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے ہیں اورچوہدری شجاعت کی سیاست وضع داری اور شرافت کی سیاست رہی ہے جس میں الزام تراشی، مخالفین کے خلاف بھی ممنوع رہی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود سابق وزیراعظم نواز شریف کے چوہدری شجاعت سے تعلقات ہمیشہ عزت و احترام کے رہے ہیں۔
(ق) لیگ اور( ن) لیگ کی تقسیم کے باوجود شریف خاندان کاچوہدری شجاعت کے خاندان سے احترام کا تعلق قائم رہا جس کا ایک بڑا ثبوت نواز شریف کی جلا وطنی کے دوران چوہدری شجاعت کا نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کے ساتھ کھڑے رہنااور مشکلات میں ان کا ساتھ دینا تھا۔ لہٰذا یہ الزامات کا سلسلہ ان کیلئے چیلنج ہو گا اور دونوں طرف کے بزرگ نہیں چاہیں گے کہ باہمی تعلقات کاسلسلہ متاثر ہو۔ لیکن مریم نواز یوں لگتا ہے کہ پسپائی اختیار نہیں کریں گی اور وفاقی وزیرچوہدری سالک بھی اپنے الزامات پر قائم ہیں۔ اگر تو معاملہ صرف ڈپٹی کمشنر گجرات کے تبادلے تک کا ہے تو بات دونوں گھروں کے بزرگوں کی سطح پر طے ہو سکتی ہے۔اگر اس کے پیچھے کچھ اور ہے تو پھر بات استعفوں تک بھی جا سکتی ہے اور پھر یہ استعفے ایک نہیں دو ہوں گے۔ پنجاب حکومت سے چوہدری شافع حسین کو بھی جانا پڑے گا اور( ن) لیگ اور( ق) لیگ کا اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ مگر دونوں جانب کے قریبی ذرائع یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف اورچوہدری شجاعت حسین کی زندگی میں شاید ایسا ممکن نہ ہو، مگر اس حوالہ سے چوہدری سالک حسین کو اپنے الزامات سے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہو پائے گا؟ اگر تو بات صرف ایک افسر کے تبادلہ تک کی ہے تو مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے، اگر پیچھے سلسلہ کچھ اور ہے تو پھر (ن) لیگ اور( ق) لیگ میں فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔دونوں طرف کے سنجیدہ حلقے یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ الزامات کو بنیاد بنا کر معاملات کو اس نہج پر نہیں جانا چاہیے کہ اس کے سیاسی محاذ پر اثرات اچھے نہ ہوں۔ ویسے بھی (ن) لیگ سیاسی محاذ پر ابھی ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اتحادیوں کی قربانی دے۔ اس حوالہ سے اب مسلم لیگ (ن) سے زیادہ چیلنج وزیراعظم شہباز شریف کیلئے ہو گا کہ وہ پنجاب کی سطح پر رونما ہونے والے اس تناؤ پر اپنا کردار ادا کریں۔ اگر وہ وفاق کی سطح پر مشکل حالات میں اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں تو پنجاب کی سطح پر اس عمل کو بھی سلجھایا جا سکتا ہے۔ اگر پیچھے کوئی الجھانے والا سرگرم نہ ہو تو۔
ادھرحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے ایشو پر مذاکراتی سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس حوالہ سے جماعت اسلامی کی لیڈر شپ لیاقت بلوچ کی قیادت میں ان کے وفد کی نائب وزیراعظم اسحق ڈار سے ملاقات ہوئی اور ان کے درمیان چار نکات پر گفتگو ہوئی۔ اطلات یہ ہیں کہ فریقین کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے عمل پر تو اتفاق رائے ہے مگر لیوی کا خاتمہ کیسے ہو گا ایک ہی دفعہ یاسلسلہ وار، اس پر بات چیت کا عمل جاری ہے۔ بلا شبہ یہ مذاکرات حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہیں مگر حکومت (ن )لیگ کی ہے اور ایک سیاسی جماعت یہ نہیں چاہے گی کہ یہ تاثر پیدا ہو کہ حکومت سیاسی دباؤ کے سامنے سرنڈر کر گئی اور اس نے لیوی کا خاتمہ کر دیا۔ حکومت اپنے سیاسی کیس کیلئے پہلے ہی پٹرولیم پر ریلیف کے ایک عمل پر کاربند ہے اور مذکورہ میٹنگ میں بھی ریلیف کے اس عمل میں زرعی شعبہ اور آٹھ سو کی بجائے ہزار سی سی کی گاڑیوں تک وسیع کرنے کی بات ہوئی۔ ویسے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ حکومت خود بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہی ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے اس سے مہنگائی کا طوفان روکے نہیں رک رہا۔ اب پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کارجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ رواں ہفتے سات، آٹھ روپے تک کی کمی تو حکومت نے خود کی ہے اور لگتا ہے کہ حکومت ریلیف کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو نہیں لینے دینا چاہتی، جبکہ جماعت اسلامی اسے اپنے دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ لہٰذا حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکراتی عمل کے نتیجہ میں اگر قیمتیں نیچے آ رہی ہیں تو مالی فائدہ تو عوام کو ہو گا مگر سیاسی فائدہ کس کا ہو گا اس کا فیصلہ اس وقت سامنے آئے گا جب انتخابات ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments