کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

تحریر : طلحہ ہاشمی


سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 یقینی طور پر آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ میں سڑکوں کی بات کر رہا ہوں۔ جی ہاں، باکمال ذہانت اور صلاحیت کی مثال۔ عوامی رائے اپنی جگہ لیکن وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ساری تنقید اور جملے بازی کو نیچا دکھا دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کھمبوں کے اطراف سڑک کی تعمیر انہی کا پلان تھا۔ کھمبے ہٹانے کے لیے حیسکو کو پیسے دیے جاچکے تھے لیکن ادارہ مسلسل آناکانی کر رہا تھا۔ اب سڑک تو بنانا تھی، پھر مکمل منصوبہ بندی سے سڑک بنائی گئی اور یہ سوچ کر بنائی گئی کے اس کے بعد جب معاملہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اچھلے گا تو حیسکو پر دباؤ پڑے گا۔ سڑک بناکر ٹریفک کے لیے کھول دی گئی، لوگوں نے بات کی، میڈیا نے خبر اٹھائی اور اب حیسکو نے کھمبے ہٹانا شروع کردئیے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے میڈیا اور سوشل میڈیا کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے کھمبے ہٹ گئے۔ مراد علی شاہ نے یہ شکوہ بھی کیا کہ وفاقی ادارے ہماری بات نہیں سنتے۔وزیراعلیٰ سندھ کے جواب کو میڈیا نے کسی اور ہی طرح سے لیا۔سڑک کے بیچوں بیچ کھمبوں کی خبر پر ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ سڑک پر کھمبوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے سکھر روڈ پر پانچ برس سے کھمبے ہیں۔ سعید غنی کی منطق کے مطابق حیدرآباد میں یہ کھمبے سڑک بننے سے پہلے سے موجود تھے اور اس وقت بھی ٹریفک اسی طرح گزرتی تھی۔

حیسکو کھمبے ہٹانے میں تاخیر کر رہا تھا، سڑک کی حالت بہت خراب تھی، عوام کی سہولت کے لیے کارپٹنگ کی گئی تاکہ عوام کو کچھ تو سہولت ہو۔ ساتھ ہی شکوہ بھی کرڈالا کہ حکومت کی نیک نیتی کسی نے نہیں دیکھی اور معاملے کو بلاوجہ منفی رنگ دیا جارہا ہے۔ سندھ حکومت کی بات میں سچائی دکھائی دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا تو ویسے بھی چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیتا ہے، اگر حکومت کہہ رہی ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت ایسا کیا گیا تو یقیناً ایسا ہی ہوا ہوگا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ خبر نشر ہوتے ہی حیسکو حرکت میں آگیا۔ یہ بھی شنید ہے کہ سکھر کی سڑک سے بھی کھمبے ہٹائے جارہے ہیں۔ میڈیا کو کراچی پر بھی نظر ڈالنی چاہیے،یہاں بھی کئی سڑکیں ایسی مل جائیں گی جہاں کھمبے رکاوٹ ہیں۔ انہیں ہٹانے میں حکومت کی مدد کی جائے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ ریڈلائن کئی برس سے میڈیا کی نظر کرم سے محروم ہے، اسے چاہیے کہ روزانہ اپنے پروگراموں میں اس کو دکھائے، یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا شخصیات وہاں سے ویڈیو بنائیں، لائیو نشر کریں تاکہ جو بھی ادارہ رکاوٹ بنا ہوا ہے فوری طور پر کام کرنے لگے۔

آیے ہم سب مل کر سندھ حکومت کی مدد کرتے ہیں، اگر ایسا نہ کیا تو نہ جانے ریڈلائن بننے میں مزید کتنا عرصہ لگ جائے۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو نے صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں میں شکایات کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ان میں غیرقانونی بھرتیوں، اختیارات کا غلط استعمال یا تجاوز سمیت ہر بے ضابطگی کی جانچ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کو شکایات کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔اکثر ٹھیکیدار حکومت کی نرمی یا اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور سرکاری تعمیرات میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی شکایتیں آتی ہیں، اس بار نزلہ کراچی کی سکیم 33میں نالے کی تعمیر پر پڑا، وزیر بلدیات ناصر شاہ نے نالے کا دورہ کیا، انہوں نے ناقص سامان کے استعمال پر برہمی کا اظہار کیا اور ٹھیکیدار کی سرزنش کی۔

اب کچھ بات نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری تو کہتے ہیں کہ اس بحث پر فل سٹاپ لگ چکا ہے‘ مگر طاقتور حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن کے بغیر اس پر کام جاری ہے۔ ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں کے قیام پر ایک بار پھر زور دیا اور کہاکہ جو لوگ بھی ہم سے پوچھتے ہیں آپ کا صوبہ کہاں بنے گا تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہم نے ہندوستان میں اپنی جائیدادیں، زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کی ہیں، پاکستان میں غیرمسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ہماری ہیں۔پورا ملک ایم کیو ایم کی طرف نظریں لگائے بیٹھا ہے، ملک میں مزید صوبوں کا مقدمہ سندھ کے شہری علاقوں کا ہے، ایم کیو ایم نئے صوبے کی تحریک کی قیادت کرے گی، ظالموں، جابروں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کا وقت آچکا ہے۔ فاروق ستار کے مطابق چار صوبے اجارہ داری برقرار رکھنے کی مشین بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سندھ میں انتظامی تقسیم کی ضرورت ہے اسی طرح ملک بھر میں ہے۔ فاروق ستار نے اعلان کیا کہ صوبے کے انتظامی یونٹس کو جاگیرداروں کے ہاتھ لگنے نہیں دیا جائے گا، جب ہمارا انتظامی یونٹ بنے گاتب بھی ہم سندھی ٹوپی اور اجرک پہنیں گے۔ انہوں نے انتظامی یونٹس کے لیے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہریوں کو یرغمال بنانے کا وقت گزر گیا، راستے سے نکلنے نہ دینے کی دھمکیوں کو دہشت گردانہ طرزعمل کہا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہیں، ڈویژن کی صورت میں انتظامی یونٹس پہلے ہی موجود ہیں، ایم کیو ایم کا مطالبہ بچگانہ ہے، کسی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ عوام کے راستے بند کرے، سندھی ٹوپی اور اجرک پہننے سے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ جائز نہیں ہوجاتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

پختونخوا میں نئی صف بندی ؟

خیبر پختونخوامیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حال ہی میں دئیے گئے سخت بیانات کو محض غصے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کا راستہ نفرت اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن، جمہوری رویوں، میرٹ، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود سے گزرتا ہے۔

وزیر اعظم کا دورۂ راولا کوٹ

آزاد جموں و کشمیر میں ایک طرف وزیراعظم افتخار گیلانی حکومت کے آئینی اختیارات کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور آزاد کشمیر کے اداروں پر اعتماد کی بحالی کی بات کرتے دکھائی دیئے تو دوسری جانب پونچھ کی صورتحال، سیاسی اختلافات اور آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرتی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو موضوعِ بحث بنائے رکھا۔

گھر کا ماحول، بچوں کی شخصیت کیسے بناتا ہے

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں گھر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔