جستجوئے غزل
میری ناقص رائے کے مطابق میرے لیے شاعری کر نا نا ممکن ہے۔بہت عرصہ تک اچھی شاعری میری کمزوری رہی۔ میں ادب کی کسی بھی صنف سے بہت محفوظ ہوتا ہوں۔ خاص طور پر جب اس کے ساتھ نازک کا لاحقہ لگا ہو۔
کچھ عرصہ قبل میں ایک مشاعرے میں موجود تھا جہاں پر ایک شاعر ایسے بھی تھے جو میرے انتہائی قریبی دوست تھے۔ جب انہوں نے اپنا کلام پڑ ھنا شر وع کیا تو میں دم بخود رہ گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنے دوست کو جانتا تھا لیکن اس قدر نفیس اور عمدہ خیالات کا مالک ہو گا اور اس کو ان خیالات کو اس قدر خوبصورت پیرائے میں بیان کرنے کا سلیقہ بھی آتا ہو گا یہ میرے لیے حیرت کا باعث تھا۔ خیر مشاعرے کے بعد میں نے اس کو مبارکباد دی اور پو چھا کہ اتنی عمدہ شاعری کب سے شروع کی؟ لیکن وہ مجھے کھینچ کر ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا کہ یہ سب کچھ میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔ میں بولا: وہ تو ٹھیک ہے لیکن شہرت کی خاطر اتنی عمدہ شاعری کیسے شروع کر دی؟ کہنے لگا :کس کا فر نے شاعری شروع کی ہے۔ پانچ صد روپے دے کر یہ غزل لکھوائی ہے۔ اور یہ میرے لیے حیرت کا دوسرا جھٹکا تھا۔ وہ بھی ایک ہی دن میں۔ مشاعرے کے بعد چائے کے دوران اس کے گرد خواتین کے ہجوم کو دیکھ کر میں رشک و حسد کے جذبات سے بھر گیا۔ یہی وہ دن تھا جب میں نے بھی شاعر بننے کا سوچا۔سوچا کہ یہ اچھا طریقہ ہے اپنی کم مائیگی کے اثرات کو زائل کرنے کا۔ اس شام کو گھر پر بیٹھ کر قلم و دوات سامنے رکھا اور اپنے خیالات کو آوارہ پھرنے کے لیے چھوڑ دیا کہ کوئی اچھو تاسا خیال آئے تو اس کو قلمبند کیا جائے۔ لیکن خیالات کے آوارہ پھرنے کے بعد جو کچھ دماغ میں آیا وہ بھی ویساہی آوارہ تھا۔
اس کو قرطاس ابیض پر لانا صرف اور صرف ترسے ہوئے لوگوں کو متاثر کر سکتا تھا۔ سن رکھا تھا کہ غالب کو رات کو جب شعر وارد ہوتے تھے تو وہ ازار بند پر گرہ لگا لیا کرتے تھے۔ میں نے یہ بھی کیا ۔ کئی دن کی کوششوں کے بعد بھی جب ایک مصرعہ تک نہ لکھ سکا تو خیال آیا کہ اچھی شاعری اس وقت ممکن ہے جب دل پر کوئی درد محسوس ہو۔ پرانے شاعروں میں سے ایک کا تو نام ہی لوگوں نے میر درد رکھ دیا تھا، لہٰذا جب شاعری لکھنے کے لیے بیٹھے تو ان تمام واقعات کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جس سے ہمیں تکلیف پہنچ چکی تھی۔ بچپن میں ایک دفعہ سائیکل سے گرا تھا، وہ واقعہ ذہن میں تو آ گیا لیکن صفحے پر کچھ نہ آیا۔ ایک دفعہ میری بڑی بہن نے میرے حصے کی کھیر کھائی تھی اور بعد میں میرے احتجاج پر مجھے پیٹا بھی تھا۔ اس واقعے نے بھی میری شاعری کی پوشیدہ حس کو نہ جگا یا۔ مختلف شعرائے کرام کے چید ہ چیدہ اشعار میں سے کچھ الفاظ اور کچھ مصرعے بھی اٹھائے لیکن نتیجے کے طور پر جو چیز بنی اس نے کسی کو کیا متاثر کرنا تھا مجھے بھی نہ کیا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ فرما ئیے۔۔۔
بہار کے موسم میں جو گل کھلتے ہیں؍ تیرے درد کے ہونے کا پہ دیتے ہیں
جب چلتی ہے ہوا ٹھنڈی ٹھنڈی؍ جیسے کسی اے سی کی ہوا دیتے ہیں
گل کے رخسار پر پنکھڑیوں کی ادا دیکھ کر بھی؍کون کا فر ہے جو ان حسینوں کو دعا دیتے ہیں
کسی ہمدرد نے یہ مشور ودیا کہ کسی اچھے شاعر کی رفاقت میرے لیے فائدہ مند ہو گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میں نے ایک خوبرو شاعرہ کا انتخاب کیا۔ اس کے گھر کا پتہ لیا اور صبح شام اس کے ساتھ ( تقریبا دس قدم پیچھے ) چلتا رہا۔ ایک ہفتے کے بعد انہیں میری حرکات اور سکنات کا پتہ چل چکا تھا اور اس کے بعد مجھے بھی اچھی طرح پتہ چل گیا۔ کیونکہ ان محترمہ کے زوج گرامی ایک نامی گرامی پولیس انسپکٹر تھے۔ جنہوں نے میری وہ درگت بنوائی کہ اب میں ان شاعرہ کا نام بھی بھول چکا ہوں بس تین نقش یاد رہ گئے ہیں۔ خیر ایک عرصے کی ذہنی اور جسمانی مشقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ شاعری کرنا اپنے بس سے باہر ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہ نکالا جائے کہ میں نے اپنی منزل کو بھی چھوڑ دیا۔ صرف منزل کے راستے کا انتخاب بدل دیا۔ ایک دن میں اپنے دوست کے پاس جا پہنچا اور اس شاعر کا پتہ مبلغ تین عدد بر گر اور دو کوک کی بوتل کے عوض خرید لیا جو ہم جیسے لوگوں کو فیض پہنچانے کا نیک فریضہ ادا کرتا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments