حضرت امام حسین ؓ

حضرت امام حسین  ؓ

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانامحمد ناصرخان چشتی


تاریخ ِحَق وباطل میں خیروشَر،ہدایت وضلالت اوراِسلام وکُفرکے مابین ہزاروں معرکے برپاہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔لاکھوں شہادتیں ہوئیں اور ہزاروں انقلابات آئے ۔خصوصاًاسلام کااوّلین دور عظیم الشّان شہادتوں سے لبریز ہے تاہم یہ حقیقت بھی روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ آج تک کوئی معرکہ اورکوئی شہادت اس قدرعالم گیر تذکرہ نہ پاسکی، جتنانواسہ رسولﷺ،جگرگوشہ بتول اورفرزند علی امام عالی مقام حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو نصیب ہوا۔چودہ سوسال گزرنے کے بعدبھی شہادت امام حسین کا تذکرہ زندہ وتابندہ ہے یہاں تک کہ ہر دور کے لیے حسینیت حق اوریزیدیت باطل کی علامت بن گئی۔یومِ عاشورکی اہمیت وفضیلتمحرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی دسویں تاریخ کو ’’یومِ عاشور‘‘کہا جاتا ہے جسے بہت زیادہ عظمت ،اہمیت اورفضیلت حاصل ہے ۔رسول اللہﷺکافرمان ہے کہ،’’ محرم اللہ کے لیے ہے،اِس کی تعظیم کرو،جس نے ماہِ محرم کی قدرکی، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں عزت عطافرمائے گااوردوزَخ سے نجات عطافرمائے گا۔‘‘یومِ عاشور پرحضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔حضرت آدم جنت سے زمین پربھیجے گئے تھے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کونمرودکی آگ سے نجات ملی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اوراسی روزآپ آسمان پر اٹھائے گئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے فرعون سے نجات پائی جب کہ فرعون دریائے نیل میں غرق ہوا۔حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہرآئے ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی بینائی واپس آئی ۔اللہ تعالیٰ نے عرش ،فرش،زمینوں، آسمانوں اورلوح وقلم پیدا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے پہلی باربارش نازل فرمائی۔اسی روزدنیاوتمام مخلوق فناہوگی اورقیامت قائم ہوگی۔حضرت امام حسینؓ اور آپ کے اصحاب نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔شہیدکامعنیٰ ومفہومشہید،شاہد،شہوداورمشاہدہ لفظ’’شہود‘‘مصدرسے مشتق ہیں۔ شہدیشہد شہوداًکے کئی معٰنی ہیں مثلاًحاضرہونا،مددکرنا،گواہی دینااورکوئی چیزپانا وغیرہ۔اسلام میں شہیداورشہادت کاتصور یہ ہے کہ شہیدکی روح اُسی وقت اللہ کی بارگاہ میں حاضرکردی جاتی ہے۔ شہیداپنی جان کانذرانہ پیش کر کے اللہ کے دین کی مددکرتاہے۔جامِ شہادت نوش کرکے دین ،ملک اورملت کے حق ہونے پر عملی گواہی دیتا ہے۔شہادت اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اورگراںقدرنعمت ہے۔یہ نعمت اللہ اپنے محبوب بندوں کوعطافرماتاہے،ان انعام یافتہ بندوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظوں میں کیاہے،’’اورجولوگ اللہ کی راہ میںقتل کئے جاتے ہیں،انہیں مردہ مت کہو (وہ مردہ نہیں) وہ زندہ ہیں ۔ تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں ۔ ‘‘(سورۃ البقرہ)ایک اورمقام پرارشادفرمایا،’’اورجولوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے،تم انہیں مردہ مت خیال کرو، وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیاجاتاہے‘‘۔ (آل عمران)سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کاذکر ان لوگوں کے ساتھ بیان کیاجن پراللہ نے خاص فضل ،انعام اوراکرام فرمایااور انھیں صراطِ مستقیم کی کسوٹی قراردیا۔چناں چہ ارشادِ ہوا،’’اورجواللہ اوراس کے رسولﷺ کی ( ایمان اور صدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے ، وہ (روزِ قیامت) ان لوگوں کے ساتھ ہوگاجن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص )انعام فرمایاہے،جو انبیاء ،صدیقین ،شہداء اورصالحین ہیں اوریہ کتنے بہترین ساتھی ہیں۔‘‘(سورۃ النسا)شہادت، ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے،جس کی حضورسیّدعالم ﷺ نے بھی آرزو کی، حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا،’’ قسم ہے اُس ذَات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،میری تمناہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میںقتل (شہید)کیاجائوں،پھرزندہ کیا جائوں ، پھر شہید کیا جائوں ،پھر زندہ کیا جائوں اورپھر شہید کیا جائوں ۔ ‘‘ ( بخاری ، مشکوٰۃ المصابیح ) شہادتِ امام حسینحضرت امام حسینؓ کی شہادت،مقامِ اورزمانہ شہادت (یعنی شہادت کاسن وسال)سے متعلق نبی کریمﷺنے صحابہ کرام کو پہلے ہی آگاہ فرمادیاتھا۔حضرت اُم سلمہ ؓفرماتی ہیں کہ ایک روزحسن اور حسین میرے گھرمیں رسول اکرمﷺکے سامنے کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرائیل حاضرہوئے اورکہا کہ،’’ اے محمدﷺ!آپ کی اُمت (میں بعض لوگوں کی جماعت) آپ کا یہ بیٹا قتل(شہید) کردے گی۔‘‘جبرائیل نے آپﷺ کواس جگہ کی تھوڑی سی مٹی دی۔رحمت دوعالمﷺنے یہ مٹی اپنے سینہ مبارک سے چمٹا لی اور رو دیئے، ارشاد فرمایا کہ ، ’’ اُم سلمہ !جب یہ مٹی سرخ ہوجائے توسمجھ لیناکہ میرایہ بیٹاشہیدہوگیا۔‘‘حضرت اُم سلمہ نے یہ مٹی محفوظ کرلی۔ہرروزاسےدیکھتیں اورفرماتیں کہ’’ اے مٹی!جس دن توخون میں تبدیل ہوگی وہ کتناعظیم دن ہوگا۔‘‘(الخصائص الکبریٰ۔ المعجم الکبیر۔الصواعق المحرقہ۔السرالشہادتین)مقامِ شہادتامام حسین کے مقامِ شہادت سے متعلق حضرت علی المرتضیٰؓبیان کرتے ہیں کہ،’’ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہواتو دیکھا کہ آپﷺرو رہے ہیں۔میں نے عرض کی کہ ’’یارسول اللہﷺ!آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘آپﷺنے فرمایاکہ ،’’ابھی میرے پاس حضرت جبرائیل آئے تھے ،انہوں نے خبردی ہے کہ میرابیٹاحسین دریائے فرات کے کنارے اس جگہ قتل کیاجائے گا،جسے کربلا(ملکِ عراق میں کوفہ کے قریب ایک جگہ کانام ہے)کہتےہیں۔‘‘(الصواعق المحرقہ،البدایہ والنہایہ)زمانہ شہادتزمانہ شہادت (سن وسال)کے بارے میں بھی حضوراکرمﷺنے اشارتاًنشان دہی فرمادی تھی۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ،’’اے ابوہریرہ!ساٹھ ہجری کے سال کے سرے(یعنی اختتام) سے اورلڑکوں کی امارت وحکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔‘‘چناںچہ حضرت ابوہریرہؓ 60؍ہجری کے اختتام اورلڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ فلسفہ شہادتِ امام حسینقمری سال کاآغازماہِ محرم الحرام سے اوراختتام ماہِ ذوالحجہ پرہوتاہے۔ 10محرم الحرام امام حسین اور10ذوالحجہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی تاریخ ہے۔معلوم ہواکہ اسلام ابتداء سے لے کرانتہاء تک قربانیوں کانام ہے،غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرمنہایت اس کی حسین ، ابتداء ہے اسماعیلحضرت امام حسین ؓ کی شہادت فطری عطیہ تھاجو ازل سے آپ کے لیے لکھاجاچکاتھا۔امامؓ کی شہادت انفرادی واقعہ نہیں بلکہ یہ چمنستانِ نبویﷺکے پورے گلشن(خاندان)کی شہادت کاواقعہ ہے،اس کاتعلق اسلام کی اس روح سے ہے،جس کی ابتداء حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوئی ۔نواسہ رسولﷺ نے میدانِ کربلامیں اپنی قربانی سے اس کی تکمیل کردی۔شہادت ِامام عالی مقام دیگرتمام شہادتوں سے ممتازاورمنفرد ہے۔اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ خانوادئہ رسولﷺکے چشم وچراغ ہیں یعنی آپ سے پہلے کسی رسول کے خاندان نے شہادت کارتبہ حاصل نہیں کیا۔ اس میں شہید ہونے والوں کی حضو ر سیّدعالمﷺکے ساتھ خاص نسبتیں اور رشتہ داریاں ہیں ۔ یہ داستانِ شہادت گلشن نبوت کے کسی ایک پھول پرمشتمل نہیں بلکہ یہ سارے گلشن کی قربانی ہے۔قتل حسین اصل میں مرگِ یزیدہےاسلام زندہ ہوتاہے ہرکربلاکے بعداسلام کی نشرواشاعت اوردین حق کی سربلندی کے لیے لاتعدادمسلمان مرتبہ شہادت پرفائزہوچکے ہیں مگران تمام شہدائِ کرام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بے مثال ہے کیو ں کہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہیدنے نہیں اٹھائیں،مثلاًآپ تین دن کے بھوکے پیاسے شہیدکئے گئے اوراس حال میں کہ آپ کے تمام اصحاب ، عزیزواقارب اوراہل وعیال بھی بھوکے پیاسے تھے اورخاص طورپرچھوٹے چھوٹے معصوم بچے پانی کے لیے تڑپ رہے تھے یہ آپ کے لیے اور زیادہ تکلیف کی بات تھی،کیوں کہ انسان اپنی بھوک وپیاس توکسی طرح برداشت کر ہی لیتا ہے،لیکن اپنے اہل وعیال اور خصوصاًمعصوم اورشیرخواربچوں کی بھوک وپیاس برداشت سے باہر ہوتی ہے۔پھرپانی کاوجودنہ ہوتوپیاس کی تکلیف کم محسوس ہوتی ہے ،لیکن جب پانی کی کثرت اور فراوانی ہو اورجسے عام لوگ ہرطرح سے استعمال بھی کررہے ہوں حتیٰ کہ جانوربھی سیراب ہورہے ہوں،مگر کوئی شخص اپنے اہل وعیال اوراپنے اصحاب سمیت تین دن سے بھوکا پیاساہواوراسے وہ پانی نہ پینے دیاجائے تویہ اس کے لیے زیادہ تکلیف وآزمائش کی بات ہے۔دشت کرب وبلامیں بالکل یہی نقشہ تھاکہ عام آدمی اورجانورسبھی دریائے فرات سے سیراب ہورہے تھے ،مگرنواسہ رسول سیّدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اورآپ کے تمام اصحاب ورفقاء پرپانی بندکردیاگیاتھا۔ یہاں تک کہ آپ اپنے بیماروں اور معصوم بچوں کوبھی پانی کاایک قطرہ نہیں پلاسکتے تھے۔اُس کی قدرت جانورتک، آب سے سیراب ہوںپیاس کی شدت میں تڑپے بے زبان اہل بیت!سیّدالشہداء امام عالی مقام حضرت سیّدناامام حسین رضی اللہ عنہ کربلاکے تپتے ہوئے صحراء میں قیامت خیزگرمی اورچلچلاتی دھوپ میں بھوکے پیاسے مگراللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسولﷺکی محبت واطاعت میں سرشارہوکراپنے عزیز واقارب اوراپنے اصحاب سمیت شہادت کے عظیم منصب سے شرف یاب ہوئے۔توحیدورسالت ،دین حق کی سربلندی ،بقاء، کلمۃ الحق،حق گوئی اورسچائی کی خاطراللہ تعالیٰ کی راہ میں اپناسب کچھ قربان کردیا۔انقلابِ شہادتِ امام حسینانسان کو بیدار تو ہو لینے دوہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ 10محرم الحرام61ہجری سرزمینِ کربلا میں شہیدکردیے گئے۔ آپ کی شہادت کاواقعہ بہت طویل اوردل گداز ہے، جس طرح آپ کودھوکے اورفریب سے کوفہ بلایاگیااورجس طرح جگرگوشوں، عزیزو اقارب اوراصحاب سمیت بڑی بے دردی اورسنگ دلی کے ساتھ شہیدکیا گیا۔اسے لکھنے اور سننے کی قلب وجگرمیں تاب وطاقت نہیں ہے۔امام جلال الدین سیوطی’’تاریخ الخلفائ‘‘اورعلامہ ابن اثیر’’البدایہ والنہایہ ‘‘ میں رقم طرازہیں کہ,حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کے16اہلِ بیت بھی شہیدکیے گئے۔ شہادت کے ہنگامے کے وقت دنیامیں سات یوم تک اندھیراچھایارہا۔دیواروں پر دھوپ کارنگ زردسانظرآتاتھااورستارے ٹوٹتے رہتے تھے۔آپ کی شہادت ۱۰محرم الحرام ۶۱ہجری کو واقع ہوئی ۔اس دن سورج گہنا(بے نور)گیاتھااورمسلسل چھ مہینے تک آسمان کے کنارے سرخ رہے،بعدمیں وہ سرخی رفتہ رفتہ ختم ہوگئی لیکن اُفق کی سرخی اب تک موجود ہے،جوشہادتِ امام حسین سے پہلے نہیں تھی…بعض لوگ کہتے ہیں کہ یومِ شہادتِ حسین پربیت المقدس کا جو پتھر بھی پلٹاجاتاتواس کے نیچے تازہ خون دکھائی دیتا۔عراقی فوج نے اپنے لیے ایک اونٹ ذبح کیاتواس کا گوشت آگ کاانگارہ بن گیاجوشعلے ماررہاتھااور جب انھوں نے وہ گوشت پکایا تووہ نہایت تلخ اورکڑواہوگیا۔( تاریخ الخلفاء/البدایہ والنہایہ)امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کاسرمبارک لے جانے والے قافلے کے راستے میں ایک جگہ گرجاگھرآیاتوانھوں نے رات گزارنے کے لیے وہاں قیام کیا اوروہ لوگ آپ کاسرِانورپاس ہی رکھ کرنبیذ(شراب)پینے لگے۔ اتنے میں پردئہ غیب سے ایک آہنی قلم نمودارہوااوراس نے دیوارپر خون سے لکھاکہاَ تَرْجُوْا اُمَّۃً قَتَلَتْ حُسَیْناً … شَفَاعَۃُ جَدِّہٖ یَوْمَ الْحِسَابَ ’’کیاحسین کوشہیدکرنے والے یہ امیدبھی لگائے بیٹھے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے نانا جان(حضوراکرمﷺ)ان کی شفاعت بھی کریں گے‘‘۔ بعض روایات کے مطابق یہ شعر حضورنبی کریمﷺکی بعثت مبارک سے بھی۳۰۰ سال پہلے سے دیوارپر لکھا ہوا تھا ۔ ( البدایہ والنہایہ ، تاریخ الخلفا )تاریخ نے لکھاہے بہت ذکرِ کربلاجس طرح لکھنا چاہیے اب تک لکھا نہیں گیامحرم الحرام کی دسویں تاریخ بڑی عظمت وبزرگی اورقدرومنزلت والی ہے ، کیوں کہ بہت سے اہم اور تاریخ ساز واقعات اسی تاریخ پروقوع پذیرہوئے ہیں۔عاشورہ کے دن روزہ رکھناسنت نبوی ﷺہے اور بہت ہی فضیلت رکھتاہے۔اسی طرح امامِ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اوردیگرشہدائِ کربلا اوراپنے مرحومین کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے نذرو نیاز کا اہتمام کرنا،حلیم پکاکرکھلانا،سبیلیں لگانا،کھیرپکانااورپانی وشربت وغیرہ پلانابہت اجروثواب کاکام ہے۔دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کوغازی کی زندگی اور شہادت کی موت نصیب فرمائے۔(آمین ۔ثم آمین)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عمر ہار گئی، جذبہ جیت گیا

عمر ہار گئی، جذبہ جیت گیا

زیرو گریویٹی میں عظیم کارنامہعمر اگرچہ انسان کے جسم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے، لیکن حوصلہ، جذبہ اور عزم وہ طاقتیں ہیں جو بڑھاپے کو بھی شکست دے دیتی ہیں۔ یہی حقیقت ایک 97 سالہ سابق فوجی نے ثابت کر دکھائی، جب انہوں نے زیرو گریویٹی میں پرواز کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اس بزرگ ہیرو نے نہ صرف اپنی زندگی کے ایک انوکھے خواب کو پورا کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ انسان اگر ارادہ مضبوط رکھے تو عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان کا یہ غیر معمولی کارنامہ آج دنیا بھر میں عزم، ہمت اور امید کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جب امریکی باشندے رابرٹ گورڈن اپالاچیا کے دامن میں پروان چڑھ رہے تھے تو وہ اکثر آسمان پر چمکتے ستاروں کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے۔ اب 90 برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آخرکار انہوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ فروری میں 97 سالہ رابرٹ گورڈن میکافی زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے والے معمر ترین شخص بن گئے، جب انہوں نے زیرو جی کی قمری خلائی پرواز کے ذریعے زمین کی فضا کی بلند ترین سطح تک سفر کیا۔اس مختصر مگر یادگار سفر کے دوران ریٹائرڈ ماہر نفسیات بے حد خوش تھے کہ وہ اپنی پیاری پوتی کیٹ کے ساتھ بے وزنی کی حالت میں فضا میں تیر رہے تھے۔ کیٹ ہی وہ شخصیت تھیں جنہوں نے برسوں تک زمین پر رہنے والے اپنے دادا کا اُڑان کا خواب آخرکار پورا کر دکھایا۔رابرٹ گورڈن نے گنیز ورلڈ ریکارڈ کو بتایا کہ بچپن میں مشرقی ٹینیسی میں رہتے ہوئے وہ اپنے گھر کے قریب جنگلات اور ندی نالوں میں گھومتے، ٹیڈ پولز سے کھیلتے اور فطرت کی خوبصورتی دریافت کیا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے میڈیکل اسکول میں تعلیم حاصل کی اور ریاست کنساس میں طب کے مختلف شعبوں میں کام کیا۔ بعدازاں 85 برس کی عمر میں ماہر نفسیات کے طور پر ریٹائر ہوئے۔رابرٹ ایک خاندان دوست شخصیت ہیں اور اپنی پوتی کیٹ کے بہت قریب ہیں۔ برسوں تک خلائی پرواز کے بارے میں ان کی گفتگو سننے کے بعد کیٹ نے انہیں قائل کیا کہ وہ 22 فروری 2025ء کو ''زیرو جی‘‘ کی پرواز میں ان کے ساتھ شامل ہوں، جو سان جوز میں منعقد ہوئی۔ہوابازی اور خلائی سفر کے دیرینہ شوقین رابرٹ، جو یونائیٹڈ فلائنگ اوکٹوجنیرینز کے رکن بھی ہیں، اپنی اس یادگار پرواز کے ذریعے امریکی فوج کیلئے اپنی خدمات اور اپنے بھائی جے جی میکافی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے تھے، جنہوں نے انہیں پرواز کرنا سکھایا تھا۔ رابرٹ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایک شخصیت مسلسل مجھے زیرو گریویٹی کے سفر کیلئے آمادہ کر رہی تھی اور پھر اس نے مجھے ایسی پیشکش کی جسے میں ٹھکرا نہیں سکا۔پرواز کی تیاری کیلئے رابرٹ نے خود کو متحرک رکھا۔ وہ روزانہ چہل قدمی جاری رکھتے اور اپنی جسمانی صحت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جب ایک ڈاکٹر نے انہیں پرواز کیلئے فٹ قرار دینے کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیاتو بھی یہ 97 سالہ بزرگ مایوس نہ ہوئے۔ رابرٹ نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میرا خیال ہے کہ شاید یہ اس ڈاکٹر کی اپنی حد تھی۔اس کے بعد انہوں نے خود ہی اپنے لیے منظوری کا نوٹ لکھ دیا، کیونکہ آخرکار وہ خود بھی ایک ڈاکٹر تھے۔پرواز کے دن یہ پرجوش دادا اور ان کی خیال رکھنے والی پوتی بہادر مہم جوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ زیرو جی کی سہولیات میں جمع ہوئے اور خصوصی خلائی سوٹ زیب تن کیے۔ اسی موقع پر رابرٹ کو جیک پریسمین سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جو اس وقت گنیز ورلڈ ریکارڈ کے تحت کم عمر ترین (مرد) شخص کے طور پر زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں، جب وہ صرف آٹھ سال کے تھے۔اگرچہ یہ سفر بظاہر نہایت اعصاب شکن تھا، تاہم رابرٹ اس بات سے زیادہ پریشان نہیں تھے کہ وہ زمین کی فضائی حد تک جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ‘‘لوگ اسے خطرناک بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعی خطرناک ہے۔جیسے جیسے گروپ بلندی کی طرف سفر کرتا گیا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ مزید نمایاں ہوتی گئی۔ وہ اس حقیقت کو محسوس کر رہے تھے کہ وہ آخرکار اپنے بچپن کے ایک دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ جب طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی تک پہنچا تو گروپ کو آخرکار اپنی سیٹ بیلٹس کھولنے اور زیرو گریویٹی میں آزادانہ طور پر تیرنے کی اجازت مل گئی۔ اس لمحے میں رابرٹ اور ان کی پوتی کیٹ نے قیمتی لمحات ایک ساتھ گزارتے ہوئے یوں گھومنا شروع کیا جیسے دو سپر ہیروز فضا میں اڑ رہے ہوں۔رابرٹ خوشی سے قلابازیاں کھاتے اور مڑتے ہوئے بالکل ایک نوجوان کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک وسیع مسکراہٹ تھی جبکہ وہ بے وزنی کی حالت میں جہاز کے اندر آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور دوسرے خوش و خرم شرکاء کے درمیان نہایت نرمی سے حرکت کر رہے تھے۔لینڈنگ کے بعدرابرٹ زمین پر واپس آئے تو وہ باقاعدہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کے ایک ریکارڈ ہولڈر بن چکے تھے۔ انہوں نے یہ اعزاز 90 سالہ سابق خلانورد امیدوار ایڈ ڈوائٹ کے مئی 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ کر حاصل کیا۔اگرچہ انہیں یہ تجربہ بے حد پسند آیا، تاہم رابرٹ نے کہا کہ یہ پرواز اتنی دیر تک جاری نہیں رہی جتنی وہ چاہتے تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنی پوتی کے ساتھ بے وزنی میں گھنٹوں تک تیرتے رہنے کیلئے بالکل تیار تھے۔رابرٹ کے اس عمر کے آخر میں قائم کیے گئے شاندار ریکارڈ سے متاثر ہونے والوں کے لیے، اس فخر سے بھرے ریکارڈ ہولڈر نے مشورہ دیا کہ ہر شخص کو ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر وہ اتنی اچھی جسمانی حالت میں نہ ہوتے تو اس عمر میں اپنے خواب کو حقیقت بنانا تقریباً ناممکن ہوتا۔

24 مئی: مارخور کا عالمی دن

24 مئی: مارخور کا عالمی دن

پاکستان کے قومی جانور کے تحفظ کی اہمیتدنیا بھر میں ہر سال 24 مئی کو مارخور کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس نایاب اور خوبصورت جنگلی جانور کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اقوامِ متحدہ نے 2024ء میں پہلی مرتبہ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ دن ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک اہم علامت بن چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دن اس وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور اس کی بڑی تعداد ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ مارخور اپنے خوبصورت بل کھاتے ہوئے سینگوں، مضبوط جسم اور پہاڑوں پر چڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ جانور زیادہ تر دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے اور فطرت کے حسن کی ایک جیتی جاگتی مثال سمجھا جاتا ہے۔مارخور بنیادی طور پر جنگلی بکری کی ایک نایاب نسل ہے۔ اس کے سینگ پیچ دار ہوتے ہیں جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز بناتے ہیں۔ نر مارخور کے سینگ چار سے پانچ فٹ تک لمبے ہو سکتے ہیں جبکہ مادہ کے سینگ نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔یہ جانور زیادہ تر پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، چترال، کوہستان، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، تاجکستان اور بھارت کے بعض علاقوں میں بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔ مارخور نہایت پھرتیلا جانور ہے اور خطرناک چٹانوں پر آسانی سے چڑھ سکتا ہے۔ یہ زیادہ تر گھاس، جھاڑیوں اور پہاڑی پودوں پر گزارا کرتا ہے۔ سردیوں میں یہ نسبتاً نچلے علاقوں کی طرف آ جاتا ہے جبکہ گرمیوں میں بلند پہاڑوں کا رخ کرتا ہے۔ مارخور کے تحفظ کی کامیاب کوششیںایک وقت ایسا بھی تھا جب غیر قانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی ماحول کی تباہی کے باعث مارخور کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی تھی۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ خوبصورت جانور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔پاکستان نے مارخور کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔ مختلف قومی پارکس، جنگلی حیات کے محفوظ علاقے اور کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن پروگرام شروع کیے گئے۔ مقامی آبادی کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا تاکہ لوگ جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں مارخور کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت (IUCN) نے بھی پاکستان کی کامیاب حکمتِ عملی کو سراہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب پاکستان میں مارخور کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بھی متعارف کرایا گیا جس کے تحت محدود اور قانونی شکار کی اجازت دے کر حاصل ہونے والی آمدنی مقامی کمیونٹیز کی فلاح اور جنگلی حیات کے تحفظ پر خرچ کی جاتی ہے۔ اس پروگرام نے مقامی لوگوں کو مارخور کے تحفظ کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ماحولیاتی توازن میں مارخور کا کردارمارخور صرف ایک خوبصورت جانور ہی نہیں بلکہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ مختلف پودوں اور جھاڑیوں کو کھا کر قدرتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ برفانی چیتے جیسے شکاری جانوروں کی خوراک کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ اگر مارخور کی نسل ختم ہو جائے تو پورا پہاڑی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ جنگلی حیات اس کے تحفظ کو نہایت ضروری قرار دیتے ہیں۔ مارخور سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح شمالی پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں میں اس نایاب جانور کو دیکھنے آتے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔عالمی دن منانے کا مقصدمارخور کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد لوگوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، آگاہی واکس، تعلیمی پروگرام اور میڈیا مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ سکولوں اور جامعات میں طلبہ کو ماحولیات اور جنگلی جانوروں کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل قدرتی وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری محسوس کرے۔ماہرین کے مطابق اگر انسان قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ پر توجہ نہ دے تو مستقبل میں کئی نایاب جانور ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔ مارخور کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فطرت کا حسن برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ مارخور پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، قومی شناخت اور جنگلی حیات کی علامت ہے۔ اس کے تحفظ میں پاکستان کی کامیاب کوششیں پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہیں۔ 24 مئی کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگلی جانور صرف قدرت کا حصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور ماحول کے توازن کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، مقامی آبادی، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی مارخور جیسے خوبصورت اور نایاب جانور کو قدرتی ماحول میں دیکھ سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کا پہلا یونیورسٹی میوزیم1683ء میں ''ایشمولین میوزیم‘‘ (Ashmolean Museum) کا افتتاح انگلینڈ کے شہرآکسفورڈ میں کیا گیا۔ یہ دنیا کا پہلا یونیورسٹی میوزیم تھا، جسے علم، تاریخ اور ثقافت کے فروغ کیلئے قائم کیا گیا۔ اس میوزیم کی بنیاد مشہور ماہر آثارقدیمہ اور کلیکٹر الیاس ایشمول کے عطیہ کردہ نوادرات پر رکھی گئی۔ یہاں قدیم مخطوطات، تاریخی اشیا، فن مصوری اور سائنسی نمونے محفوظ کیے گئے، جن سے طلبہ اور محققین نے بھرپور استفادہ کیا۔ ایشمولین میوزیم علم و تحقیق کے میدان میں اہم مقام رکھتا ہے۔بروکلین برج کا افتتاحبروکلین برج نیویارک شہر میں ایک ہائبرڈ کیبل پل ہے جو مین ہٹن اور بروکلین کے درمیان مشرقی دریا پر پھیلا ہوا ہے۔اس پل کو عام عوام کیلئے 24 مئی 1883ء کو کھولا گیا، بروکلین برج مشرقی دریا کو عبور کرنے والا پہلا پل تھا۔ جس وقت اس کا افتتاح کیا گیا یہ اس وقت دنیا کا سب سے لمبا کیبل برج تھا ۔ اس پل کو اصل میں نیویارک اور بروکلین برج یا ایسٹ ریور برج کہا جاتا تھا لیکن 1915ء میں باضابطہ طور پر اس کا نام بدل کر بروکلین برج رکھ دیا گیا۔ بحیرہ ایجیئن میں شدید زلزلہ 24 مئی 2014ء کو یونان اور ترکی کے درمیان شمالی بحیرہ ایجیئن میں شدید زلزلہ آیا۔ جس کی شدت 6.9 ریکارڈ کی گئی۔ ترکی کے جزیرے امبروس اور ایڈیرنے اور چاناکلے کے شہروں کے ساتھ ساتھ یونانی جزیرے لیمنوس میں بھی شدید تباہی ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکے بلغاریہ اور جنوبی رومانیہ میں بھی محسوس کیے گئے۔ کئی آفٹر شاکس بھی آئے جن کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے میں450ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ روس اور امریکہ معاہدہامریکہ اور روس کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ماسکو معاہدہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں میں کمی کا ایک اسٹریٹجک معاہدہ تھا جو جون 2003ء سے فروری 2011ء تک نافذ رہا بعد ازاں اسے نیو اسٹارٹ ٹریٹی کے ذریعے ختم کر دیا گیا ۔ اس معاہدے پر ماسکو میں 24 مئی 2002ء کو دستخط کئے گئے۔معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا کہ کوئی بھی فریق دوسرے کو تین ماہ کا تحریری نوٹس دینے پر معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ڈنمارک آبنائے کی جنگ1941ء میں ''بیٹل آف دی اٹلانٹک‘‘ کے دوران آبنائے ڈنمارک کی مشہور بحری جنگ پیش آئی۔ اس معرکے میں جرمن جنگی بحری جہاز نے برطانوی رائل نیوی کے فخر سمجھے جانے والے جنگی جہاز ''ایچ ایم ایس ہڈ‘‘کو تباہ کر دیا۔ اس المناک حادثے میں جہاز پر سوار تقریباً تمام اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ صرف تین ملاح زندہ بچ سکے۔ اس واقعے نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو شدید نقصان پہنچایا اور بحری جنگوں کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا۔

مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش

کیا ''جراسک پارک‘‘ حقیقت بننے جا رہا ہے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی صرف فلموں اور افسانوں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، آج حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے مکمل مصنوعی انڈے سے زندہ چوزوں کی پیدائش ممکن بنا کر حیاتیاتی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی کو بعض ماہرین ''حقیقی جراسک پارک‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے معدوم یا ناپید ہوتی انواع کو دوبارہ زندہ کرنے یعنی ''ڈی ایکسٹنکشن‘‘ (De-Extinction) کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت طب، حیاتیات اور زرعی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، ماحولیاتی اور انسانی تحفظ سے متعلق کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔کمپنی ''کولوسل بائیوسائنسز (Colossal Biosciences)، جو برفانی دور کے عظیم الجثہ ''وُولی میمتھ‘‘ (woolly mammoth)کو دوبارہ دنیا میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کے ماہرین نے پہلی بار ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں بغیر خول کے مصنوعی انڈے کو قدرتی انڈے کے ممکنہ حد تک مشابہ بنایا گیا۔ تحقیقی ٹیم نے ابتدائی مرحلے کے پرندوں کے جنین لے کر انہیں مصنوعی خول میں منتقل کیا اور 18 دن تک ان کی افزائش اور نشوؤنما جاری رکھی۔ جب چوزے مکمل طور پر تیار ہو گئے تو وہ اپنے مصنوعی اور محفوظ گھر سے باہر نکل آئے اور اب صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جنوبی جزیرے کے دیو ہیکل ''موآ‘‘ (moa) پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ ناپید پرندہ تقریباً 11.8 فٹ (3.6 میٹر) بلند اور 507 پاؤنڈ (230 کلوگرام) وزنی تھا۔یہ تحقیق مستقبل میں مصنوعی رحم (Artificial Womb)کی تیاری کیلئے بھی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق: یہ آلہ ہر چیز بدل دیتا ہے۔ ہم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ہم انڈے کے خول کے بغیر بھی مکمل پرندے کی افزائش ایک انکیوبیٹر میں کر سکتے ہیں۔ یہ واقعی ایک انقلابی کامیابی ہے۔ زندگی اپنا راستہ خود تلاش کر لیتی ہے۔مصنوعی انڈے کا یہ آلہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ایک مضبوط بیرونی خول پر مشتمل ہے، جسے جالی نما ساخت دی گئی ہے تاکہ یہ حفاظت اور مضبوطی فراہم کر سکے۔ اس تہہ کے اندر سلیکون کی ایک جھلی موجود ہے جو آکسیجن کو نظام کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔گزشتہ چالیس برسوں کے دوران مصنوعی انڈے تیار کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن ان میں خالص آکسیجن کی بڑی مقدار شامل کرنا پڑتی تھی، جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا اور جانوروں کی طویل مدتی صحت متاثر ہوتی تھی۔ اس نئے ڈیزائن میں استعمال ہونے والی نفوذ پذیر جھلی فضا سے آکسیجن کو قدرتی انداز میں انڈے کے اندر منتقل ہونے دیتی ہے۔ یہ عمل حقیقی انڈوں میں موجود باریک سوراخوں کے ذریعے آکسیجن کے داخل ہونے کے قدرتی نظام سے مشابہ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم قدرت کے نظام کی نقل کیسے کریں اور اسے مزید بہتر کیسے بنائیں؟ مصنوعی انڈوں کے بنیادی انجینئرنگ مسئلے کو پہلی بار حل کیا گیا ہے۔مصنوعی انڈے میں اوپر کی جانب ایک ''کھڑکی‘‘ بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے جنین کی افزائش کے ہر مرحلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ آلہ عام تجارتی انکیوبیٹرز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے، اور ہر سائز کے انڈوں کیلئے ڈھالا جا سکتا ہے۔اس عمل کے آغاز میں ماہرین نے مرغیوں کے اصلی انڈے فوراً اس وقت جمع کیے جب وہ دیے گئے تھے۔ ایمبریالوجی کی ٹیم نے ہر انڈے کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان جنینزکا انتخاب کیا جن کے کامیابی سے نکلنے کے امکانات زیادہ تھے۔ اس کے بعد انڈے کو نہایت احتیاط سے توڑا گیا اور اس کے اندر موجود مواد کو مصنوعی انڈے میں منتقل کر دیا گیا، جسے بعد ازاں ایک انکیوبیٹر میں رکھا گیا۔ سائنس دانوں نے ایک خاص غذائی مادہ بھی شامل کیا جس نے جنین کی افزائش جاری رکھنے میں مدد دی۔ تقریباً 18 دن بعد چوزے نے انڈے پر چونچ مارنا شروع کی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ باہر آنے کیلئے تیار ہے۔ باہر نکلنے کے بعد تمام چوزوں کو گروپوں میں رکھا گیا، پھر انہیں ایک ''گریجویشن پین‘‘ یعنی کھلے تربیتی حصے میں منتقل کیا گیا اور آخرکار ایک بڑے فارم میں بھیج دیا گیا۔کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق اس ڈیزائن سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا میں پرندوں کی نصف سے زیادہ اقسام کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں لیبارٹریوں میں سینکڑوں یا ہزاروں انڈوں کے ذریعے نایاب اور شدید خطرے سے دوچار انواع کی افزائش کی جا رہی ہو۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کا مصنوعی رحم تعمیر کیا جائے گا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ دیو ہیکل پرندے ''موآ‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا منصوبہ انکیوبیشن کے ایسے چیلنج سے دوچار ہے جو ان کے دیگر منصوبوں سے بالکل مختلف ہے۔ اندازوں کے مطابق موآ کا انڈہ ایک مرغی کے انڈے سے تقریباً 80 گنا بڑا اور ایمو کے انڈے سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ حجم رکھتا تھا، جس کی وجہ سے موجودہ دور کے کسی بھی پرندے کو اس کے متبادل میزبان کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں موجود کوئی زندہ پرندہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اس جنین کی پرورش کر سکے، اسی لیے اس معدوم نسل کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے بڑے سائز کے مصنوعی انڈے کی تیاری انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ کولوسل بائیوسائنسز ''موآ‘‘ کی ہڈیوں سے حاصل کیے گئے جینز استعمال کرتے ہوئے جدید پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرے گی تاکہ وہ معدوم ''موآ‘‘ سے انتہائی مشابہ ہو جائیں۔ یہ پرندہ تقریباً 500 سے 600 سال قبل نیوزی لینڈ سے ناپید ہو گیا تھا۔یہی تکنیک اس سے پہلے سرمئی بھیڑیوں کو قدیم ''ڈائر وولف‘‘ سے مشابہ جانوروں میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ ترمیم شدہ جنینز کو بعدازاں مصنوعی انڈوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں وہ نشوؤنما پا کر بالآخر انڈے سے باہر آئیں گے۔معدوم ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن منصوبہاپنی نوعیت کے مشہور ترین معدوم جانوروں میں شمار ہونے والا ڈوڈو پرندہ انسانوں کے بے رحمانہ شکار کے باعث صرف چند دہائیوں میں ہمیشہ کیلئے دنیا سے ختم ہوگیا تھا۔اب سائنس دان اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے اس معدوم پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور وہ اس مشہور پرندے کو اس کے اصل وطن ماریشس واپس لانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اور جینوم ایڈیٹنگ کی مدد سے ڈوڈو پرندے کی جدید شکل دوبارہ تخلیق کرنے پر کام کر رہی ہے۔ 225 ملین ڈالر سے زائد لاگت والے اس منصوبے کے تحت کمپنی ماریشس سے تقریباً 350 سال قبل یورپی مہم جوؤں کے ہاتھوں معدوم ہونے والے ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سائنس دان پہلے ہی ہڈیوں کے نمونوں اور دیگر باقیات کی مدد سے اس معدوم پرندے کے مکمل جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔اگلا مرحلہ اس کے قریبی زندہ رشتہ دار پرندے''Nicobar pigeon‘‘کے جلدی خلیے میں جینیاتی تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ اس کا جینوم معدوم ڈوڈو کے جینوم سے مطابقت اختیار کر سکے۔

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

دانت صاف کرنے کا صحیح وقت کونسا؟

برش کب کرنا بہتر، ماہرین نے معمہ سلجھا دیا روزمرہ زندگی کی چھوٹی عادات بھی ہماری صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، اور دانت صاف کرنے کا درست وقت بھی انہی میں سے ایک اہم سوال ہے۔ اکثر لوگ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ دانت ناشتے سے پہلے برش کیے جائیں یا بعد میں۔ ماہرین دندان سازی کے مطابق اس معمولی دکھائی دینے والے فیصلے کے پیچھے سائنسی وجوہات موجود ہیں، جو نہ صرف دانتوں کی حفاظت بلکہ مجموعی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق اور ماہرین کی رائے نے اس دیرینہ بحث کو ایک نئی جہت دی ہے، جس سے یہ جاننا مزید ضروری ہو گیا ہے کہ درست طریقہ کیا ہے اور ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔کیا آپ کو دانت ناشتے سے پہلے برش کرنے چاہئیں یا بعد میں؟ ایک دندان ساز نے اس بحث کو بالآخر ختم کر دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط طریقہ اختیار کرنے سے دانتوں کے اینامل کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا پسند کرتے ہیں، ڈاکٹر دیپا چوپڑا وضاحت کرتی ہیں کہ دراصل صبح سب سے پہلے دانت صاف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ناشتے سے پہلے برش کرنے سے وہ پلاک اور بیکٹیریا ختم ہو جاتے ہیں جو رات بھر دانتوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سے دانتوں پر فلورائیڈ کی ایک حفاظتی تہہ بھی بن جاتی ہے، جو کھانا کھانے سے پہلے دانتوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا صارفین کیلئے حیران کن ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا ہی درست طریقہ ہے۔ ٹک ٹاک پر ایک صارف نے لکھا کہ میں پہلے ناشتہ کرتا ہوں اور پھر دانت صاف کرتا ہوں، یہ زیادہ سمجھ میں آنے والا طریقہ لگتا ہے۔ ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ناشتے سے پہلے برش کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے، آپ کی سانس سارا دن سیریل اور دودھ جیسی ہی رہے گی۔ڈاکٹر چوپڑا، جو وائٹ ڈینٹل میں کام کرتی ہیں، وضاحت کرتی ہیں کہ ناشتے کے فوراً بعد دانت صاف کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ نے کھٹے (acidic) کھانے جیسے پھل یا پھلوں کا رس لیا ہو۔ یہ چیزیں عارضی طور پر دانتوں کے اینامل کو نرم کر دیتی ہیں، اور اس وقت برش کرنے سے اینامل آسانی سے گھس سکتا ہے۔ ناشتے سے پہلے دانت صاف کرنا دراصل تیزاب اور چینی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جو ناشتے کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔ڈاکٹر کے مطابق جب آپ پہلے برش کرتے ہیں تو آپ اپنے دانتوں پر ایک اضافی حفاظتی تہہ بنا دیتے ہیں، جو کھٹے یا میٹھے کھانوں سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنے پر اصرار کرتے ہیں تو ڈاکٹر چوپڑا مشورہ دیتی ہیں کہ کم از کم 30 منٹ کا وقفہ ضرور دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آپ کے اینامل کو تیزاب کے اثر کے بعد بحالی کیلئے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ فوراً برش کرتے ہیں تو آپ دراصل نرم شدہ اینامل کو صاف کر رہے ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ حساسیت اور کٹاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ ناشتہ کرنے کے بعد دانت صاف کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم 30 منٹ انتظار کرنا ضروری ہے۔ اس سے آپ کے لعاب (saliva) کو وقت ملتا ہے کہ وہ تیزابیت کو کم کر دے اور اینامل کو دوبارہ سخت ہونے کا موقع ملتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''جاوا‘‘ پروگرامنگ کی لانچنگ23مئی 1995ء میں ''جاوا‘‘ پروگرامنگ منظر عام پر آئی۔ ''جاوا‘‘ ایک اعلیٰ سطحی پروگرامنگ لینگوئج ہے۔ اس کا مقصد پروگرامرز کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ پروگرام کو کہیں بھی لکھا اور چلایا جاسکے یعنی مرتب کردہ جاوا کوڈ ان تمام پلیٹ فارمز پر چل سکتا ہے جو جاوا کو دوبارہ کمپائل کرنے کی ضرورت کے بغیر سپورٹ کرتے ہیں۔ ''جاوا‘‘ ایپلی کیشنز کو عام طور پر بائی کوڈ پر مرتب کیا جاتا ہے جو کمپیوٹر کے بنیادی اصولوں سے قطع نظر کسی بھی جاوا ورچوئل مشین (JVM) پر چل سکتا ہے۔چین تبت معاہدہسترہ نکاتی معاہدہ، سرکاری طور پر مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی مقامی حکومت کے درمیان ایک امن معاہد ہ تھا۔یہ معاہدہ عوامی جمہوریہ چین کے اندر تبت کی حیثیت سے متعلق ایک اہم دستاویز تھی۔ اس پر 23 مئی 1951ء کو مرکزی عوامی حکومت اور تبت کی حکومت نے بیجنگ میں دستخط کیے تھے۔ 24 اکتوبر 1951 ء کو ٹیلی گراف کی شکل میں معاہدے کی توثیق کی گئی۔ تقریباً آٹھ سال بعد 18 اپریل 1959ء کو اس معاہدے کو مسترد کر دیا گیا اور ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ یہ معاہدہ دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔کچھوؤں کا عالمی دن23مئی کو کچھوئوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد کچھوے کی اہمیت اوراس کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ کچھوے دیگر جانوروں سے اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ ان میں پانی اور خشکی دونوں میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کچھوے قدیم وقتوں سے آج تک مختلف ماحول میں اور حادثوں کے باوجود اپنی نسل کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھوؤں نے ماحول کی تبدیلی کے ساتھ اپنی عادات بھی بدلی ہیں۔ایک کچھوے کی اوسط عمر بھی بہت طویل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔نیویارک پبلک لائبریری کا قیام23 مئی 1895 ء کو آسٹر اور لینوکس لائبریریوں اور ٹلڈن ٹرسٹ کے وسائل کو یکجاں کر کے ایک نیاادارہ قائم کیا گیا جسے دی نیویارک پبلک لائبریری (The New York Public Library) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لائبریری کا شمار دنیا کی قدیم لائبریریز میں کیا جاتا ہے ۔یہ امریکہ کی دوسری اور دنیا کی چوتھی سب سے بڑی لائبریری ہے۔اس میں موجود کتابوں کی تعداد تقریباً52ملین ہے ۔ امریکہ کی ریاست بننے کا اعزاز1788ء میں جنوبی کیرولائنا نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی توثیق کرنے والی آٹھویں ریاست بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ تاریخی اقدام امریکی وفاقی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ امریکی آئین 1787ء میں تیار کیا گیا تھا تاکہ نوآزاد ریاستوں کو ایک مضبوط مرکزی حکومت کے تحت متحد کیا جا سکے۔ جنوبی کیرولائنا کی منظوری نے آئین کی قبولیت کو مزید تقویت دی اور دیگر ریاستوں کو بھی اس کی توثیق کی ترغیب ملی۔ اس وقت امریکہ ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھ رہا تھا، اور اس آئین نے ملک میں قانون، حکومت اور شہری حقوق کے اصول متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔