میں تو پنجتن کا غلام ہوں -
اسپیشل فیچر
الحاج سیّد محمد فصیح الدین سہروردی نعت او رمنقبت پڑھنے میں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے گھرانے میں اب آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں مدحیہ اشعار اور اہلبیت کی تعریف و توصیف الحمد ﷲ چوتھی نسل تک آگئی ہے۔15 جون1957ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علامہ ریاض الدین سہروردی اپنے وقت کے معروف نعت خواں اور نعت گو تھے۔ جب کہ جناح کالج سے انٹر اور اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی تعلیم کے شوق نے ایل ایل بی کرنے پر مجبور کیا، وکالت اور صحافت کی سند رکھتے ہیں۔ نعت خوانی کرتے اور مناقب پڑِھتے وقت اُُن پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اور جب وہ ’’میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں‘‘ پڑھتے ہیں توان کے ساتھ محفل کے تمام شرکاء پر بھی وجد طاری ہوجاتا ہے۔ سیّد محمد فصیح الدین سہروردی ربیع الاول اور محرم الحرام میں بے حد مصروف ہوتے ہیں اور مختلف محافل میں شریک ہوتے ہیں۔ جب دنیا اخبار میں انٹرویو کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو اس وقت وہ لاہور کی ایک تقریب میں تھے، اس کے باوجود ہمارے سوالوں کے جوابات دیے۔عربی زبان میں نعت کے معنیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعریف و توصیف میں کہے جانے والے وہ اشعار ہیں جن میں آپ ؐ کی شان بیان کی جائے۔ نعت اہلِ بیت اطہارؑ اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے ذریعے امت مسلمہ کو عطا ہوئی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عہد میں حضرت کعب بن زہیر ؓ‘ حضرت حسان بن ثابتؓ‘ حضرت عبداﷲ ابن دواحہؓ جیسے صحابہ کو نعت پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی موجودگی میں اس روایت کا آغاز ہوااور آج نعت خوانی کے بغیر دینی محافل نامکمل نظر آتی ہیں۔ آج مولائے کائنات حضرت امام علی ؑ کا نعتیہ کلام عربی ادب کا حصہ ہے اور حضرت امام زین العابدین ؑ کے کلام کو اﷲ تعالیٰ نے بے پناہ شہرت عطا کی۔ یہ بات انہوںنے ہمارے ایک سوال کے جواب میں کہی‘ جب ان سے نعت کی طرف رغبت کے حوالے سے پوچھا گیا تو یوں گویا ہوئے۔ میرے دادا مفتی سیّد جلال الدین چشتی اور میرے والد علامہ ریاض الدین سہروردی بھی نعت گو شاعر اور بہترین نعت خواں تھے۔ میرے دادا کا زیادہ تر کلام فارسی میں ہے جس سے میرے والد نے زیادہ فیض حاصل کیا ہے اور اب میرا بیٹا سیّد محمد زین العابدین سہروردی بھی بڑے دل کش انداز میں نعت پڑھتا ہے۔ ابھی اس نے انٹر کیا ہے اس لیے پڑھائی کی طرف توجہ ہے۔نعت پڑھنے کی طرف کیسے راغب ہوئے؟ ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب کی دیکھا دیکھی نعت پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور ان کی ہی تربیت کے زیر سایہ پانچ سال کی عمر میں ان کی ہی لکھی ہوئی نعت پڑھی جس کا مطلع یہ ہے۔تمہارا ثانی رسالت مآب ؐ ہو نہ سکاتمہارا کوئی کہیں بھی جواب ہو نہ سکالیکن اصل شہرت 1983ء میں ’’ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی‘‘ سے ملی۔ صحافت میں ایم اے کرنے کے بعد میں نے نعت خوانی کی طرف بھر پور توجہ دی۔ یونیورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اخبارات میں لکھتا تھا۔ میرے مضامین مختلف اخبارات میں چھپتے رہتے تھے۔ ٹی وی پروڈیوسر حیدر امام رضوی نے پی ٹی وی پر 1980ء میں صبا اکبر آبادی کی لکھی ہوئی نعت میری آواز میں ریکارڈ کی۔ اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔نعت خوانی کے ساتھ مناقب پڑھنے کی ترغیب کس نے دی؟ان کا کہنا تھا کہ 1994ء کی بات ہے، میں نعت خوانی کے لیے لندن میں تھا، جب وہاں شاعر محمد یوسف قمر سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے مجھے اپنی لکھی ہوئی منقبت ’’میں تو پنجتنؑ کا غلام ہوں‘‘ پڑھنے کے لیے دی، جب میں نے پڑھی تو سامعین میرے ساتھ ساتھ جھومنے لگے۔ پھر کراچی آکے یہ منقبت باقاعدہ طور پر ریکارڈ کی گئی جو آج سترہ سال بعد بھی سننے والوں کو بے حد پسند ہے اور جس محفل میں جاتا ہوں اس کلام کے بغیر وہ محفل مکمل نہیں ہوتی۔ یہ منقبت صحیح معنوں میں میری پہچان بنی اور یہ اﷲ تعالیٰ کا مجھ پر خاص فضل و کرم ہے کہ نعتیہ محافل میں مناقب اہلِ بیتؑ پڑھنے کا سب سے پہلے مجھے اعزاز حاصل ہوا۔ آج ہر نعت خواں یہ منقبت پڑھنے کا شرف حاصل کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے پنجتن پاک ؑ کے صدقے میں ہی اس کو اتنی مقبولیت دی۔نعت خوانی سیکھنے کے لیے بنیادی کیا چیزیں ہیں اور آج نوجوان نسل نعت اور مناقب میںکتنی دل چسپی لیتی ہے؟اس سوال پر سیّد فصیح الدین سہروردی کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو اچھی آواز خدا کی دین ہے، جب کہ آواز کا اتار چڑھائو، کہاں بولنا ہے، کہاں رکنا ہے۔ استاد کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں جب کہ آواز کے ساتھ اچھے کلام کا انتخاب بھی نعت کی ادائیگی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ نوجوان نسل کو الحمدﷲ نعت اور منقبت سے بڑی چسپی ہے۔ اس کا اندازہ رمضان المبارک میں ٹی وی چینلز پر مقابلے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اور اس سے اچھے طلبہ اور طالبات کو نعت خوانی کے مواقع میسر آتے ہیں۔ہمارے اس سوال پر کہ پہلی بار بیرون ملک نعت پڑھنے کا شرف کب حاصل ہوا؟اُن کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں پہلی بار نعت پڑھی اور اس کے بعد 25 سے زائد ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرچکا ہوں، جن میں یو اے ای، سعودی عرب‘ ابوظبی‘ کویت‘ قطر‘ مسقط کے علاوہ آسٹریلیا‘ انگلینڈ‘ کینیڈا‘ ہالینڈ‘ ناروے‘ ماریشئس‘ سائوتھ افریقہ میں تو نعت خوانی کا ماحول پاکستان جیسا ہی ہے۔ جب کہ امریکا، بلجیم‘ زمبابوے‘ سنگاپور وغیرہ شامل ہیں۔آپ کی اور کون سی منقبت زیادہ پسند کی جاتی ہے ؟ان کا کہنا تھا کہ مجھے ہر محفل میں ’’میں تو پنبجتنؑ کا غلام ہوں‘‘ کی ضرور فرمائش ہوتی ہے جب کہ مفتی ایاز اشرفی کی منقبت بے حد پسند کی جاتی ہے جس کے بول ہیں۔جان علیؑ پر فدا ہومیری مفتیدل دیوانہ میرے حسینؑ کا ہےآب ودانہ میرے حسینؑ کا ہےسب خزانہ میرے حسین ؑ کا ہےمثل ہوکوئی اس کی ناممکن وہ گھرانہ میرے حسین ؑ کا ہےاس کا مقطع ہےجان علی ؑ پر فدا ہو میری مفتی دل دیوانہ میری حسینؑ کا ہےسیّد فصیح الدین سہروردی نے بتایا کہ انہوںنے بارہ اماموںؑ کی شان میں مناقب پڑھی ہیں۔ جب کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی شان میں بھی مناقب پڑھی ہیں۔