حسن نثار
اسپیشل فیچر
دنیائے صحافت میں حسن نثار کا نام ایک ایسے کالم نگار کی حیثیت سے بے پناہ شہرت اور مقبولیت سے ہمکنار ہے جنہوں نے بلاشبہ کالم نگاری کو ایک نئی فلاسفی‘ نہج اور اسلوب عطا کیا۔ عشقِ محمدؐ سے سرشار‘ جذبۂ حب الوطنی سے بہرہ ور اور اس ملک کے لاکھوں عوام کے دکھ درد اور مسائل کے احساسِ فراواں سے لبریز حسن نثار کا کالم لوگوں کے ذوقِ مطالعہ کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے نکتہ نظر کو سپردِ قلم کرتے وقت کسی قسم کی مصلحت کوشی سے کام لینا ان کی سرشت میں شامل نہیں۔ حسن نثار کا تعلق فیصل آباد سے ہے لیکن ان کی تعلیم اور عملی زندگی کے ماہ و سال لاہور میں گزرے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ مساوات کی ادارت سے کیا اور یہیں سے ان کی کالم نگاری کی ابتداء ہوئی لیکن یہ جگہ ان کی مسافت کا پڑائو تھا‘ منزل نہیں تھی۔ آپ روزنامہ جناح سے وابستہ ہوئے تو آپ کے کالم ’چوراہا‘ نے ملک بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ حسن نثار نے کالم کو ایک محدود طبقہ کے دفاتر اور ڈرائنگ رومز سے نکال کر عام لوگوں کے پڑھنے اور سننے والی چیز بنا دیا یقینا صحافتی دنیا میں یہ ایک انقلاب تھا۔ آج کل آپ کا کالم ’چوراہا‘ روزنامہ دنیا کی زینت ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ’میری دنیا‘ کے نام سے دنیا نیوز چینل پر بھی پروگرام شروع کیا جو ناظرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ وہ نہایت خوبصورت شاعر ہیں مگر ان کی شاعری ان کی صحافتی مصروفیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ ان کے کئی اشعار ضرب المثل ہیں۔ مثلاً؎مرا حسینؓ ابھی کربلا نہیں پہنچامیں حُر ہوں اور ابھی لشکرِ یزید میں ہوں؎شہرِ آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافیالٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گاحسن نثار صاحب سے گفتگو کی تفصیل نذر قارئین ہے۔س: حسن نثار صاحب بلاشبہ آپ نے کالم نگاری کو بلندیوں سے روشناس کرایا۔ پاکستان میں کم پڑھے لکھے لوگ بھی آپ کے کالم کے منتظر رہنے لگے۔ آپ ایک ہنر مند شاعر بھی ہیں مگر تمام تر توجہ کالم نگاری کی جانب مبذول کر دینے کے کیا محرکات تھے؟ج: میں نے روزنامہ مساوات کے ایڈیٹر کی حیثیت سے دنیائے صحافت میں قدم رکھا۔ میں کالم نہیں لکھتا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ کالم لکھنے والے تو ہیں مگر ان کے قارئین مخصوص افراد ہیںعام لوگ نہیں۔ لہٰذا میں نے کالم لکھنے کے لیے عوامی مسائل‘ دکھوں محرومیوں اور ناانصافیوں کو موضوع بنایا اور فلسفیانہ اندازتحریر کی بجائے سادہ اور عام فہم اسلوب اختیار کیا۔ جس کو لوگوں نے بے پناہ پسند کیا۔ مجھے بے شمار فون اور خطوط موصول ہونے لگے۔ مجھے عام لوگوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی اور پھر میں عوام الناس کی آواز کو اربابِ اقتدار تک پہنچانے میں ایسا مصروف ہوا کہ شاعری کی جانب توجہ ہی نہ رہی۔ س: ہر اخبار میں دس بارہ کالم ہوتے ہیں جیسے جیسے اخبارات کی تعداد بڑھ رہی ہے کالم نگاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کالم کے نام پر چھپنے والی ہر تحریر کالم کی تعریف اور معیار پر کس حد تک پوری اترتی ہے؟ج: ہر فیلڈ میں وکٹری سٹینڈ پر تین لوگوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ باقی میراتھن ہو یا کوئی اور دوڑ کئی لوگ بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ ہر گانے والا رفیع نہیں ہوتا۔ بڑا غلام علی نہیں ہوتا اسی طرح ہر لکھنے والا کالم نگار تو نہیں ہو جاتا وہ تو بہت بعد کی بات ہے کہ وہ کالم نگار کی تعریف اور معیار پر پورا اتر رہا ہے کہ نہیں۔ آیا وہ محض مضمون نگاری کررہا ہے اگر کسی اخبار کا ایڈیٹوریل پیج دو صفحات پر مشتمل ہے‘ اس میں ڈھنگ کے بندے تو دو تین ہی ہو سکتے ہیں یا چار ہو جائیں گے باقی تو بھرتی ہے۔ س: عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کالم نگاروں کے ہاں ان کی ذاتی پسند‘ ناپسند یا ذاتی وابستگیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔ کیا یہ چیز تحریروں کو Demage نہیں کرتی؟ج: بالکل کرتی ہے ’If you are doing this without concrete evidence and a solid aurgument‘۔ اگر آپ کے پاس دلیل نہیں ہے تو محض اس لیے کہ آپ مجھے پسند ہیں۔ نہیں ایسے نہیں مثلاً میں ایم کیو ایم کو سپورٹ کرتا ہوں۔ میں اس کے Pluses گنواتا ہوں کوئی ان کو جھٹلائے۔ کسی کو پسند آئے نہ آئے مجھے اس کی پروا نہیں وہ بھتہ لیتے ہیں کیا کرتے ہیں مجھے نہیں پتہ۔ میں سات ہزار خون معاف کرنے کو تیار ہوں کسی بھی Political Entity کو جو میرے مڈل کلاس کے بچوں کو اسمبلیوں میں لے جائے۔ یہ کام انہوں نے کیا ہے۔ ہوم ورک کرکے آئے ہیں‘ پڑھے لکھے ہیں۔ Selfmade لوگ ہیں۔ محنت کرکے آئے ہیں۔ منظم ہیں‘ مجھے اچھا لگتا ہے‘ اس ملک کے بڑے لوگ دیکھ لیں بڑے سنگر دیکھ لیں۔ بڑے ڈاکٹردیکھ لیں۔ کیا سوائے پیروں‘ گدی نشینوں اور صنعتکاروں کے اور کوئی اس قابل نہیں؟ اس ملک کو Contribute کیا ہے مڈل کلاس نے۔ یہی کلاس ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اس کے بچے کوئی چور چکار بھی لے جائے میں اس کے ساتھ ہوں۔ اب میں عمران خان کی بات کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں وہ کوئی دانشور ہے؟ دانش ور تو شیر شاہ سوری بھی نہیں تھا۔ شہنشاہ اکبر بھی نہیں تھا۔ میں ایک دلیل کے ساتھ بات کر رہا ہوں اس کو جھٹلائیں آپ۔ عمران خان چور نہیں ہے۔ اس نے اس ملک سے لیا کچھ نہیں دیابہت کچھ ہے۔ جو ایک Individual کی بساط ہو سکتی ہے میرا خیال ہے اس نے اخیر کر دی ہے۔ وہ اور کچھ نہ کرے وہ خود چور نہیں ہے۔ وہ چوری کسی کو کرنے بھی نہیں دے گا۔ یہ سب چور ہیں جو ایک دوسرے کو چور چور کہہ رہے ہیں۔ یہ چوری کے موجد ہیں۔ جو سب سے زیادہ شور مچا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاست سے صحافت تک میں کرپشن کو ایک ادارے کی شکل دی ہے۔ عمران Up rightآدمی ہے۔ Focusedآدمی ہے۔ اس نے بدترین حالات میں جس چیز کو ٹارگٹ کیا اسی کے لیے جم کر جدوجہد کی وہ واحد پولیٹیکل پارٹی ہے۔ بھٹو صاحب‘ ایوب خان کو ڈیڈی کہتے رہے۔ پریکٹیکلی وہ نکال دئیے گئے تھے۔ ان سے کہا گیا تھا کہ یا ہم نکال دیں گے یا تم استعفیٰ دے دو۔ تمہاری عزت رہ جائے گی۔ انہوں نے استعفے کو ترجیح دی۔ لوگ جذباتی ہیں۔ نواز شریف تو خیر سیدھی سیدھی پیداوار ہے۔ عمران واحد آدمی ہے سترہ سال دھکے کھائے یہ صحیح معنوں میں جدوجہد کے نتیجے میں یہاں تک آیا ہے۔ فرشتہ تو کوئی تھا نہ ہے نہ ہوتا ہے۔ دوسری دلیل میری یہ ہے کہ یہ آزمایا نہیں گیا۔ اسے آزمائو‘ شخصیت پرستی نہ کرنا۔ یہ اگر توقع پر پورا نہیں اترتا اسے ٹھڈے مار کر نکال دو۔ اس کے بعد طاہر القادری کو لے آئو۔ وہ بھی کام نہیں کرتے انہیں بھی نکال دو۔ میں امریکہ بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی گیا ہوں۔ مجھے ہر جگہ یہ کہا گیا کہ بار بار الیکشن کرائیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کہتا تھا کہ الیکشن تو ایک مشین ہے ایک سسٹم ہے۔ اس کو قیمہ بنانے والی مشین سمجھ لو تو اس میں خنزیر کا یا کتے کا گوشت کروڑ مرتبہ ڈال لو دوسری طرف خزیر یا کتے کا قیمہ ہی نکلے گا۔ یا اس کو گنے کا رس نکالنے والی مشین سمجھ لو۔ بھئی اس میں گنا ڈالو گے تو گنے کا رس ہی نکلے گا ناں۔ تبدیل کرو ان مخصوص چہروں کو جنہوں نے دکانیں بنائی ہوئی ہیں۔ شرم بھی نہیں آتی ان کو۔ بھئی تم کون ہو تاجر لوگ! بیٹا آگیا‘ بھائی آگیا‘ سالا آگیا‘ داماد آگیا۔ یہ مذاق ہے یا جمہوریت‘ کیا ہے یہ۔ عمران خان کا سب سے بڑا Plus یہ ہے کہ آزمایا نہیں گیا۔ آزمائو تمہاری توقعات پر پورا اترے ٹھیک ہے ورنہ اٹھاکے باہر پھینک دو۔ جیسے میں آج کہہ رہا ہوں کہ ان کو اٹھا کے باہر پھینک دو۔ ان کو تو آپ نے درجنوں کے حساب سے مواقع دئیے ہیں‘ عمران کو صرف ایک۔ طاہر القادری! داڑھی والا ٓدمی ہضم نہیں ہوتا ناں! ا س کو موقع دو۔ تم تو خود اپنی بربادی کا باعث ہو۔ میں آپ کو ہر کام سے روک سکتا ہوں لیکن اگر آپ نے خود کشی کا ہی فیصلہ کر لیا ہے تو پھر میں کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کسی کو دلیل کے ساتھ Project یا Promote کر رہے ہیں تو وہ اور بات ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کے پے رول پہ ہیں۔ اگر آپ پہ نوازشات ہیں‘ یا ان کی توقع ہے پھر تو لعنت ہے۔ س: عہد حکومت کا دورانیہ اگر پانچ سال سے کم کر دیا جائے تو کیا اس میں بہتری آ سکتی ہے؟ج: آپ نے بہت اچھی بات کی ہے۔ اگر سپر پاور امریکہ کا صدر چار سال کے لیے آتا ہے۔ تو یہ پانچ سال کے لیے کیوں؟ بہت بنیادی بات ہے۔ Term چھوٹی ہو یا دوسری بات یہ کہ پرویز مشرف ایک اچھا کام کر گئے تھے کہ وزیراعظم دو سے زیادہ مرتبہ نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ زرداری اور نواز شریف کی سازش تھی کہ انہوں نے اسے پھر تبدیل کر دیا۔ اگر امریکہ کے صدر کو تیسری Turn نہیں ملتی تو یہاں ایسا کیوں ہے تو یہ دو باتیں بہت اہم ہیں۔ س: سر! کالم نگاری کے ساتھ ساتھ شاعری بھی آپ کا مضبوط حوالہ ہے اور آپ کی مشہور زمانہ نعت کے بارے میں تو علامہ طاہر القادری صاحب نے کہا تھا کہ ’میں حسن نثار صاحب کی نعت شریف پڑھ کر شدت جذبات سے روتا رہا ہوں۔ ج: اس نعت شریف کا پس منظر یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے یہ سوچتا تھا کہ جہاں تک آقا ﷺ کی تعریف و توصیف کا تعلق ہے تو دنیا میں ایسے الفاط ہی نہیں جو ان کی تعریف کا حق ادا کر سکیں۔ وہ بہت خوبصورت ہیں۔ بہت اہل دانش ہیں بہت بہادر ہیں۔ عظیم استاد یہ تو کوئی Tributeنہیں۔ Greatest Teacher اتناکچھ تو نہیں سکھاتا کہ ہجرت کیسے کرنی ہے پتھر کیسے کھانے ہیں۔ سچی بات ہے کہ کوئی بہت خوبصورت منظر ہو۔ میں تو اس کی تعریف نہیں کر سکتا۔ کہاں حضورؐ کی ذات ِ اقدس! ان کی توصیف کسی زبان میں ممکن نہیں۔ آپ یہ کام کر نہیں سکتے میں تو مدینہ کی سرحد پر اتر گیا تھا کہ میں یہاں سواری استعمال نہیں کروں گا۔ یہ میری اپنی سوچ تھی۔ تو حضورؐ کی تعریف کیسی‘ ان جیسا تو فاتح ہی کوئی نہیں گزرا۔ جس حجرے سے مجبور ہو کر ہجرت کرنا پڑی وہاں ایک کتیا اپنے پلوںکے ساتھ پریشان پھر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر آپؐ پریشان ہوگئے۔ چچا کا کلیجہ چبانے والی ہندا کو معاف کر دیا اور حضرت حمزہؒ کے قاتل حبشی سے کہا کہ میرے سامنے نہ آیا کرو۔ جو ہستی مال و دولت کی پیش کش پر یہ کہے کہ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو تو بھی میں تبلیغ سے باز نہیں آئوں گا۔ اس کی تعریف میرے بس میں تو نہیں۔ میں تو زباں دانی کی معراج پر بھی ہوتا تو یہ نہ کر سکتا۔ تو یہ بات مجھ میں مدتوں سے تھی جس کا نتیجہ تھی یہ نعت۔ میرے ذہن میں آیا کہ زیادہ سے زیادہ رب العزت سے گلہ کیا جائے کہ کیا بگاڑا تھا کاش مجھے بھی عہد نبوی میں پیدا کر دیا ہوتا۔ میں ان کے بہت سے احکامات پر تندہی سے عمل کرتا ہوں۔ ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن اس کے باوجود میں اپنی بعض چھوٹی چھوٹی باتوں پر قابو نہیں پا سکا۔ میں لرز گیا کہ جب میں نے حضوؐر کا یہ فرمان پڑھ اکہ جو تند خو ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ میں Short Temper ہوں اور شروع سے ہی میرا یہ مسئلہ ہے کہ میں تو اس پر قابو نہیں پا سکا تو میں کسی کو کس منہ سے کہوں کہ تم ان کی ہدایات پر عمل کرو۔ س: کوئی ایسی بات زندگی میں جس سے خوف آتا ہو۔ ج: ہاں پچھلے چند سالوں میں میرے اندر ایک خوف نے سر ابھارا ہے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے اچھے والدین بنو ان کا خدا بننے کی کوشش نہ کرو کیونکہ تمہاری موجودگی میں بھی وہی خدا انہیں پال رہا ہوتا ہے۔ میرا خوف ایک دعا کی شکل میں ہے کہ اے پروردگار مجھے اتنا موقع دے دے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے پائوں پہ کھڑا دیکھ لوں حالانکہ یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے لیکن کسی طرح میرے لاشعور میں یہ بات آگئی ہے۔ اب میں ہوائی سفر سے احتراز کرتا ہوں جب میں ٹریڈنگ کرتا تھا تو ہر دوسرے مہینے میں باہر جاتا تھا۔ لیکن اب زندگی کے بڑے نوٹ خرچ ہو گئے ہیں۔ چھوٹے نوٹ رہ گئے ہیں عمر زیادہ ہوگئی۔ بچے چھوٹے ہیں۔ اللہ کریم ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین٭٭٭