نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

نوجوان میں گٹکے کا بڑھتا ہوارجحان

اسپیشل فیچر

تحریر : وجاہت رضوی


انسان دورِ نوجوانی میں اپنی صحت سے لاپروائی کرتاہے جب کہ اسی دور میں اس پر ماحول اور اس سے زیادہ دوستوں کی صحبت اثر انداز ہوتی ہے۔ انسان جوانی کے دَور میں اچھی بری عادتوں میں جلد مبتلا ہوجاتا ہے۔بری صحبت کی وجہ سے اس کی طبیعت تمباکو نوشی یا دوسرے نشوں کی طرف مائل ہونے لگتی ہے ۔کراچی کے نوجوانوںمیں گٹکے کی وبا عام ہے۔ گٹکے کی تیاری کا طریقہ انتہائی غلیظ اورمہلک ہے ۔ اس کی تیاری میں تیسرے درجے کا چونا، کتھا،تمباکو کا کچرا،بیٹری کا پانی،جانوروں کا خون، پسا ہوا شیشہ،ربڑ کے باریک ٹکڑے ، تھِنر اور پھپھوند لگی چھالیہ استعمال کی جاتی ہے ۔ ان سب چیزوں کا نام سن کر ہی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ اس جان لیوا گٹکا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں خوب ترقی کررہا ہے۔ اسے اب کئی طریقوں سے بنایا جاتا ہے جب کہ اس کے مختلف نام بھی رکھ لیے گئے ہیں مثلاً مین پوری، ماوا وغیرہ۔ افسو س ناک بات یہ ہے کہ ان کے رپیر پرتحریر ہوتا ہے’’ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق۔‘‘ اگر نوجوان اس کے مضر اثرات کا جائزہ لینا چاہیں تو رات ان میں سے کسی بھی شے کو تھوڑے سے پانی میں ڈال کر اس میں ایک بلیڈ رکھ دیں ۔ صبح آپ کو حیرانی ہوگی کہ بلیڈ گل چکا ہے مگر ہمارا نوجوان اس کے باجوود یہ زہر اپنی رگوں میں انڈیل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے یہاں منہ کے کینسر سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نوجوان طبقہ اس تیزی سے اس لت کی طرف کیوں راغب ہے ۔ کیا نوجوان اسے صرف مزے کے لیے استعمال کررہے ہیں یا معاشرے کی ناہمواریوں نے انہیں اس جانب راغب کیا ہے؟ اس حوالے سے چندنوجوانوں سے بات کی گئی آپ بھی ان کا نقطۂ نظر ملاحظہ کیجیے۔احسن علی( طالب علم جامعہ کراچی): آج کل جو حالات چل رہے ہیں انسان اس میں اتنا پریشان ہے ۔جس چیز سے اسے سکون ملے اسی کے نزدیک ہوجاتا ہے۔نوجوانوں کو گٹکا کھانے کی عادت کی وجہ سے ان کی صحت تو خراب ہوتی ہی ہے مگر ان کا چہرہ بھی بہت برالگتا ہے۔ سرکاری جامعات میں یہ خطرناک چیز پابندی کے باوجود دستیاب ہے دیکھا گیا ہے کہ غریب طبقہ نشے کی اس عادت میں زیادہ مبتلا ہورہا ہے۔سلمان اعظمی(طالب علم) :ہمارے یہاں ہر نوجوان کسی نہ کسی بری عادت میں مبتلا ہے جس سے وہ آسانی سے جان نہیں چھڑا سکتا کسی چیز یا عمل کو عادت بنانا انسان کے اختیا رمیں ہوتا ہے لیکن اسے ترک کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا ۔ میری کلاس میں کافی لڑکے گٹکا کھاتے ہیں، جو اپنی ذمے داریوں سے بھاگتے ہیں۔ وہ جواز دیتے ہیں کہ ہم تو اتنے سال سے کھارہے ہیں اب تک تو کچھ نہیں ہوا ، اس کے بغیر دماغ نہیں چلتا ۔ گٹکا کھانے والے عموماً ضدی ہوتے ہیں ۔ یہ خطرناک شے بیماریوں میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد ازجلداس برائی کا خاتمہ کرے۔عارف (آرکیٹکچر): ہمارے معاشرے کی اچھائیاں مخفی او ر برائیاں واضح رہتی ہیں۔ جن میں سے ایک برائی گٹکا اور مین پوری وغیرہ ہے۔ کچی آبادیوں سمیت پوش علاقو ں میں بھی گٹکا دستیاب ہے۔ شاباش ہے ان نوجوانوںکو جو گٹکا کھاتے ہیں اور خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ حالاں کہ اخباروں میں اتنے مضامین اور ٹی وی پر اتنے پروگرام نشر ہوچکے ہیں مگر شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں اس گٹکے کی وجہ سے جنازہ نہ اٹھا ہو۔ پوش علاقوں میں کمپنی کا بنایا ہوا اور کچی آبادیوں میں گھروں میں تیار کردہ گٹکا با آسانی فروخت ہوتا ہے۔ دکانوں پر گٹکے کی تھیلیاں لٹکا کر اس کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ وہ نوجوان کم زور اور بزدل ہیں جو گھریلو پریشانیوں سے فرار کے لیے یہ زہر اپنے جسموں میںاتار کر اپنی صلاحیتیں کھورہے ہیں ۔ گٹکا کھا کر پاکستان کی ترقی کی باتیں کرنے والے بھی قابل مذمت ہیں۔فیاض رضا( نجی کمپنی ملازم): سکون کی تلاش تو ہر انسان کو رہتی ہے اور اس کے حصول کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈتے ہیں جن سے وقتی طور پر سکون حاصل ہوتا ہے جب کہ بعض لوگ اسی سکون کے لیے نشہ کرتے ہیںاب مہنگائی کے باعث آج کا نوجوان سستے نشے کی طرف راغب ہے گٹکا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ نوجوان گٹکا مین پوری وغیرہ کھا کر خود کو تازہ دم تصور کرنے کی خوش فہمی میں مبتلارہتے ہیں اور اپنی صحت کی طرف سے بالکل لاپروا ہوجاتے ہیں۔عمران متقی(بینک ملازم): نوجوانوںمیں گٹکے کی عادت خطرناک حد تک معاشرے کو برباد کررہی ہے اور گٹکا کھانے والے جوان و بزرگ اپنا وقار کھودیتے ہیں ا س عادت سے ان کی صحت اور شخصیت دونوںمتاثر ہوتی ہیں۔لوگ ایسے لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتے کیوں کہ ان کے منہ سے بوآتی ہے جو لوگ گٹکا کھا کر کائونٹر پر آتے ہیں میری کوشش ہوتی ہے کہ ان کا کام جلدی ختم کروں تاکہ وہ جلدی روانہ ہوجائیں ۔میر ا سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ایسی جگہوں پر چھاپے کیوں نہیں مارتے اور گٹکا بنانے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتے ؟ ایسے دکان دار جو موت بیچنے کے گناہ گار ہیں انہیں سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ جمال حیدر( ملازم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی) : معا شرے میں ویسے ہی کم خرابیاںنہ تھیں جو یہ گٹکا نامی برائی بھی پیدا ہوگئی ۔ ایسے نوجوانوںپر دکھ ہوتاہے جواسے عادت بنا لیتے ہیںجس کی وجہ سے ہر جگہ شرمندگی بھی اٹھاتے ہیں۔کہیں انٹرویو دینے جائیں تو ان میںخود اعتمادی فقدان نظر آتا ہے ۔دراصل اس سے دانت اتنے گندے ہوجاتے ہیں کہ سامنے والا کراہیت محسوس کرتاہے۔میرا تعلق میڈیکل سے ہے مجھے اسی حوالے سے بہت سے مریض نظر آتے ہیں جن کو سرطان ،دانتوں کا سڑنا،آنتوں کا سکڑنا جیسی بیماریاں ہوتی ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ گٹکا،مین پوری کا استعمال ہے۔قانون نافذ کرنے والے خو د اس کااستعما ل کر تے ہیںتو وہ روک تھام کیاکریںگے۔ کاشف عباس (ملازم نجی کمپنی): آج کے نوجوان میں تعمیری سو چ کا فقدان ہے ۔ہر طرف برائیا ں ہیںجس میںہمارا نوجوان پھنستا چلا جا رہا ہے۔ملازمت نہ ملنا،کم تن خواہ اورضروریاتِ زندگی پوری نہ ہونے سے زیادہ تر انسان برائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔اس لیے یہ برائی بھی معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہے۔ پہلے لوگوں سے چھپ کے کھاتے ہیں پھر تو اپنے والدین کے سامنے بھی اس کے استعمال سے گریز نہیں کرتے جب کہ جگہ جگہ پیک تھوک کر گندگی الگ پھیلاتے ہیںاور مختلف بیماریوں میں خود بھی گرفتار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں۔ گٹکا کھانے والے جوان ذہنی طور پر کم زور پڑجاتے ہیں ،ان میںقوتِ فیصلہ اورخود اعتمادی بھی ختم ہو جا تی ہے ، یہ عموماً محفلوں میںجانے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ہمیں خود بھی اس بیماری کو خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوںگی۔ورنہ آہستہ آہستہ یہ برائی ہماری آنے والی نسلوں میں سرائیت کر جائے گی۔مہروزاحسن(حکیم) : گٹکا ،پان،مین پوری ،ماوا،وغیرہ۔ایسے امراض ہیں جن سے نجات ٖنہایت مشکل ہے ۔اس کی تشویش ناک علامات میںمنہ میں چھالے ،گال کی کھال پرابھرنے والے نشانات شامل ہیں۔منہ کا سرطان ،آنتوںکا خشک ہوجانا جیسی جان لیوا بیماریاں اسی وجہ سے ہیں۔جن کاعلاج بہت مشکل اور مہنگا بھی ہے۔اس سے قوتِ مدافعت ختم ہو کر رہ جاتی ہے، نزلے جیسی چھوٹی بیماری بھی ختم ہونے میں وقت لیتی ہے ،لیکن انسان جانتے بوجھتے اس نقصان کو اپنے گلے ڈال رہا ہے۔ بہت سے مریضوں سے وجہ پوچھوتو جوا ب آتا ہے کھا نا ہضم کرنے کے لیے کھاتے ہیں۔اس گٹکے میں پانی ملاکررکھ دیںتو صبح اس میں باریک باریک کیڑے بلبلاتے صاف نظر آئیں گے۔ برانڈوالے گٹکے میں بلیڈ ڈال دیں تو صبح اس کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا۔سرکاری اداروںکی سرپرستی میں زہر فروشی کا کام جار ی و ساری ہے اورکوئی روکنے والا نہیں۔جوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ گٹکا کھانے سے وقت نہیں گزر رہا بلکہ گٹکا نوجوانوں کو گزار رہا ہے۔ محمد علی(نان لینئر ایڈیٹر ): گٹکاایک لعنت ہے ۔آج کل نوجوان اس کو ختم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں ،اسی لیے طر ہرف کھاتے نظر آتے ہیں۔ہمارے یہاںزیادہ تر ڈرائیور، کنڈیکٹر جگہ جگہ تھوک کے لوگوں کو بھی اس کے زیرِاثر لا رہے ویسے مجھے یاد آرہا ہے کہ اس کے بیچنے اور خریدنے پرپابندی لگی تھی مگر وہ پابندی نظر نہیں آتی۔چھے مہینہ پہلے میں گٹکا کھاتا تھا کیوں کہ تدوین نگاری کے دوران کمپیوٹر کا استعمال رہتا ہے تو منہ چلانے کے لیے گٹکا کھا لیتا تھا ۔وقتی طور پر تو خوب کام ہوتا تھا پھر نیند بھی خو ب آتی تھی اور اگر نہیں کھاتا تو جسم بھاری بھاری لگتا تھا ۔ڈاکٹر کے مشورے کے بعد اس سے نجات ملی۔گٹکا منہ کا اس قدر برا حال کرتا ہے، دانتوںمیں درد ،زبان پر چھا لے او ریہ نہیںکہ صرف غریب آدمی ہی گٹکا کھا رہا ہے۔بلکہ اچھے خاندان کے خوش شکل افراد بھی اس لت میں گرفتار ہیں ۔مجتبیٰ شاہ(پرائیویٹ کالج کے طالبِ علم ): یہ آج کل کا فیشن بن گیا ہے،خاص کر نوجوانوں میںیہ فیشن عام ہے۔ دوستوں کی صحبت میں رہ کر سگریٹ جیسی بری عادت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔زیادہ تر افراد مسائل سے گھبرا کر گٹکا کھانے عادت ڈال لیتے ہیںاور اپنی ذمے داریوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔جس طرح سگریٹ پھیپھڑوں کے لیے مضر ہے اسی طرح چھالیہ، گٹکامنہ کے سرطان جیسی جان لیوا بیماری کی بنیادی وجہ ہے لیکن منع کرنے پرنوجوان باز نہیں آتے۔یہ انتہائی خطرناک عادت ہما را مستقبل تباہ کر رہی ہے۔ ہمیں اس برائی کا خا تمہ کرنے کے لیے فوری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔ سارہ محمود(انٹیریر ڈزائینر): میں کمپیوٹر کے استعمال کرتے وقت پاپ کارن کھاتی رہتی ہوں جب کہ میرے ساتھ کام کرنے والے نوجوان لڑکے گٹکا اورچھا لیہ کا استعمال کرتے ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر کو دانتوں کی تکالیف کی شکایت اورکم مرچوں کے کھانے میں بھی مرچیں تیز لگتی ہیں۔افسوس گٹکا پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا اورمخصوص کمیونٹی کی خواتین بھی اس کا ستعمال کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ہر جگہ اس کی پیک نظر آتی ہے۔نوجوان اموات کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ نوجوان جانے کیوں کینسر جیسے جان لیوا مرض کو خرید رہے ہیں؟ اور خودکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگاں: ورسٹائل فنکار:نفیس شخصیت ابراہیم نفیس

یادرفتگاں: ورسٹائل فنکار:نفیس شخصیت ابراہیم نفیس

معروف صدا کار اور اداکار ابراہیم نفیس 21 مئی 2012ء کو انتقال کرگئے تھے اور آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ ابراہیم نفیس کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں ہر مقبول میڈیم میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ انھوں نے ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم، تھیٹر اور سٹیج پر کئی کردار نبھائے اور شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ابراہیم نفیس کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف ہر میڈیم کی ضرورت تھے بلکہ بطور انسان بھی ان کی ضرورت و اہمیت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔ آگرہ میں پیدا ہونے والے ابراہیم نفیس نے جون پور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو یہاں 1955ء میں انہوں نے ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے انائونسر کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انہیں ریڈیو پاکستان کے پہلے انائونسر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ابراہیم نفیس نے برطانیہ سے اداکاری کی تربیت حاصل کی تھی۔ ان کی آواز منفرد، چہرے کے تاثرات اور کردار نگاری کے دوران اتار چڑھاؤ اور مکالمے کی ادائیگی کا انداز بہت خوب صورت تھا۔ ریڈیو کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا اور حیدرآباد سے کراچی چلے گئے۔ ہیرو کا کردار ادا کرنے کے علاوہ وہ سائیڈ ہیرو کی حیثیت سے بھی جلوہ گر ہوئے اور پھر ویلن اور کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے بھی خود کو منوایا۔ انہوں نے فلموں،ٹی وی ڈراموں اور سٹیج ڈراموں میں مختلف نوعیت کے سیکڑوں کردار ادا کیے۔''ایک حقیقت سو افسانے‘‘ اور ''افشاں‘‘ ان کی بہترین ٹی وی سیریل تھے۔ سٹیج ڈراموں میں ان کا سب سے یادگار ڈرامہ ''بکرا قسطوں پر‘‘ تھا، جس میں انہوں نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں ان کے ساتھ عمر شریف بھی تھے۔ انہوں نے 300سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ابراہیم نفیس کو ایک مکمل تھیٹر آرٹسٹ اور براڈ کاسٹر تسلیم کیا جاتا ہے۔فلمی صنعت میں نام بنانے کے بعد جب و ہ دوبارہ ریڈیو کی طرف آئے تو اس دفعہ انائونسر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ڈرامہ آرٹسٹ کے روپ میں انہوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ریڈیو کراچی میں ایس ایم سلیم جیسے اداکار بھی کام کر رہے تھے جنہیں ریڈیو کا دلیپ کمار کہا جاتا تھا۔ ابراہیم نفیس کے ایس ایم سلیم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے ریڈیو میں اس وقت کے صف اوّل کے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جتنا ریڈیو سے سیکھا اورکہیں سے نہیں سیکھا۔ ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کرنا اگرچہ ان کیلئے اطمینان بخش تھا لیکن فلم میں کام کرنے کی کشش برقرار تھی۔ یہ کشش بڑھتی گئی اس زمانے میں قانون یہ تھا کہ اگر کسی آرٹسٹ کو ریڈیو پر کام کرنا ہے تو پھر وہ کسی اور میڈیم پر کام نہیں کر سکتا تھا۔ فلموں میں کام کرنے کے جنون میں ابراہیم نفیس نے ریڈیو چھوڑ دیا۔ ''عشق حبیب‘‘ ان کی ابتدائی فلموں میں سے تھی۔ بعد میں انہوں نے بے شمار فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے، وحید مراد کی ذاتی فلموں ''ہیرا اورپتھر‘‘ اور ''احسان‘‘ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیے۔ اس کے بعد انہوں نے ''جب جب پھول کھلے‘‘، ''عندلیب‘‘، ''آگ ہی آگ‘‘ اور ''بدلتے موسم‘‘ میں شاندار اداکاری کی۔ ان کی ایک اور مشہور فلم ''ان داتا‘‘ تھی۔ اس کے ہدایت کار اقبال یوسف تھے جنہوں نے انہیں اس فلم میں ایک بالکل مختلف کردار دیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ محمد علی، سدھیر، سلطان راہی اور لہری جیسے اداکار بھی تھے۔ ان سب کی موجودگی میں انہوں نے اپنی انفرادیت کو ثابت کیا۔ اسی طرح ''جب جب پھول کھلے‘‘ میں وہ ویلن کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اور ان کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ ''بدلتے موسم‘‘ میں ایک ظالم سیٹھ کے کردار میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی۔ اس فلم میں ان کے ساتھ شبنم اور ندیم نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلمی صنعت کے زوال پذیر ہونے کے بعد ابراہیم نفیس کراچی ٹی وی اور تھیٹر سے دوبارہ وابستہ ہو گئے ان کے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ تھا جو ان کی فطری اداکاری سے بہت متاثر تھا۔ابراہیم نفیس نے پاکستانی فلمی صنعت کی صف اوّل کی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا جن میں زیبا، صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ بھی شامل تھیں لیکن جس ہیروئن نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھیں نیلو۔ ان کی رائے میں نیلو جیسا کوئی نہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ نیلو کے ساتھ کام کر کے انہوں نے بہت اطمینان محسوس کیا۔ وہ ایک بہترین اداکارہ تھیں اور ورسٹائل بھی۔ یہ بات البتہ انہوں نے ضرور کی کہ ہو سکتا ہے نیئر سلطانہ اور صبیحہ خانم کو اتنے مختلف کردار ادا کرنے کیلئے نہیں ملے جتنے نیلو کو ملے۔ فلموں سے علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت پنجابی زبان میں سب سے زیادہ فلمیں بن رہی تھیں جبکہ ابراہیم نفیس پنجابی نہیں بول سکتے تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں پنجابی زبان سے بہرہ ہوں اگر مجھ میں یہ کمزوری نہ ہوتی تو میں پنجابی فلموں میں ضرورکام کرتا کیونکہ میرے لئے کسی بھی ہدایتکار کے پاس کرداروں کی کمی نہیں تھی۔ابراہیم نفیس نے آٹھ سال تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں کام کیا اور وہاں انہوں نے آرٹ، تھیٹر اور ثقافت کی ترقی کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خواجہ معین الدین سکول آف پرفارمنگ آرٹس قائم کیا تاکہ نوجوانوں کو اداکاری کی تربیت دی جائے۔ انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ تو ہے لیکن اس کا درست استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ ذاتی زندگی میں وہ بہت شفیق اور اپنے نام کی طرح نفیس انسان تھے۔21مئی 2012کو جب ان کا انتقال ہوا تو شوبز سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ فلم اور ٹی وی کے سینئر اداکاروں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ ایک نفیس انسان اور نفیس اداکار اس جہان سے رخصت ہو گیا۔ وہ فنکار جنہوں نے اداکاری کو نفاست سے آشنا کیا، ان میں ابراہیم نفیس کا نام سرفہرست ہے۔ شوبز سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکاروں کو ان جیسے ورسٹائل اداکار سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ اداکار اور انسان کی حیثیت سے انہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

دیوارچین

دیوارچین

انسانی معاشرے کی تاریخ زمانہ قبل از تاریخ سے ہی خانہ بدوش حملہ آوروں اور متمدن انسانی آبادیوں کے درمیان آویزشوں اور چپقلشوں کی کہانی ہے۔ قدیم انسانی معاشرے کے ان ابتدائی چپقلشوں کا نشان آج دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنا واضح نہیں ہے جتنا چین میں۔ خود چین کی عظیم دیوار چین انسانی معاشرے کی انہیں قدیم آویزشوں کی علامت ہے۔ یہ عظیم عجوبہ روزگار دیوار جو مہذب انسانی آبادیوں کو وحشی پن اور تاتاری خانہ بدوشوں کی یورشوں سے بچانے کیلئے تیسری صدی قبل از مسیح میں تعمیر کی گئی تھی شمالی چین کے پہاڑوں پر سے بل کھاتی ہوئی وسطیٰ ایشیا کے دور دراز علاقوں تک چلی گئی ہے۔ چین میں وحشی خانہ بدوش قبائل سے متمدن انسانی آبادیوں کی حفاظت کیلئے ایسی حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی ابتدا چوتھی صدی قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ بعض مورخین کے نزدیک حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا آغاز چین کے شہروں کے گرد حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے عظیم ہین (Han) شہنشاہ شی ہوانگتی(Shih Huangti) نے مختلف ریاستوں میں بنے ہوئے اس ملک کو اتحاد کی رسی میں پرو کر ایک مملکت میں بدل دیا۔ 221قبل مسیح میں اسے سارے چین کا شہنشاہ تسلیم کر لیا گیا۔ اپنی مملکت کی شمالی سرحد کو وحشی اور تاتاری خانہ بدوشوں کے متواتر حملوں سے بچانے کیلئے اس نے 215 ق م میں ایک طویل دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس کام کیلئے شہنشاہ نے اپنی مملکت کے ہر تیسرے شہری کو جبری طور پر اس دیوار کی تعمیر پر لگا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد انسانوں نے مسلسل دس سال تک اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اس دیوار کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر پر اٹھنے والے خرچ میں شہنشاہ کے خزانے کا تمام تر روپیہ صرف ہو گیا اگرچہ یہ دیوار صرف مٹی اور پتھروں اور جبری مشقت سے تعمیر کی گئی تھی اور اس دیوار کے صرف کچھ مشرقی حصے ہی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے تھے۔ شہنشاہ شی ہوانگتی اس دیوار کی تعمیر اور اتحاد چین کے علاوہ تانبے کا ایک نیا سکہ جاری کرنے، ریشم کو رواج دینے اوزان اور پیمانوں کو ایک معیار پر لانے، ایک بڑی نہر اور کئی بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کرنے کیلئے بھی مشہور ہے۔ اس کے عہد میں 213ق م میں وہ فرمان جاری کیا گیا جسے کتابوں کی آتش زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس فرمان کے ذریعے شہنشاہ نے زراعت، طب اور کہا نت کے علاوہ تمام علوم کے متعلق کتابیں تلف کر دینے کا حکم دیا تھا۔ہین خاندان کے بعد چین پر تھوڑی تھوڑی مدت کیلئے کئی اورحکمران خاندان بر سراقتدار آئے مگر یہ سب اپنے دیگر داخلی امور میں اتنے الجھے رہے کہ ان خاندان کے کسی حکمران نے بھی اس عظیم حفاظتی دیوار کی تعمیر و مرمت پر توجہ نہ دی اور صدیاں گزر گئیں۔1234ء میں چن خاندان (Chin Dynasty)کو چنگیز خان نے اقتدار سے محروم کرکے چین میں منگول خاندان کی بنیاد رکھی۔ چنگیز خان کی تاتاری افواج عظیم دیوار چین ہی کوروند کر شمالی سرحد سے چین میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ چودہ سوسال میں پہلا واقعہ تھا جب صحرائے گوبی سے آنے والے خانہ بدوشوں نے اتنے وسیع پیمانے پر متمدن انسانی آبادیوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شمالی سرحد کی حفاظتی دیوار کی شکست وریخت بھی تھی۔1368ء میں منگ خاندان نے تاتاریوں کو چین سے نکال دیا اور شمالی سرحد کو پھر سے مضبوط بنایا۔1420ء میں اسی خاندان کے شہنشاہ ینگ لو (Yunglo)نے عظیم دیوار چین کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔اس نو تعمیر شدہ دیوار کی بلندی 22فٹ سے 26فٹ (6.7سے8میٹر) رہ جاتی ہے۔ دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے اور اس کے درمیانی خلا کو مٹی اور اینٹ روڑے سے پر کیا گیا ہے، جس پر پھر اینٹوں کا فرش بچھایا گیا ہے دیوار کی شمالی طرف کنگرہ دار مورچے رکھے گئے ہیں اور تقریباً ہر 590فٹ یا 180میٹر کے بعد نگہبانی کیلئے ایک چوکور مینار تعمیرکیا گیا ہے، جس میں وقفوں کے بعد محرابی طاقچے رکھے گئے ہیں۔ ان ہی میناروں کی چھتوں پر مشاہدے کیلئے بالا خانے بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔ اہم دروں خاص طور پر پیکنگ کے شمال میں کاروانوں کی گزر گاہوں کے قریب دیوار کی دو گنا یاسہ گنا شاخیں تعمیر کی گئی ہیں جن سے یہ مقامات وحشیوں کے حملوں سے محفوظ ہو گئے تھے۔اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ یہ دیوار تقریباً 2486میل یا 4ہزارکلو میٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً4کروڑ72لاکھ 77ہزار956کیوبک فٹ (4لاکھ 46ہزار 250 کیوبک میٹر) مٹی اور تقریباً ایک کروڑ 57لاکھ 59ہزار 318کیوبک فٹ پتھر اور اینٹیں صرف ہوئی ہیں۔ تاریخ عالم میں انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی یہ سب سے بڑی دیوار اور سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے۔ زمین کا یہ واحد انسانی تعمیر شدہ شاہکار ہے جسے چاند اور مریخ جیسے دور دراز کے سیاروں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔بنیادی طور پر دیوار چین فوجی (دفاعی) مقاصد کیلئے تعمیر کیا گیا ایک شاہکار ہے مگر اس کی تعمیر کے کئی اوربھی مقاصد ہیں جیسے پہاڑی علاقوں میں رسل ورسائل کا یہ بڑا ذریعہ ہے بہ صورت دیگر ان پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل ایک مشکل کام ہے۔ ایک شاہراہ کے طور پر اس دیوار کی کشادگی اتنی ہے کہ اس پر سے پانچ یا چھ گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے ہیں۔فوجی انجینئرنگ کے اس عظیم شاہکار میں دیگر تعمیرات عالم میں پائے جانے والے جمالیاتی پہلو یا جمالیاتی آراستگی کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ اپنے خوبصورت زمینی منظر میں بڑی بھلی لگتی ہے بلکہ ایک طرح سے ایک عظیم جمالیاتی شاہکار نظر آتی ہے۔ چینیوں کے اس خیال کی ایک زندہ مثال بھی ہے کہ انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی ہر عمارت اس خطے کے قدرتی اصولوں کی تابع ہوتی ہے جس پر وہ تعمیر کی گئی ہو۔ شاید اسی اصول کے تابع ہونے کی وجہ سے پہاڑی چوٹیوں پر بل کھاتی ہوئی یہ عظیم دیوار چین کے روایتی اژدھے کا روپ دھار لیتی ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

کولمبیا میں غلامی کا خاتمہ 21مئی1851ء میں کولمبیا میں غلامی کا خاتمہ کیا گیا۔کولمبیا میں غلامی کا آغاز 16ویں صدی کے آغاز سے ہوا اور اس کا حتمی خاتمہ 1851ء میں کیا گیا۔ اس عمل میں افریقی اور مقامی نژاد لوگوں کی سمگلنگ شامل تھی جو پہلے ہسپانوی نوآبادیاتی باشندوں کے ذریعہ اور بعد میں جمہوریہ نیو گراناڈا کے تجارتی اشرافیہ کے ذریعہ کی جاتی تھی ۔میکسیکو اور فرانس کے درمیان معاہدہ21مئی 1911ء کو فرانسیسی انقلابی لیڈر اور میکسیکو کے صدر ڈیاز کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے نے فرانس اور میکسیکو کی حمایت کرنے والی افواج کے درمیان لڑائی کا خاتمہ کیا ۔معاہدے میں یہ طے پایاتھا کہ ڈیاز کے ساتھ ساتھ اس کے نائب صدر رامون کورل کو مئی کے آخر تک سبکدوش کر دیا جائے گا اور اس کے بعد صدارتی انتخابات کروائے جائیں گے۔الجیریا میں زلزلہ21مئی 2003ء کو شمالی الجیریا میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔اس زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی۔یہ الجزائر میں20 سالوں میں آنے والے زلزلوں میں سب سے زیادہ شدت والا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل 1980ء میں بھی ایک تباہ کن زلزلہ آیا تھا جس کی شدت7.1تھی اور اس کے نتیجے میں 2ہزار 633 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ 2003ء کا زلزلہ اس کے بعد سب سے زیادہ خوفناک سمجھا جاتا ہے۔فیفا کا قیام21مئی 1904ء کوفٹ بال کی عالمی تنظیم ''فیفا‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کا مقصد بیلجیم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، سپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کی قومی ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی مقابلے کی نگرانی کرنا تھا۔اس کا مرکزی دفتر زیورخ، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔211ممالک کے پاس فیفا کی رکنیت موجود ہے۔روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اس کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ اٹلانٹا میں آتشزدگی21مئی 1917ء کو دوپہر کے وقت اٹلانٹا، جارجیا کے اولڈ وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس آگ کو بڑھانے میں گرم موسم اور ہوائوں نے ایندھن کا کردار ادا کیا۔یہ آگ تقریباً10گھنٹے تک جلتی رہی جس نے 300ایکٹر رقبے پر مشتمل 1900 مختلف املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس آگ کی وجہ سے تقریباً10ہزار افراد بے گھر ہوئے۔اس حادثے کے نتیجے میں نقصانات کا تخمینہ 50 لاکھ ڈالر لگایا گیا۔ 

بیش قیمت اشیائے خورونوش

بیش قیمت اشیائے خورونوش

روئے زمین پر قدرت نے جہاں انگنت مخلوقات پیدا کی ہیں، وہیں نباتات کی دنیا میں بھی کروڑوں اربوں پودے پیدا کئے ہیں۔ جیسے موجودہ سائنس ابھی تک اس روئے زمین کی مخلوق جیسے چرند، پرند، حشرات الاارض وغیرہ کے بارے ابھی بہت کم رسائی حاصل کر سکی ہے، اسی طرح ماہرین کا کہنا ہے کہ نباتات کی دنیا بھی اس قدر وسیع ہے کہ ابھی تک صحیح طور پر شاید اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کھوجا جا سکا۔ نباتات کی دنیا کا انسان کی زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ صدیوں سے یوں ہے کہ آکسیجن کے علاوہ یہ انسان کی خوراک اور ادویات کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ جہاں تک نباتات کی قیمت کا تعلق ہے اس کا تعین بھی ہماری روزمرہ زندگی میں بہت عجیب ہے، مثال کے طور پودینے کی ایک گٹھی جو اپنے اندر بہت سارے امراض کا علاج لئے ہوتی ہے، اس کی بازاری قیمت چند روپوں میں ہے لیکن اس روئے زمین پر بعض ایسی جڑی بوٹیاں بھی ہیں جن کے ایک گرام کی قیمت ہماری کرنسی میں لاکھوں اور کروڑوں روپے ہے۔ ذیل میں ہم چند حیران کر دینے والی قیمتی جڑی بوٹیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ٹرفل زیر زمیں اُگنے والایہ پھل مشروم کی ایک نایاب نسل سے تعلق رکھتا ہے، اسی لئے اسے دنیا کا نایاب اور مہنگا ترین پھل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں کھانوں میں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ٹرفل زیر زمیں چند مخصوص درختوں کی جڑوں میں ہی پرورش پاتا ہے۔ صحراؤں اور جنگلوں میں اُگنے والے اس پھل کو تلاش کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ سدھائے ہوئے شکاری کتے ہی سونگھ کر اس کو تلاش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ جس کے بعد شکاری زمین کھود کر ٹرفل کو زمین سے کھود نکالتے ہیں۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر اُگنے والا پھل ہے، اس لئے اپنی مخصوص آب و ہوا کے باعث دنیا کے چند ایک ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔ حیران کن حد تک اس کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بین الاقوامی منڈیوں میں اعلیٰ درجے ٹرفل کی فی کلو گرام قیمت 15 سے 20 لاکھ پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔''کراپ ڈیزیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل ایگریکلچر ل ریسرچ سنٹر‘‘ کے سینئر سائنٹیفک آفیسر، ڈاکٹر ظفر اقبال نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ عام طور پر مشروم زمین کے اوپر نامیاتی مادے میں اُگتے ہیں لیکن ''ٹرفل‘‘ نامی یہ منفرد پودا زیر زمین پرورش پاتا ہے۔ عام مشروم نسل کے پودوں کے برعکس ٹرفلز جنگلوں میں جا بجا نہیں اُگتے بلکہ یہ چند مخصوص درختوں، جن میں بلوط ، چنار ، پائن وغیرہ شامل ہیں کی جڑوں کے قریب یا زیر زمین ان کی جڑوں کے ساتھ پرورش پاتے ہیں۔ٹرفل نامی یہ پودا، اینٹی آکسیڈنٹس کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور ایسے مرکبات پر مشتمل ہے جو آزاد ریڈیکلز سے لڑنے اور انسانی جسم کے خلیات کو آکسیڈینٹیو نقصانات سے بچانے میں بہترین مزاحمت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اینٹی آکسیڈنٹس انسانی صحت میں بہت اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ دائمی طور پر کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو ممکنہ حد تک روکتے ہیں۔''کیویار‘‘ (Caviar) بحیرہ قزوین سے نکلنے والی اس کیویار کو دنیا کی سب سے مہنگی خوراک کا درجہ حاصل ہے۔ مچھلی کی اووری سے لئے گئے چھوٹے چھوٹے دانوں کی شکل کے ان انڈوں کو فارسی میں ''خاویار‘‘ کہتے ہیں۔ کیویار کی یہ نایاب قسم بیلوگا، سنہری الماس اور سٹرگن نسل کی مچھلیوں کے انڈوں سے ملتی ہے۔انہی نسل کی مچھلیوں کی قیمت سب سے زیادہ ہے جبکہ دیگر نسل کی مچھلیوں کی کیویار کی مانگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت چالیس لاکھ روپے فی کلو گرام ہے جبکہ دیگر دو اقسام کی قیمت دوسے چار لاکھ روپے فی کلوگرام تک ہے۔تاریخ کے اوراق میں ان کیویار کا ذکر ایران، آسٹریلیا اور روس کے بادشاہوں کی خوراک کے طور پر ملتا ہے۔ جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ لذت اور ذائقے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں کے علاج کے طور پر بھی استعمال ہوا کرتی تھی۔ بلیو فن ٹونا مچھلییہ دنیا کی نایاب مچھلیوں کی نسل میں سے ایک نسل ہے جو تیزی سے معدومیت کی طرف گامزن ہے۔ یہ دنیا بھر میں کھانے کے شائقین میں بے حد مقبول ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال جاپان کی دو مخصوص اور روایتی ڈشوں ''سوشی‘‘ اور ''ساشیمی‘‘ میں ہوتا ہے۔اب رفتہ رفتہ کم پیداوار کی وجہ سے اس کا استعمال صرف انتہائی مالدار طبقے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بعض حوالوں سے معلوم ہوا ہے کہ آج سے چند سال پہلے دنیا کی سب سے مہنگی بلیو فن ٹونا، ٹوکیو میں ایک نیلامی کے دوران تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ پاکستانی روپوں میں نیلام ہوئی تھی۔سمندر کے پانیوں میں پرورش پانے والی اس مچھلی کے گوشت کی فی کلو گرام قیمت دس لاکھ روپے کے برابر ہے۔خوردنی گھونسلہآپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ مشرقی ایشیاء کے ممالک کے کچھ پہاڑی علاقوں میں کچھ منفرد قسم کی چڑیاں پہاڑی ڈھلوانوں پر اپنے لعاب سے گھونسلے بناتی ہیں۔یہ گھونسلے ملائشیا ، تھائی لینڈ ، چین ، ہانگ کانگ اور ویت نام میں انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں کیونکہ ان ممالک میں ان گھونسلوں سے ایک منفرد قسم کا سوپ پچھلے کئی عشروں سے نہایت رغبت اور چاہت سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔ لیکن ان گھونسلوں کو اکٹھا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف اس لئے ہے کہ خطرناک پہاڑی ڈھلوانوں پر چڑھنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ان ممالک میں سرخ گھونسلے دس لاکھ پاکستانی روپے اور سفید گھونسلے دو سے تین لاکھ روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہوتے ہیں۔ کوپی لوواک کافی فلپائن اور انڈونیشیا میں پائے جانے والے کافی کے ان بیجوں سے بنی کافی کی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے۔ جبکہ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کی اشرافیہ میں اس کی بہت طلب رہتی ہے۔ اس کافی کا حصول بھی انتہائی دلچسپ اور عجیب ہے۔مشرقی ایشیاء میں پایا جانے والے جانور ''لوواک‘‘کو کافی کے درخت کا پھل کھلایا جاتا ہے جس کے بعد اس جانور کے فضلے سے نکلنے والے کافی کے بیجوں کو یکجا کر لیا جاتا ہے۔عالمی مارکیٹ میں ان بیجوں کی فی کلوگرام قیمت تیس ہزار سے لے کر دو لاکھ روپے تک ہے ۔زعفران زعفران کچھ مخصوص پکوانوں کا لازمی جزو تصور ہوتا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ مختلف ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یہ چند مخصوص آب وہوا کے علاقوں میں موسم خزاں میں صرف چند دن کیلئے اگتا ہے۔جس کے بعد یہ ہاتھ سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ایک پھول میں چند باریک تھوڑی سی ڈنڈیاں ہوتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ پھولوں سے بمشکل ایک کلو گرام زعفران نکلتا ہے۔اس کی کم سے کم قیمت چالیس سے پچاس ہزار روپے فی کلوگرام ہوتی ہے جبکہ اعلی کوالٹی زعفران کی قیمت دو اڑھائی لاکھ روپے فی کلو گرام کے قریب ہوتی ہے۔ موز چیز موز ،بارہ سنگھے کی ماند جنگلوں میں رہنے والا ایک جانور ہے جس کا آبائی علاقہ سویڈن ہے۔ اس کے دودھ سے تیارکردہ سفید چیز (پنیر ) دنیا بھر میں اپنے منفرد ذائقے اور لذت کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک میں کھانوں کے رسیا اسکی تلاش میں رہتے ہیں۔ چونکہ اس جانور کی پیدائش کا علاقہ محدود ہے اور پھر اس کے دودھ کا حصول بھی آسان نہیں اسلئے عالمی مارکیٹ میں " موز چیز " کی فی کلو گرام قیمت ایک لاکھ روپے سے دولاکھ روپے کے درمیان رہتی ہے۔مٹسوتی کے مشروم مٹسوتی کے مشروم کی فی کلو قیمت پانچ لاکھ روپوں کے برابر ہے۔یہ مشروم کی ایک نایاب قسم ہے جو جاپان ، امریکہ کے علاوہ چند یورپی ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔ بیش قیمت ہونے کے باعث یہ اشرافیہ کے استعمال تک ہی محدود ہے۔  

شکرگزار بنیں!

شکرگزار بنیں!

انسان کو اللہ تعالیٰ نے بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان میں سے کئی نعمتیں تو اتنی عظیم ہیں کہ اگر کوئی ایک نعمت ہم سے واپس لے لی جائے تو ہم اس نعمت کا نعم البدل کہیں سے نہیں لا سکتے۔ ہم اپنے اعضاء پہ ہی غور کر لیں کہ یہ ا للہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہیں۔ خدا نخواستہ کسی حادثے میں کوئی ایک نعمت بھی واپس لے لی جائے تو اس وقت انسان کو یہ سوچ آتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت تھی۔ میں زندگی بھر استعمال کرتا رہا، اس نعمت کے حوالے سے تو کبھی اپنے رب کا شکر ادا کیا ہی نہیں تھا۔اللہ جل شانہ کی جس قدر نعمتیں ہر آن اور ہر دم انسان پر ہوتی ہیں، ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق بجا لانا بھی انسان کے ذمے ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ شکر انسان کیسے ادا کرے؟ کیا ہم دن میں ''شکر الحمد للہ‘‘ کی تسبیح پڑھ لیں، اگر تسبیح پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی اچھی بات ہے لیکن حقیقی شکر تب ہی ہو گا جب آپ دل کی گہرائیوں سے شکر ادا کریں گے، ہر نعمت کے قدر دان بن جائیں گے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ''اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں زیادہ عطا کروں گا‘‘۔ نبی کریم ﷺفرماتے ہیں:کہ قیامت کے دن کہا جائے گا، حمد کرنے والے کھڑے ہو جائیں، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو جائے گا، ان کیلئے جھنڈا لگایا جائے گا اور وہ تمام لوگ جنت میں جائیں گے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ! حمد کرنے والے کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو ہر دکھ سکھ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بہت بڑی بات ہے، ظاہر ہے انسان کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے انسان کی زندگی میں غم بھی آتے ہیں، امتحان اور آزمائشوں کے طوفان بھی آتے ہیں۔ ہر حالت میں جو اپنے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے وہ ہی حقیقی قدردان ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے تو شکر ادا کرنے والا خرچ کرتا ہے، بانٹا شروع کرتا ہے، دوسروں کا احساس کرتا ہے اور وہ اپنے عمل سے انسانیت کیلئے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ مال جمع کرنے والا کبھی شکر گزار بندہ نہیں بن سکتا، کیونکہ شکر گزاری مال کو اکٹھا کرنے میں نہیں بلکہ سخاوت میں ہے۔ جب بھی انسان رب تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو اس کو ایک روحانی طاقت محسوس ہوتی ہے۔ زندگی کے روزمرہ کاموں میں، اپنے گھر، محلے،آفس میں ہر انسان کا شکریہ ادا کریں۔ ہم بڑے بڑے کام کروا لیتے ہیں لیکن شکریہ ادا کرنا بھول جاتے ہیں، آپ دو دن مسلسل ایک ہی بندے سے اُجرت کے ساتھ کوئی چھوٹا سا کام کروائیں، ایک دن شکریہ ادا نہ کریں اور دوسرے دن شکریہ ادا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے الفاظ سے سامنے والے شخص کا چہرہ جگمگا اٹھے گا اور آپ کو دیر تک ایسا سکون محسوس ہو گا کہ آپ کا دل و دماغ روشن ہو جائے گا۔ یاد رکھیں اگر آپ میں لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کی عادت نہیں تو آپ اپنے مالک کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتے،کیونکہ حدیث رسول ﷺ ہے ''جو لوگوں کاشکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا‘‘ اس لئے ہمیں ہر وقت، ہر حال میں، ہر نعمت کا ہر شخص کا، شکر ادا کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کا شکر ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔ شکر گزاری، شکر ادا کرنا اور اس کا اظہار کرنا بظاہر چھوٹا سا عمل ہے لیکن یہ روح کے ساتھ ساتھ انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بارہا ریسرچ سے یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ شکر گزار ہونا: آپ کی خوشیوں کے ذائقے کو بڑھاتا ہے، بہتر اور پرسکون نیند کی وجہ بنتا ہے، جسم کو طاقت اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔آج عہد کر کے شکر گزاری کی زندگی شروع کیجیے، مندرجہ بالا فوائد کے علاوہ آپ خالق اور مخلوق دونوں میں محبوب ہو جائیں گے۔ آپ کے ساتھ ہر شخص تعلق بنانے کی کوشش کرے گا۔ ہر شخص آپ کی قدر کریگا۔ دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں کی راہ آپ کیلئے ہموار ہو جائے گی۔

یادرفتگاں:اے حمید:باکمال موسیقار

یادرفتگاں:اے حمید:باکمال موسیقار

30 سالہ فلمی کریئر میں 70 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور تقریباً 450 گیت کمپوز کرنے والے اے حمید پاکستانی فلمی موسیقی کا ایک بہت بڑا نام تھے۔ وہ کمال کے موسیقار تھے کہ ان کے بہت کم گیت ایسے ہیں جو مقبول نہ ہوئے ہوں، ان کے سپرہٹ گیتوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود اردو فلموں کے سکہ بند موسیقار تھے اور پورے فلمی کریئر میں صرف 8 پنجابی فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔اے حمید 1933ء میں امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ پورا نام شیخ عبدالحمید تھا۔ انہوں نے پاکستان میں اپنا فلمی کریئر 1957ء میں فلم ''انجام‘‘ سے شروع کیا۔ 1960ء میں انہوں نے فلم ''رات کے راہی‘‘ کیلئے شاندار موسیقی مرتب کی۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا ایک گیت ''کیا ہوا دل پہ ستم، تم نہ سمجھو گے بلم‘‘، انتہائی مقبول ہوا۔ اس گیت کو فیاض ہاشمی جیسے بے بدل گیت نگار نے لکھا تھا۔ ''رات کے راہی‘‘ کی کامیابی میں بلاشبہ اے حمید کی موسیقی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 1960ء میں ان کی مشہور زمانہ فلم ''سہیلی‘‘ نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ ایس ایم یوسف کی اس فلم نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ اس فلم میں اے حمید کا فن اوج کمال کو پہنچ گیا۔ یہ گیت تو بہت زیادہ مقبول ہوا ''کہیں دو دل جو مل جاتے‘‘ پھر 1962ء میں ''اولاد‘‘ کے گیتوں نے بھی ان کے فنی قدو قامت میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد ان کی یکے بعد دیگرے ریلیز ہونے والی فلموں کے نغمات مقبولیت کی آخری حدوں کو چھونے لگے۔ آشیانہ (1964ء)، توبہ (1965ء) اور بہن بھائی (1968ء) کے نغمات بھی زبان زد عام ہوئے۔ ''توبہ‘‘ میں منیر حسین اور ان کے ساتھیوں کی آواز میں گائی ہوئی یہ قوالی آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے ''نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ہم کہاں جاتے‘‘۔ اس کے بعد 1971ء میں ریاض شاہد کی فلم ''یہ امن‘‘ نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے بارے میں کہا جاتا تھاکہ اس کا خاصا حصہ سنسر کی نذر ہو گیا تھا۔ یہ یحییٰ خان کا دور تھا۔ ریاض شاہد کو اپنی فلم کے سنسر ہونے کا بے پناہ دکھ تھا۔ ان کی فلم ''امن‘‘ کا نام بھی بدل کر ''یہ امن‘‘ رکھ دیا گیا۔ ریاض شاہد کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ دکھ ریاض شاہد کو موت کی وادی میں لے گیا۔''یہ امن‘‘ اس کے باوجود سپرہٹ ثابت ہوئی۔ حیرت کی بات ہے کہ 1969ء میں ریاض شاہد نے اپنی شاہکار فلم ''زرقا‘‘ کی موسیقی کیلئے رشید عطرے کو منتخب کیا تھا لیکن ''یہ امن‘‘ کی موسیقی کیلئے انہوں نے اے حمید کو ترجیح دی۔ یہ فلم کشمیر کی جنگِ آزادی پر بنائی گئی تھی۔ اے حمید نے اس فلم کے گیتوں کو لازوال دھنیں عطا کیں۔ مہدی حسن اور نورجہاں کا یہ گیت تو آج بھی لاثانی گیت کہلایا جاتا ہے ''ظلم رہے اور امن بھی ہو‘ کیا ممکن ہے تم ہی کہو‘‘۔ 1972ء میں شریف نیئر کی فلم ''دوستی‘‘ نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ اس فلم کے گیت قتیل شفائی، کلیم عثمانی اور تنویر نقوی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ اس فلم کے یہ گیت آج بھی اپنی شہرت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ''یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہ زادیاں‘‘ اور ''چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے‘‘۔ اے حمید نے اس فلم کا جو سنگیت دیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 1974ء میں انہوں نے فلم ''سماج‘‘ کیلئے شاندار موسیقی دی۔ اس فلم کے یہ گیت شاہکار قرار پائے ''چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں‘‘ اور ''یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا‘‘۔ 1976ء میں حسن طارق کی فلم ''ثریا بھوپالی‘‘ کی بے مثال موسیقی بھی اے حمید کی تھی۔ اس میں ناہید اختر کے گائے ہوئے گیت آج بھی دل کے تاروں کو چھو لیتے ہیں۔ 1977ء میں انہوں نے فلم ''بھروسہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی اور اس فلم کے نغمات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ 1976ء میں انہوں نے پنجابی فلم ''سوہنی مہینوال‘‘ کیلئے دلکش موسیقی مرتب کی۔ سیف الدین سیف کے لکھے ہوئے پنجابی نغمات کو اے حمید نے اپنی سحر انگیز موسیقی کا جو لباس پہنایا وہ آج بھی فلمی موسیقی کی تاریخ کا زریں باب ہے۔ اے حمید پیانو بجانے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ اے حمید نے پونا فلم انسٹی ٹیوٹ میں موسیقی کے شعبے میں داخلہ لیا جہاں نامور موسیقار سی رام چندر اور استاد محمد علی نے انہیں تربیت دی تھی۔ اے حمید کی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہیں فیاض ہاشمی، قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور حبیب جالب جسے نغمہ نگار ملے۔ ان کی یادگار فلموں میں ''رات کے راہی، اولاد، سہیلی، پیغام، یہ امن، دوستی، سوہنی مہینوال، شریک حیات، ثریا بھوپالی، آواز، انگارے، بھروسہ، توبہ، بہن بھائی‘‘ اور دوسری کئی فلمیں شامل ہیں۔ اے حمید کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے پاکستانی فلموں کی سب سے مقبول فلمی قوالی ''نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ، ہم کہاں جاتے‘‘کمپوز کی تھی۔ اس سے قبل ہدایتکار ایس ایم یوسف کی اردو فلم ''اولاد‘‘ میں بھی اسی ٹیم کی گائی ہوئی قوالی ''حق ، لا الہ لا اللہ ، فرما دیا کملی والے ؐ نے‘‘بڑی مقبول ہوئی تھی۔اس کے علاوہ ہدایتکار اقبال یوسف کی اردو فلم ''عیدمبارک‘‘ کی محفل میلاد کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ اے حمید کی بیشتر فلموں میں ایسے روحانی گیت ، قوالیاں وغیرہ عام ہوتی تھیں۔20 مئی 1991ء کو اے حمید کا راولپنڈی میں انتقال ہو گیا۔چند دلچسپ حقائق٭... پہلی فلم کی طرح موسیقار اے حمید کی آخری فلم ''ڈسکو دیوانے‘‘ کے ہدایتکار بھی جعفربخاری ہی تھے۔٭...اے حمید نے ہدایتکار ایس ایم یوسف کی بیشتر فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔٭...ایک سو سے زائد گیت نغمہ نگار فیاض ہاشمی سے لکھوائے۔٭...زیادہ تر گیت میڈم نورجہاں ، مالا بیگم، مہدی حسن اور منیر حسین سے گوائے۔٭...گلوکار اے نیئر کو دریافت کیا اور اردو فلم ''بہشت ‘‘(1974ء) میں روبینہ بدر کے ساتھ پہلا دوگانا ''یونہی دن کٹ جائیں ، یونہی شام ڈھل جائے‘‘گوایا تھا۔٭...پاپ سنگر نازیہ حسن کو پہلی بار ہدایتکار حسن طارق کی اردو فلم ''سنگدل‘‘ (1982ء) میں گوایا تھا۔ مقبول عام گیت٭کیا ہوا دل پہ ستم ، تم نہ سمجھو گے بلم(رات کے راہی)٭ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے(سہیلی)٭مکھڑے پہ سہرا ڈالے ، آجا او آنے والے (سہیلی)٭کہیں دو دل جو مل جاتے، بگڑتا کیا زمانے کا (سہیلی)٭نام لے لے کے تیرا ہم تو جئیں جائیں گے (فلم اولاد)٭نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا، ہم کہاں جاتے(توبہ)٭چٹھی جرا سیاں جی کے نام لکھ دے(دوستی)٭یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہ زادیاں (دوستی)٭کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمہارا(غرناطہ)٭ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے(یہ امن)٭اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں(انگارے)