کیلشیم اور فاسفورس
اسپیشل فیچر
کیلشیم اور فاسفورس کن غذائوں سے حاصل ہوسکتے ہیں ؟پالش کئے ہوئے چاول، باجرہ ،دالیں ، شکرمربہ جات، ساگودانہ، آلومولی اور گاجر کی قسم کی ترکاریاں اور گوشت ایسی غذائیں ہیں جن میں کیلشیم کا جزو بہت کم ہوتا ہے، دودھ، مکھن، مکھن نکلاہوا دودھ لسی، پنیر، انڈے، بادام ، اخروٹ ،پستہ، پھل اور سبز ترکاریوں میں کیلشیم کی افراط ہوتی ہے، دودھ بالائی، دہی لسی ، انڈے اور بادام میں سب سے زیادہ کیلشیم ہوتا ہے ان سے کچھ کم شلغم ، مولی پالک اور مٹر میں ان سب سے کچھ کم گیہوں ،سیب، ناشپاتی ، گاجر، بندگوبھی ، آلو اور مچھلی ہیں۔ دودھ ا نڈے ، مغزیات، پستہ، بادام، اخروٹ، چلغوزے، جو، چنے، مٹر، گاجر، گوبھی، گوشت، مچھلی اور پرندوں کے گوشت میں فاسفورس کثرت سے پائے جاتے ہیں لیکن میدہ اور زمین کے نیچے پیدا ہونے والی ترکاریوں میں اس کا جزو بہت کم ہوتا ہے اگر کیلشیم اور فاسفورس کی متناسب مقدار جسم میں پہنچائی مقصود ہو ایسی غذائوں کو جن میں کیلشیم زیادہ ہے غذائوں کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے جن سے فاسفورس کی زیادہ مقدار مل سکتی ہیں فاسفورس جسمانی نشوونما دماغی طاقت چونا دودھ میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ چھاچھ میں بھی یہ بہت ہوتا ہے پنیر، لال چولائی ، پالک، باتھو اور سبز پتے کی ترکاریاں بھی اپنے اندر چونے کی خاصی مقدار رکھتی ہیں، بچوں کو اور چیزوں کے مقابلے میں معدنی نمکوں اور چونے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے چاول میں چونا بہت کم ہوتا ہے اور اس بات کی توتحقیق ہوچکی ہے کہ چاول کھانے والوں کی خوراک میں نمک اور کیلشیم کی کمی اکثر امراض پیدا کردیتی ہے۔ حاملہ عورتوں اور بچوں کو پرورش کرنے کے دوران میں مائوں کو کیلشیم چونا کی کافی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے ایک تندرست بچہ جس کی عمرتین مہینے کی ہو اور جس نے ماں کی چھاتی سے پرورش پائی ہو۔ چونے کی کافی مقدار اپنے جسم میں داخل کرلیتا ہے یہ چونا اسے ماں کے دودھ سے حاصل ہوتا ہے اگر ماں کی خوراک میں کیلشیم کی کمی ہوجائے تو ماں کی اپنی ہڈیوں کا کیلشیم گھل گھل کر دودھ کے ذریعے سے بچے کو ملنے لگے گا اور اس سے ماں کی تندرستی برباد ہوجائے گی، یہ بھی ممکن ہے کہ بچہ بھی بعض امراض کا شکار ہوجائے چونکہ حمل اور دودھ پلانے کے زمانے میں کیلشیم کی زیادہ مقدار کام میں آتی ہے اس لئے عورتوں کے لیے ان دنوں میں خاص طورپر دودھ کافی استعمال بہت ضروری ہے کیلشیم حاصل کرنے کا بہترین مخزن دودھ ہے۔ سبز ترکاریوں اور بعض قسم کے جو، جوار میں یہ عنصر کافی ہوتا ہے لیکن ان چیزوں میں جو کیلشیم ہوتا ہے وہ ممکن ہے دودھ کے کیلشیم کے مقابلے میں اچھی طرح ہضم ہوکر جزبدن نہ بن سکے بیمار اور سست رہنے والے بچوں کے لئے دودھ کے کیلشیم کی کافی مقدار نہایت ضروری ہے۔ (’’غذا سئے علاج کیجیے‘‘ مولف: خوشتر گرامی)