غیبت , ایک بدترین گناہ
اسپیشل فیچر
حدیث شریف میں مذکور ہے کہ ’’غیبت کرنے والا اگراللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے،تب بھی معافی نہ ہوگی جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کی غیبت کی تھی‘‘ جب کوئی معاشرہ گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دے اور افراد کے دِلوں سے اس کااحساس بھی ختم ہو جائے، خصوصاً جب کہ وہ گناہ ،گناہِ کبیرہ بھی ہو تو سمجھ لیجیے کہ یہ معاشرہ اپنے ایمان کے قتل کا سامان تیار کر رہا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جو گناہ بہت عام ہو گیا ہے اور کوئی مجلس ،کوئی محفل ،کوئی گھر اس گناہ سے خالی نہیں ،وہ گناہ غیبت ہے۔قرآن پاک نے اس گناہ کا جتنی سخت وعید کے ساتھ جس اندازا ور اسلوب سے ذکرکیا ہے ،وہ شاید ہی کسی اور گناہ کا کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں فرمایا؛ ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو،کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم خود نفرت کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو ۔بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘ غور کیجیے ، کیا صرف اتنا حکم کافی نہیں تھا کہ غیبت نہ کرو ۔مؤمنین کے لیے تو صرف اس حکم کے بعد ہی غیبت حرام ہو چکی تھی لیکن اللہ تعا لیٰ اس گناہ کی مزید شناخت اور بد تری بتا کر ترہیب کے انداز میں مؤمنین کو تاکید فرمارہاہے کہ کسی کی غیبت کرنا در حقیقت اپنے مر ے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔رسولؐ اللہ کی یہ حدیث مبارکہ بھی معروف ہے:’’ غیبت زِنا سے بد تر ہے۔‘‘ زنا انتہا درجے کی بے شرمی اور بے حیائی والا گنا ہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی غیبت کو زنا سے بد تر قرار دیا جا رہا ہے۔حضرات محدثین اس کی دو توجہات بتاتے ہیں،ایک یہ کہ زنا کرنے والے کو بہر حال ندامت و شرمندگی ہوتی ہے تو اُسے توبہ کی توفیق بھی ہو سکتی ہے لیکن غیبت کرنے والے کو عام طور پر گناہ کا احساس نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اُسے توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ زنا کے گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے یعنی زنا کرنے والا اگر توبہ کرلے تو اللہ کی رحمت سے اِن شاء اللہ معافی ہوسکتی ہے لیکن غیبت کا تعلق بندوں یعنی حقوق العبادسے ہے۔ غیبت کرنے والا اگراللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے ،تب بھی معافی نہ ہوگی جب تک وہ شخص معاف نہ کر ے جس کی غیبت کی تھی۔ابوداؤد کی ایک حدیث میں خادمِ رسول حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آقا ئے دوجہاںؐ نے فرمایا :’’ جب مجھے معراج کے سفر پہ لے جایا گیا تو وہاں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر بھی ہواجو اپنے چہرے نوچ رہے تھے ۔اور اپنے سینے پِیٹ رہے تھے ۔ ‘‘میں نے جبرئیل ؑسے پوچھا :’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا :’’ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوںکی غیبتیں کیا کرتے تھے۔‘‘ ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیے ،حضرت انس ؓیہ واقعہ نقل فرماتے ہیںکہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ ایک سفر میں ساتھ تھے۔ ایک خادم بھی اُن کے ہم راہ تھے ،کھانے کا وقت ہو گیا ،لیکن خادم سوئے رہے۔ حضرات ِشیخین ؓمیں سے ایک نے کہا :’’ ہم نے کھانا نہیں کھایا اور یہ کیسی گہری نیند سورہے ہیں۔ ایسی بے پروائی کی نیند سورہے ہیں، جیسے اپنے گھر میں سوئے ہو ں۔‘‘جب وہ شخص بیدار ہوئے تو کھانا نہیں تھا۔ حضراتِ شیخینؓ نے اُنہیں کہا:’’ تم رسول ؐاللہ کی خدمت میں حاضری دو اور عرض کرو کہ ابوبکر ؓ و عمرؓ نے کھانا نہیں کھایا اگر کچھ ہو تو عطا فرما دیجیے۔‘‘چناں چہ یہ خادم حضور اکرم ؐکے پاس آئے اور یہ پیغام پہنچایا تو رسول ؐاللہ نے ارشاد فرمایا :’’ وہ تو کھا نا کھا چکے ہیں ۔‘‘یہ بات سُن کر خادم حضرات شیخین ؓکے پاس واپس آئے اور کہا:’’ رسولؐ اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ حضرات توکھانا کھا چکے ہیں۔حضرات ِشیخین ؓنے فرمایا:’’ وہ کیسے؟ ہم نے تو کھانا نہیں کھایا ؟‘‘ یہ دونوں حضور اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:’’ یا رسولؐ اللہ! ہم نے تو کھانا نہیں کھایا ،آپؐ فرما رہے ہیں کہ ہم کھا نا کھا چکے ہیں؟ ‘‘رسولؐ اللہ نے فرمایا:’’ تم نے اپنے بھائی کا گوشت کھایا۔‘‘ اور پھر فرمایا:’’ قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے ۔ میں تو تمہارے بھائی کا گوشت تمہارے دانتوں میں دیکھ رہا ہوںکہ تم دونوں نے اپنے خادم کی غیبت کی تھی۔ حضرات شیخین ؓانتہائی نادم اور پریشان ہوئے، عرض کی:’’ یا رسولؐ اللہ! ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کیجیے۔‘‘ رسولؐ اللہ نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی سے معافی مانگو ،جس کی تم نے غیبت کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے تم دونوں کے لیے معافی مانگے۔‘‘اندازہ کیجیے اس گناہ کی شدّت کا کہ جہاں اتنے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کو اس گناہ پر اتنی سخت وعید اور تنبیہہ کا سامنا ہو تو وہاں عام مؤمنین کو اس گناہ سے بچنے پر کتنا حساس ہونا چاہیے۔طبرانی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓسے روایت منقول ہے کہ رسولؐ اللہ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو کھڑے رہے اور فرمایا: ’’ ان دو قبر والوں پر عذاب ہو رہا ہے، جاؤ کہیں سے سبزٹہنی لے آؤ۔‘‘ چناں چہ میں سبز ٹہنی کا ٹکڑا لے آیا تو رسولؐ اللہ نے اس ٹہنی کے دو حضے کیے، دونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیااور پھر فرمایا:’’ تمہیں معلوم ہے انہیں عذاب کیوں دیا جا رہا ہے؟ یہ عذاب دو وجہوں سے دیا جا رہاہے۔اگر یہ چاہتے تو دنیا میں ان گناہوں سے بچنا ان کے لیے مشکل نہ تھااور وہ دو گناہ ’’ غیبت اور پیشاب‘‘ہیں ،ان میں سے ایک دنیا میں غیبت کرتاتھا اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے خودکونہیں بچاتاتھا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ کے صاحب زادے عبداللہ ابن عمر ؓ کی مجلس میں ایک شخص نے حجاج بن یوسف کی بُرائیاں بیان کر نا شروع کیں اور انہیں بُرا بھلا کہا ،تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اسے روکا اور کہا :’’ جو تم حجاج کی برائیاں کررہے ہو یہ غیبت ہی تو ہے ۔یہ خیال ذہن سے نکال دو کہ اگر حجاج ظالم ہے تو اس کے خلاف غیبت بھی جائز ہے ۔یادرکھو، کل قیامت کے دن جہاں حجاج سے اُن سیکڑوں لوگوں کے قتل کا حساب لیا جارہا ہو گا ،وہیں تم سے بھی اس غیبت کا حساب لیا جائے گاجو تم اس کے پیچھے کر رہے ہو۔‘‘ شیخ الا سلام مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی شخص فاسق ، فاجراور ظالم ہے، گناہِ کبیرہ میں مبتلا ہے تب بھی اس کے خلاف غیبت جائز نہیں ۔ہاں، جو شخص اعلانیہ فسق و فجور میں مبتلا ہے یا کھلم کھلا کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے یا سر ِعام شراب پیتا ہے اوراگرپیٹھ پیچھے کوئی شخص اس کی یہ حالت بیان کرتا ہے تو چوں کہ وہ تو خود اعلانیہ یہ گناہ کر کے اپنی حالت لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ، لہٰذا یہ غیبت میں شمار نہیں ہو گا ۔اس حدیث کایہی مطلب ہے کہ جس میں رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کہ فاسق اور اعلانیہ گناہ کرنے والے کی غیبت ،غیبت نہیں ۔زبان سے غیبت تو بہت دُور کی بات ہے رسول ؐاللہ نے اشاروں سے بھی غیبت کو برداشت نہیں فرمایا اور سخت تنبیہہ فرمائی، چناں چہ ابو داؤد اور ترمذی میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت موجود ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ تو ٹھگنی قد والی ہے، زبان سے کچھ نہیں کہا، لیکن سرکارِدوعالم ؐکو یہ بات انتہائی نا گوار گزری، فرمایا:’’ اے عائشہ ؓ !آج تم نے ایسا عمل کیا ہے کہ اگر اس عمل کی بو اور اس کا زہر سمندر میں ڈال دیا جائے تو پورے سمندر کو بد بو دار اور زہریلا بنادے۔‘‘قارئینِ کرام! ان آیات ِکریمہ اور احادیثِ مبارکہ کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے دائرۂ اختیار میں رہنے والوں کو اس بدترین گناہ سے بچائیے۔یاد رکھیے !جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسی طرح غیبت سُننابھی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی ہمّت اور توفیق عطا فرمائے۔(آمین)