عجائب گھر: تہذیب و ثقافت کا قیمتی سرمایہ
اسپیشل فیچر
دنیا بھر میں ہر سال 18مئی کو ''عالمی یوم عجائب گھر ‘‘ منایا جاتا ہے
ہر قوم اپنی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور روایات کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو محفوظ رکھتی ہیں، وہی مستقبل میں مضبوط اور باوقار مقام حاصل کرتی ہیں۔ انسانی تہذیب کے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے میں عجائب گھروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 18 مئی کو ''عالمی یومِ عجائب گھر‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں عجائب گھروں کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ اس دن کے منانے کا آغاز ''انٹرنیشنل کونسل آف میوزیم‘‘نے 1977ء میں کیا تھا۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں خصوصی تقریبات، نمائشوں، سیمینارز اور تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
عجائب گھر دراصل کسی قوم کے اجتماعی حافظے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں قدیم نوادرات، تاریخی دستاویزات، نایاب تصاویر، جنگی سازو سامان، قدیم سکے، مجسمے، ثقافتی لباس، فن پارے اور دیگر قیمتی اشیا محفوظ کی جاتی ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں بلکہ انسان کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایک اچھا عجائب گھر انسان کو صدیوں پر محیط تاریخ کے سفر پر لے جاتا ہے جہاں وہ مختلف ادوار کی تہذیب، طرزِ زندگی اور ترقی کا مشاہدہ کرتا ہے۔
دنیا کے مشہور عجائب گھروں میں ''لوور میوزیم‘‘(Louvre Museum)، ''برٹش میوزیم‘‘(British Museum)اور ''میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ‘‘ (Metropolitan Museum Of Art) شامل ہیں، جہاں لاکھوں تاریخی اور ثقافتی نوادرات محفوظ ہیں۔ یہ عجائب گھر ہر سال کروڑوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان بھی تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک عظیم ملک ہے۔ یہاں قدیم تہذیبوں کے بے شمار آثار موجود ہیں۔ انڈس ویلی سویلائزیشن دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ موہنجو داڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے تاریخی مقامات اس عظیم ورثے کی علامت ہیں۔ پاکستان میں قائم عجائب گھروں میں لاہور میوزیم، نیشنل میوزیم آف پاکستان اور ٹیکسلا میوزیم خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان عجائب گھروں میں بدھ مت، گندھارا تہذیب، اسلامی فن تعمیر اور برصغیر کی تاریخ سے متعلق نایاب نوادرات محفوظ ہیں۔
عجائب گھر صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ تعلیمی مراکز بھی ہیں۔ طلبہ و طالبات یہاں آ کر اپنی کتابوں میں پڑھی گئی تاریخ کو حقیقت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ ایک قدیم تلوار، صدیوں پرانا سکہ یا تاریخی مخطوط نوجوان ذہنوں میں تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں اسکولوں اور جامعات کے تعلیمی دوروں میں عجائب گھروں کی سیر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں عجائب گھروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب دنیا کے کئی عجائب گھر آن لائن نمائشوں اور ورچوئل ٹورز کا اہتمام کر رہے ہیں، جس سے لوگ گھر بیٹھے تاریخی نوادرات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس جدید طرز نے نوجوان نسل کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ثقافتی ورثے کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا عمل بھی تیز ہوا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عجائب گھروں کے حوالے سے شعور ابھی محدود ہے۔ اکثر لوگ انہیں محض پرانی چیزوں کا ذخیرہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ قوموں کی علمی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے عوام میں عجائب گھروں کی اہمیت اجاگر کریں۔ اسکولوں کے نصاب میں تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں اور طلبہ کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ عجائب گھروں کی حالت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ کئی تاریخی نوادرات مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی، ماہرین آثارِ قدیمہ اور تحقیقاتی سہولیات کے ذریعے عجائب گھروں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ سیاحتی سہولیات کی بہتری سے نہ صرف ملکی ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
عالمی یومِ عجائب گھر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔ عجائب گھر ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے نئی نسل کو اپنی تہذیب، شناخت اور قومی تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلیں بھی اپنی شناخت اور ثقافت پر فخر محسوس کریں گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عجائب گھروں کی اہمیت کو سمجھیں، ان کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے اس عظیم ثقافتی سرمایہ کو محفوظ بنائیں۔