ہائپر ٹینشن ، خاموش قاتل
اسپیشل فیچر
آج کی تیز رفتار اور پُرتناؤ زندگی میں ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے جو خاموشی سے انسان کی صحت کو تباہ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین طب اسے ''خاموش قاتل‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اکثر افراد برسوں تک اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں مگر انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی اور بے احتیاط طرزِ زندگی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور احتیاط نہ کی جائے تو ہائپر ٹینشن دل کے امراض، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے مہلک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 17 مئی کو عالمی یومِ ہائپر ٹینشن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو بظاہر کسی واضح علامت کے بغیر انسانی جسم کے نہایت اہم اعضاکو شدید نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کو بجا طور پر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔
یہ بیماری دل، دماغ، گردوں اور خون کی نالیوں کو آہستہ آہستہ متاثر کرتی ہے اور اکثر مریض اُس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب فالج، دل کا دورہ، دل کی کمزوری یا گردوں کی خرابی جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔
تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص اور مسلسل نگرانی انتہائی ضروری ہے۔
اس سال عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ''Controlling Hypertension Together‘‘ کے عنوان سے منایا گیا، یعنی بلند فشارِ خون پر مل کر قابو پانے کا عزم کیا گیا۔یہ پیغام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے نمٹنا صرف ڈاکٹروں یا اسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے، جس میں حکومت، طبی ماہرین، میڈیا، تعلیمی ادارے، خاندان اور خود عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں چند ایسی عادات تیزی سے فروغ پا رہی ہیں جو ہائی بلڈ پریشر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میں نمک کا زیادہ استعمال، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور ذیابیطس شامل ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور سکرین کے استعمال میں اضافہ مستقبل میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اگر بروقت تشخیص ہو جائے اور مریض احتیاطی تدابیر اختیار کرے تو دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے خطرناک امراض سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق چند سادہ مگر مؤثر اقدامات انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر نمک کا استعمال کم کیا جائے، تازہ سبزیاں اور پھل خوراک کا حصہ بنائے جائیں، روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کی جائے، وزن کو قابو میں رکھا جائے، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز کیا جائے، ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے، بلڈ پریشر کا باقاعدگی سے معائنہ کروایا جائے ۔ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر فرد کو اپنا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروانا چاہیے جبکہ ذیابیطس، موٹاپے یا دل کے مریضوں میں یہ احتیاط مزید اہم ہو جاتی ہے۔
یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اپنی ادویات بند نہ کریں۔ اکثر مریض وقتی بہتری کے بعد دوائیں چھوڑ دیتے ہیں، جو بعد میں سنگین نتائج کا سبب بنتا ہے۔
عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے ہم نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بیماریوں کے بوجھ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف آگاہی کی مہم کو مضبوط کریں، تاکہ ایک صحت مند، توانا اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔