حضرت نو ح علیہ السلام

حضرت نو ح علیہ السلام

اسپیشل فیچر

تحریر : مفتی شعیب


کوہِ جودی پر پائے جانے والے ان آثار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہیں قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ تقریباً تینتالیس مقامات پر مذکور ہے۔آپ ؑکی عمر تقریباً ایک ہزار پچاس سال تھی۔ (تفسیر مظہری) آپؑ نو سو پچاس سال قوم کو دعوت دیتے رہے ۔ حضرت نوح ،حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی ہیں جنہیں رسالت سے نوازا گیا، ملک عراق میں آبا د قوم میں ضلالت و گم راہی کا دور دورہ تھا۔ آپ ؑنے قوم کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا :’’اے میری قوم کے لوگو! تم ایسے رَب کی بندگی کی طرف آجاؤ ،جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور آخرت پرایمان لے آؤ،اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو تم پر ایک درد ناک عذاب طاری ہوجائے گا ۔‘‘ سرداروں نے مخالفت کرتے ہوئے کہا : ’’اے نوحؑ! ایہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کا دین خیر باد کہہ دیں ، آپ ؑ کی مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے کی باتیں توہم ہیں۔ ‘‘قوم کے اس دل خراش جواب کے بعداللہ تعالیٰ نے اس قوم پر طوفان کا عذاب بھیج دیا۔ شدید طغیانی والا پانی آبادیاں اور بستیاں ملیا میٹ کرتا چلاگیا۔ تاریخ میں رقم ہے کہ اس پانی کی بلندی تقریباً 49 گز تھی ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑاور اُن کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں سوار کراکے طوفان سے نجات دی۔ بچّو!دُنیا میں حضرت نوح ؑ ہی کے ذریعے پہلی مرتبہ کشتی سازی کی ابتدا اوربحری سفر کا آغاز ہوا ۔آپ ؑ نے جو تین منزلہ کشتی تیار کی وہ تقریباً 300 گز لمبی، 50 گز چوڑی اور 30 گز اُونچی تھی۔پانی تھمنے پر کشتی حضرت نوح ؑاور ان کے تقریباً 82ساتھیوں کو لے کر جُودی پہاڑ پر جا رُکی ۔ابنِ کثیر میں ہے کہ حضرت زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں :’’ قوم ِنوح ؑ پر طوفان کا عذاب اُس وقت آیا جب وہ اپنی کثرت و قوّت کے اعتبار سے بھرپور تھے،عراق کی زمین اور پہاڑ اُن کی کثرت کے سبب تنگ ہورہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ نافرمانوںکو ڈھیل دیتاہے ۔عذاب اُس وقت بھیجتاہے جب وہ اپنی کثرت ، قوّت اور دولت میں انتہا تک پہنچ جائیںاور اُن میں تکبّر اوربَد مستی پیدا ہوجائے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حضرت نوح ؑ کی قو م اُنہیں اتنی ایذا پہنچاتی کہ وہ بے ہوش ہوجاتے تو لوگ انہیں چادر میں لپیٹ کرویران جگہ پر ڈال کرچلے جاتے ،جب انہیں ہوش آتا تو آپ ؑ پھر اللہ کی طرف بلاتے اور تبلیغ میں مصروف ہو جاتے ۔محمد بن اسحٰق نے عبیدبن معر ویثی سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح ؑ جب ہوش میں آتے تو دُعا فرماتے:’’ اے میرے پروردگار ! میری قوم کو معاف کردے کیوں کہ انہیں علم نہیںہے۔‘‘ آپ ؑ کو نوح ؑ اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ ؑ قوم کی اصلاح اور اُس کی فلاح کے لیے نوحہ کرتے رہتے تھے۔ قوم ِنوح ؑ پر آنے والے طوفان سے پوری دُنیا غرق ہو چکی تھی سوائے حضرت نوح ؑ اور ان پر ایمان لانے والے چند ساتھیوں اور جان داروں کے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے تین بیٹے حام، ثام، یافث کے ذریعے دُنیاکودوبارہ آبادی عطافرمائی ،اسی وجہ سے حضرت نوح علیہ السلام کو آدمِ ثانی ؑ کہا جاتا ہے۔قرآن مجید میں آپ ؑ کو ’’اوّل المُرسل ‘‘کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’DUO BELL‘‘

’’DUO BELL‘‘

نوائز کینسلنگ سسٹمز بے بس،حادثات سے رکھے محفوظجدید ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، وہیں بعض اوقات یہ نئی مشکلات کو بھی جنم دیتی ہے۔ خاص طور پر نوائز کینسلنگ ہیڈ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہری سڑکوں پر ایک نیا حفاظتی چیلنج پیدا کر دیا ہے، جہاں لوگ اردگرد کی آوازوں سے کٹ جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر سکوڈا آٹو (Skoda Auto) نے ایک انوکھا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت ''DuoBell‘‘ نامی جدید سائیکل بیل تیار کی گئی ہے۔ یہ بیل ایسی مخصوص آواز پیدا کرتی ہے جو نہ صرف عام شور میں نمایاں رہتی ہے بلکہ جدید نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بائیسکل کی گھنٹی سب سے پہلے 1877ء میں ایجاد کی گئی تھی۔ اب تقریباً 150 سال بعد اس سادہ آلے کو دوبارہ نئے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ سائیکل سواروں کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے سکوڈا (Škoda) نے ایک نئی قسم کی بائیسکل بیل ''DuoBell‘‘ تیار کی ہے۔ یہ بیل ایک منفرد آواز پیدا کرتی ہے جو مؤثر طور پر ہیڈ فونز میں موجود ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کر سکتی ہے۔ابتدائی ٹرائلز میں معلوم ہوا کہ ''اے این سی ہیڈفونز‘‘ پہنے پیدل چلنے والے افراد کو بیل کی آواز سن کر ردعمل دینے میں اوسطاً پانچ سیکنڈ اور تقریباً 22 میٹر سے زیادہ فاصلے پر خطرہ محسوس ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیسکل کی گھنٹیاں پچھلے 100 سال میں تقریباً نہیں بدلیں، لیکن ان کے اردگرد کی دنیا بدل گئی ہے۔ ''سکوڈا ڈیو بیل‘‘ پہلی ایسی گھنٹی ہے جو نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کو مؤثر طور پر کاٹ سکتی ہے۔ یہ ایک ذہین اینالاگ حل ہے جو ان ہیڈفونز کے اندر موجود اے آئی الگورتھمز کو بھی شکست دیتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے جو شہر کی سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔سکوڈا نے ڈیو بیل بنانے کی تحریک اس وقت حاصل کی جب اسے لندن میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے درمیان تصادم میں اضافہ نظر آیا۔ لندن ٹرانسپورٹ کے مطابق 2025ء میں کم از کم 335 پیدل چلنے والے افراد سائیکلوں سے ہونے والے تصادم میں زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جو اردگرد کے ماحول اور قریب آنے والی سائیکلوں کے بارے میں آگاہی کم کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے کار ساز کمپنی نے یونیورسٹی آف سیلفورڈ کے ماہرین صوتیات کے ساتھ اشتراک کیا۔ شعبہ صوتیات کے سربراہ ڈاکٹر ول بیلے (Will Bailey) کے مطابق ایکٹیو نوائز کینسلنگ وسیع قسم کی آوازوں کو روکنے میں بہت مؤثر ہے۔ یہ آواز کو ڈیٹیکٹ کر کے اس کے مخالف سگنل کو واپس بھیجتا ہے تاکہ اسے منسوخ کیا جا سکے۔ لیکن کچھ ایسے پوائنٹس ہوتے ہیں جہاں یہ کم مؤثر ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم نے ان کمزور مقامات کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔محققین نے صوتی تجربات کیے اور ایک تنگ ''سیفٹی گیپ‘‘ کی نشاندہی کی جو 750 سے 780 ہرٹز (Hz) کے درمیان ہے، اور یہ فریکوئنسی مستقل طورپر ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز فلٹرز کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر بیلے کے مطابق ہم نے چھ مختلف معروف ہیڈفونز پر سینکڑوں سگنلز ٹیسٹ کیے، اور ہمیں 750Hz پر ایک خاص سگنل ملا۔ ہم اسے ''سیفٹی گیپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس خلا کو دریافت کرنے کے بعد ٹیم نے اس بیل کو اسی فریکوئنسی کے گرد ڈیزائن کیا۔تاہم ابتدا میں یہ کام کافی مشکل ثابت ہوا۔سکوڈا کے ہیڈ آف ہارڈویئر ڈیولپمنٹ ہیو بوائز نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ اتنی کم فریکوئنسی پیدا کرنے کیلئے گھنٹی کو بہت بڑا ہونا پڑتا، جو سائیکل کیلئے مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ٹیم نے دھات کی موٹائی کم کی، اس میں باریک اور درست کٹس شامل کیے، اور گھنٹی کو بالکل 750Hz پر ٹیون کیا۔ '' ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز‘‘ کیخلاف اثر کو مزید بڑھانے کیلئے سکوڈا نے ایک دوسری فریکوئنسی 780Hz بھی شامل کی، اسی وجہ سے اس کا نام ''DuoBell‘‘ رکھا گیا۔ اگرچہ یہ سننے میں پیچیدہ ٹیکنالوجی لگتی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہے۔سکوڈا کے ہیڈ آف ڈیزائن اولیور سٹیفنی نے کہا کہ ہماری گھنٹی 100 فیصد مکینیکل ہے۔ یہ ایک سادہ اینالاگ حل ہے جو ایک ڈیجیٹل مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کی جانچ کیلئے سکوڈا نے سب سے پہلے ایک ورچوئل ریئلٹی منظر استعمال کیا، جس میں ایک سائیکل سوار کو اے این سی ہیڈ فونز پہنے ہوئے ایک غیر متوجہ پیدل چلنے والے شخص کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا۔ حیران کن طور پر ''DuoBell‘‘ کی آواز عام گھنٹی کے مقابلے میں 22 میٹر پہلے سنائی دی اور پانچ سیکنڈ پہلے اس کا ادراک ہو گیا۔

 اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

مسلمان جو آج زوال پذیر ہیں، اپنی بساط میں پہلے کبھی نہ تھے۔ ان کا ماضی نہایت ہی خوشحال ، باوقار رہا ہے۔اندلس کی سرزمین کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کا ایسا درخشاں مرکز تھی جہاں علم، فن، ادب اور سائنس اپنے عروج پر تھے۔ اندلس میں مسلمانوں نے نہ صرف ایک مضبوط اور منظم ریاست قائم کی بلکہ ایک ایسی مثالی معاشرت بھی تشکیل دی جس میں رواداری، انصاف اور علمی ترقی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اندلس کی یہ عظیم الشان سلطنت آج بھی اپنی علمی، ثقافتی اور تہذیبی وراثت کے باعث تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔اندلس مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کی تہذیبی و علمی سمت متعین کی۔ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں قدم رکھا تو یہاں ایک نئی روشنی نے جنم لیا، جس نے جہالت کی تاریکیوں کو علم و حکمت کے نور سے بدل دیا۔ 711ء میں طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے جزیرہ نما آئبیریا میں داخل ہو کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو صدیوں تک علمی، ثقافتی اور سیاسی ترقی کی علامت بنی رہی۔اندلس کی ترقی کا راز صرف اس کی فوجی طاقت میں نہیں بلکہ اس کے عادلانہ نظامِ حکومت اور علم دوستی میں پوشیدہ تھا۔ مسلمانوں نے یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے تھے۔ Cordoba، جو اس دور میں دارالحکومت تھا، دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی گلیاں روشن، بازار منظم اور تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ تھے۔ قرطبہ کی عظیم الشان لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں موجود تھیں، جبکہ اس وقت یورپ کے دیگر علاقوں میں علم و دانش کا شدید فقدان تھا۔اندلس میں تعلیم کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ مدارس، جامعات اور تحقیقی مراکز میں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کی تدریس کی جاتی تھی۔ ابن رشد، ابن سینا اور الزہراوی جیسے عظیم مفکرین اور سائنسدانوں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ کی فکری بنیادوں کو بھی متاثر کیا۔ خاص طور پر ابن رشد کی فلسفیانہ تحریروں نے یورپ میں نشاط ثانیہ کی راہ ہموار کی، جب کہ الزہراوی کو جدید سرجری کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔اندلس کی ثقافت بھی اپنی مثال آپ تھی۔ یہاں فنِ تعمیر، موسیقی، ادب اور خطاطی نے بے مثال ترقی کی۔ الحمبرا(Alhambra) کا شاندار محل آج بھی مسلمانوں کی فن تعمیر میں مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے خوبصورت نقش و نگار، باغات اور آبی نظام اس دور کی اعلیٰ انجینئرنگ کا مظہر ہیں۔ اسی طرح مساجد، حمام اور باغات نے شہری زندگی کو خوبصورتی اور سہولت سے ہمکنار کیا۔معاشی اعتبار سے بھی اندلس ایک خوشحال ریاست تھی۔ زراعت، صنعت اور تجارت کو فروغ دیا گیا۔ مسلمانوں نے نہری نظام کو بہتر بنایا اور نئی فصلیں متعارف کروائیں، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کپڑا سازی، دھات کاری اور دیگر صنعتیں ترقی کر گئیں، جبکہ اندلس یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔تاہم، ہر عروج کو زوال بھی آتا ہے۔ اندلس کی عظیم سلطنت بھی داخلی اختلافات، سیاسی انتشار اور بیرونی حملوں کا شکار ہو گئی۔ عیسائی ریاستوں کی جانب سے جاری ''ریکونکویستا‘‘ (Reconquista) کی مہم نے مسلمانوں کی طاقت کو بتدریج کمزور کیا۔ بالآخر 1492ء میں غرناطہ کے سقوط کے ساتھ اندلس میں مسلمانوں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔اندلس کا زوال اگرچہ ایک المیہ تھا، لیکن اس کی علمی و تہذیبی میراث آج بھی زندہ ہے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنس کی ترقی میں اندلس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے تراجم، سائنسی تحقیقات اور تعلیمی نظام نے مغربی دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔آج کے دور میں جب ہم اندلس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ترقی کا راز علم، رواداری اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔ اندلس نے یہ ثابت کیا کہ جب مختلف ثقافتیں اور مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں تو ایک عظیم اور پائیدار تہذیب جنم لیتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اندلس کی عظیم الشان سلطنت آج بھی ہمیں دیتی ہے، اور یہی وہ ورثہ ہے جسے سمجھنا اور اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مرحوم کی یاد میں !

مرحوم کی یاد میں !

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گردوغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف اے میں پڑھی تھی اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔میں مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر بولا:مرزا! ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟۔مرزا صاحب بولے: بھئی، کچھ ہوگا ہی نا آخر۔میں نے کہا: میں بتاؤں تمہیں؟،کہنے لگے، بولو۔میں نے کہا ''کوئی فرق نہیں۔ ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں کہ وہ بھی پیدل چلتے ہیں میں بھی پیدل چلتا ہوں۔مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بیوفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے ازحد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف سے پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرادیا لیکن میرے تبسم میں زہر ملا ہوا تھا۔جب مرزا سننے کیلئے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا، مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔مرزا بولے،کیا کہا تم نے، کیا خریدنے لگے ہو؟۔میں نے کہا،سنا نہیں تم نے؟ میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذراکند ذہن ہو اس لئے میں نے دونوں لفظ استعمال کردیئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔مرزا بولے، ہوں۔ اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھرسگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور ہٹاتاتھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے، ہوں۔میں نے سو چا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھامرزا کچھ بولے،تاکہ مجھے معلوم ہو کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا،ہوں۔میں نے کہا،مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام ''ہوں‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔مرزا صاحب کہنے لگے،نہیں یہ بات تو نہیں۔ میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحبزادے! خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کیلئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا، میں اپنی کئی قیمتی اشیا بیچ سکتا ہوں۔مرزا بولے،کون کون سی مثلاً؟میں نے کہا،ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔ مرزا کہنے لگے،چلو دس آنے تو یہ ہوگئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہوجائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے روک دیا جائے چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ مرزا بولے،میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائیسکل لے لو۔میں نے کہا، وہ روپے کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔کہنے لگے، مفت۔میں نے حیران ہو کر پوچھا، مفت؟ وہ کیسے؟کہنے لگے، مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسااور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا، ہے کس کی؟مرزا بولے،میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔میں نے کہا، پھر کہنا پھر کہنا!۔کہنے لگے، ''بھئی! ایک بائیسکل میرے پاس ہے۔ جب میری ہے تو تمہاری ہے۔ تم لے لو۔یقین مانیے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینا پسینا ہوگیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بے غرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے؟ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کرلی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں؟میں نے کہا،مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کیلئے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کردوگے۔ میں ہمیشہ تم کو ازحد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتارہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں۔ مجھے معاف کردو۔

حکایت سعدیؒ:عقلمند شہزادہ

حکایت سعدیؒ:عقلمند شہزادہ

کہتے ہیں، ایک شہزادہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد تخت حکومت پر بیٹھا تو اس نے حاجت مندوں کی امداد کیلئے اپنے خزانے کے دروازے کھلوا دیے۔ جو شخص بھی سوالی بن کر آتا، شہزادہ اس کی ضرورت کے مطابق اس کی امداد کرتا۔ نئے بادشاہ کا یہ رویہ دیکھا تو ایک روز وزیر نے مناسب موقع دیکھ کر خیر خواہی جتا نے کے انداز میں کہا کہ '' حضور والا پہلے بادشاہوں نے یہ خزانہ بہت توجہ اور دانشمندی سے جمع کیا ہے۔ اسے یوں لٹا دینا مناسب نہیں۔ بادشاہ کو کسی وقت بھی خطرات سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ کیا کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ کیا واقعات پیش آئیں۔ اگر حضور والا اپنا سارا خزانہ بھی تقسیم کر دیں تو رعایا کے حصے میں ایک ایک جو کے برابر آئے گا لیکن اگر حضور رعایا کے لوگوں سے ایک ایک جو کے برابر سونا لیں تو حضور کا خزانہ بھر جائے گا‘‘۔ بظاہر یہ بات بہت خیرخواہی کی تھی۔ لیکن شہزادے کو بالکل پسند نہ آئی۔ اس نے کہا ''خدا نے مجھے اپنے فضل سے ایک بڑی سلطنت کا وارث بنا یا ہے۔ میرا یہ کام نہیں کہ مال جمع کرنے کی دھن میں لگ جاؤں، بادشاہ کا فرض رعایا کو خوشحال بنانا ہے۔ خزانے پر سانپ بن کر بیٹھنا نہیں ہے۔ قارون خزانوں کے باوجودہلاک ہوا۔نوشیرواں ہے زندہ و جاوید عدل سےڈبّے میں ہے گر بند تو بے فیض ہے عودخوشبو اڑے جب آتش سوزاں میں جلائیںملتی ہے بزرگی تو فقط جو دوسخا سےدانہ ہو اگر کاشت تو کھلیان سجائیںوضاحت:اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ سلطنت اور اقتدار کو دوام خزانوں سے نہیں بلکہ لوگوں کو خوشحال بنانے سے ملتا ہے۔ یہ سراسر سطحی سوچ ہے کہ زیادہ مال دار لوگ زیادہ عزت پاتے ہیں اور مال کی قوت سے ان کا اقتدار مستحکم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سخاوت اور عدل و انصاف کے باعث دلوں میں جو محبت پیدا ہوتی ہے وہ اقدار اور عزت کو دوام بخشتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سید سبط حسن  دانشور، ادیب، صحافی، مؤرخ (1986-1912ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!سید سبط حسن دانشور، ادیب، صحافی، مؤرخ (1986-1912ء)

٭...31 جولائی1912ء کو اعظم گڑھ بھارت میں پیدا ہوئے۔٭...ایک زمیندار گھرانے سے تعلق کی بنا پر اعلیٰ اداروں میں تعلیم حاصل کی ، علی گڑھ یو نیور سٹی سے تاریخ میں گریجویشن کیا،نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔٭...سید سجاد ظہیر کی قیادت میں اردو کی ترقی پسند تحریک کا آغاز کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اردو کی سب سے مقبول اور ہمہ گیر تحریک بن گئی۔٭...اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور وہ ''پیام‘‘، ''نیاادب‘‘ اور ''نیشنل ہیرالڈ‘‘ جیسے رسالوں اور اخبار سے وابستہ رہے۔ ٭...قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں اقامت پذیر ہوئے جہاں انہوں نے 1957ء میں ہفت روزہ ''لیل و نہار‘‘ جاری کیا۔ ٭...1965ء میں کراچی منتقل ہوگئے، جہاں اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں بسر کیا۔ ٭...1975ء میں انہوں نے کراچی سے ''پاکستانی ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا۔٭...اگست1985ء میں لندن میں، مارچ 1986ء میں کراچی میں اور اپریل 1986ء میں لکھنو میں ترقی پسند تحریک کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو سید سبط حسن نے ان تینوں تقریبات میں فعال کردار ادا کیا۔ ٭...وہ بھارت میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کیلئے گئے ہوئے تھے کہ 20 اپریل 1986ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔تصانیفما ضی کے مزار، موسی سے ما رکس تک، نوید فکر، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء، شہر نگاراں، انقلاب ایران، افکار تازہ، ادب اور روشن خیالی، سخن در سخن، مغنی آتش نفس، آزادی کی نظمیں، بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی،The Battle of ideas in pakistan

آج کا دن

آج کا دن

فرانس کا اعلان جنگ1792ء میں فرانس نے ہنگری اور بوہیمیا کے بادشاہ کیخلاف جنگ کا اعلان کیا، جو دراصل انقلاب فرانس کا آغاز تھا۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب فرانس میں نئی حکومت اپنے نظریات کو یورپ میں پھیلانا چاہتی تھی۔ اس جنگ کا مقصد بادشاہتوں کیخلاف جدوجہد اور انقلابی اصولوں کا دفاع تھا۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں خونریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس نے پورے براعظم کی سیاسی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔سانحہ بھوجا ایئر لائن20 اپریل 2012ء کو افسوسناک فضائی حادثہ ''سانحہ بھوجا ایئر لائن‘‘ پیش آیا۔ اس حادثے میں بھوجا ایئر کی پرواز بی4-213 اسلام آباد کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ اسے ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا فضائی حادثہ قرار دیا گیا، جس میں 129افراد ہلاک ہوئے۔طیارہ خراب موسم، آندھی اور گرج چمک کے دوران لینڈنگ کی کوشش کر رہا تھا جب یہ اسلام آباد کے قریب زمین سے ٹکرا گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔خلائی گاڑی کی چاند پر لینڈنگ1972 میں اپالو16کے تحت خلائی گاڑی نے چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کی۔ اس تاریخی مشن کی قیادت جان ینگ کر رہے تھے۔ ناسا کے اس پروگرام کا مقصد چاند کی سطح کا مزید تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ اس دوران خلا بازوں نے چاند پر مختلف سائنسی تجربات کیے، پتھروں کے نمونے جمع کیے اور قمری ماحول کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل کیں، جس سے خلائی تحقیق میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔''لڈ لو‘‘ قتل عاملڈلو قتل عام کولوراڈو کول فیلڈ جنگ کے دوران اینٹی اسٹرائیکر ملیشیا کے ذریعہ کیا گیا۔ کولوراڈو نیشنل گارڈ کے سپاہیوں اور کولوراڈو فیول اینڈ آئرن کمپنی کے گارڈز نے 20 اپریل 1914ء کو کولوراڈو میں تقریباً 1200 سے زائد ہڑتال پر بیٹھے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی ایک خیمہ کالونی پر حملہ کر دیا۔ تقریباً 21 افرادمارے گئے۔ کولوراڈو کمپنی کے مالک جان ڈی راکفیلر جونیئر پر اس قتل عام کو منظم کرنے کا الزام لگایا گیا ۔سیپٹنسولر جمہوریہ1800ء میں آج کے دن سیپٹنسولر جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ اس وقت ہوا جب روس اور عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے نے ان جزائر پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی جمہوریہ کی دو سالہ حکمرانی ختم کر دی گئی۔ اگرچہ جزیرے کے باشندوں نے امید کی تھی کہ انہیں مکمل آزادی حاصل ہو جائے گی لیکن نئی ریاست کو صرف خود مختاری دی گئی اور ساتھ ہی اسے عثمانی سر پرستی میں بھی دے دیا گیا۔ 1807ء میں اسے فرانسیسی سلطنت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ جانسن اسپیس سینٹر پر فائرنگجانسن اسپیس سینٹر میں فائرنگ کا واقعہ20 اپریل 2007ء میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ہوسٹن ٹیکساس میں موجود امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے کے جانسن کی عمارت میں پیش آیا۔ایک ملازم ولیم فلپس نے اپنے ساتھی کو گولی مار کردوسرے کو تیں گھنٹے سے زائد یرغمال بنائے رکھا۔اس کے بعدولیم نے خودکشی کر لی۔ پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ولیم کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ادارہ اس سے خوش نہیں تھا اور اسے نوکری سے نکالے جانے کا ڈر تھا۔