ٹیپو سلطان شہید شعرا کا خراج عقیدت
اسپیشل فیچر
برصغیر میں برطانوی سامراج کا واحد دشمن، عظیم حکم ران، بے مثال بطلِ حریت اور اوّلین شہیدِ آزادی ٹیپو سلطان ہماری تاریخ کا ایک سنہری اور قابلِ فخر باب ہے۔ ٹیپو سلطان حقیقی معنوں میں شیرِ اسلام اور پرچم اسلام کا علم بردار، شجیع و محب وطن اور دیگر متعدد اعلیٰ صفات و خصوصیات کے سبب ہندوستانی تاریخ کا ایسا تابندہ اور مایہ ناز حکم ران تھا جس کی پوری اسلامی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ٹیپو وطن کی سلامتی اور بقا، غیرت و حمیت اور آزادی کی بر قراری کے لیے ساری عمر انگریزوں سے نہ صرف تنِ تنہا لڑتا رہا بلکہ بکھرے ہوئے مسلم شیرازے کو یک جا و منظم کرنے کی حتی المقدور کوششیں بھی کرتا رہا اور شمشیر بکف میدانِ جنگ میں شہید ہوگیا، لیکن تعجب خیز امر ہے کہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں اس عظیم قومی ہیرو کی شخصیت اور کارناموں کو نہ صرف مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے بلکہ مخصوص نظریات کے حامل گروہ قومی ہیروز، بانیان پاکستان اور اسلاف حتیٰ کہ قائداعظم کے خلاف مذموم پروپگنڈے میں منہمک و مشغول ہے۔ انگریزوں نے ٹیپو کو ختم کرنے اور اس کی تاریخ‘ عہد اور کارناموں کو مسخ کرنے کی ہر دور میں شعوری کوششیں کیں اپنے حق میں تاریخ اور کتابیں لکھواتے رہے لیکن اپنوں نے بھی ٹیپو کو فراموش کرنے اور مٹانے کے عمل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ٹیپو کو انگریزکے جارحانہ اور غاصبانہ عزائم کا بخوبی ادراک تھا اور وہ ان کا سر کچلنے کا متمنی اور شائق تھا۔ اپنوں نے غداری (یہاں یہ تاریخی وضاحت ضروری ہے کہ ٹیپو کو بیرونی افواج کے ہاتھوں نہیں بلکہ اہلِ میسور و سرنگا پٹم کی غداری، ضمیر فروشی اور دھوکا دہی کے سبب شکست ہوئی تھی) اور انگریز کی ہمہ گیر سازشیں اگر ٹیپو کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتیں تو یہ عظیم اختراع پسند، جدت طبع شخص ضرور اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر سرزمینِ ہند سے انگریزوں کو بھاگنے پر مجبور کردیتا۔ٹیپو سلطان جنوری1783 تا مئی1799 یعنی صرف سولہ سال حکم ران رہا۔ اس مدت کا بڑا حصہ جنگ و جدل اور میدان کا رزار میں گزرگیا لیکن اس کے باوجود جو مہلت اور وقت ملا اس سے ٹیپو نے حقیقی فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک وملت کی فلاح و بہبود کے لاتعداد اقدامات کیے۔ ٹیپو سلطان اگر چا ہتا تو اطاعتِ انگریز قبول کرکے اپنی زندگی، سلطنت، تاج و تخت اور خاندان کو بچا سکتا تھا لیکن اس غیرت مند مجاہد نے ذلت و رسوائی اور غلامی کی زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ منکسر المزاج، عدل پسند اور اسلامی اوصاف سے مزین بندوں کو نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ ان کے حصے میں بعدالموت بھی تاقیامت تابندگی، عزت و توقیر و شہرت ہی آتی ہے یہی وجہ ہے کہ دو صدیاں گزر جانے کے باوجود ٹیپو سلطان کا نام آج بھی روشن اور معطر و منور ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی شمعِ آزادی کے اس رکھوالے کو اردو کی بیش تر اصناف میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے بموجب ٹیپو سلطان واحد حکم ران ہے جسے دنیا کی عظیم زبانوں مثلاً اسپنی، فرانسیسی، آئرش، انگریزی، جرمن، فارسی، عربی، ناوریجن، کے علاوہ پاک وہند کی متعدد زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ہندی، برج بھاشا، سنسکرت، مرہٹی، کنٹری، تامل، بنگالی، دکنی، ملیالم، پنجابی، پشتو، سرائیکی، سندھی، بلوچی اور بھوج پوری زبان میں بھی منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ چند نظمیں اور اشعار بطورِ نمونہ نذر قارئین ہیں۔ شاعرِ مشرق علاوہ اقبالؔ نے ٹیپو سلطان کو سب سے زیادہ بھر پور خراجِ عقیدت نظم، ٹیپو سلطان کی وصیت، میں پیش کیا ہے۔تو رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبوللیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبولباطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہےشرکتِ میانہ حق و باطل نہ کر قبولعلامہ سیماب اکبر آبادی کہتے ہیںاے سرنگا پٹنم اے عہدِ کمالِ حیدریہے امانت تجھ میں تصویر جلالِ حیدریوہ شہیدِ ذوقِ آزادی وہ غازی وہ جواںجو بدلنا چاہتا تھا نقشۂ ہندوستاںمولانا ظفر علی خان یوں رقم طراز ہیں۔اے سرنگا پٹنم اے گنج شہیدانِ کرمآخری وقت میں اسلام کی غیرت کی نمودکہیں سوتے میں نہ کروٹ یہ مجاہد بدلےاب بھی اس خوف سے ہیں لرزہ بر اندام حسوداس کی دہلیز سے لپٹی ہوئی تھی رحمتِ حقچومتے تھے جسے جھک جھک کر ملائک کہ جنودقمر اجنالوی کہتے ہیںسلام تجھ کو شہیدِ وطن کہ نام ترامثالِ مہر جہاں میں ہوا ہے تابندہہے محوِ خواب سرنگا پٹنم کی تربت میںدلوں کے شہر میں لیکن رہے گا تو زندہاظہار افسر بنگلوری کے اشعار دیکھیے۔افسوس ہے یارو اہلِ وطن ٹیپو کی شہادت بھول گئےجو خون دیا اس دھرتی کو اس خون کی قیمت بھول گئےاس سونا اُگلتی دھرتی کو آزاد کرانے کی خاطراک صاحبِ ایماں مردِ خدا ٹیپو کی شہادت بھول گئےاثر سعید کا اندازِ خراج دیکھیے۔عزائم میں تمہارے آ نہیں سکتی کوئی لغزشکرو سینے میں اپنے تم جو ٹیپو کا جگر پیداالٰہی پھر کسی ایسے مجاہد کی ضرورت ہےالٰہی پھر سے ہو ٹیپو سا کوئی شیرِ نر پیدالوک داستانیں اور لوک گیت ملکوں اور قوموں کی تاریخ کا قیمتی تہذیبی ادبی، ثقافتی اور معاشرتی سامایہ و حصہ ہوتے ہیں اور نمائندہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بیش تر زبانوں میں لوگ گیتوں پر آج سلیقے، اہتمام اور جدید و منظم طور پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور انہیں اکٹھا و محفوظ کیا رہا ہے۔ کیوںکہ لوگ گیتوں میں خیال اور جذبے کی برجستگی اور فکر و شعور کی جو بے ساختگی، اپنائیت اور خلوص ہوتا ہے وہ اظہار بیان کی تیکنک اور ندرت سے مل کرآج عہدِ جدید میں بھی دلوں کو چھونے، جذبوں کو جگانے اور گدگدانے والے عوامل سے آراستہ ہے۔ جنوبی ہندوستان اور خصوصاً مہارا شٹر، تامل ناڈو، کرنا ٹک، کیرالا اور حیدر آباد دکن کے لوک گیتوں میں تو ایسا لگتا ہے کہ شعرا کی پسندیدہ شخصیت یا موضوع صرف اور صرف ٹیپو سلطان ہے۔ ایک شاعر دکنی خاتون کی زبانی اپنے لوک گیتوں میں ٹیپو سلطان کو یوں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔اللہ کنے دعا منگتیوں بارے بارمیرا بیٹا ہوندے ٹیپو جیسا سردار(میں بار بار اللہ سے دعا مانگتی ہوںکہ میرا بیٹا ٹپیو جیسا سردار بنے)وصف ٹیپو کے لوگاں سارے جانے انگریجاں بھی اس کی بہادری کو مانے(سارے لوگ ٹیپو سلطان کے اوصاف کو جانتے ہیں انگریزوں نے بھی اس کی بہادری کو تسلیم کیا ہے)ایک اور دکنی گیت میں ٹیپو سلطان کا ذکر اس طرح ہے:منہ بھر بھر کر تعریف کرتیں سب لوگاں ٹیپو کی جے جے کار بولتیں ہندواں بھی ٹیپو کی(سب لوگ ٹیپو کی بے حد تعریف کرتے ہیں ہند و لوگ بھی ٹیپو زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں)ایک دکنی ماں ٹیپو کے لیے دعا گو ہے۔میرے اللہ ٹیپو کی سات ملکاں تعریف ہوجمین شی آسمان تک ٹیپو کی توصیف ہو(اے اللہ سات ملکوں اور زمین سے آسمان تک ٹیپو کی تعریف و توصیف ہو ایک خوب صورت گیت میں ٹیپو کی تلوار کا تذکرہ ہے۔آتے آتے اپنے ساتھ بات میں یہ لایاٹیپو نے انگر یجاں، ظالموں کو ہرایابجلی جیسی تلوار ٹیپو کی جو چمکیانگریجاں کی فوج دم دبا کر بھاگی(ٹیپو نے انگریزوں کو شکست دی، انگریز فوج بھاگ گئی)پروفیسر محمود شیرانی کا خراجِ عقیدت ملاحظہ فرمائیےدیارِ ہند میں جب سیر کے لیے آناتو اپنے پہلو میں تم اک دلِ حزیں لاناعجائبات میں یاں کے نہ دل کو الجھانادکن میں جا کے سرنگا پٹنم ضرور جانا کہ جس کی خاک پہ سوتا ہے شیرِ ہندوستاںزمانہ بھول گیا ہے جس کے احساں