مطالعہ و فہم قرآن کی اہمیت
اسپیشل فیچر
قرآن مجید اﷲ تعالیٰ کی آخری کتاب اور لاجواب کلام ہے، جو خاتم النبیین آنحضرت محمد مصطفی ؐ پر تقریباً 23 سال کے عرصے میں وقت کی فصیح و بلیغ زبان عربی میں نازل ہوا۔ قرآن مجید الفاظ اور معنٰی دونوں کا مجموعہ ہے۔ آپ ؐنے جس طرح الفاظِ قرآن کی تعلیم دی ویسے ہی اس کے معنٰی بھی بیان فرمائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو تاکہ وہ غور کریں۔‘‘(سورہ ٔالنحل، 44:16)قرآنِ مجید قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لیے واحد ذریعہ ٔہدایت ہے۔ انسانیت کی فوزو فلاح اور اُخروی نجات کا دارومدار کتاب اﷲ سے وابستگی ہی میں ہے۔ ایمانیات، عبادات، معاملات اور اخلاقیات ہر شعبۂ زندگی سے متعلق اس کتاب میں رہنما اصول موجود ہیں۔ یہی وہ اُصول ہیں جن کی روشنی میں کام یاب زندگی کی تشکیل ممکن ہے۔قرآن مجید کا نزول فصیح و بلیغ زبان عربی میں ہوا، اس لیے اس کے اوّلین مخاطب بھی عرب تھے ۔ قرآن نے عرب کے فصحاء و بلغاء کو یہ چیلنج کیا کہ اگر انہیں اس کلام میں کوئی شک اور شبہ ہے تو اس جیسا کلام لے آئیں ،لیکن وہ سب کے سب اس کلام کی مثل پیش کرنے سے عاجز رہے۔ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:’’اور اگر تمہیں اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمدؐ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح ایک اور سورت تم بھی بنالائو اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں انہیں بھی بُلالو، اگر تم سچے ہو۔‘‘(سورۃالبقرۃ، 23:2)آپؐ کو عطا کیے گئے معجزات میں سے قرآن مجید آپ ؐ کا سب سے بڑا اور قیامت تک محفوظ رہنے والا زندہ معجزہ ہے۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اس کے متکلّم نے لیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بے شک ہم نے یہ ذکر نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجر، 9:15 )قرآن مجید سیکھنے، سکھانے اور اس کی تلاوت کرنے کی فضیلت میں آپ ؐ سے کئی روایات منقول ہیں ۔آپ ؐ کاارشاد گرامی ہے:خیرکم من تعلم القرآن و علمہ(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن)قرآن ہم سے یہ پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس میں تدبّر وتفکّر کریں۔ الفاظِ قرآن کے ساتھ اس کے معنٰی پر بھی بھرپور توجہ دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔‘‘(سورہ ٔ محمد ،24:47)ابو عبدالرحمن السلمی ؓ کا قول ہے کہ جن لوگوں نے ہمیں قرآن پڑھایا جیسے حضرت عثمان بن عفان ؓ اورحضرت عبداﷲ ابنِ مسعود ؓ وغیرہ، وہ نبی کریم ؐ سے جب تک دس آیات نہیںسیکھ لیتے، آگے نہیں بڑھتے تھے ،یہاں تک کہ وہ سب کچھ جواُنؐ میں علم وعمل کے بارے میں ہے سیکھ لیتے۔ اسی لیے انہوں نے فرمایا:’’ ہم نے قرآن علم وعمل دونوں لحاظ سے سیکھا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک سورت حفظ کرنے میں مُدّت لگ جایا کرتی تھی۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا:’’ جب کوئی شخص سورہ ٔبقرہ اور آلِ عمران پڑھ لیتا ہماری نظر میں بڑا بن جاتا۔ ‘‘ابن عمر ؓ کو سورۂ بقرہ حفظ میں کئی سال لگے، امام مالکؒ کی روایت کے مطابق آٹھ سال لگے۔ اسی سے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’یہ (کتاب) جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں۔‘‘(سورۂ ص، 29:38)فرمایا:’’بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پرقفل لگ رہے ہیں۔‘‘(سورۂ محمد ،24:47)’’کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا یا اُن کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو اُن کے اَگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔‘‘(سورۂ مومنون،28:23)ظاہر ہے کہ کسی کلام میں تدبّر کیے بغیر اس کے معنٰی سمجھنا ممکن نہیں ،اس لیے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’ہم نے قرآن عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔‘‘(سورۂ یوسف،2:12)اور کسی بات کا عقل میں آنا اس کے سمجھنے پر موقوف ہے یعنی ہر کلام کا مقصد اس کے معنٰی سمجھنا ہوتا ہے نہ کہ محض الفاظ ِقرآن ،لہٰذا قرآن اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔(ابنِ تیمیہ، مقدمہ فی اصول التفسیر)تدبّر، تفکّر مسلمانوں پر قرآن مجید کا بہت بڑا حق ہے، لہٰذا قرآن مجید کاحق محض سجا سنوار کر خوب صورت اور قیمتی غلافوں میں لپیٹ کررکھ دینے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ہمیں تلاوتِ الفاظ کے ساتھ اس کے معنٰی بھی سمجھنا ہوں گے۔ اپنے آپ کو اس کلام کے رَنگ میں رَنگنا ہوگا اور اپنے آپ کو اس کا تابع دار اور فرماں بردار بنانا ہو گا، تاکہ ہم اﷲ تعالیٰ کی اس آخری ہدایت اور اس کے انوار وبرکات سے فیض یاب ہوسکیں۔ جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر اُس راہِ ہدایت اور صراطِ مستقیم پر زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں۔ جسے اپنانے والوں پر اﷲ تعالیٰ نے خصوصی انعام فرمایا۔ راہِ حق سے روگردانی کرنے والوں کے لیے اﷲ تعالیٰ نے مغضوب اور ضالین کے الفاظ استعمال کیے۔انسان کو تلاوت ِقرآن کے دوران ایک ایک آیت پر رُکنا چاہیے اور اس کے معنٰی و مفاہیم سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ آیتِ رحمت کاتذکرہ ہو تو وہاں رُک کر اﷲ تعالیٰ کا شکر بجالائیں۔ کہیں عذاب کا ذکر ہو وہاں اﷲ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں اور ہر قسم کے عذاب سے پناہ مانگیں۔ جہاں اﷲ تعالیٰ نے اوامرونواہی بیان کیا ،وہاں ہم ان کی پابندی کرنے کا مضبوط عزم کریں ،حلال کو حلال اور حرام کو حرام، خیر کو خیر اور شرکو شر تسلیم کریں۔ ہدایت چھوڑ کر من مانی تاویلات کے ذریعے گم راہی کا انتخاب نہ کریں۔ آج ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ فلاح ِدارین کا انحصار قرآن مجید کے مطالبات تسلیم کرنے ہی میں ہے۔اﷲ تعالیٰ قرآن مجید کا صحیح فہم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)