روشن ستارے
اسپیشل فیچر
صاحب کی جمع صحابہ اور اصحاب بھی ہے۔ یہ ترکیب عربی کی مشہور لغت لسان العرب کے مطابق ہے ۔ صحابی کا لفظ واحد کے بہ طور بھی مستعمل ہے۔ اس کے لفظی معنیٰ ساتھی، رفیق ایک ساتھ زندگی گزارنے والے یا ایک ہی صحبت میں رہنے والے ہیں، عرف عام میں اسلامی اصطلاح میںوہ افراد ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے رفقاء ہیں ۔قرآن کریم میں صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اکثر مقامات پر تفصیل سے ذکر آیا ہے، ارشاد ہے : ’’محمد ؐاللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھی ہیں وہ کفار کے لیے سخت اور باہم مہربان ہیں، اللہ کی رضااور اُس کے فضل کی خاطر رُکوع اور سجود میں مشغول رہتے ہیں اور اُن کی پیشانیوں پر عبادت کے اثرات ہیں ۔‘‘(سورہ فتح، آیت 29)آنحضرت ؐ نے اپنے صحابہ ؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’میری اُمّت میں صحابہ ؓ کا رُتبہ وہی ہے جو کھانے میں نمک کا ہوتا ہے اور کوئی کھانا نمک کے بغیر اچھا نہیں ہو سکتا ۔‘‘ ایک اور جامع حدیث ہے: ’’میرے صحابہ ؓ ستاروں کی مانند ہیں ،اُن میں سے جس کی اقتداکرو گے راہ ہدایت پاؤ گے۔‘‘صحابی ہونے کی تین شرائط ہیں ،حضور اکرم ؐپر ایمان ،ایمان کی حالت میںآپؐ سے ملاقات اوراسلام ہی کی حالت میں وفات ۔ پہلی شرط سے وہ لوگ نکل گئے جنہوں نے آپؐ سے ملاقات تو کی مگر ایمان نہ لائے، یہ وہ لوگ ہیں جو کُفارِ مکہ کہلاتے ہیں ۔ مشہور شاعر ابو ذویب نے آپؐ کو تدفین سے قبل دیکھا مگر آپؐ کی صحبت میں نہ رہے۔ حالتِ ایمان میں حضورؐ سے ملے مگر بعد میں ارتداد کیا، پھر اسلام قبول کرلیا اور حالت ایمان میں وفات پائی ،جیسے حضرت اشعث ابنِ قیس ۔ اسی طر ح عبید اللہ بن جحش الا سدی (عبداللہ بن جحش کے بھائی ) نے بھی اسلام قبول کیا تھا لیکن ہجرتِ حبشہ کے بعد عیسائی ہوگئے تھے اور اسی ارتدادی حالت میں جان دی اس لیے وہ صحابہ میں شامل نہ ہو سکے۔ بعض لوگوں نے ملاقات کی جگہ لفظ رؤیت یعنی دیکھنا، استعمال کیا ہے ۔اس صفت میں وہ تمام لوگ خود بخود شامل ہو جائیں گے ،جنہوں نے آپؐ کو دیکھا ہے اور عبداللہ ؓ ابن مکتوم جیسے صحابی اس فہرست سے نکل جائیں گے، کیوں کہ وہ نابینا تھے ،چناں چہ اکثر تعداد نے اس جامعیت کو رد کیا ہے اور سعید ؓ بن مُسیّب کی رائے کو صائب مانا ہے۔ اُن کے نزدیک صحابی وہ شخص ہے جسے رسول اللہ ؐ کے ساتھ ایک دو غز وات میں شرکت کا موقع ملا ہو اور اس نے کم از کم ایک سے دو سال تک آپ ؐکے ساتھ قیام کیا ہو ۔ایک طبقے کے نزدیک صحابی وہ بھی ہے، جس نے آنحضرت ؐ سے احادیث روایت کی ہوں ۔ بعض کے نزدیک صحابی ہونے کے لیے صرف طویل صحبت کافی نہیں ہے بلکہ اُسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اُس نے آپؐ کی صحبت بہ غرض حصول ِعلم و عمل اختیار کی ہے ۔چناں چہ علامہ سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں ’’ابو الحسین نے معتمد میں کہا ہے : ’’صحابی وہ ہے ، جس نے بہ طریقِ اتباع آپؐ کی طویل صحبت اُٹھائی ہو اور آپؐ سے علم حاصل کیا ہو جن لوگوں نے اس کے بغیر آپ ؐکی طویل صحبت اُٹھائی یا علم و عمل کا حصول مقصد نہ رہا ہو تو وہ صحابی نہیں جیسے مختلف وفود کے ساتھ آنے والے لوگ۔‘‘قاصی عبدالبّر نے اپنی کتاب استیعاب اور ابنِ مندہ نے اپنی کتاب معرفتہ الصحابہؓ میں اسی شرط کی بناء پر صحابہؓ کے ساتھ بہت سے اُن لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جورسولؐ اللہ کے عہد میں موجود تھے مگر آپؐ کو دیکھا نہیں تھا ، در حقیقت یہ لوگ صحابی نہ تھے ۔محدثین کی ایک جماعت جس میں امام احمد، علی بن مدینی اور امام بخاری بھی شامل ہیں ،صحابی کا خطاب ان لوگوں کودیتی ہے جنہوں نے آنحضور ؐ کو حالت ِاسلام میں دیکھا ہے ۔آنکھوں سے دیکھنا ضروری نہیں آپؐ سے ملاقات کافی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مکتومؓ (نابینا صحابی ) کی مثال دی جا سکتی ہے ۔ان لوگوں کا استدلال ہے کہ لُغت کی رُو سے ہروہ شخص صحابی ہے، جس نے کسی ساعت میں حضورؐ سے ملاقات کی ہو۔ امام احمد بن جنبلؒ کا قول ہے : ’’ہر وہ شخص جس نے ایک مہینہ، ایک دن، یا ایک منٹ تک حضورؐ سے صحبت اٹھائی یا آپؐ کو دیکھا ،وہ صحابی ہے ۔‘‘جو مسلمان آپؐ کے زمانے میں موجود تھے لیکن آپؐ کا دیدار نصیب نہیں ہوا ،وہ صحابی نہیں ہیں۔حضرت اویس ؓ قرنی اس کی مثال ہیں ۔ جن لوگوں نے اسلام لانے سے قبل آپؐ کو دیکھا تھا یا ملاقات کی تھی مگر اسلام لانے کے بعد آپؐ کو نہ تو دیکھا اور نہ ملاقات کی تو وہ بھی صحابی کے زُمرے میں نہیں آتے بلکہ ان کا شمار تابعین میں ہوگا۔ جمہور کے نزدیک سب سے مقبول قول یہ ہے :’’وہ تمام حضرات صحابہ ؓ کی صف میں شامل ہیں جن سے احادیث روایت کی جا سکتی ہیں اور اُنہیں اُسوۂ حَسنہ بنایا جا سکتا ہے ۔‘‘ اُس کے علاوہ فضیلت کا دارومدار علم ا ور عمل پر ہے ۔تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنے سے ایک چیز یہ بھی ازخود ثابت ہوتی ہے کہ غزوات اور سرایہ میں امیر العسکر صرف وہی ہوتا تھا جو صحابی کے منصب پر فائز ہوتا تھا اور اکثر صحابہ کرامؓ کے گھر وں میںجب بچے پیدا ہوتے تھے تو وہ حصولِ برکت کی خاطر اُنہیں لے کر حضور اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔اس لیے جن بچّوں کی نسبت روایات سے ثابت ہو جائے تو وہ بھی صحابی کہلائیں گے۔صحابہؓ کے حالات پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان سے صحابہؓ کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا سخت مشکل کام ہے۔ خود ان کتابوں کے مصنّفین بھی یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔ چناں چہ علامہ ابن کثیر اسد الغابہ میں لکھتے ہیں: ’’اگر خود صحابہ اپنے زمانے میں صحابہ کے نام محفوظ رکھتے تو اُن کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی جسے علماء نے بیان کیا ہے ۔‘‘ البتہ احادیث کی بعض تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد صحابہ کی تعداد میں دن بہ دن اـضافہ ہوتارہا اور آپ ؐ کی وفات تک صحابہ کی ایک عظیم الشّان جماعت تیار ہوگئی۔تاریخ کے مطالعے سے پتاچلتا ہے کہ فتحِ مکہ کے موقع پر دس ہزار صحابہ آپؐ کے ساتھ شریکِ جنگ تھے ۔غزوۂ حنین میں خادموں اور عورتوں کے علاوہ بارہ ہزار اور غزوۂ تبوک میں تیس ہزار صحابہؓ تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر چالیس ہزار تعداد لکھی ہے۔ اس کے ایک سال بعد آپؐ کا وصال ہو گیا تو صحابہ کرامؓ کی تعداد ساٹھ ہزار لکھی ہے۔ امام شافعی ؒ کے قول کے مطابق ’’یہ صحابہؓ تیس ہزار مدینہ منورہ میں اور تیس ہزار مضافات میں آباد تھے۔‘‘ابو زرعہؓ کے قول کے مطابق آپؐ کے وصال کے وقت جن لوگوں نے آپ ؐ کو دیکھا اور حدیث سُنی، اُن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، جن میں مرد اورخواتین سب شامل تھے ۔اسدالغابہ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’اکثر صحابہ صحرا نشین اور بدوی تھے جو گم نام رہ گئے ۔‘‘مختلف مقام و مرتبہ اور حیثیتوں کے لحاظ سے صحابہ ؓکے مختلف طبقے ہیں ،چناں چہ قلت و کثرت روایت کے اعتبار سے اُن کے مختلف طبقات قائم کیے گئے ہیں، لیکن فضائل و مناقب کے لحاظ سے اہلِ سُنّت کے نزدیک بالاتفاق خلفائے راشدینؓ تمام صحابہؓ سے افضل ہیں۔ اُن کے بعد ازواجِ مطہرات کا درجہ ہے۔ پھر مہاجرین واوّلین کا رُتبہ ہے، مگر ہم اس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دے سکتے ۔ مہاجرین و اوّلین کے بعد اہل ِعقبہ افضل ہیں ،اُن کے بعد شرکائے بدر کا درجہ ہے، پھر اہل ِمشاہد یعنی جو پہلے غزوے میں شامل ہوئے اوربتدریج آخری معرکوں میں (فتحِ مکہ تک ) شامل ہوتے رہے ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کو آخر اتنے طبقات میں کیوں تقسیم کرنا پڑا۔ اس کا جواب بھی ہمیں قرآنِ حکیم نے دیا ہے: ’’تم میں سے جن لوگوں نے (فتح ِمکہ) سے پہلے (راہ ِخُدا میں مال) خرچ کیا اورلڑے اور (یوں ) حُسنِ سلوک کا وعدہ (تو) اللہ نے سب سے کرہی رکھا ہے ۔‘‘(سورۃ الحدید، آیت 10)خود اللہ کی نظر میں صحابۂ کرامؓ کا درجہ کتنا بلند ہے دیکھیے قرآن کریم کی یہ آیت:’’ عرش ِالٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں، اپنے رَب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرر ہے ہیں ،وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔‘‘(سورۃ المومن ،آیت 7) ایک اور جگہ ارشاد ہے : ’’وہ لوگ (صحابہؓ ) کہ اگر ہم قوّت دیں اُنہیں زمین میں تو وہ نمازقائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کا حکم کریں اور بُرے کام سے روکیں اور اللہ ہی کے قبضے میں ہے انجام سب اُمور کا۔ (سورۃ الحج، آیت 41)اور پھر سورۂ نور میں اس طرح فرمایا: ’’اللہ نے تم سے وعدہ کیا جو ایمان لائے اورجنہوںنے نیک کام کیے کہ وہ ضرور تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے اُن لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے تھے اوروہ ضرور اُن کے لیے ان کاد ین مستحکم بنیادوں پر استوار کرے گا جو دین اس نے اُن کے لیے پسند کیا اور ضرور اُن کے خوف کو امن سے بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔‘‘(سورۃ النور، آیت 55)صحابۂ کرامؓ کا زمانہ ابتدائے بعثت سے شروع ہو کر پہلی صدی کے آخر تک ختم ہوگیا ۔مدینے کے صحابہ میں حضرت سہل بن سعد ؓ آخری صحابی ہیں جنہوں نے بااختلاف روایت 88ھ۔ میں 96سال یا 91۔ھ میں سو سال کی عمر میں وفات پائی ،یہ فرمایا کرتے تھے :’’ اگر میں مرجاؤ ں تو رسولﷺ اللہ سے روایت کرنے والا دوسرا نہ ملے گا۔‘‘بصرہ کے صحابی میں انسؓ بن مالک آخری صحابی تھے۔ اُن کی وفات میں بھی سن کا اختلاف ہے۔ کتب میں 90تا93ہجری بہ عمر100یا 103سال کی عمر میں وفات لکھی ہے ۔اُن سے ایک شخص نے پوچھا :’’کیا اب کوئی صحابی باقی ہے؟‘‘ فرمایا: ’’دیہات کے چند بدو باقی رہ گئے ہیں، جنہوں نے نبی اکرم ؐ کی زیارت کی ہے ،لیکن اب کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے آپؐ کی صحبت اُٹھائی ہو۔‘‘ رسول ؐ اللہ نے جس بے نظیر اور برتر معاشرے کی بنیاد رکھی، اُس کے اوّلین نمونہ ٔ حیات صحابہ کرامؓ ہی تھے ۔یہ ایسے افراد تھے جو آنحضرت ؐ کے فیضِ صحبت سے شرف ِانسانی کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ جن کا ہر فرد عدل ،تقویٰ ،دیانت،احسان اورخوفِ خدا کا پیکر تھا۔ ان میں سے بعض ایسے تھے جو بلند منصب پر فائز ہو نے کے باوجود اپنے بیٹوں اور قرابت داروں کو قانونِ شریعت کی تعزیروں سے نہ بچا سکے۔ انہوں نے قلیل مدت میں دنیاکے بڑے حصّے کو متاثر کیا۔ اُن کی عسکری اور انتظامی قابلیتوں کا ثبوت اُن کی کشور کشائی ہے ۔ رضی اللہ عنہم ورضو عنہ سورۂ توبہ آیت 100اللہ ان (صحابہ ) سے راضی ہو ااور وہ سب (صحابہ ) اُس اللہ سے راضی ہوئے، جن کے لیے حضور ؐ نے فرمایا :’’اصحابی کالنجوم۔‘‘ (میرے صحابہ ؓ ستاروں کی مانند ہیں ۔)