سُستی اور کاہلی: اسباب اور علاج
اسپیشل فیچر
آپ نے وہ واقعہ ضرور سنا ہوگا کہ ایک بچے نے انسان کی تصویر درست جوڑ کر دنیا کا بگڑا ہوا نقشہ ٹھیک کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جہاں کہیں بھی ہو، اور جس قسم کی بھی اصلاح چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنی اصلاح کرے اور اپنی ذات کی تنظیم کی طرف توجہ دے۔ ہمارے گھروں کا، ہمارے دفتروں کا، ہمارے محلوں اور علاقوں کا، ہمارے معاشرے کا اور زندگی کے جن جن معاملات سے ہمارا تعلق ہے، وہاں کا نقشہ بگڑا ہوا ہے۔ اس نقشے کی درستی کے لیے ضروری ہے کہ ہم انسان کی تصویر کو ٹھیک کریں۔ یہ انسان کی تصویر در حقیقت میری اور آپ کی تصویر ہے۔ یہ بکھری پڑی ہے، اسے جوڑنا ضروری ہے۔ ہم اپنے ماحول کی اصلاح اور حالات کی درستی کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نقشہ ٹھیک ہوجائے لیکن ہم کام یاب نہیں ہوتے۔ معلوم ہوتا ہے، تصویر بکھری ہوئی ہے۔ تصویر اس لیے بکھری ہوئی ہے کہ:٭ ہمارے ارادے اور عزائم ضعیف ہوچکے ہیں۔٭ ہماری طبیعت میں سستی اور کاہلی آگئی ہے۔٭ ہمارے معاملات میں تساہل پیدا ہوگیا ہے۔٭ ہم آج کا کام کل پر ٹالتے ہیں۔٭ ہم ’’پھر کبھی‘‘ کا شکار ہیں۔٭ فیصلوں میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ بس نکل جاتی ہے، ٹرین چھوٹ جاتی اور فلائٹ بند ہوجاتی ہے۔٭ ہم اتنے ڈرپوک ہوگئے ہیں کہ قسمت کام یابی کے دروازے پر دستک دیتی ہے اور ہم اسے کھولتے تک نہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں سستی اور کاہلی آگئی ہے اور ہم نے ’’کل‘‘ پر بھروسا کیا ہوا ہے۔ہمارے دشمنیہ ’’تساہل‘‘، ’’سست روی‘‘، ’’ٹال مٹول‘‘، ’’تاخیر‘‘ اور ’’پھر کبھی‘‘ ہمارے دشمن اور ہمارے اور مستقبل کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں۔ یہ نشہ آور چیزوں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ جو شخص نشہ کرتا ہے وہ بڑی حد تک معاشرے سے کٹ جاتا ہے مگر تساہل اور سست روی کاشکار فرد معاشرے میں رہ کر معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔امام عبدالرحمن ابن جوزیؒ (597-511) نے اپنی کتاب منہاج القاصدین میں توبہ کے باب میں تسویف (آئندہ کرلوں گا) کے بارے میں لکھا ہے۔’’آئندہ پر ٹالنے والے بالعموم ہلاک ہوتے ہیں کیوںکہ وہ ایک ہی جیسی دو چیزوں میں فرق کر جاتے ہیں۔ آئندہ پر ٹالنے والے کی مثال اُس آدمی کی سی ہے جسے ایک درخت اُکھاڑنا ہو۔ وہ دیکھے کہ درخت بہت مضبوط ہے، شدید مشقت سے اکھڑے گا، تو وہ کہے کہ میں ایک سال کے بعد اس کو اُکھاڑنے کے لیے آئوں گا۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ درخت جتنی مدت باقی رہے گا، مضبوط ہوتا جائے گا اور خود اس کی جتنی عمر گزرتی جائے گی، وہ کم زور ہوتا جائے گا۔ جب وہ طاقت ور ہونے کے باوجود درخت کی کم زوری کی حالت میں اسے نہیں اکھاڑ سکتا تو جب وہ کم زور ہوجائے گا اور درخت زیادہ طاقت ور، تو پھر اس پر کیسے غالب آسکے گا۔‘‘(جاری ہے)