بچا ہوا کھانا کب تک محفوظ!
اسپیشل فیچر
فریج میں رکھی کچھ غذائیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہ
بچا ہوا کھانا فریج میں محفوظ کرنا ایک عام معمول ہے، مگر کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ یہ کھانا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق ہر غذا کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے، جس کے بعد اسے استعمال کرنا صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ان غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر محفوظ لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انکشاف اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خوراک کے معاملے میں معمولی سی لاپرواہی بھی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا احتیاط نہایت ضروری ہے۔
یونیورسٹی آف لیسٹر کی ماہر جراثیمیات ڈاکٹر پرائم روز فریسٹون (Dr Primrose Freestone)نے ایسے بچے ہوئے کھانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں فریج میں رکھنا خطرناک ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق ٹھنڈے پیزا کے ساتھ ساتھ فرائیڈ رائس کے بارے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔فوڈ پوائزننگ اس وقت ہوتی ہے جب ایسا کھانا کھا لیا جائے جو بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا، فنگس یا وائرس سے آلودہ ہو گیا ہو۔اگرچہ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ فوڈ پوائزننگ خراب طریقے سے پکا ہوا کھانا یا غیر محفوظ کھانے کی تیاری کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن صحیح طریقے سے نہ رکھے گئے بچے ہوئے کھانے (Leftovers) بھی ایک اہم سبب ہیں۔اس لیے بچا ہوا کھانا محفوظ رکھنے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے۔
بچا ہوا پیزا
اگرچہ تازہ پیزا بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ کئی طریقوں سے فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق وہ خشک جڑی بوٹیاں اور مصالحے جو لوگ عموماً پیزا پر چھڑکتے ہیں، جیسے باسل، کالی مرچ اور اوریگانو، مائیکروبیل وغیرہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ انہیں غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنا ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والے وہ جراثیم جو ان خشک جڑی بوٹیوں پر زندہ رہ سکتے ہیں، ان میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹیریا بھی شامل ہیں۔اگر یہ خشک جڑی بوٹیاں تازہ پیزا کی گرمی سے سٹیرلائز ہو جائیں بھی تو اگر پکانے کے بعد زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر رہیں یا پیزا کے دیگر ٹاپنگز بھی اسی حالت میں رہیں، تو یہ ممکنہ طور پر نقصان دہ جراثیم کیلئے بہترین ماحول فراہم کر سکتی ہیں۔اس لئے بچا ہوا پیزا ڈلیوری کے دو گھنٹوں کے اندر فریج میں رکھنا ضروری ہے۔
بچا ہوا چکن
پکے ہوئے چکن کے بھی خراب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں پانی اور غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور تیزابیت کم ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی نشوؤنما کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ پکا ہوا چکن جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھ دیں۔کوشش کریں کہ یہ چکن کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔یہ فریج میں تین دن تک محفوظ رہ سکتا ہے۔
بچا ہوئے چاول
بچے ہوئے چاول کھانے میں فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق چاولوں میں وہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو نشاستہ کھانوں کو پسند کرتا ہے اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے ۔اگرچہ بیکٹیریا پکانے کی گرمی سے مر جاتے ہیں مگر ان کے تولیدی ذرات (spores) زندہ رہ سکتے ہیں۔اگر چاولوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا جائے، تو یہ تولیدی ذرات تیزی سے بیکٹیریا میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔یہ چاولوں میں زہریلے مادے بھی خارج کر سکتے ہیں، جو شدید قے اور اسہال کا سبب بنتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق پکے ہوئے چاول صرف اسی صورت میں کھائے جا سکتے ہیں،جب انہیں پکانے کے فوراً بعد ٹھنڈا کیا جائے اور جتنا جلدی ممکن ہو فریج میں رکھ دیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ چاول 24 گھنٹوں کے اندر کھا لیے جائیں۔
ڈبہ بند کھانا
بچے ہوئے ڈبہ بند کھانے کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہیں ڈھانپ کر فریج میں رکھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں موجود جراثیم ان پر اثر انداز نہ ہوں۔ یہ کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گے، یہ کھانے کی نوعیت پر منحصر ہے۔زیادہ تیزابی کھانے پانچ سے سات دن تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس کی تیزابیت بیکٹیریا کی نشوؤنما کو روکتی ہے۔تاہم، کم تیزابی کھانے، جیسے گوشت، مچھلی، پھل، سبزیاں اور پاستا، صرف تین دن تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فریسٹون نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچا ہوا کھانا ٹھنڈا کھایا جا سکتا ہے۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ پکانے کے فوراً بعد اسے جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھیں اور ایک یا دو دن کے اندر کھا لیں۔