سُستی اور کاہلی: اسباب اور علاج
اسپیشل فیچر
تساہل کیا ہے؟مزاج اور رویے کے باعث اہم چیزوں کو غیر اہم امور کے مقابلے میں مؤخر کرنے کے عمل کو تساہل یا ٹال مٹول کہتے ہیں۔ انگریزی میں اس کے لیے procrastination استعمال ہوتا ہے۔ ہم بعض اہم کاموں کو اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں کرنے کا موڈ نہیں ہوتا، بعض اوقات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں کرنے کے لیے مناسب وقت اور سکون میسر نہیں ہوتا اور بعض اوقات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ کرنے کے لیے ابھی کافی وقت اور عمر باقی ہے۔ ہم اللہ کی نعمت ’’وقت‘‘ کو رائیگاں کرتے رہتے ہیں۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جوں ہی آنے والے دن کی پَوپھٹتی ہے، وہ آواز لگاتا ہے: اے آدم کی اولاد! میں اللہ کی نئی تخلیق ہوں اور تمہارے اعمال کا گواہ، اس لیے مجھ سے جتنا زیادہ زادِ راہ لے سکتے ہو لے لو، میں پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئوں گا۔‘‘ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ مومن کو دو دھڑ کے لگے رہتے ہیں، ایک اس کا ماضی جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے کیا نتائج ظاہر کرے گا اور دوسرا اس کا مستقبل جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق کیا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اس لیے آدمی کو اپنی جان کی خاطر اپنی جان کو، آخرت کی خاطر دنیا کو، بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو کام میں لانا چاہیے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ٹال مٹول شیطان کا شعار ہے جس کو وہ مسلمانوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیںکہ عمر کی سانسوں میں سے ہر سانس ایک نفیس جوہر ہے جس کا معاوضہ کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔کل ہماری زندگی میں ’’کل‘‘ کا لفظ بھی ایک دھوکا ہے جو انسان کو وقت ضائع کرنے کی شرم اور افسوس سے بچاتا رہتا ہے۔ انسان کی زبان میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو ’’کل‘‘ کے لفظ کی طرح اتنے گناہوں، اتنی حماقتوں، اتنی وعدہ خلافیوں، اتنی بے جا امیدوں، اتنی غفلتوں، اتنی بے پروائیوں اور اتنی برباد ہونے والی زندگیوں کے لیے جواب دہ ہو۔ کیوں کہ اس کی آنے والی ’’کل‘‘ یعنی ’’فردا‘‘ کبھی نہیں آتی۔ وقت ایک دفعہ گزرگیا، مر گیا۔ تو اس کو پڑا رہنے دو۔ اب اس کے ساتھ اور کچھ نہیں کرنا ہے سوائے اس کے کہ اس کی قبر پر آنسو بہائو۔ آج کی طرف لوٹ آئو مگر لوگ اس کی طرف نہیں لوٹتے اور عملاً ’’فردا‘‘ کو کبھی ’’امروز‘‘ نہیں ہونے دیتے۔دانائوں کے رجسٹروں میں ’’کل‘‘ کا لفظ کہیں نہیں ملتا، البتہ بے وقوفوں کی جنتریوں میں یہ بکثرت مل سکتا ہے۔ یہ تو محض بچوں کا بہلاوا ہے کہ فلاں کھلونا تم کو کل دے دیا جائے گا۔ کل کا لفظ تو ایسے لوگوں کے لیے ہے جو صبح سے شام تک خیالی پلائو پکاتے رہتے ہیں اور شام سے صبح تک خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ کام یابی کی شاہ راہ پر بے شمار اپاہج سسکتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنی تمام عمر ’’کل‘‘ کا تعاقب کرتے ہوئے کھو دی اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودی۔ ہم اسی دھوکے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے کہ ’’کل‘‘ ہمارے لیے اچھی اچھی نعمتیں اور فائدہ مند اشیا لائے گا مگر وہ تو آتا ہی نہیں۔ اس طرح ’’پھر کبھی‘‘ ہے، جو کام مکمل ہوسکتا ہے وہ آج کیوں کریں اور آنے والا ’’کل‘‘ خود کام کے لیے سازگار حالات پیدا کرے گا۔ یہ رویہ یقینا ہم لوگوں کے لیے بحیثیت فرد، بحیثیت قوم اور بحیثیت امت نقصان دہ ہے۔اہم اور ضروری نوعیت کے کام جن کی تکمیل سے ہمارا ذاتی، معاشی، معاشرتی اور قومی مفاد وابستہ ہے، ہم خواہ مخواہ ملتوی کرلیتے ہیں اور ان کے بجائے ایسے کام کرنے لگتے ہیں جن کی بہت ضرورت نہیں ہوتی۔ بس ہم اس لیے دوسرے کام کرنے لگتے ہیں کہ اس میں لذت ملتی ہے، طبیعت کے تساہل کو عذر فراہم ہوجاتا ہے، اور اپنی ذات کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ مل جاتا ہے۔امام ابن جوزیؒ اس کی مثال یوں دیتے ہیں کہ اگر صفرا کی زیادتی کا مریض سکنجبین پینے کے بجائے سکنجبین بنانے کی ترکیب سیکھنے میں عمر برباد کردے تو وہ یقینا دھوکے میں مبتلا ہے۔ آگے فرمایا: ’’خوش قسمت وہ ہے، جو اپنی اہم ضرورت کو حاصل کرے، دوسری کو چھوڑ دے، عمل کی طرف توجہ کرے اور اسی کو مقصود اصل جانے۔‘‘