بہادری اور وفاداری کی روشن مثال
اسپیشل فیچر
اورنگ زیب عالم گیر کی عرصۂ دراز سے دکن کی پانچ ریاستوں پر نظر تھی اور وہ انہیں مسخر کرنا چاہتا تھا۔ چار ریاستیں تو جوں توں فتح ہوگئیں لیکن عادل شاہی بیجاپور کی چاند بی بی کی قابلِ ذکر مزاحمت کے بعد عالم گیرکو سب سے بڑی دشواری کا سامنا گول کنڈہ کی افواج کے سبب کرنا پڑا۔ عالم گیر نے اپنے بیٹے کو گول کنڈہ کی فتح کی مہم پر بھیجا تھا۔ ابوالحسن تانا شاہ کی وفاداری اور باہمت فوج ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ مغل فوجوں نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا (یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ قلعہ دُہری فصیلوں سے آراستہ تھا۔ اندرونی فصیل اور بیرونی فصیل کے درمیان آبادی تھی اور اندرونی فصیل کے اندر شاہی محلات، سرکاری دفاتر، افواج اور امراء و روساء کی رہائش گاہیں، جیل خانہ جات، اسلحہ و بارود خانے اور باغات وغیرہ تھے۔) یہ محاصرہ سات تا آٹھ مہینے طول کھینچتا رہا بالآخر اورنگ زیب نے خود آکر فوجوں کی کمان سنبھالی اور حملوں میں شدّت پیدا کردی۔ طرفین کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوتا رہا۔ فتحِ گول کنڈہ کے بارے میں مختلف روایات ہیں جن کے تذکرے کی یہاں گنجائش نہیں ہے صرف وہ واقعہ درج ہے جس نے دنیا میں بہادری، ایثار و قربانی، نمک حلالی اور جاں نثاری کی انوکھی مثال قائم کی۔ اس تناظر میں اہل قلعہ کے بے داغ وفادار، ابوالحسن تانا شاہ کی پروقار اور باعفت شخصیت اور عبدالرزاق لاری سپہ سالار کی شجاعت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ بلاشبہ یہ مثلث، تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔عبدالرزاق لاری ایک بلوچ سپاہی تھا اس کا تعلق ’’لار‘‘ قبیلے سے تھا جو برسوں قبل بلوچستان سے آکر اپنے ساتھیو ں کے ہم راہ گول کنڈہ کی افواج سے وابستہ ہوگیا اور ترقی کرتے کرتے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگیا۔مغل سرداروں نے سازشوں کے جال بھی پھیلائے، جس کا شکار عبداللہ خان نامی ایک افغان افسر ہوگیا اور ایک دن اس نے غدّاری کرتے ہوئے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور مغل لشکری ٹڈی دل کی طرح قلعے کے اندر گھسنے ہی لگا تھا کہ عبدالرزاق لاری کو اس امر کی اطلاع ملی وہ گھوڑے پر سوار تلوار سونت کر مغلوں پر ٹوٹ پڑا۔ ایک جانب وہ تنِ تنہا دوسری جانب سیکڑوں فوجی۔ گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی، سر دھڑبازو کٹ کٹ کر گرتے رہے۔ کشتوں کے پشتے لگتے رہے، مغلوں کو شدید مزاحمت کا سامنا تھا لیکن کب تک… بالآخر زخموں سے چور چور ہوکر عبدالرزاق لاری گھوڑے کی پشت سے زمین پر آرہا اور مغل درانہ وار گھستے چلے گئے… ابوالحسن تانا شاہ عالم گیر کے بڑے بیٹے شہزادہ معظم کی پیش وائی کے لیے محل سے شاہی پالکی میں سوار ہوکر قلعے کے دروازے پر آیا اور اس نے شہزادے کی خدمت میں زمرد کی تسبیح پیش کی، بلند پایہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے چہرے پر کسی قسم کے تردد کے آثار نہ تھے۔اب عالم گیر کے حکم پر اس شجیع عبدالرزاق لاری کی تلاش شروع ہوئی، تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ قلعے کے دروازے سے متصل نگینہ باغ میں نہایت مجروح حالت میں ملا، جسم پر لاتعداد زخم تھے، پیشانی کا گوشت کٹ کر آنکھوں پر لٹک گیا تھا۔ فوراً طبیب اور شاہی جراح طلب کرکے شاہی احکام کی تعمیل میں عبدالرزاق لاری کے علاج معالجے میں مصروف کردیے گئے۔ طبیب اور جراحوں کی جان پر بنی ہوئی تھی کیوں کہ اگر عبدالرزاق لاری کی جان وہ نہ بچا پاتے تو خود ان کی جان کے لالے پڑجاتے۔ اورنگ زیب عالم گیر بذات خود عبدالرزاق لاری کو دیکھنے آیا اور اس کی فقید المثال شجاعت اور وفاداری کی تعریف کی۔ ابوالحسن تانا شاہ کو گرفتار کرکے خلد آباد (موجودہ اورنگ آباد) کے قلعے میں قید کردیا گیا جہاں 14 سال قید رہ کر وہیں انتقال کر گیا اور وہیں مدفون ہوا۔ اورنگ آباد کی قید سے قبل تانا شاہ کو بیدر کے قلعے میں کچھ عرصے کے لیے رکھا گیا۔عبدالرزاق لاری کی صحت یابی کے بعد اورنگ زیب عالم گیر نے اسے ایک اعلیٰ ترین منصب پر فائز کردیا اور اس نے بقیہ عمر عالم گیر کی ماتحتی میں عزت و توقیر سے گزارے۔ بعض کتابوں میں یہ درج ہے کہ عبدالرزاق لاری نے عالم گیر سے معذرت کرتے ہوئے بقیہ عمر اپنے آقا تانا شاہ کی خدمت کرتے ہوئے گزارنے کی خواہش کی، جسے عالم گیر نے اس کی بہادری و ایمان داری کے پیش نظر قبول کرلیا۔ سرزمین دکن میں آج بھی اہل دکن عبدالرزاق لاری کا نام نہایت عزت و احترام سے لیتے اور وفاداری و نمک حلالی کے سلسلے میں اس کا حوالہ دیتے ہیں۔