گرمی کے بادلوںمیں گرج چمک زیادہ کیوں ہوتی ہے؟
اسپیشل فیچر
آپ کے اس سوال کے جواب کیلئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرج چمک کیوں پیدا ہوتی ہے؟ چمک سطح سمندر سے 15 ہزار سے 25 ہزار فٹ کی بلندی سے شروع ہوتی ہے جب بارش کے قطرے اوپر اٹھنا شروع ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ برف میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بادلوں سے زمین تک دکھائی دینے والی چمک پانی اور برف کے اسی مخلوط حصے سے جنم لیتی ہے۔ برقی چارج 50 گز کے سیکشنوں میں نیچے کی طرف آتا ہے جنہیں ’’سٹیپ لیڈرز‘‘ کہتے ہیں۔ ان سٹیپس میں یہ زمین کی طرف بڑھتا رہتا ہے اور ایک چینل پروڈیوس کرتا ہے جس میں چارج جمع ہوتا ہے۔ آخر کار یہ زمین پر کسی ایسی چیز سے ٹکراتا ہے جو بہتر کنکشن ہو۔ اسی وقت سرکٹ مکمل ہوجاتا ہے اور چارج بادلوں سے زمین پر آرہتا ہے۔ نتیجہ یعنی ریٹرن سٹروک ایک چارج کا بہائو یعنی کرنٹ ہوتا ہے۔ یہ نیچے آنے والے حصے کی نسبت کہیں زیادہ تیز روشنی پیدا کرتا ہے اور یہ سارا عمل آدھے سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوجاتا ہے۔چمک کی وجہ سے گرج پیدا ہوتی ہے۔ ریٹرن سٹروک سے پیدا ہونے والی تیز روشنی والی چمک ایک زبردست توانائی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس توانائی کی بدولت چینل کے اندر حرارت 50 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ سے بھی بڑھ جاتی ہے لیکن یہ عمل ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے میں ہوتا ہے۔ ہائی ٹمپریچر سے شدید گرم ہونے والی ہوا کے پاس پھیلنے کے لئے وقت نہیں ہوتا ہے لہٰذا اس میں بہت زیادہ دبائو پیدا ہوجاتا ہے۔ تب انتہائی دبائو والی ہوا پھیلنا شروع ہوتی ہے اور اردگرد کی ہوا کو کمپریس کرتی ہے۔ اس طرح سٹروک کے مقام سے ہر طرف ایک قسم کا خلل واقع ہوتا ہے جسے پہلے دس گز تک شاک ویو کہاجاتا ہے، اس کے بعد یہ ایک عام سائونڈ ویو، یا گرج رہ جاتی ہے۔ بجلی کی گرج مسلسل اس لئے سنائی دیتی ہے کہ چینل کے ساتھ ہر پوائنٹ ایک شاک ویو اور ایک سائونڈ ویو پیدا کرتا ہے۔بجلی کا کوندا مختصر بھی ہو سکتا ہے اور میلوں تک طویل بھی ہو سکتا ہے۔ اب تک دیکھے جانے والے سب سے طویل کوندے کی لمبائی 118 میل تھی اور یہ ڈلاس کے علاقے میں دکھائی دیا تھا۔ جو چمک زمین کی سطح تک نہیں پہنچتی اسے ’’کلائوڈ فلیش‘‘ کہاجاتا ہے۔ یہ بادل کے ایک ٹکڑے کے اندر بھی ہو سکتی ہے اور ایک ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑے تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بادل سے ہوا میں بھی کوندے پیدا ہو سکتے ہیں جو کہ زمین کی سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں گرج چمک کم کیوں ہوتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سردیوں میں فضا کے اندر اتنا عدم استحکام اور نمی نہیں ہوتی جتنی کہ گرمیوں میں ہوتی ہے۔ اور یہ دو عوامل باہم مل کر حرارت منتقل کرنے والے طوفان پیدا کرتے ہیں جن کی وجہ سے چمک پیدا ہوتی ہے۔ غیر مستحکم ہونے کی حالت اور نمی کے نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ گرج چمک پیدا نہیں ہوتی۔ ان دونوں عوامل کی وضاحت بھی ضروری ہے۔عدم استحکام: سردیوں کے دوران زمین کی سطح ٹھنڈی ہوتی ہے کیوں کہ سورج کی روشنی اتنی دیر تک زمین پر نہیں پڑتی کہ اسے کافی حد تک گرم کرسکے۔ سطح کے درجات حرارت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے سطح کی قریبی ہوا فضا میں زیادہ دور تک بلند نہیں ہوتی۔ لہٰذا گہری گرج چمک کی وہ شکلیں سامنے نہیں آتیں جو کہ گرمیوں کے دوران دیکھنے میں آتی ہیں۔نمی: گرم ہوا پانی کے زیادہ بخارات سنبھال سکتی ہے اور جب پانی کے بخارات سکڑ کر بادلوں کے قطروں کی شکل میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے اندر چھپی حرارت ریلیز ہوتی ہے جو کہ گرج چمک کے لئے ایندھن کا کام کرتی ہے۔ بادلوں میں برقی چارج اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت ور اپ ڈرافٹس انتہائی ٹھنڈے مائع پانی کے ڈراپس کے ساتھ برف کے کرسٹلز کو نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت میں لے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں برف کے کرسٹل اور سپرکولڈ واٹر ڈراپس کے انٹریکشنز سے الیکٹرک چارج پیدا ہوتا ہے۔ الیکٹرک چارج اس وقت تک بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ وہ اتنا طاقت ور نہ ہوجائے کہ اردگرد موجود ہوا کی مزاحمت پر قابو پاسکے۔ ان چارجز سے پیدا ہونے الیکٹرک فیلڈز کے بریک ڈائون ہی کو بجلی کا کوندا کہتے ہیں۔