موٹرسائیکل کی تاریخ
اسپیشل فیچر
گوٹ لِب ڈیملر نے 1885ء میں پہلا گیس انجن موٹرسائیکل ایجاد کیا۔امریکن سیلویسٹرہورڈروپر 1867ء میں دو سلنڈر سٹیم انجن موٹرہیکل (کوئلہ سے چلنے والا) ایجاد کیا۔ اگر سٹیم انجن کے حوالے سے دیکھا جائے تو اسے پہلا موٹرسائیکل کہا جا سکتا ہے مگر بعد میں یہ ختم ہوگیا اور اس کی جگہ گیس انجن موٹرسائیکل نے لے لی۔1885ء میں جب گوٹ لب ڈیملر نے گیس انجن موٹرسائیکل کو ایجادکیا تو شروع میں اس انجمن کو لکڑی سے بنی ہوئی موٹرسائیکل باڈی کے ساتھ لگایا گیا۔ بعد میں جب بہت سی ایجادات ہوئیں اور ماڈرن بائیسکل کی طرف رجحان ہوا تو گوٹ لب ڈیملر نے انجینئر نائیکولس آٹوکا 1876ء میں ایجاد کردہ پہلا 4 اسٹرک انٹرنل کمبسچن انجن کو استعمال کیا۔ اس لئے اس انجن کو آٹو سائیکل انجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ چار اسٹروک انجن ایجاد ہوا تو گوٹ لب ڈیملر (جو کہ سابقہ آٹو کاملازم تھا) نے اس انجن کو موٹرسائیکل میں لگا دیا۔ 19 صدی کے بہت سے موجد جنہوںنے شروع کی موٹرسائیکلز پر بہت کام کرتے ہوئے کئی قسم کی ایجادات کی طرف لے گئے اور آہستہ آہستہ موٹرئیکل ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس ہوتا چلا گیا۔ تاہم موجد جیسا کہ ولیم ہارلے اور ڈیوڈسن برادرز نے موٹرسائیکل میں ڈویلپمنٹ کے کام کو جاری رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے مقابلے میں بہت سی کمپنیاں وجود میں آ گئی جن میں ایکسلیٹر،انڈین، پائرس، مرکل، شیکل اور تھور وغیرہ شامل ہیں۔1903ء میں ولیم ہارلے اور ان کے دوست آرتھر اوروالٹر ڈیوڈ سن نے ہارلے ڈیوڈ سن کمپنی کو متعارف کروایا۔ جس کی پروڈکٹس کوالٹی میں اپنی مثال آپ تھیں۔ اور ان تمام پروڈکٹس کو پہلی دفعہ ہارلے ڈیوڈسن نے شکاگو (امریکہ) سے شروع کیا۔اس طرح یہ ٹیکنالوجی تمام ممالک میں پھیلتی چلی گئی اور نئے سے نئے موٹرسائیکل برانڈ مارکیٹ میں آتے چلے گئے۔حتیٰ کہ آج اگر آپ پاکستان میں موٹرسائیکل کی مارکیٹ کودیکھیں تو پاکستان میں سالانہ 18 لاکھ سے زائد موٹرسائیکل مارکیٹ میں سیل ہو رہے ہیں جن میں ہر سال اضافہ ہو رہاہے۔ نئی سے نئی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن متعارف کروائے جا رہے ہیںجو اپنی مثال آپ ہیں۔صدیوں سے شروع ہونے والی ایجادات آج ضروریات زندگی بن چکی ہے جس نے دنوں کے سفر کو گھنٹوں میں اور گھنٹوں کے سفر کو منٹوں میں اور منٹوں کے سفر کو سیکنڈز میں تبدیل کر دیا ہے اس لئے کہتے ہیں ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘‘۔(’’آٹو موٹیو انجینئرز گائیڈ‘‘ سے انتخاب)