ریٹھا
اسپیشل فیچر
انسان اگر اس کی تاثیر اور استعمال سے واقف ہوجائے تو بہت سی بیماریوں سے بچ سکتاہے *****ریٹھاچھالیہ کے برابر یا اس سے کسی قدر چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا شکن دار، پیلا، سیاہی مائل ہوتا ہے۔ توڑنے پر اندر سے کنول گٹّے کی مانند کالے رنگ کی گٹھلی نکلتی ہے اور گٹھلی سے زردی مائل سفید مینگ نکلتی ہے۔ ریٹھے کا درخت زیادہ تر دکن اور ہمالیہ کے معتدل علاقوں میں خود رو ہوتا ہے۔ خود رو اسے کہتے ہیں،جو بویا نہیں جاتابل کہ خودبہ خود اُگ جاتا ہے، البتہ ممبئی، سری لنکا اور بنگال کے بعض علاقوں میں اس کی کاشت بھی کی جاتی ہے اور یہ ضلع کانگڑہ اور جموں کے علاقے میں عام ملتا ہے۔ پنجاب کی عورتیں اس کی چھال سے دانت صاف کرتی ہیں۔ اس سے پائیوریا نہیں ہوتا۔ کوئی شخص صرف ایک ریٹھے کی تاثیر اور اس کے استعمال سے پوری طرح واقف ہوجائے تو انسانی جسم کی بہت سی بیماریوں کا بہ خوبی علاج کرسکتا ہے۔ اس کے بعض فوائد ایسے ہیں کہ کوئی دوا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ریٹھا ہمارے ملک کا عام، سستا اور نہایت آسانی سے دست یاب ہوجانے والا پھل ہے۔ یہ روز روز ہونے والی عام بیماریوں میں نہایت کام یابی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس درخت کا پھل عام طور پر دوائوں میں کام آتا ہے۔ ریٹھا کپڑوں اور بال دھونے کے بھی کام آتا ہے۔ پانی میں ریٹھے کے چھلکوں کو ملانے سے صابن جیسا جھاگ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے پھل کی تاثیر گرم و خشک ہے۔یہ مقوّی ہونے کے ساتھ ساتھ زہر کا تریاق بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ ریٹھے پر زہر بہت کم اثر کرتا ہے۔ ریٹھا سانپ جیسے زہریلے جانور کا تریاق ہے۔ ریٹھے کا سفوف دوماشے پانی میں گھول کر پلانے سے قے اور دستوں کے ذریعے سانپ کے زہر کا اثر جاتا رہتا ہے (اگر ضرورت ہوتو دو گھنٹے بعد پھر مریض کو یہی پلائیں) اگر سفوف تیار نہ ہوتو پیس کر چٹائیں یا پانی میں گھول کر پلائیں۔ بعض لوگ صرف دو رتّی سفوف پانی میں گھول کر پلانے کو کافی سمجھتے ہیں۔ بچھو اور کن کھجورے کا زہر بھی اس کے پلانے اور کاٹی ہوئی جگہ پر لگانے سے دور ہوجاتا ہے اور درد و سوزش کو فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ہیضے یا دستوں کی شکایت ہوتو ایک یا دو رتّی استعمال کرنے سے افاقہ ہوجاتا ہے۔ بے ہوشی یا غشی کی حالت میں ایک رتّی باریک ریٹھے کا سفوف کاغذ کو نلکی بناکر ناک میں پھونک دیں۔ ایک رتّی ریٹھے کا باریک سفوف کسی شربت میں ملاکر پلانے سے دردِ قولنج دُور ہوجاتا ہے۔ ہسٹریا کے مریضوں کو اس کی دھونی دینا بہت مفید ہوتا ہے۔ لقوے میں ریٹھے کا چھلکا چھے تولے لے کر چار تولے گُڑ کے ساتھ کوٹ کر جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنائیں۔ روزانہ صبح و شام تھوڑا سا حلوہ کھلائیں اور پھر ایک گولی کھلائیں۔ریٹھا بواسیر خونی و بادی کے لیے مفید دوا ہے۔چہرے کے داغ دھبے، مہاسے اور جھائیاں دور کرنے کے لیے ریٹھے کے چھلکے کو پانی میں پیس کر لگانے سے یہ تمام شکایات دُور ہوجاتی ہیں اور چہرہ نکھر جاتا ہے۔ ہر قسم کی خارش کے لیے ریٹھا بہترین دوا ہے۔ خارش دور کرنے کے لیے ریٹھے کو پیس کر گولیاں بنالیں۔ ایک گولی صبح و شام کھائیں۔آدھے سر کے درد میں ریٹھے کا استعمال کریں تو سر درد دور ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے ریٹھے کو پانی میں گھس کر پانی کو ناک میں ٹپکائیں۔ ناک سے رطوبت بہہ جائے گی اور دردختم ہوجائے گا۔ اگر درد بائیں طرف ہوتو دائیں نتھنے میں اور اگر دائیں طرف ہوتو بائیں نتھنے میں ٹپکائیں۔ریٹھے کے چھلکے کے بھی قریباً وہی فائدے ہیں، جو ریٹھے کی چھال کے ہیں۔ دمے کی حالت میں چھال کا سفوف کھلانے سے پھیپھڑوں سے بلغم خارج ہوکر سکون ہوجاتا ہے جب کہ چھال کو جوش دے کر استعمال کرنے سے خون کی کمی دورہوجاتی ہے۔ چھال کو پیس کر آنکھوں میں لگانے سے دُکھتی ہوئی آنکھ کو فائدہ ہوتا ہے، یہ ہی نہیں اگر ریٹھے کا چھلکا اور سرمہ برابر وزن لے کر باریک کھرل کرکے رکھیں اور صبح و شام آنکھوں میں لگائیں تو ابتدائی موتیا بند، جالا، پھولا اور دھند دور ہوجاتی ہے۔ دو رتیّ سفوف کو پانی کے ایک یا دو گھونٹ سے نگل لیں، آنتوں کے کیڑے ہلاک ہوکر خارج ہوجائیں گے۔ ریٹھے کا پوست اور اس کے درخت کی چھال دونوں کا فائدہ یک ساں ہیں۔ اسے چار رتی سے لے کر ایک ماشے تک بلاخطر استعمال کرسکتے ہیں۔ شہد میں ملاکر چٹانا بہتر ہوتا ہے۔ریٹھے کی مینگ سے اعصاب و دماغ کو تقویت دیتا ہے۔