دنیا بھر میں شادی کی دلچسپ و عجیب رسمیں
اسپیشل فیچر
دنیا بھر میں شادی کی رسوم و رواج میں وہاں کی روایات اور تہذیب و ثقافت جھلکتی ہے۔ مسلمانوں میں نکاح، عیسائیوںمیں مقدس انگشتری اور ہندوئوں میں اگنی کے سات پھیرے زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد نامہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں شادیاں بہت رنگین اور رونق والی ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں شادی کی رسموں میں بے پناہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ذیل میں چند دلچسپ شادیوں کی رسومات کے بارے میں اجمالی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:٭پاکستان میں شادی کی تقریبات کا آغاز ڈھولکی سے ہوتا ہے۔ شادی سے کئی روز پہلے سے ڈھولکی بجنا شروع ہو جاتی ہے جس میں خاندان کی لڑکیاں اور عورتیں شرکت کرتی ہیں۔ شادی کی پہلی باقاعدہ رسم مایوں ہوتی ہے۔ اس میں دلہن کو پیلا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ مہمان بھی پیلے کپڑے پہنتے ہیں۔ دلہن اور دولہا کو ابٹن لگائی جاتی ہے۔ ابٹن کے بعد مہندی کی رسم ہوتی ہے۔ قدامت پرست گھرانوں میں لڑکے اور لڑکی کی مہندی علیحدہ علیحدہ جبکہ ماڈرن گھرانوں میں ایک ساتھ ہوتی ہے۔ بارات والے روز دولہا کی سہرا بندی کی جاتی ہے۔ دلہن والے بارات کا استقبال ہار پھول پہنا کر کرتے ہیں۔ نکاح کی رسم اداہونے کے بعد چھوہارے تقسیم کی جاتے ہیں۔ دودھ پلائی کی رسم ہوتی ہے۔ رخصتی کے وقت دلہن کو قرآن مجید کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے۔……٭عیسائیوں میں دو فرقے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ہیں۔ کیتھولک فرقے میں شادی کی رسوم کی ابتدا رشتہ لے جانے سے ہوتی ہے۔ باہمی رضامندی کے بعد بات طے ہو جاتی ہے۔ قریبی عزیزوں کو مدعو کرکے منگنی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ دولہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں۔ شادی کی تاریخ طے ہوتی ہے اور تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شادی کی رسم چرچ میں ہوتی ہے۔ دلہن سفید میکسی اور دولہا سیاہ سوٹ پہنتا ہے۔ پادری دعائیں پڑھتا اور شادی کی رسوم ادا کرتا ہے۔ ایجاب و قبول کے بعد پادری شادی کی مقدس انگشتریاں بائبل پر رکھتا ہے جسے دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو پہناتے ہیں۔ اس کے بعد پادری ان کے میاں بیوی ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ بعدازاں میاں بیوی شادی کے رجسٹر پر دستخط کرتے ہیں پھر موم بتیاں جلاتے ہیں۔ دو موم بتیاں ان دونوں کی اور تیسری ان کے بندھن کی ہوتی ہے۔ شادی کی تکمیل کے بعد کیک کاٹا جاتا ہے جو جتنا امیر ہوتا ہے اسی حساب سے کیک کی منزلوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیک اور مشروبات سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے اور اس کے بعد فوراً ہنی مون پر روانہ ہو جاتے ہیں۔……٭ ہندوئوں میں شادی کی بہت سی رسمیں ہیں۔ ان میں رشتہ لڑکی والے لاتے ہیں۔ پنڈت ’’کنڈلی‘‘ ملاتا ہے۔ رضامندی کے بعد منگنی (سگائی) کی تقریب ہوتی ہے اور دو روز بعد شادی کی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ ان کے ہاں شادی کی ابتدا ’’ونوا‘‘ کی رسم سے ہوتی ہے جسے ہم مایوں کہتے ہیں۔ دلہن کو پیلا جوڑا پہنا کرابٹن اور مہندی لگائی جاتی ہے۔ شادی والے دن دولہا تیار ہونے کے بعد کھیر کی خالی کٹوری پائوں سے توڑتا ہے جبکہ لڑکی والوں کے ہاں پنڈت ایک مٹکے میں پانی ڈالتا ہے اور مٹکے پر ناریل رکھتا ہے۔ لڑکی کی ماں وہ مٹکا سر پررکھ کر لاتی ہے پھر اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ ایک رسم میں دودھ بھری ہوئی کٹوری میں دولہا اور دلہن کی انگوٹھیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ دونوں پیالے میں ہاتھ ڈال کر انگوٹھیاں تلاش کرتے ہیں جس کو انگوٹھی مل جاتی ہے وہ دوسرے کو دے دیتا ہے یہ عمل تین بار دہرایا جاتا ہے۔شادی کی اہم ترین رسم اگنی کے سات پھیرے ہیں۔ آگ کو گواہ بنا کر یہ رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس میں دولہا کا پٹکا دلہن کے پلوے سے باندھ کراگنی کے سات پھیرے لئے جاتے ہیں اس دوران پنڈت منتر’’سواہا‘‘ پڑھتا رہتا ہے۔ لڑکی کا ماموں آگ میں جو ڈالتا ہے اور دلہن کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ اگلے پھیروں میں چچا، بھائی اور باپ سبھی رسم دہراتے ہیں۔ پھیرے مکمل ہونے کے بعد دولہا دلہن کی مانگ میں سیندور بھر کر اسے منگل سوتر پہناتا ہے اور آخر میںدونوں ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار ’’ورمالا‘‘ پہناتے ہیں۔ اس کے بعد مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔رخصتی کے بعد دلہن سسرال آتی ہے تو سر پر دودھ بھرا کٹورا رکھتی ہے اور چوکھٹ سے گھر کے اندر دودھ کے چھینٹے مارتی ہے۔ چوکھٹ پر ہی ساس دلہن کی آرتی اتارتی ہے وہیں سندور سے بھڑا کٹورا رکھا ہوتا ہے جسے دلہن ٹھوکر سے گرا کر سرخ پائوں سے گھر کے اندر داخل ہوتی ہے۔ دلہن کے ہاتھ میں تل اور جو رکھا جاتا ہے اور منہ دکھائی دی جاتی ہے۔……٭جاپان کے جزائر اوکی ناوا میں دلہن کو آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ حجلہ عروسی میں داخلہ کی متمنی لڑکی کے سر کے بال جلائے جاتے ہیں۔ اس موقع پر قبیلہ کا جادوگر کسی جانور کے تیز دانت سے لڑکی کی پیٹھ پر گہری لکیریں ڈالتا ے اور زخموں میں پسی ہوئی مرچیں بھرنے سے قبل لڑکی کے ہاتھ کو خوب مضبوطی سے باندھ دیتا ہے۔ لڑکی زخموں میں پسی ہوئی مرچوں کی تکلیف سے درد کے مارے تڑپتی رہتی ہے لیکن کامیاب شادی کیلئے اسے یہ تکلیف برداشت کرنا ہوتی ہے۔………………٭سوڈان کے بعض علاقوں میں رواج ہے کہ دلہن اپنے ہونے والے شوہر کے رخسارکو داغ دیتی ہے۔ اس سے یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ اسے اپنے ہونے والے شوہر سے محبت ہے اور یہ داغ اس کی محبت کی مہر ہے جو اس کے رخسار پر ثبت ہے۔ یہ داغ دیتے وقت شوہر کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ عشق کی یہ مہر زندگی بھرشوہر کے چہرے پرثبت رہتی ہے۔……٭ویلز انگلستان کا مشہور علاقہ ہے۔ وہاں قدیم ایام سے آج تک یہ رسم جاری ہے کہ دولہا دلہن کو حجلہ عروسی میں داخل ہونے کیلئے آگ کے ڈھیر پرسے گزرنا پڑتا ہے۔……٭کینیا کے مسائی قبیلے میں رخصتی کے وقت دلہن کا باپ اپنے بیٹی کے سر اور جسم پر دودھ کے قطرے چھڑکتے وقت دعائیہ کلمات ادا کرتا ہے کہ اللہ اسے بہت سے بچوں کی ماں بنائے۔ سسرال پہنچتے ہی دلہن کا طمانچوں تھپڑوں اور گھونسوں سے استقبال کیا جاتا ہے کوئی خاتون آگے بڑھ کر دلہن کے سرپر مٹھی بھر گوبر ڈال کر اسے عروسی سلامی پیش کرتی ہے۔ پھر دلہن کی ساس اسے حجلہ عروسی (جوایک خوبصورت جھونپڑی کی صورت میں ہوتا ہے) میں لے جانے کیلئے آتی ہے۔ پھر عزیزواقارب بیش قیمت تحفے دے کر اور لاڈ پیار سے حجلہ عروسی میں پہنچا دیا جاتا ہے۔……٭مراکش کے ایک قبیلے میں شادی کے موقع پر مذہبی رہنما ایک تیز دھار چاقو دلہن کے گلے پر رکھ دیتا ہے جب دلہن کے گلے سے خون کا ایک قطرہ ٹپک پڑے تو نکاح ہو جاتا ہے۔ اس رسم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دلہن پر واضح ہو جائے کہ وہ اب شوہر کے رحم و کرم پر ہوگی۔……٭تبت کے سوک قبائل میں شادی کی رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا اور دلہن کو ایک ایک پورا کیک کھانا پڑتا ہے اور یہ ضروری ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی کیک کھانے میں ناکام رہے تو وہ شادی اسی دن ختم ہو جاتی ہے۔……٭بھارت کے ایک قبیلے سنجور میں شادی کی رسومات میں دلہن کی ماں شریک نہیں ہوتی۔٭…٭…٭