بہت زیادہ سوال سے پرہیز
اسپیشل فیچر
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے ہوئے سُنا: میں نے تمہیں جس چیز سے روکا ہے اس سے پرہیز کرو اور جس چیز کا حکم دیا ہے اس میں سے جس حد تک کرسکو کرو، کیوں کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک و برباد کرنے والی چیز اپنے انبیاء ؑ سے ان کا زیادہ سوال کرنا اور اختلاف کرنا تھا۔ (بخاری مسلم)اس حدیث کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک دن رسول اللہ ؐ سے لوگ بار بار طرح طرح کے سوال کرتے رہے۔ ان میں کچھ منافقین بھی تھے جو تمسخرانہ انداز میں اس طرح کے سوال کرتے تھے کہ بتائیے میرا باپ کون ہے؟ یا میری گم شدہ اونٹنی کہاں ہے۔ آخر آپ ؐ غضب ناک ہو کر منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے بتادوں گا۔ سیدنا انس ؓ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے جسے لوگ کسی دُوسرے کی طرف منسوب کرتے تھے، پوچھا میرا باپ کون ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: حذیفہ۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں (مرنے کے بعد) کہاں ہوں گا؟ آپ ؐ نے فرمایا: جہنم میں۔ سیدنا عمر ؓ صورت حال کی نزاکت کو سمجھ گئے۔ آپ نے فوراً معافی طلب کرتے ہوئے عرض کیا: ہم اس پر پوری طرح راضی ہیں کہ اللہ ہمارا پروردگار ہے، اسلام ہمارا دین ہے، محمدؐ ہمارے رسول ہیں۔ ہم فتنوں سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں۔ یارسول اللہ! ہم لوگ ابھی جلد ہی جاہلیت و شرک سے نکلے ہیں (اس لیے ہماری غلطیوں کو معاف فرما دیجیے) تب آپ ؐ کا غصّہ ٹھنڈا ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:ترجمہ: اے لوگو، جو ایمان لائے ہو ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔ (سورہ مائدہ، آیت 101)سیدنا عبداللہ ؓ ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ؐ نے لوگوں کو جمع کرایا اور فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال؟ تب رسول اللہ ؐ کو شدید غصّہ آیا اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (حج ہر سال) فرض ہوجاتا اور اگر فرض ہوجاتا تو تم کر نہ پاتے اور اس طرح کفر میں جا پڑتے۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا: بس وہیں رُک جائو جہاں میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیا ؑ سے اختلاف اور کثرتِ سوالات کی وجہ سے ہی تباہ وبرباد ہوئے۔ اس لیے جب میں کسی چیز کا تمہیں حکم دوں تو حتی المقدور اسے بجالائو اور جس چیز سے منع کردوں اس سے رُک جائو۔سیدنا سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے تعلق سے سب سے بڑا جرم اس مسلمان کا ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کی وجہ سے حرام کردی گئی۔رسول اللہ ؐ قیل وقال اور چون وچرا، زیادہ سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ صرف باہر سے آنے والے وفود اور بدوئوں کو ان کی دل جوئی کے لیے سوالات کی اجازت ہوتی تھی۔ مدینہ منورّہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار، جن کا ایمان پختہ ہوچکا تھا، انہیں اِس طرح کی اجازت نہیں تھی۔ سیدنا نواس ؓ بن سمعان کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورّہ میں آپؐ کے ساتھ سال بھر تک رہا لیکن سوال کرنے کی ہمّت نہیں ہوئی۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ ہم شوق سے انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی سمجھ دار بدّو آکر آپؐ سے سوال کرے تو ہم بھی جواب سُنیں۔کچھ علماء کا خیال ہے کہ یہ صورت رسول اللہؐ کے زمانے تک مخصوص تھی کیوں کہ اس وقت تک احکام نازل ہوتے تھے اور آپؐ جو فرمادیتے وہ حکم کی صورت اختیار کرلیتا۔ پھر جب قرآن کریم پورا کا پورا نازل ہوگیا اور شریعت مکمل ہوگئی تو ضرورت کے سارے مسائل روز روشن کی طرح واضح ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے احکام کی بجا آوری اور ممنوع چیزوں سے پرہیز پر اگر پوری توجہ ہو تو زیادہ سوالات کی نوبت ہی نہیں آسکتی۔)محمد بشیر جمعہ کتاب ’’ وقت کا بہتر استعمال‘‘سے انتخاب)