چارپائی اور کلچر
اسپیشل فیچر
چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برا ہونے کیلئے نت نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسے نازک مواقع پر پرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کے اُفق پر بہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں۔ اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھی، کچی مٹی کی سن سن کرتی کوری صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں اور ان کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دن بھر شطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اور جو شام کو دسترخوان بچھاکر کھانے کی میز بنا لی گئی۔
ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹیریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انھیں بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹیریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب کھاٹ سے لگ جائے تو تیماردار مؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اول الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچے غاؤں غاؤں کرتی، چندھیائی ہوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض حضرات اس مضمون کو چارپائی کا پرچہ ترکیب استعمال سمجھ لیں گے تو اس ضمن میں کچھ اور تفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکا ہوں، یہ مضمون اس تہذیبی علامت کا قصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظراحتیاط اتنی وضاحت ضروری ہے کہ:
ہم اس نعمت کے منکر ہیں نہ عادی
نام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سے کم ہوں، تب بھی خلق خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کے حجم اور شکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنے رکھ کر آپ غبی سے غبی لڑکے کو اقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں اوراس مہم کو سر کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کا صرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصوری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ دیہات میں ایسے پائے بہت عام ہیں جو آدھے پٹیوں سے نیچے اور آدھے اوپر نکلے ہوتے ہیں۔ ایسی چارپائی کا الٹا سیدھا دریافت کرنے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ''اُلٹا‘‘ ہو گا۔ راقم الحروف نے ایسے انگھڑپائے دیکھے ہین جن کی ساخت میں بڑھئی نے محض یہ اصول مدنظر رکھا ہوگا کہ بسولہ چلائے بغیر پیڑ کو اپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سے وصل کر دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنھیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہی۔ اس قسم کے پایوں سے نٹو مرحوم کو جو والہانہ عشق رہا ہوگا اس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک دوست سے ایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کیا۔ کہنے لگے ''اگر مجھے ایسی چار ٹانگیں مل جائیں تو انھیں کٹواکر اپنے پلنگ کے پائے بنوا لوں۔‘‘
غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کیلئے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث وتکرار کیلئے اس سے بہتر طرزنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھرکے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں ''لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘۔
لوگ گھنٹوں چارپائی پر کسمساتے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنی جگہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں گال سے گال بھڑائے کچر کچر لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلے لڑتی ہیں اور بعدمیں بحث کرتی ہیں۔ مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔