پطرس بخاری کی یاد میں

پطرس بخاری کی یاد میں

اسپیشل فیچر

تحریر : سید کاظم جعفری


گلشن ِاُردو ادب میں طنز و مزاح کے رنگا رنگ پھول کھلانے والے پطرس بخاری کی کل55ویں برسی منائی جا رہی ہے ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی شعر و ادب سے دل چسپی نے اُنھیں جلد ہی نمایاں مقام عطا کر دیا تھا۔ اُنھوںنے انگریزی زبان پر عبور حاصل ہونے کے باوجود اُردو کو اپنے تخلیقی اظہار لیے چُنا ، اُن کا شمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے، جنھوں نے کم لکھا ،لیکن بہت معیاری لکھا۔اُن کے ظرافت سے بھرے مضامین آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔پطرس بخاری کا اصل نام احمد شاہ بخاری تھا اور وہ یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہوئے ۔ اُن کے والد سید اسد اللہ شاہ پشاور میں ایک وکیل کے منشی تھے۔ ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی اور اس کے بعد گورنمٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے ،وہ کالج کے ادبی مجلے ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ پطرس یہاں سے ایم اے کرنے کے بعد انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونی ورسٹی سے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔ وہاں کے اساتذہ کی رائے تھی کی پطرس کا علم اس قدر فراخ اور وسیع و بسیط ہے کہ ایک انگریز کے لیے بھی اتنا علم اس عمر میں رکھنا کم وبیش ناممکن ہے ۔وطن واپس آنے پر سنٹرل ٹرنینگ کالج اور پھر گورنمنٹ کالج میں انگریزی ادبیات کے پروفیسررہے ۔ 1937ء میں آل انڈیا ریڈیو کا محکمہ قائم ہوا، تو پطرس کی خدمات مستعار لی گئیں اور وہ سات برس تک بطور ِڈائریکٹر ریڈیو سے منسلک رہے ۔قیامِ پاکستان کے بعد پطرس لاہور آگئے اور گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے ۔ 1950ء میں اُن کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمایندہ بنا کر بھیجا گیا،وہ اس عہدے پر 1954ء تک فائز رہے۔ 1955 ء میں اقوامِ متحدہ کے شعبۂ اطلاعات میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ۔ پطرس دسمبر 1957 ء میں ریٹائر ہونے والے تھے اور کولمبیا یونی ورسٹی میں پروفیسری قبول کرچکے تھے ، مگر موت نے مہلت نہ دی اور 5 دسمبر 1958ء کی صبح نیویارک میں حرکت ِقلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کر گئے۔اُن کی وفات پرمعروف جریدے’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے 7 دسمبر1958ء کو اپنے اداریہ میں’’عالمی شہری‘‘ کے عنوان سے جو خراج ِعقیدت پیش کیااُس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے: ’’جب سے کپلنگ نے ’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب‘کا گیت گایا ،اُسی دن سے ہم مختلف اور متصادم معاشروں کے تعلقات کے بارے میں زیادہ سوچ بچار کر رہے ہیں۔ ہمیشہ ہم اسی فکر میں رہتے ہیں کہ کوئی ایسا مرکب مل جائے ،جو ہر ایک کی بہترین خوبیوں کو محفوظ کردے ۔کبھی کبھی ہمیں کسی ایسی ہستی کی موجودگی کا یقین ہوجاتا ہے ،جو ہمارے تخیلات کو عمل کی دنیا میں لے آتی ہے ۔ ابھی ابھی ہمیں پاکستان کے سفیر پروفیسر احمد شاہ بخاری کی بے وقت موت کی شکل میں ایسی ہی ایک شخصیت کے ضیاع کا سامنا ہوا ہے، جنھوں نے اقوام متحدہ میں رئیس ِ شعبہ ٔاطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، وہ صحیح معنوں میں عالمی شہری تھے ۔ پروفیسر صاحب کا تعلیمی پس منظر مشرق اور مغرب( پنجاب یونی ورسٹی اور کیمبرج) دونوں کو آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے مشرق اور مغرب دونوں کی زبانوں اور محاوروں کا راگ الاپا۔ وہ مشرق اور مغرب دونوں کے نزدیک عالم تھے ،لیکن مشرق اور مغرب کا یہ ملاپ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک عظیم انسان تھے ! حاضر جواب، شائستہ، دانش مند، زندہ دل اور گرم جوش۔ وہ خود پسندی کی نمائش سے پاک تھے ، اُنھیں زندگی سے اُنس تھا۔ وہ اس دنیا میں بسنے والے لوگوں سے اُن کی قومیت، رنگ، نسل، مذہب یا پیشے کا خیال کیے بغیر محبت کرتے تھے ۔ اُن کی روح اُن کے ذہن کی طرح تنگ سرحدوں کی قائل نہ تھی۔ہزاروں امریکی جنھیں اُن سے ذاتی شناسائی کا شرف حاصل ہے۔ اُن کی موت کو اپنا ذاتی رنج محسوس کر رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس لیے کہ وہ دوست تھے ، لیکن یہ نقصان ذاتی نہیں بل کہ اس سے کچھ زیادہ ہے۔ دنیا ایک ایسے شخص کے اُٹھ جانے سے مفلس تر ہوگئی ہے، جو ہمیں بہتر طریق سے یہ دکھاتا تھا کہ آسودہ مستقبل کے لیے کون کون سی اچھی باتیں ممکن ہیں‘‘۔اس سے قبل امریکا کے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ میگزین ’’نیویارکر‘‘ نے بھی پطرس صاحب کی اقوام متحدہ میں بطورِ سفیر تعیناتی پر10ستمبر 1952ء کو ’’بھلے مانس بنو‘‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ ادارتی نوٹ لکھا تھا،جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے: ’’ہم نے سن گن پائی کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمایندے پروفیسر احمد شاہ بخاری ہیں، جو عام طور پر عرب ایشیائی بلاک کے قابل ترین ترجمان سمجھے جاتے ہیں اور وہ پاک وہند کے سرکردہ مزاح نویس بھی ہیں۔ مستقل نمایندوں اور مزاح نویسوں میں مجموعی طور پر یا الگ الگ دلچسپی رکھنے کے باعث ہم نے پروفیسر صاحب کی تصانیف حاصل کرنی چاہیں، لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی کا ترجمہ انگریزی میں نہیں ہوا۔ ہم نے یہ ٹھان لی کہ اُن کا پیچھا ضرور کریں گے۔ خود پروفیسر صاحب کو ٹیلی فون کیا اور ہمیں اقوام ِمتحدہ کی عمارت میں لنچ پر حاضر ہونے کی دعوت مل گئی۔بہرکیف پروفیسر صاحب اُن چند خوش دل، بامروت اور ذی علم مستقل نمایندوں یا مزاح نویسوں میں سے ایک ہیں، جن سے ہم مدت کے بعد ملے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ 1928ء تک وہ ایک اُستاد، مترجم اور مصنف تھے ، سیاسی سفیر نہ تھے۔1927ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے صدر (پرنسپل) تھے ۔ تیس برس وہ اس کالج میں ادبیات کے پروفیسر رہے۔ اُنھوں نے اس درس گاہ کے تجرباتی تھیٹر کے لیے دوسری چیزوں کے علاوہ شیکسپیئر اوربرنارڈ شا کے بہت سے ڈرامے اُردو میں ترجمہ کرکے دیئے، جن میں امبن کا ڈراما ’گڑیاگھر‘ اور اطررائس کا ڈراما ’جمع کرنے والی مشین‘بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے ہمیں بتایاکہ ہارون الرشید کے زریں دَور کے بعد گزشتہ چالیس سال کا زمانہ اسلامی دنیا میں تراجم کے لیے بڑا سازگار رہا ہے ۔ پہلے زمانے میں مسلمان ہر اس چیز کا ترجمہ کرلیتے تھے، جو فلسفہ اور سائنس میں اُن کے ہاتھ لگتی تھی۔ اب ادب کے تراجم پر زُور صرف ہورہا ہے ۔ مریکا کی غیر افسانوی کتابوں کے ترجمے بھی کیے ہیں۔ اُردو کا ایک مزاحیہ رسالہ بھی مرتب کرتے رہے ہیں۔ اُنھوں نے انگریزی اور اُردو میں ادبی تنقیدیں بھی لکھی ہیں۔ مزاح نگار کی حیثیت سے اُن کی شہرت تین یا چار سو مختصر افسانوں پر پھیلی ہوئی ہے ،جو اُنھوں نے پطرس کے قلمی نام سے لکھے۔ اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اُن افسانوں کی مقبولیت کی بعض وجوہ یہ ہیں کہ وہ غلط ہیں۔ نقادوں نے اُن کے بارے میں کہا کہ یہ افسانے اگرچہ مزاحیہ ہیں، لیکن اُنھیںبے دھڑک گھروں میں لے جایاجا سکتا ہے ۔پطرس کو پاکستان میں شگفتہ ترین شخص مانا جاتا ہے ۔ اُن کے چند افسانوں کا ترجمہ انگریزی میں ہوچکا ہے ، جنھوں نے اہل ِبرطانیہ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ برطانیہ والے کہتے ہیں کہ اُنھیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ایک مشرقی مزاحیہ نگار ایسا بھی ہے جو ’غزالی‘ آنکھوں اور ناموافق حالات کو اپنی تحریروں کا مرکز نہیں بناتا۔ ہم نے پوچھا کہ آخر پطرس اپنی توجہ کا مرکز کس چیز کو بناتا ہے ؟ پروفیسر بخاری نے جواب دیا کہ میری کہانیوں کا مثالی کردار ہمیشہ ایک معمولی آدمی ہوتا ہے، جس میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں ہوں۔ حادثات اسے ایسے ناموافق ماحول میں پھینک دیں ،جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ وہ ہمیشہ بڑا سیاست دان اورعظیم ادیب بننے کے خواب دیکھتا ہو۔ ایک کہانی میں وہ خطرناک سرغنہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور بالآخر ناکام رہنے کے نتیجے میں بہتر آدمی بن جاتا ہے ۔اُنھوں نے اپنی تحریروں میں واحد متکلم اور جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے تاکہ طنز کا نشانہ خود بیان کرنے والا بنے۔ پاکستانی اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں۔ میرا اصول یہ ہے کہ بھلے مانس بنو۔۔۔پروفیسر بخاری لسانیات کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ ایک دفعہ اُنھوں نے کوکنی (Cockney) کے اختلافی لب ولہجہ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے چھ مہینے صرف کیے تھے ۔ اُنھوں نے بڑی گرم جوشی سے ہمیں بتایا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوکنی زبان اپنی گرامر اور حروفِ علت کا مخصوص نظام رکھتی ہے ۔ ہم اُمیدوار بن کر انتظار کرنے لگے ، لیکن اُنھوں نے کہا کہ اب میں کوکنی لب و لہجہ کی نقل اُتارنے کی جرأت نہیں کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ میَں پھر شاہی انگریزی کی طرف لوٹ آیا ہوں اور بونوں کی جون سے نکل چکا ہوں۔ہم نے دریافت کیا کہ آپ سفارتی فرایض اور مزاح نویسی کو کس طرح یکجا کرتے ہیں؟ پروفیسر صاحب نے جواب دیا کہ مزاح نویسی میں میری پیداوار بہت کم ہوگئی ہے ایک مشکل یہ ہے کہ وقت نہیں ملتا۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ سفارتی کاروبار میں آپ بعض چیزوں پر ہنس تو سکتے ہیں، لیکن مضحکہ اُڑانے کی مقدار روایات نے مقرر کردی ہے‘‘۔پطرس بخاری کے ظریفانہ مضامین کا مجموعہ ’’پطرس کے مضامین‘‘ بیشتر قارئین نے پڑھ رکھا ہو گا ۔یہ مجموعہ پطرس کی مزاحیہ طبیعت کے آئینہ دار ہیں اور یہ مضامین ہمیشہ دلچسپی سے پڑھے جاتے رہیں گے تاہم آخر میں پطرس بخاری کی چند ایک شعری تخلیقات پیش کی جارہی ہیں، جس سے اُن کے ایک بلند پایۂ شاعر ہونے کا بھی ثبوت ملتاہے:یہ میَں نے کہہ تو دیا تجھ سے عشق ہے لیکنمِرے بیان میں اک لرزشِ خفی بھی ہے تو میرے دعویِٰ اُلفت کی آن پر مت جاکہ اس میں ایک ندامت دبی دبی بھی ہے وفا کی طلب ہے ترا عشق اور مِرے دل میںتری لگن کے سوا اور بے کلی بھی ہے تجھی سے دل کا تلاطم ہے اور نگہ کا قراراسی قرار و تلاطم سے زندگی بھی ہے مگر ہیں اور بھی طوفان اس زمانے میںکہ جن میں عشق کی ناؤ شکستنی بھی ہے مِری نگاۂ کے ایسے بھی ہوں گے چند اندازکہ تو کہے کہ یہ محرم ہے اجنبی بھی ہے شبِ وصال کی اس مخملیں اندھیرے میںمِری تلاش میں فردا کی روشنی بھی ہے مجھے تو آ کے ملی وقت کے دوراہے پرکہ صبحِ زیست بھی ہے، موت کی گھڑی بھی ہےدوشعراُٹھ گیا اپنے یہاں سے ٹیلی فوناب کہیں جا کر ملے گا اگلی جوناس کے ہونے سے رہا کرتی تھی چخیہ چمن یونہی رہے گا اور الخ (یہ دو شعر پطرس نے شملہ سے ،حکومت ِہند کے دیگر دفاتر سے واپسی کے ساتھ رخصت ہوتے ہوئے کہے تھے ۔ ان میں جون کے ہر دو معنی کی رعایت بھی خوب ہے ، لیکن الخ کا قافیہ پطرس کے علاوہ اور کون لاسکتا ہے )٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
2026: شدید موسمی تباہ کاریوں کا سال؟

2026: شدید موسمی تباہ کاریوں کا سال؟

آخری 6ماہ میں شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کا خطرہ،سائنسدانوں کی پیشگوئیموسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026ء دنیا کیلئے غیر معمولی اور شدید موسمی حالات کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں گرمی کی شدت نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے، جبکہ مختلف خطوں میں جنگلاتی آگ، خشک سالی، شدید بارشوں اور طوفانوں کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور کاربن گیسوں کے اخراج نے قدرتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتائج اب پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ موسمی خطرات انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کیلئے سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک دنیا غیر معمولی شدید موسمی حالات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے ماہرین کے مطابق 2026ء کے ابتدائی چار مہینوں میں ہی جنگلاتی آگ کے باعث پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں اب تک تقریباً 15کروڑ ہیکٹر (5 لاکھ 80 ہزار مربع میل) زمین آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکی ہے، جو حالیہ اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے امکانات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے کی توقع ہے۔محققین کے مطابق ابھرنے والا ایل نینو(El Niño) موسمی پیٹرن 2026ء کو تاریخ کا گرم ترین سال بنا سکتا ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی موسمی چکر ہے، لیکن اس کے اثرات انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر تباہ کن نتائج پیدا کریں گے۔ سائنس دان اب ایک ایسے سال کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس میں عالمی سطح پر متعدد جنگلاتی آگ اور ریکارڈ ساز موسمی واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ کلائمیٹ سینٹرل کے ماہر موسمیات ڈاکٹر زکری لیب (Dr Zachary Labe)کا کہنا ہے کہ غیر موسمی شدید گرمی کی لہروں، بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ اور بلند ترین پہاڑی چوٹیوں پر برف کے غائب ہونے جیسے واقعات اس بات کا واضح انتباہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح شدت پسند موسمی حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔یہ سنگین انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سائنس دانوں نے ایل نینو سدرن آسیلیشن (El Niño-Southern Oscillation) کے قدرتی موسمی چکر میں ایک ''سپر ایل نینو‘‘ مرحلے کی پیش رفت پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ ایل نینو سدرن آسیلیشن ایک قدرتی موسمی نظام ہے جو ہر دو سے سات سال کے دوران گرم ایل نینو اور ٹھنڈے لا نینا (La Niña)مرحلوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ اس چکر کے ایل نینو مرحلے میں بحرالکاہل میں جمع ہونے والے گرم پانی پھیل جاتے ہیں، جس سے زمین کی اوسط سطحی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس وقت عالمی حدت کو کسی حد تک ٹھنڈے لانینا پیٹرن نے قابو میں رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے 2026ء گزشتہ برسوں کے مقابلے میں قدرے کم گرم ہے۔ تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت ریکارڈ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ بعض دنوں میں یہ 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔کئی ممتاز سائنس دانوں کے مطابق یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا صدی کے طاقتور ترین ایل نینو برسوں میں سے ایک کا سامنا کرنے والی ہے۔ ماہرین کو تشویش ہے کہ ایل نینو کی قدرتی شدت موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے سے موجود گرمی کے ساتھ مل کر معمول سے کہیں زیادہ شدید موسمی حالات پیدا کرے گی۔ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کی سربراہ اور امپیریل کالج لندن کی ماہرِ موسمیات ڈاکٹر فریڈریک اوٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایل نینو ایک قدرتی مظہر ہے جو آتا جاتا رہتا ہے، لیکن اب یہ ایک ایسے ماحول میں رونما ہو رہا ہے جہاں بنیادی درجہ حرارت پہلے ہی مسلسل بڑھ رہا ہے۔اس صورتحال کو غیر معمولی اور تشویشناک بنانے والی بات ایل نینو کا وقوع نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے موسمی نظام میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2026ء کے بارے میں قوی امکان ہے کہ یہ تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو، جو 2024ء میں قائم کیے گئے ریکارڈ سے تقریباً 0.06 ڈگری سینٹی گریڈ (0.11 ڈگری فارن ہائیٹ) زیادہ گرم ہوگا۔کلائمیٹ سائنسدان ڈاکٹر ڈینیئل سوین، جو کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ فار واٹر ریسورسز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ جدید انسانی تاریخ میں ہم نے کبھی بھی ایسا مضبوط یا انتہائی مضبوط ایل نینو اس حالت میں نہیں دیکھا جب عالمی سطح پر پہلے ہی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر 2026ء کے آخر سے 2027ء تک سیلاب، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے انتہائی موسمی اثرات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس سے دنیا بھر میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے مطابق اس سال پہلے ہی ایسے شدید درجہ حرارت دیکھنے کو ملے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھے۔امریکہ میں کئی ریاستوں نے اپنی تاریخ کا سب سے گرم موسمِ ریکارڈ کیا جبکہ مارچ میں آنے والی ہیٹ ویو امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ وسیع رقبے پر پھیلنے والی گرمی کی لہر ثابت ہوئی۔ اسی دوران بھارت کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ (115 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا ہے۔اس صورتحال کے نتیجے میں امریکہ کے براعظموں میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں چلی اور ارجنٹینا میں ہر منٹ تقریباً 25 ایکڑ زمین آگ کی نذر ہو رہی ہے، جبکہ نیبراسکا، فلوریڈا اور جارجیا میں بھی تاریخ کی سب سے بڑی آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایشیا میں بھی آگ پھیل چکی ہے، جہاں جاپان میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ 1,400 فائر فائٹرز کئی دنوں سے جاری آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے ساتھ جڑی گرم اور خشک موسمی صورتحال موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ مل کر ان حالات کو مزید بدتر بنا سکتی ہے۔ یہ تبدیلیاں سب سے زیادہ اثر ایمیزون کے بارانی جنگلات، اوشیانا اور جنوب مشرقی ایشیاء کے خطوں پر ڈالیں گی۔

عجائب گھر: تہذیب و ثقافت کا قیمتی سرمایہ

عجائب گھر: تہذیب و ثقافت کا قیمتی سرمایہ

دنیا بھر میں ہر سال 18مئی کو ''عالمی یوم عجائب گھر ‘‘ منایا جاتا ہےہر قوم اپنی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور روایات کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو محفوظ رکھتی ہیں، وہی مستقبل میں مضبوط اور باوقار مقام حاصل کرتی ہیں۔ انسانی تہذیب کے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے میں عجائب گھروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 18 مئی کو ''عالمی یومِ عجائب گھر‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں عجائب گھروں کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ اس دن کے منانے کا آغاز ''انٹرنیشنل کونسل آف میوزیم‘‘نے 1977ء میں کیا تھا۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں خصوصی تقریبات، نمائشوں، سیمینارز اور تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔عجائب گھر دراصل کسی قوم کے اجتماعی حافظے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں قدیم نوادرات، تاریخی دستاویزات، نایاب تصاویر، جنگی سازو سامان، قدیم سکے، مجسمے، ثقافتی لباس، فن پارے اور دیگر قیمتی اشیا محفوظ کی جاتی ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں بلکہ انسان کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایک اچھا عجائب گھر انسان کو صدیوں پر محیط تاریخ کے سفر پر لے جاتا ہے جہاں وہ مختلف ادوار کی تہذیب، طرزِ زندگی اور ترقی کا مشاہدہ کرتا ہے۔دنیا کے مشہور عجائب گھروں میں ''لوور میوزیم‘‘(Louvre Museum)، ''برٹش میوزیم‘‘(British Museum)اور ''میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ‘‘ (Metropolitan Museum Of Art) شامل ہیں، جہاں لاکھوں تاریخی اور ثقافتی نوادرات محفوظ ہیں۔ یہ عجائب گھر ہر سال کروڑوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔پاکستان بھی تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک عظیم ملک ہے۔ یہاں قدیم تہذیبوں کے بے شمار آثار موجود ہیں۔ انڈس ویلی سویلائزیشن دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ موہنجو داڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے تاریخی مقامات اس عظیم ورثے کی علامت ہیں۔ پاکستان میں قائم عجائب گھروں میں لاہور میوزیم، نیشنل میوزیم آف پاکستان اور ٹیکسلا میوزیم خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان عجائب گھروں میں بدھ مت، گندھارا تہذیب، اسلامی فن تعمیر اور برصغیر کی تاریخ سے متعلق نایاب نوادرات محفوظ ہیں۔عجائب گھر صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ تعلیمی مراکز بھی ہیں۔ طلبہ و طالبات یہاں آ کر اپنی کتابوں میں پڑھی گئی تاریخ کو حقیقت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ ایک قدیم تلوار، صدیوں پرانا سکہ یا تاریخی مخطوط نوجوان ذہنوں میں تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں اسکولوں اور جامعات کے تعلیمی دوروں میں عجائب گھروں کی سیر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ڈیجیٹل دور میں عجائب گھروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب دنیا کے کئی عجائب گھر آن لائن نمائشوں اور ورچوئل ٹورز کا اہتمام کر رہے ہیں، جس سے لوگ گھر بیٹھے تاریخی نوادرات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس جدید طرز نے نوجوان نسل کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ثقافتی ورثے کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا عمل بھی تیز ہوا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عجائب گھروں کے حوالے سے شعور ابھی محدود ہے۔ اکثر لوگ انہیں محض پرانی چیزوں کا ذخیرہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ قوموں کی علمی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے عوام میں عجائب گھروں کی اہمیت اجاگر کریں۔ اسکولوں کے نصاب میں تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں اور طلبہ کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ عجائب گھروں کی حالت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ کئی تاریخی نوادرات مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی، ماہرین آثارِ قدیمہ اور تحقیقاتی سہولیات کے ذریعے عجائب گھروں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ سیاحتی سہولیات کی بہتری سے نہ صرف ملکی ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔عالمی یومِ عجائب گھر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔ عجائب گھر ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے نئی نسل کو اپنی تہذیب، شناخت اور قومی تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلیں بھی اپنی شناخت اور ثقافت پر فخر محسوس کریں گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عجائب گھروں کی اہمیت کو سمجھیں، ان کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے اس عظیم ثقافتی سرمایہ کو محفوظ بنائیں۔

 ہائپر ٹینشن ، خاموش قاتل

ہائپر ٹینشن ، خاموش قاتل

آج کی تیز رفتار اور پُرتناؤ زندگی میں ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے جو خاموشی سے انسان کی صحت کو تباہ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین طب اسے ''خاموش قاتل‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اکثر افراد برسوں تک اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں مگر انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی اور بے احتیاط طرزِ زندگی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور احتیاط نہ کی جائے تو ہائپر ٹینشن دل کے امراض، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے مہلک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔دنیا بھر میں ہر سال 17 مئی کو عالمی یومِ ہائپر ٹینشن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو بظاہر کسی واضح علامت کے بغیر انسانی جسم کے نہایت اہم اعضاکو شدید نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کو بجا طور پر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ، گردوں اور خون کی نالیوں کو آہستہ آہستہ متاثر کرتی ہے اور اکثر مریض اُس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب فالج، دل کا دورہ، دل کی کمزوری یا گردوں کی خرابی جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص اور مسلسل نگرانی انتہائی ضروری ہے۔اس سال عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ''Controlling Hypertension Together‘‘ کے عنوان سے منایا گیا، یعنی بلند فشارِ خون پر مل کر قابو پانے کا عزم کیا گیا۔یہ پیغام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے نمٹنا صرف ڈاکٹروں یا اسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے، جس میں حکومت، طبی ماہرین، میڈیا، تعلیمی ادارے، خاندان اور خود عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں چند ایسی عادات تیزی سے فروغ پا رہی ہیں جو ہائی بلڈ پریشر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میں نمک کا زیادہ استعمال، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور ذیابیطس شامل ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور سکرین کے استعمال میں اضافہ مستقبل میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اگر بروقت تشخیص ہو جائے اور مریض احتیاطی تدابیر اختیار کرے تو دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے خطرناک امراض سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔طبی ماہرین کے مطابق چند سادہ مگر مؤثر اقدامات انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر نمک کا استعمال کم کیا جائے، تازہ سبزیاں اور پھل خوراک کا حصہ بنائے جائیں، روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کی جائے، وزن کو قابو میں رکھا جائے، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز کیا جائے، ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے، بلڈ پریشر کا باقاعدگی سے معائنہ کروایا جائے ۔ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر فرد کو اپنا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروانا چاہیے جبکہ ذیابیطس، موٹاپے یا دل کے مریضوں میں یہ احتیاط مزید اہم ہو جاتی ہے۔یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اپنی ادویات بند نہ کریں۔ اکثر مریض وقتی بہتری کے بعد دوائیں چھوڑ دیتے ہیں، جو بعد میں سنگین نتائج کا سبب بنتا ہے۔عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے ہم نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بیماریوں کے بوجھ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف آگاہی کی مہم کو مضبوط کریں، تاکہ ایک صحت مند، توانا اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! عبید اللہ علیم اردو کے بے بدل شاعر (1998-1939ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! عبید اللہ علیم اردو کے بے بدل شاعر (1998-1939ء)

٭... 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد سیالکوٹ سے نقل مکانی کرکے بھوپال میں آباد ہوگئے تھے۔ اس اعتبار سے ان کی پدری زبان پنجابی اور مادری زبان اردو تھی۔٭... 1952ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آگیا۔٭...1959ء سے انہوں نے باقاعدگی سے شعر کہنا شروع کیا۔٭...اردو میں ایم اے کرنے کے بعد علمی و ادبی حلقوں میں اپنی شاعری کے ذریعے پہچان بنائی۔٭...وہ اپنے وقت کے مقبول شعرا میں سے ایک تھے جنھیں مشاعروں میں بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا، ان کا کلام پاکستان کے معروف گلوکاروں نے گایا۔٭...انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور پروڈیوسر کام کیا۔ اپنا ماہ نامہ ''نئی نسلیں‘‘ بھی شائع کرتے رہے۔٭... 1974ء میں اُن کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ''چاندچہرہ، ستارہ آنکھیں‘‘شائع ہوا ،جسے بہت پذیرائی ملی اور شعروسخن کی دنیا میں یہ مجموعہ ان کی شناخت بنا۔اس پرانہیں آدم جی ادبی انعام بھی ملا۔٭... ان کا شعری مجموعہ ''ویراں سرائے کا دیا‘‘1986ء میں چھپا۔ ٭...ان کی دیگر تصانیف میں ''نگارِ صبح کی امیدیں‘‘ اور ''یہ زندگی ہے ہماری ‘‘(کلیات)شامل ہے۔٭...ان کی دو نثری تصانیف ''کھلی ہوئی ایک سچائی‘‘ اور ''میں جو بولا‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔٭...18 مئی 1998ء کو اردو کے ممتاز شاعر عبید اللہ علیم نے ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں۔ چند اشعارعزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے٭٭٭٭آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا٭٭٭٭خواب ہی خواب کب تلک دیکھوںکاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں٭٭٭٭سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنایہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا٭٭٭٭پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگاکہ روح نیند میں تھی اور جاگتا تھا میں٭٭٭٭انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا٭٭٭٭آؤ تم ہی کرو مسیحائیاب بہلتی نہیں ہے تنہائی٭٭٭٭صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھااس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا٭٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

عثمانیوں کی ناکام مہم18مئی 1565ء کو سلطنت عثمانیہ کی افواج نے جزیرہ مالٹا پر قبضہ کرنے کیلئے اس کے محاصرے کا آغاز کیا۔اسے ''گریٹ سیج آف مالٹا‘‘(Great Siege of Malta)بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران عثمانی فوج کو مالٹا کے محافظوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی خونریز لڑائی میں ہزاروں فوجی مارے گئے۔ آخرکار عثمانی افواج کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں پسپا ہونا پڑا۔ وکسبرگ کا محاصرہامریکی خانہ جنگی کے دوران 18 مئی 1863ء میں وکسبرگ کا محاصرہ ایک بڑی فوجی کارروائی تھی۔ ٹینیسی کی فوج نے کنفیڈریٹ آرمی آف مسیسیپی کو چاروں طرف سے محاصرے میں لے لیا۔ وِکسبرگ دریائے مسیسیپی پر کنفیڈریٹ کا آخری بڑا گڑھ تھا۔ لہٰذا اس پر قبضہ کرنے سے شمالی حکمت عملی، ایناکونڈا پلان کا دوسرا حصہ مکمل ہوا۔ چالیس دن کے بعدسامان ختم ہونے پر گیریژن نے ہتھیار ڈال دیے۔خاتون پائلٹ کا ریکارڈ1953ء میں امریکی خاتون ہوا باز جیکولین کوچران آواز کی رفتار توڑنے والی دنیا کی پہلی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے ایک جنگی طیارہ اڑا کر آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کی اور ہوا بازی کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل قائم کیا۔ یہ تاریخی کارنامہ امریکہ میں انجام دیا گیا۔ جیکولین کوچران نے ثابت کیا کہ خواتین بھی ہوا بازی کے میدان میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔جاسوس کو سزائے موتالیاہو بین شاوّل کوہن جسے عرف عام میں ایلی کوہن کہا جاتا ہے، ایک مصری نژاد اسرائیلی جاسوس تھا۔ وہ شام میں 1961ء سے 1965ء تک اپنی جاسوسی کیلئے مشہور تھا۔ جہاں اس نے شام کے سیاسی اور فوجی رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے تھے۔شامی کاؤنٹر انٹیلی جنس نے بالآخر جاسوسی کا پردہ فاش کیا اور کوہن کو اپنے قانون کے مطابق مجرم ٹھہرایا۔ اسے 18مئی 1965ء کو سرعام پھانسی دی گئی۔تاتاریوں کی جلاوطنیکریمیائی تاتاریوں کی جلا وطنی دراصل ایک ثقافتی نسل کشی تھی جوجوزف سٹالن کی جانب سے سوویت ریاستی پولیس کی سربراہی میں کی گئی۔18مئی 1944ء کو تاتاری بچے، بوڑھوں اور خواتین کو جلاوطن کرنے کیلئے مویشی لے جانے والی ٹرینوں کا استعمال کیا گیا۔تمام لوگوں کو سوویت افواج کی سربراہی میں روانہ کیا گیا۔اصل میں اس جلاوطنی کا مقصد ان تاتاریوں کو سزا دینا تھا جن پر نازی جرمنی کا ساتھ دینے اور تعاون کرنے کا الزام تھا۔جلاوطنی کے دوران تقریباً دو لاکھ افرادکا قتل عام کیا گیا۔المناک فضائی حادثہ1973ء میں ''ایروفلوٹ فلائٹ 109‘‘ ایک المناک فضائی حادثے کا شکار ہوئی جب دورانِ پرواز طیارے کو اغوا کر لیا گیا۔ اغوا کاروں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے بم استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن بم اچانک پھٹ گیا جس کے نتیجے میں طیارہ تباہ ہو گیا۔ اس خوفناک حادثے میں طیارے میں سوار تمام 82 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ اُس وقت کی فضائی سلامتی کے حوالے سے ایک بڑا سانحہ سمجھا جاتا ہے۔ حادثے کے بعد ہوائی اڈوں اور فضائی سفر کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

جدید ٹیکنالوجی، ترقی کا راستہ

جدید ٹیکنالوجی، ترقی کا راستہ

17مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے منایا جاتا ہےدنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کے دور سے گزر رہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تعلیم، صحت، تجارت، بینکاری، میڈیا، زراعت اور حکومتی امور سمیت کوئی میدان ایسا نہیں رہا جہاں جدید معلوماتی نظام اور انٹرنیٹ نے اپنی جگہ نہ بنائی ہو۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہر سال 17 مئی کو ''ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے‘‘ (world information Society Day) منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی افادیت کو اجاگر کیا جا سکے اور لوگوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا ہو۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا ہے کہ جدید معلوماتی ذرائع انسانی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی رابطوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی محض سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ کورونا وبا کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ تعلیم، کاروبار، دفتری امور اور سماجی رابطے آن لائن نظام کے ذریعے جاری رکھے گئے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی بحران کے وقت بھی انسانی زندگی کو رواں رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔آج دنیا میں معلومات تک رسائی بے حد آسان ہو گئی ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے کی خبر، تحقیق یا تعلیمی مواد تک پہنچنا ممکن ہے۔ طلبہ گھر بیٹھے عالمی جامعات کے کورسز سے استفادہ کر رہے ہیں، جبکہ کاروباری ادارے آن لائن تجارت کے ذریعے اپنی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا نے ابلاغ کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرتے ہوئے ہر فرد کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔اگر پاکستان کی بات کی جائے تو گزشتہ چند برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ای کامرس کا رجحان بڑھا ہے اور نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن شعبوں میں خدمات انجام دے کر ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس ترقی کے باوجود کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولیات محدود ہیں۔ بہت سے طلبہ اور شہری جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر استفادہ نہیں کر پاتے۔ ڈیجیٹل خواندگی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے افراد جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے واقف نہیں، وہ جدید دور کی ترقی سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کریں۔سائبر جرائم بھی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سامنے آنے والا ایک اہم مسئلہ ہیں۔ آن لائن فراڈ، ہیکنگ، جعلی معلومات اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال نے معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ نوجوان نسل خصوصاً سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے متاثر ہو رہی ہے۔ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی تیزی سے ترسیل معاشرتی انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری اور شعور کو بھی فروغ دیا جائے۔ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت اور مثبت مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تعلیم، تحقیق، صحت، ماحولیات اور معاشی ترقی کیلئے بروئے کار لایا جائے تو یہ دنیا میں خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر اس کا استعمال نفرت، جھوٹ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے کیا جائے تو اس کے منفی اثرات پوری معاشرت کو متاثر کر سکتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبے مستقبل کی دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرے اور تحقیق و جدت کی حوصلہ افزائی کرے۔ تعلیمی اداروں میں آئی ٹی تعلیم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کی جائے۔اس دن کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دنیا ایک ڈیجیٹل معاشرے میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں معلومات ہی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ جس قوم کے پاس جدید معلومات اور ٹیکنالوجی ہو گی وہی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دیں، نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کریں اور ایسا ڈیجیٹل ماحول پیدا کریں جہاں ترقی کے مساوی مواقع سب کو میسر ہوں۔ مختصر یہ کہ ورلڈ انفارمیشن سوسائٹی ڈے صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ یہ انسانیت کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معلوماتی ٹیکنالوجی اگر ذمہ داری، شعور اور مثبت سوچ کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ معاشی ترقی، تعلیمی بہتری اور سماجی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک باشعور، ترقی یافتہ اور بااختیار معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔