سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب

سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسر حافظ محمد سعید


جو قوم تاریخ سے سبق حاصل نہ کرے اور اپنے ماضی کو یاد نہ رکھے … وہ باربار ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کرتی ہے۔ ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یادداشت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیںجو قوم اپنا ماضی بھول جائے وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے۔ پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتا ہے جب وہ خود قصئہ ماضی بن جاتی ہے۔ اس لئے ماضی کو بہرصورت یاد رکھنا چاہئے۔ ماضی کا نہ بھولنے والا ایک سبق سانحہ مشرقی پاکستان ہے۔ یہ سانحہ اچانک رونما نہ ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے برس ہا برس کے عوامل اور حادثات کارفرما تھے جو اس کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بنے۔ یہ درست ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں المیے اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، قوموں کو فتح و شکست اور عروج و زوال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے لیکن زندہ قومیں اپنے ماضی، اپنی شکست اور اپنے دشمن کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ایسے ہی پاکستانی قوم سانحہ مشرقی پاکستان کو کبھی نہیں بھول سکتی البتہ اقتدار واختیار کے ایوانوں میں براجمان ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو قصئہ ماضی سمجھ کر ماضی کا حصہ ضرور بنا دیا ہے۔ یقینی بات ہے کہ اگر ہمارے حکمرانوں نے اس سانحہ کو یاد رکھا ہوتااور اپنے دشمن کو فراموش نہ کیا ہوتا توآج ہمارا ملک ناگفتہ بہ حالات سے دوچار نہ ہوتا۔ ماضی کا یاد رکھنے والا ایک سبق یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کے 9صوبے تھے۔ جب تقسیم ہند کا وقت آیا تو 9 میں سے 7 صوبے مکمل طور پر ہندوئوں کو دے دیے گئے۔ صرف دو صوبے یعنی بنگال اور پنجاب تقسیم ہوئے۔ دو آدھے صوبوں(مشرقی بنگال اور مغربی پنجاب)، سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان پر مشتمل پاکستان بھی ان کو قبول نہ تھا، بات یہ تھی کہ انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کے حق میں ہی نہ تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان محض جغرافیائی تقسیم کا نام نہ تھا بلکہ اسلام اور عقیدہ توحید سے موسوم ایک مملکت کا نام تھا۔ اسلام اور عقیدہ توحید …… نظریہ پاکستان کی اساس تھا اس لئے ہندو اور انگریز پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ کانگریسی رہنمائوں کے پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً دیے جانے والے بیانات ان کے خبث باطن کا عملی ثبوت تھے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14جون 1947ء کے اجلاس میں پاکستان کے متعلق اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار ان الفاظ میں کر دیا تھا ’’ہمارے دلوں میں ہمیشہ متحدہ ہندوستان کا تصور قائم رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب دو قومی نظریہ باطل، مسترد اور غیر معتبر قرار پائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ 14جون کا یہ بیان کانگریس کے کسی رہنما کا ذاتی نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کا پالیسی بیان تھا جو 15اگست کو بھارت کی عنان حکومت سنبھالنے والی تھی۔ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد 14جون کے اپنی پالیسی ساز اور سرکاری بیان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل کوشاں رہی۔ سانحہ مشرقی پاکستان کانگریس کی انہی مذموم اور ناپاک کوششوں کا نتیجہ تھا۔سرحدوں، پانی کے ذخائر اور اثاثوں کی غلط تقسیم، حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور جموں کشمیر پر قبضہ، مشرقی پنجاب اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام …… پاکستان کو غیر مستحکم کئے جانے والے اقدامات کی ابتدا تھی۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کو جنگ کی پہلی دھمکی اس کے قیام کے صرف 40دن بعد عدم تشدد کا پرچار کرنے والے گاندھی نے 26ستمبر 1947ء کو پرارتھنا کی ایک میٹنگ میں دی تھی اور اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد 27اکتوبر کی سیاہ شب بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں کشمیر میں داخل کر کے جنگ کی دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ ریاست جموں کشمیر کے 41,342مربع میل علاقہ پر قبضہ کے بعد بھارت کا اگلا محاذ مشرقی پاکستان تھا۔ حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جس طرح مشرقی پنجاب میں گورداسپور بھارت کو دے کر ریاست جموں کشمیر میں اس کی دراندازی کی راہ ہموار کی گئی تھی ایسے ہی بنگال میں کلکتہ بھارت کو دے کر اس کو آسانی و سہولت بہم پہنچائی گئی جبکہ مشرقی پاکستان کے لیے جغرافیائی، اقتصادی، معاشی اور دفاعی مشکلات کھڑی کی گئیں۔ کشمیر کی طرح کلکتہ کو بھی پاکستان سے کاٹنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔ جیسا کہ سردار پٹیل نے بعد میں کہا تھا ’’ہم بنگال کی تقسیم پر صرف اس صورت رضامند ہوئے تھے کہ ہمیں کلکتہ سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ اگر کلکتہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔‘‘27اکتوبر1947ء کو ریاست جموں کشمیر پر حملہ کے بعد یکم اپریل 1948ء کو بھارت نے ایک طرف مغربی پاکستان پر پہلا آبی حملہ کر کے پانی روک لیا جو مسلسل 34دن تک بند رہا تو دوسری طرف مشرقی پاکستان میں سازشوں کے دام ہمرنگ جال بچھانے اور وہاں کی فضا کو مسموم کرنے کے لیے کلکتہ میں تحقیقی مراکز قائم کئے جہاں گمراہ کن اعداد وشمار پر مبنی کتابیں، تصویریں ، پمفلٹس اور اشتہارات تیار کر کے مشرقی پاکستان بھیجے جاتے۔ یہ بات معلوم ہے کہ مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ عام تھے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی ہندو اساتذہ کا مرکزتھی۔تعلیمی ادارے دشمن کے سپرد کرد ینا اپنی سرحدیں دشمن کے لیے کھول دینے کے مترادف تھا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہندو اساتذہ کے تناسب کو بدلنے کی اشد ضرورت تھی۔ مگر ہمارے حکمرانوں نے اس سنگین مسئلہ سے پہلو تہی کئے رکھی جو بعد میں پاکستان کے دولخت ہونے کا پیش خیمہ بنی۔ کلکتہ سے تیار ہونے والا لٹریچر مشرقی پاکستان کے ہندو اساتذہ تک پہنچتا، وہ اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے، نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ اور زہر آلود کرتے، بنگالیوں میں احساس محرومی اجاگر کرتے، گمراہ کن اعداد وشمار بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ایسے لیکچر دیتے جن میں کہا جاتا کہ وسائل تو ہمارے ہیں مگر ان پر عیش وعشرت مغربی پاکستان والے کر رہے ہیں۔ اس طرح بنگالی نوجوان یہ سمجھنے لگے کہ جس آزادی کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں وہ مغربی پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کے ہاں گروی ہو چکی ہے۔ دونوں خطوں کا جغرافیائی محل وقوع، معاشرتی اور سماجی ڈھانچے میں فرق، زبان کا تنازع، صوبائی خود مختاری جیسے مسائل اندر اندر ہی چنگاری کی طرح سلگتے رہے۔ بھارتی پروپیگنڈہ اس چنگاری کو ہوا دیتا رہا اور پھر ایک وقت آیا جب یہ چنگاری شعلے کی طرح بھڑک اٹھی۔ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ ان مسائل و معاملات کو سلجھانے سدھارنے کی بجائے ان کے الجھائو اور بگاڑ کا سبب بنا۔جب یہ شعلہ بھڑکا تو سب کچھ راکھ ہو گیا، بھائی بھائی کا دشمن بن گیا، پاکستان دولخت ہو گیا، ایک جسم تھا جس کی دو آنکھیں پھوٹ گئیں، ایک دل تھا جس نے دھڑکنا چھوڑ دیا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کا باعث بننے والے مسائل پیچیدہ اور لاینحل ہرگز نہ تھے۔ تاہم سب سے اہم مسئلہ جس سے پہلوتہی کی گئی ……جس سے اغماض و اعراض برتا گیااور جو حقیقتاً مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنا وہ اسلام اور اللہ کے قرآن سے انحراف تھا۔ بات بہت سیدھی سی تھی کہ ہندوستان بہت وسیع و عریض خطہ تھا جس میں مسلمان دور دور تک بکھرے پڑے تھے۔وہ انتشار و اختلاف اور اضمحلال کا شکار تھے۔ راجکماری سے کراچی تک بکھرے مسلمانوں کو اگر کسی چیز نے ایک لڑی میں پرو دیا تو وہ … اسلام تھا۔ یہ اسلام کے نام کی برکت تھی کہ نیپال جیسے دوردراز خطے کی سرحد پر رہنے والے سادہ لوح مسلمان بھی پاکستان کے نام پر جان قربان کرنے کیلئے آمادہ و تیار اور پاکستان کے والہ و شیدا تھے۔ آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات کا تعین کرنے والے دونوں خطوں میں زبان، صوبائی خودمختاری اور زمینی و جغرافیائی جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں خطوں کے عوام نے مل کر وطن کے حصول کی مشترکہ جدوجہد کی تو کیا اس وقت یہ مسائل موجود نہ تھے……؟ سب کچھ ایسے ہی تھا۔ یہ مسائل اس وقت بھی تھے۔ زمینی خلیج اور زبان کی تفریق اس وقت بھی تھی لیکن اسلام کے رشتے کی وجہ سے ایک ہزار میل دور بیٹھے دونوں خطوں کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات ایک تھے اور ان کے دل بھی ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ بنگالی مسلمانوں کی اسلام کے ساتھ محبت شک وشبہ سے بالاتر تھی۔ انگریز کے انخلا اور وطن کی آزادی کے لیے ان کی قربانیاں تاریخ ساز تھیں۔ جماعت مجاہدین سے وابستہ بنگال و بہار کے مسلمان ایک سو سال تک انگریز کے خلاف برسرپیکار رہے، اسے لوہے کے چنے چبواتے رہے، قیدوبند کی صعوبتوں سختیوں کو سنتِ یوسفی سمجھتے رہے، پھانسی کے پھندوں کو جنت کی معراج جانتے رہے، آہنی زنجیر و سلاسل کو لباسِ زینت سمجھ کرپہنتے رہے اور جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تو اسے سید احمد اور شاہ اسماعیل شہیدین کی برپا کردہ مقدس جہادی تحریک کا تتمّہ اور ماحاصل سمجھ کر کامیاب کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بنگال و بہار سے تعلق رکھنے والے جماعت مجاہدین سے وابستہ جانبازوں اور سرفروشوں کا مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان بنانے میں اہم کردار تھا۔ لہذا جب پاکستان بن گیا تو ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کے قیام کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتا۔ لاالہ الااللہ کو محض نعرے کی بجائے اقتدار کے محلات، عدلیہ کے ایوانوں، عوام کی زندگیوں، ہر محکمے اور ہر شعبے میں عملاً نافذ کیا جاتا۔ یہاں ہوا یہ کہ اسلام کے نفاذ اور اس پر عمل کرنے کی بجائے سارا زور اسلام آباد کی تعمیر وتزئین، اسے بنانے، سجانے ، سنوارنے اور آباد کرنے پر رہا نتیجتاً…… اسلام آباد تو بن گیا……آباد ہو گیا…… اسلام نافذ نہ ہو سکا۔ سچی بات ہے کہ اگر پاکستان کا مقدر اسلام سے وابستہ کر دیا جاتا تو دونوں خطوں میں زبان ولسان کے مسائل پیدا ہوتے نہ صوبائی خودمختاری و احساس محرومی کا عفریت جنم لیتا اور نہ بھارت کی سازشیں پروان چڑھتیں وکامیاب ہوتیں۔ جب اسلام سے روگردانی اور بے وفائی کی گئی تو چھوٹے چھوٹے مسائل پہاڑ بن گئے ، نفرتوں، عداوتوں، مخالفتوں اور دشمنیوں کے بیج پھوٹنے لگے، بھارت کی بوئی ہوئی نفرت، لسانیت اور صوبائیت کی فصل پک کر تیار ہو گئی تو پھر دہشت گردی، تخریب کاری اور بغاوت کو منظم کرنے کیلئے بنگلہ دیش کی نام نہاد عبوری اور جلاوطن حکومت کا ہیڈکوارٹر کلکتہ کے علاقے 58بالی گنج میں بنایا گیا۔ 3دسمبر کو جب اندرا گاندھی نے اپنی فوج کو مشرقی پاکستان پر علی الاعلان حملہ کرنے کا حکم دیا تو اس وقت وہ کلکتہ میں تھیں حملہ آور بھارتی فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگے ہوئے بنگالی جوان، افسر اور مکتی باہنی کے دستے اس کے علاوہ تھے۔ پاک فوج کے مقابلے میں دشمن کی طاقت سات گنازیادہ تھی۔ چنانچہ 16دسمبر کو پاک فوج کو ڈھاکہ ریس کورس میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔جن لوگوں نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج اور ریاست کے خلاف جنگ لڑی انہوں نے اس جنگ کو اپنی …اور اپنے وطن کی آزادی کی جنگ قرار دیا تھا۔ لیکن کیا واقعی یہ ان کی اپنی جنگ تھی …؟ اور کیا واقعی یہ ان کے اپنے خطے کی آزادی کی جنگ تھی…؟ خوش فہمی اور خوش گمانی کا شکار ان لوگوں کو 16دسمبر کے دن ہی اپنے سوالوں کے جوابات مل گئے تھے اور یہ تلخ حقیقت ان پر واضح ہو گئی تھی کہ جس جنگ کو انہوں نے مشرقی پاکستان کی آزادی کی جنگ سمجھا… وہ دراصل بھارت کی بالادستی قبول کرنے اور اس کی غلامی کا طوق پہنائے جانے کی جنگ تھی۔ پاک فوج سے بھاگنے والے بنگالی فوجی جوانوں، افسروں اور مکتی باہنی کے دستوں پر مشتمل جو فوج تشکیل دی گئی بھارتی میڈیا کے بقول اس کی تعداد 2لاکھ تھی۔ پاک فوج سے بھاگنے والا کرنل عثمانی اس فوج کا کمانڈر انچیف اور مشترکہ کمانڈ کا بھی سربراہ تھا۔ جب ڈھاکہ کے ریس کورس میں ہتھیار ڈالے جانے کی تقریب منعقد ہوئی تو بھارتی فوج نے کمانڈر انچیف کرنل عثمانی اور اس کے فوجی افسروں کو اس تقریب کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا تھا۔ حالانکہ یہ وہی کرنل عثمانی تھے جن کو بھارتی حکومت نڈر، بہادر، شہ زور، نہ ڈرنے والا، نہ جھکنے والا، نہ مفاہمت و مصالحت کرنے والا بنگا بیر (شیر بنگال) کہا کرتی تھی۔ بھارت نے اس شیر بنگال سے جو کام لینا تھا لے لیا،کام نکل جانے کے بعد اسے دھتکار دیا اور مکھن سے بال کی طرح باہر نکال پھینکا۔ اگر شیر بنگال اور بنگلہ دیش کی افواج کے کمانڈر انچیف کی بھارتی فوج کے سامنے یہ بے بسی تھی تو باقی بنگالی فوجی افسروں یا عام سویلین جنہوں نے بھارت کا ساتھ دیا تھا ان کی اوقات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ اقوام عالم کی تاریخ بتاتی ہے کہ اپنے وطن اور اپنی دھرتی کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور دشمنوں کا ساتھ دینے والوں سے فاتح فوجیں ہمیشہ یہی سلوک کرتی ہیں۔ جنرل نیازی نے جنرل اروڑا سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈالے، اپنا سروس ریوالور جنرل اروڑا کے سپرد کیا، ہتھیار ڈالے جانے کی دستاویز پر جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کے دستخط تھے اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی سرزمین پر لے جا کر قیدی بنایا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت بھارت کی بالادستی کی جنگ تھی جو ا س نے پاکستان سے ناراض بنگالیوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر لڑی۔ بھارت کا مقصد پاکستان کو دولخت کرنا تھا اور مشرقی پاکستان کو اپنے زیراثر لانا تھا۔ بعد ازاں اندرا گاندھی نے اپنے ان مذموم مقاصد کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا ’’آج ہم نے دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے اور آج ہم نے ہزار سالہ ظلم کا بدلہ لے لیا ہے۔‘‘بھارت مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر 1950ء کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔ اسی طرح بھارت 1966ء کے ان پاک بھارت معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا جن میں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ بھارت کو پاکستان کے معاملے میں نہ UNOکے چارٹر کی پروا ہے اور نہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پاسداری ہے۔ بھارت کاآج بھی پاکستان کے ساتھ یہی رویہ، یہی برتائو اور سلوک ہے۔ ایک طرف بھارتی حکمران سرحدوں کو نرم کرنے کی بات کرتے اور دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی کر کے پاکستان میں آبی دہشت گردی کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک بھارتی حکمران بلوچستان کو حق خودارادیت دینے اور پاکستان کا حصہ تسلیم نہ کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان، صوبہ خیبرپی کے اور کراچی میں بھارتی دہشت گردی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ بھارت پاکستان دشمنی میں آج بھی اسی جگہ کھڑا ہے جہاں وہ 66سال پہلے یا 16دسمبر 1971ء کے موقع پر تھا۔ وہ مذاکرات اور دوستی کی آڑ میں اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ وہ پاکستان کو نیپال اور بھوٹان بنانا چاہتا ہے۔ اس نے دشمنی نہیں طریقہ واردات بدلا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی بھارت کا رویہ منافقانہ اور عیارانہ ہے۔ کشمیر میں دیوار برہمن کی تعمیر کا اعلان اس کے استعماری، استحصالی، توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان دشمنی کا کھلاثبوت اور واضح اظہار ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان اور اس کے بعد سے اب تک بھارت کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور مسئلہ کشمیر پر اس کی ہٹ دھرمی …… ہمارے حکمرانوں کی برہمن کے ساتھ مصالحت، مفاہمت اور دوستی کی بے جا توقعات وابستہ کرنے کانتیجہ ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بھارت کے ساتھ بے جا کشیدگی کو ہوا دی جائے، جنگ وجدل کا بازار گرم کیا جائے، مخالفت، مخاصمت اور عداوت کی فضا پیدا کی جائے لیکن ہم یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ بے جا مصالحت، بے مقصد مفاہمت ، لایعنی مذاکرات اور کھوکھلی و یک طرفہ اعتماد سازی کی امیدیں ہمیشہ جارحیت کو دعوت دیتی ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے پاکستان کے ساتھ ماضی و حال میں روا رکھے جانے والے رویہ و کردار، قول وفعل، اس کی دوستی و دشمنی اور سانحہ مشرقی پاکستان کے زخموں کے تناظر و آئینہ میں معاملات طے کئے جائیں۔یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 1971ء کے موقع پر بہت سے لوگوں نے پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کی تھیں، بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ابتداً شیخ مجیب الرحمن نے جنگی جرائم کے تحت ان پر مقدمہ چلانا چاہا لیکن بعد میں ان لوگوں کو پاک فوج کے ساتھ تعاون کرنے والا قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا گیا تھا۔ اب بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت 42سال بعد طے شدہ معاملات کو ایک بار پھر اٹھا رہی ہے۔ پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کرنے والوں کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ بھارتی حکومت کی ایما پر کیا جا رہا ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی کا پرنالہ آج بھی اسی جگہ ہے۔سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں ہمیں بحثیت قوم اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ 42سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم نے اس سانحہ سے کیا سبق حاصل کیا…؟ کیا پایا…؟ کیا کیا… اب مزید کیا کرنا ہوگا … ؟ ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں، ان غلطیوں کی اصلاح کیسے اور کیوں کر ممکن ہے؟ 1971ء میں ہم عسکری اعتبار سے کمزور تھے اس لیے بھارت کو جارحیت کی جرأت ہوئی آج ہمارا ملک ایٹمی طاقت ہے۔ یہ اہم ترین پیش رفت اور کامیابی ہے جس سے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ پروگرام شروع کیا۔ پاک فوج نے اس کی حفاظت، نگہداشت، پرداخت کی، اسے آگے بڑھایا، پروان چڑھایا اور پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو باضابطہ طور پر ایٹمی طاقت بنایا۔ بحمدللہ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اب پاکستان بھارت کے لیے ترنوالہ نہیں رہا۔ جہاں تک فکری ونظریاتی سرحدوں کا معاملہ ہے اس ضمن میں ہمارے حکمران آج بھی 71ء کی طرح غفلت و مداہنت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں پر قابض ہندو اساتذہ ملک کی فکری و نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرتے رہے تو آج ہمارے تعلیمی اداروں پر غیرملکی این جی اوز قابض اور ہماری تعلیمی پالیسیاں انگریز بنا رہے ہیں ۔ یہ سنگین ترین قسم کی غفلت اور مجرمانہ خاموشی ہے جس کے ماضی میں ہم تباہ کن اثرات بھگت چکے ہیں۔ بنگالیوں نے بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھائیں اور اس پر اعتماد کیا تو ہماری پوری قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ آج پھر ہمارے حکمر ان بھارت کے ساتھ دوستی اور محبت کے رشتے استوار کر رہے بلکہ اسے پسندیدہ ملک قرار دینے کیلئے بے تاب و بے چین نظر آتے ہیں۔ 71ء کے موقع پر ہم اندر سے ٹوٹ گئے اور کمزور ہو گئے تھے، آج بھی دشمن ہمیں اندر سے توڑنے اور کمزور کرنے کے درپے ہے۔ یہ سارے معاملات قابل توجہ اور قابل اصلاح ہیں۔ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ 16دسمبر کا سانحہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج پر قرض ہے۔ دانا آدمی مقروض ہو جائے تو وہ قرض خواہ کے پائوں نہیں پڑتا بلکہ ہمیشہ قرضہ چکانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جو آدمی قرض کی ادائیگی سے بے پروا ہو جائے وہ قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب اس کا گھر رہتا ہے نہ عزت و آبرو۔ لوگ اس کے جسم کے کپڑے تک نوچ لیتے ہیں۔ یہی حال قوموں کا ہے قوموں کی تقدیر کے فیصلے حقائق سے آنکھیں چرانے، گھگھیانے، کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے اور شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبانے سے نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے فہم و فراست، عقل ودانش، جرأت و شجاعت، دلیری و بہادری، خون کی سیاہی اور شمشیر کی نوک سے لکھے جاتے ہیں۔ یہی زندہ و خوددار قوموں کا طریقہ وتیرہ اور شیوہ ہے اور یہی 16دسمبر کا سبق ہے۔٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سرن میں نئی دریافت

سرن میں نئی دریافت

تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفتحالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

ذہنی صحت پر حیران کن اثرات ،ایک سائنسی جائزہجدید دور میں نوجوانوں کی زندگی جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ کے گرد گھومتی ہے وہیں ایک اور اہم مگر نظرانداز پہلو اْن کی خوراک ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی خوراک ان کی ذہنی صحت پر ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق، جو برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، نشاندہی کرتی ہے کہ صحت مند غذا اور ذہنی سکون کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جبکہ غیر معیاری خوراک ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں تقریباً 19 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں ایک واضح رجحان سامنے آیا اور وہ یہ کہ بہتر خوراک کا نتیجہ کم ڈپریشن جبکہ غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل سامنے آنے والا سائنسی رجحان ہے اور دیگر مطالعات بھی اسی نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ جو نوجوان زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ صرف وٹامن یا سپلیمنٹس لینے سے واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر وٹامن ڈی کے حوالے سے کچھ مثبت نتائج ضرور ملے مگر وہ مستقل نہیں تھے۔اس کے برعکس مکمل غذا کا مجموعی معیار زیادہ اہم ثابت ہوا ہے یعنی متوازن خوراک اورقدرتی اجزا کا استعمال اورپراسیسڈ فوڈ سے پرہیز،یہ مجموعی طور پر ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں زیادہ مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانی وہ مرحلہ ہے جب دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں خوراک کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اگر اس دور میں غذا غیر متوازن ہو تودماغی کیمیائی عمل متاثر ہو سکتے ہیں،جذباتی توازن بگڑ سکتا ہے،ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ وہ ونڈو آف اپرچونٹی ہے جہاں بہتر خوراک کے ذریعے مستقبل کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جنک فوڈ اور ذہنی مسائلتحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنک فوڈ خاص طور پر وہ خوراک جو چکنائی اور چینی سے بھرپور ہو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایسی غذاڈپریشن کے امکانات بڑھاتی ہے،یادداشت کو متاثر کرتی ہے، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کم کرتی ہے۔کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم معیار کی غذا لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 80 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ گٹ برین کنکشنجدید سائنس ایک اور اہم پہلو پر زور دیتی ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔خوراک ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے جو براہِ راست دماغی افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ناقص غذا کے اثرات نیوروٹرانسمیٹرز (جیسے سیروٹونن) کی پیداوار متاثر،سوزش (inflammation) میں اضافہ اورموڈ میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اوریہ عوامل ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کھانے کی عادات بھی اہمصرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کیسے کھاتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ناشتہ نہ کرنا ذہنی مسائل بڑھا سکتا ہے،فیملی کے ساتھ کھانا کھانا ذہنی سکون دیتا ہے،بے ترتیب کھانے کی عادات منفی اثر ڈالتی ہیں، یعنی خوراک کا معیار اور انداز دونوں اہم ہیں۔ سماجی و معاشی عوامل کا کرداریہ تعلق اتنا سادہ بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ معاشی حیثیت،صنفی فرق، خاندانی ماحول۔مثلاً کم آمدنی والے خاندانوں میں صحت مند خوراک تک رسائی کم ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سائنسدان ابھی بھی اس تعلق کو مکمل طور پر ''سبب اور نتیجہ‘‘ کے طور پر ثابت نہیں کر سکے۔یعنی کیا خراب غذا ذہنی مسائل پیدا کرتی ہے یاکیا ذہنی مسائل خراب کھانے کی عادات پیدا کرتے ہیں؟اس سوال کا مکمل جواب ابھی باقی ہے، اسی لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جیسا کھاؤ گے ویسا سوچو گےتاہم یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت صرف نفسیاتی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر مضبوط ہو ڈپریشن اور اینگزائٹی سے محفوظ رہے، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھے تو ہمیں ان کی خوراک پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔متوازن غذا، قدرتی اجزا اور صحت مند کھانے کی عادات نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی طاقت دیتی ہیں ،اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ جو کھاتے ہیں وہی آپ کی سوچ، مزاج اور ذہنی کیفیات کو تشکیل دیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اسلامی جمہوریہ ایران کا قیامیکم اپریل 1979ء ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا جب عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایران کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم اس انقلاب کا منطقی نتیجہ تھا جو 1978-79ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف برپا ہوا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مذہبی بنیادوں پر قائم نظام کی بنیاد رکھی۔ریفرنڈم میں ایرانی عوام سے ایک سادہ سوال پوچھا گیا: کیا آپ اسلامی جمہوریہ چاہتے ہیں؟ سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 98 فیصد ووٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یکم اپریل ایران میں یومِ جمہوریہ اسلامی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کا خاتمہیکم اپریل 1939ء کو ہسپانوی خانہ جنگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی جب جنرل فرانسسکو فرانکو کی افواج نے فتح کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 1936ء میں شروع ہوئی تھی اور اس میں جمہوری حکومت کے حامیوں (ریپبلکنز) اور قوم پرستوں (نیشنلٹس) کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔فرانکو کی قیادت میں قوم پرستوں کو جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ ریپبلکنز کو سوویت یونین اور بین الاقوامی رضاکاروں کی مدد حاصل تھی۔ یکم اپریل کو فرانکو نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔اس فتح کے بعد سپین میں ایک طویل آمریت کا آغاز ہوا جو 1975ء میں فرانکو کی موت تک جاری رہی۔ بی بی سی کا اپریل فولیکم اپریل 1957ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک مشہور اپریل فول مذاق کیا جسے تاریخ کے کامیاب ترین میڈیا ہوکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں سپیگٹی کے درخت اُگتے ہیں اور لوگ ان سے سپیگٹی توڑ رہے ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں نشر ہوئی جو عام طور پر سنجیدہ اور تحقیقی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بہت سے ناظرین نے اس خبر کو سچ مان لیا۔ نشر ہونے کے بعد بی بی سی کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ وہ سپیگٹی کا درخت کیسے اُگا سکتے ہیں۔یہ واقعہ میڈیا کی طاقت اور عوام کے اعتماد کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کس طرح معلومات کی تصدیق کے بغیر لوگ کسی بھی خبر کو سچ مان سکتے ہیں۔ فارو جزائر کی خود مختاری یکم اپریل 1948ء کو ڈنمارک کے زیر انتظام فارو جزائر کو خود مختار حیثیت دی گئی۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ نما علاقہ ہے جہاں کے عوام نے طویل عرصے تک خود حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فارو کے عوام میں قومی شناخت کا شعور مزید مضبوط ہوا۔ 1946ء میں ایک ریفرنڈم بھی ہوا جس میں معمولی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم ڈنمارک نے مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک سمجھوتہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1948ء کا ہوم رول ایکٹ نافذ کیا گیا جو یکم اپریل سے مؤثر ہوا۔اس قانون کے تحت فارو جزائر کو داخلی معاملات پر مکمل اختیار دیا گیا جبکہ خارجہ امور اور دفاع ڈنمارک کے پاس رہے۔

وادیِ سندھ کی تہذیب

وادیِ سندھ کی تہذیب

عالمگیر تمدن،سامی رابطہ اور الہامی روایت آثارِ قدیمہ کے ممتاز محقق رچرڈ ایچ میڈوز ( Richard H. Meadow) کے مطابق قدیم سندھی تہذیب محض ایک محدود جغرافیائی یا علاقائی تمدن نہیں بلکہ ایک طویل اور ہمہ گیر ثقافتی عہد کا نام ہے جس کی وسعت وادی سندھ اور ہاکڑا کے میدانوں سے نکل کر بلوچستان، چولستان، تھر، ساحلِ مکران، گجرات اور اس سے ملحقہ جزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیگر عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق بھی اس تہذیب کے اثرات مغرب کی جانب فارس اور عراق سے ہوتے ہوئے ترکیہ کے آخری خطوں تک پہنچے، حتیٰ کہ جارجیا اور آرمینیا میں ملنے والے کھنڈرات میں بھی اس کے نقوش نمایاں ہیں۔مارک کینویر اور جم شیفر نے قدیم سندھی تہذیب کو چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلا دور حجری یا نو حجری (Neolithic) کہلاتا ہے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وادیِ سندھ کی تہذیب اب تک معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین شہری تہذیب قرار پاتی ہے، جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کا عمومی اتفاق موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں مصر کی فراعینی تہذیب تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کی ہے جبکہ یونان (ایتھنز اور سپارٹا)، جنوبی امریکہ کی انکا، مایا اور ازٹیک تہذیبیں، نیز میسوپوٹیمیا (سومر اور بابل) اور عیلامی تہذیبیں اپنی تمام تر عظمت کے باوجود قدامت میں وادیِ سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔سات شہری ریاستیں اور بادِ ایمن کا تصوروادیِ سندھ کی تہذیب میں سات عظیم شہری ریاستوں کا ذکر ملتا ہے جن کے لیے بعض مؤرخین نے بادِ ایمن (Bad Imin) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان ریاستوں میں موئن جو دڑو، چہنوں جو دڑو، نال، آمری، ہڑپہ، نصیرآباد اور مہرگڑھ شامل ہیں۔ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زراعت اور تجارت اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ رزق کی فراوانی عام تھی اور غربت یا پسماندگی کے منظم آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غالباً اسی معاشی خوشحالی، امن اور سماجی توازن کے باعث ان ریاستوں نے مشترکہ تہذیبی شناخت کے طور پر ''بادِ ایمن‘‘ کو قبول کیا۔ویدک، غیر ویدک اور عربی روایاتسندھی تہذیب کو محض ویدک رشیوں کی پیداوار کہنا درست نہیں بلکہ یہ ویدی اور غیر ویدی عناصر کا ایک پیچیدہ اور بامعنی امتزاج ہے۔ مہا بھارت کے واقعات بالخصوص کوروؤں کی حمایت کرنے والے قبائل کے نام اگر عربی لسانی و تاریخی تناظر میں دیکھے جائیں تو قدیم تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو روشن ہوتے ہیں۔مثلاً شیمی قبیلہ جس کا ذکر شورکوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ملنے والی قدیم تحریروں میں شیمی پورہ کے نام سے ملتا ہے، عربی اور سبائی روایات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عربوں میں دادا کا نام پوتے کو دینا عام روایت تھی جس سے ہندی اوس اور عربی اوس (فرزندانِ سبا) کے مابین نسلی ربط واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح مہا بھارت کے شکست خوردہ فریق کے سردار راجہ کرن کا عربی متبادل ملکِ قرن بنتا ہے جو عربی تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔سید سلیمان ندوی نے سوامی دیانند سرسوتی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مہا بھارت کے زمانے تک ہندوستان میں عربی زبان نہ صرف سمجھی جاتی تھی بلکہ بولی بھی جاتی تھی جو برصغیر اور عرب کے مابین قدیم لسانی ربط کا واضح ثبوت ہے۔جغرافیائی ناموں کی تاریخی گردشہند اور سند محض نسلی نہیں بلکہ جغرافیائی اصطلاحات ہیں جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں۔ چوتھی صدی عیسوی تک جنوبی عرب کے بعض حصے ارضِ ہند کہلاتے تھے جبکہ ابلہ اور بصرہ جیسے مقامات بھی اسی نام سے معروف رہے۔ اوستائی دور میں ایران کا جنوبی حصہ بومِ ہندواں کہلاتا تھا اور عیلام کے بادشاہ کدراَدا کورماکو کو کدرتانِ ہندی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام شواہد ہند، سندھ اور عرب کے باہمی تاریخی ربط کو تقویت دیتے ہیں۔سندھی مہریں، رسم الخط اور مغربی تعصبسر جان مارشل نے 1925ء میں سندھی مہروں کا مطالعہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کا تعلق عراق کے اکدی دور تک جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہروں کو بائیں سے دائیں نہیں بلکہ دائیں طرف سے پڑھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بعد کے اکثر مغربی محققین نے دانستہ طور پر ان نوشتوں کو سامی، عربی یا عبرانی تناظر میں پڑھنے سے گریز کیا تاکہ وادیِ سندھ کی تہذیب کو الہامی روایت سے جوڑنے سے بچا جا سکے۔مولانا ابوالجلال ندوی اور ڈاکٹر خالد حسن قادری کا دوٹوک مؤقف ہے کہ قدیم سندھی نوشتے عربی کی ابتدائی صورت ہیں۔ مولانا ندوی کے مطابق چین کے سوا دنیا کی اکثر ابجدوںیونانی، لاطینی، عبرانی، عربی، اردو اور دیوناگری کا سلسلۂ نسب ہڑپہ کے نوشتوں سے جا ملتا ہے۔ اہرامِ مصر، موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار محض اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس علم کی یادگار ہیں جو نسلِ انسانی کو منتقل ہوا۔ مغرب آج بھی ان تہذیبوں کے کئی اسرار حل کرنے سے قاصر ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قدیم دنیا محض ابتدا نہیں بلکہ گہری روحانی اور علمی بنیادوں پر قائم تھی۔

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

صحت اور نفسیات کا اہم سوالڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ایک اہم سوال تیزی سے زیرِ بحث آ رہا ہے کہ بچوں کو سمارٹ فون کس عمر میں دیا جائے؟ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری میں سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشروں میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون عام ہوتے جا رہے ہیں۔ایک جامع تحقیق، جس میں 10 ہزار سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل تھا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر تک سمارٹ فون تھا، ان میں کئی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں ڈپریشن کی شرح زیادہ تھی۔ تقریباً 5.7 فیصد سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ڈپریشن پایا گیا جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سکرین ٹائم، سوشل میڈیا کا دباؤ اور آن لائن دنیا میں موازنہ کرنے کی عادت بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی زیادہ پایا گیا اور تقریباً 16 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے بجائے سکرین پر وقت گزارتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سمارٹ فون رکھنے والے بچے اوسطاً روزانہ تقریباً 17 منٹ کم سوتے ہیں۔ یہ معمولی فرق لگ سکتا ہے مگر مسلسل نیند کی کمی بچوں کی نشوونما، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جتنی کم عمر میں بچے کو سمارٹ فون دیا جائے اتنے ہی زیادہ صحت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے 12 سال کی عمر کے بعد فون لیتے ہیں ان میں بھی نیند کی کمی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگرچہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ صرف سمارٹ فون ہی مسائل کی وجہ ہے۔ کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کو فون کب ملا بلکہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر استعمال متوازن ہو، والدین کی نگرانی ہو، اور سکرین ٹائم محدود ہو تو خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں صورتحالپاکستان میں یہ مسئلہ کچھ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے ، مثال کے طور پرشہری علاقوں میں بچوں کو کم عمری میں موبائل فون مل جاتا ہے۔آن لائن کلاسز اور یوٹیوب نے سمارٹ فون کو ''تعلیمی ضرورت‘‘بنا دیا ہے اوروالدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے فون دے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ) کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بچوں میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ یہ تمام عوامل بچوں کے سکرین ٹائم کو بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور سماجی میل جول سے دور ہو رہے ہیں۔والدین کیا کریں؟ماہرین کے مطابق سمارٹ فون دینا کوئی غلط فیصلہ نہیں، لیکن اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ممکن ہو تو بچوں کو کم از کم 13 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سمارٹ فون دیں۔روزانہ استعمال کا وقت مقرر کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔بچوں کو سونے کے وقت فون سے دور رکھیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔ کھیل کود، واک اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔حقیقی زندگی میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سمارٹ فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنے کا ایک عمل ہے جس میں بچوں اور والدین دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حالیہ تحقیق واضح طور پر یہ اشارہ دیتی ہے کہ بچوں کو کم عمری میں سمارٹ فون دینا ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے ہو رہی ہے، والدین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط فیصلہ کریں۔اہم سوال یہ نہیں کہ بچے کو فون دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس حد تک دینا ہے۔اور یہی فیصلہ بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایفل ٹاور کا افتتاح 31 مارچ 1889ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی شاہکاروں میں سے ایک، ایفل ٹاور کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ٹاور فرانسیسی انجینئر گوستاو ایفل کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے فرانسیسی انقلاب کے 100 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ایفل ٹاور کی تعمیر 1887ء میں شروع ہوئی اور دو سال، دو ماہ اور پانچ دن میں مکمل ہوئی۔ابتدائی طور پر پیرس کے کئی ادیبوں اور فنکاروں نے اس کی مخالفت کی اور اسے شہر کے حسن کے خلاف قرار دیا مگر وقت کے ساتھ یہ نہ صرف پیرس بلکہ پورے فرانس کی پہچان بن گیا۔ آئزک نیوٹن کا انتقال 31 مارچ 1727ء کو عظیم برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا لندن میں انتقال ہوا۔ نیوٹن کو جدید سائنس کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، خصوصاً طبیعیات اور ریاضی کے میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین پیش کیے جنہوں نے کائنات کے طبعی نظام کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی کتاب Philosophiæ Naturalis Principia Mathematicaکو سائنس کی تاریخ کی سب سے اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کی دریافتوں نے نہ صرف سائنسی تحقیق کو نئی سمت دی بلکہ صنعتی انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی رکھی۔جارجیا ریفرنڈم31 مارچ 1991ء کو جارجیا میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں عوام نے سوویت یونین سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم میں تقریباً 99 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جو اس بات کا واضح اظہار تھا کہ جارجیا کے عوام سوویت کنٹرول سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد 9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔یہ واقعہ نہ صرف جارجیا بلکہ دیگر سوویت ریاستوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں آزادی کی تحریکیں تیز کر دیں۔یہ ریفرنڈم سرد جنگ کے خاتمے اور دنیا کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ٹیری شیاوو کا انتقال 31 مارچ 2005ء کو امریکہ میں ایک خاتون ٹیری شیاوو کا انتقال ہوا، جو ایک طویل قانونی اور اخلاقی تنازعے کا مرکز بنی رہی۔ وہ 1990ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد مستقل کومے کی حالت میں چلی گئی تھی۔اس کے شوہر اور والدین کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پیدا ہوا کہ آیا اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھا جائے یا نہیں۔ یہ معاملہ امریکی عدالتوں، سیاستدانوں، حتیٰ کہ امریکی کانگریس تک پہنچ گیا۔بالآخر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کی خوراک کی نالی ہٹا دی جائے جس کے بعد 31 مارچ 2005ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے اور طبی اخلاقیات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔