ریل گاڑی
اسپیشل فیچر
آج جتنے عرصے میں ہم پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جا پہنچتے ہیں،سو سال پہلے اتنے ہی وقت میں لاہور سے صرف پشاور پہنچا کرتے تھے۔جب ہم برگد کا درخت دیکھتے ہیں جس کی پھیلی شاخوں اور چوڑے چکلے پتوں نے زمین کے اچھے خاصے ٹکڑے کو گھڑے میں لے رکھا ہے،یا کھجور کا درخت جس کی چوٹی آسمان سے باتیں کر رہی ہے تو یہ قیاس میں لانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ سب ایک ننھے سے بیج کا کرشمہ ہے۔بالکل یہی حالت آج کل کے دیو جیسے اور تیز رفتار ریلوے انجنوں کی ہے جن کی حقیقت آج سے کچھ عرصے پہلے کچھ بھی نہ تھی۔ہمیں ان سائنس دانوں کی ہمت ،صبر اور استقلال کی داد دینی چاہیے جنہوں نے ان تھک کوششوں سے بھاپ کو انسان کا غلام بنادیا اور لوہے کی پٹری پر لوہے کے بڑے بڑے انجن دوڑادئیے۔انگلستان میں 1650ء میں لوہے کی پٹری پر پہیے دار گاڑیاں چلنے لگی تھیں۔انہیں گھڑوے کھینچتے تھے اور ان میں کانوں سے کو ئلا ڈھویا جاتا تھا۔لندن میں ایک سواری پٹری پر چلتی تھی۔اسے گھوڑے بھی کھینچتے تھے۔جن سائنس دانوں نے بھاپ کی طاقت کا راز معلوم کر لیا تو انہوں نے بھاپ سے چلنے والا انجن بنانے کی ٹھانی جو گھوڑے کی جگہ نہ لے سکے ۔اس قسم کے انجن کی ایجاد میں بہت سے سائنس دانوں کا ہاتھ ہے۔انہی میں سے ایک انگریز ،ٹری وی تھک تھا جس نے 1804ء میں بھاپ کا انجن بنانے کی کوشش کی ۔مگر جارج اسٹیفن سن ان سب سے بازی لے گیا۔جارج اسٹیفن سن بھی انگریز ہی تھا۔اسٹیفن سن کو بچپن سے ہی انجنوں سے بہت لگائو تھا اور وہ ان کل پرزوں کو دیکھتا بھالتا رہتا تھا۔آخر وہ سال ہا سال کی محنت کے بعد،1815ء میں ایک ایساانجن بنانے میں کامیاب ہوگیا جو بھاپ سے چلتا اور پٹری پر دوڑتا تھا۔اس انجن کا نام راکٹ تھا۔1825ء میں انگلستان میں پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی تو اس پر اسٹیفن سن کا ہی انجن چلایا گیا۔اس انجن نے 1829ء میں36 میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ کر 500 پونڈ کا انعام حاصل کیا۔1830ء میں امریکا میں ایک شخص نے پٹری پر چلنے والا انجن تیار کیا اور ایک بگھی سے اس کی دوڑ لگائی ۔لیکن ایک رکاوٹ پیش آنے کے سبب بگھی آگے نکل گئی ۔اس انجن کے مالک کو افسوس رہا لیکن یہ بات ثابت ہوگئی کہ گاڑیوں کا بے جان گھوڑا جاندار گھوڑے پر فوقیت رکھتا ہے۔1830 ء اور 1831 ء میں اور بھی انجن بنائے گئے جن سے گاڑیاں کھینچنے کا کام لیا جانے لگا۔اس سے پہلے تمام انجن جن ڈبوں کو کھینچتے تھے وہ صرف مال اسباب ڈھونے کے لیے ہوتے تھے آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ان میں نہ ہوتی لیکن ان انجنوں میں ایسے ڈبے لگائے گئے جن میں آدمی بیٹھ سکتے تھے۔البتہ یہ تکلیف ابھی باقی تھی کہ جب انجن چلتے چلتے ایک دم کھڑا ہوجاتا یا کھڑے کھڑے اچانک چل پڑتا تو مارے ہچکولوں کے سواریاں آپس میں ٹکرا جاتی تھیں اور انہیںسخت تکلیف اٹھانی پڑتی۔سواریوں کو ایک اور تکلیف کا بھی سامنا تھا۔اکثرا وقات چلتے چلتے جنگل میں ایندھن ختم ہوجاتا تھا۔ایسے وقت سواریوں کو اتر کر جنگل سے لکڑیاں لا کر انجن کی خوراک کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔دھیرے دھیر ے ان مشکلات پر قابو پالیا گیا اور ایسے انجن بنائے گئے جو بہت طاقتور بھی تھے اور چلنے میں ہچکولے بھی کم لگتے تھے۔اب ہر ملک میں ایک سے ایک بہتر انجن بننے لگے ہیں اور اس قدر بنے کہ بجائے ناموں کے انہیں نمبروں سے پکارا جانے لگا۔اول اول تو انسان اور جانور انجنوں سے غیر مانوس رہے،مگر آخر سب کو عادت پڑ گئی اور اب یہ حال ہوگیا کہ جانور ریل کی پٹری پر آکر کھڑے ہوجایا کرتے جنہیں ہٹانے کے لیے انجن کو ڈرائونی آوازیں نکالنی پڑتی تھیں ۔مگربعض اوقات جانور پٹری سے نہ ہٹتا تھا اور مجبورا گاڑی کو روکنا پڑتا ۔اس تکلیف سے بچنے کے لیے انسان نے ایسا پرزہ ایجاد کیا جو گائے بھینس اور دوسری رکاوٹوں کو جوانجن کے سامنے آئیں،اٹھا کر دائیں بائیں پھینک دے۔آخر وہ وقت آگیا جب برِصغیر پاک و ہند میں ریل کی پٹری کا جال بچھنا شروع ہوا۔سب سے پہلے ہندوستان میں 1845ء میں کلکتے سے رانی گنج ،بمبئی سے کلیان اور مدراس سے ارکونام تک ریل کی پٹریاں بچھائی گئیں۔یہ پاکستان میں پہلی ریلوے لائن تھی۔جب سے اب تک ریلوے انجنوں نے بہت ترقی کی ہے ۔پہلے پہل بھاپ کے انجن بنے ،پھر ان کی جگہ ڈیزل سے چلنے والے انجن نے لے لی۔اس کے بعد بجلی سے چنے والے انجن بنے ۔ڈیزل اور بجلی کے انجن بھاپ کے انجنوں سے بہت تیز رفتار اور ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ریلوے کی بدولت جغرافیائی امتیازمٹ گئے ہیں۔گوشے گوشے کے آدمی آپس کے میل جول سے اتحاد و الفت کی لڑی میں پرو دیے گئے اس لحاظ سے ریل بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔جس طرح انجنوں کی شکل و صورت اور رفتار میںاضافے ہوئے ۔اسی طرح ریل کے ڈبوں میں بھی طرح طرح کی تبدیلیاں کر کے انہیں بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔آج کل کی گاڑیوں کے ڈبوں میں بجلی کے پنکھے ،نرم نرم گدیلے میز ،کرسیاں،سردی ،گرمی اور ریت سے حفاظت کے سامان مہیا کیے گئے ہیں۔نہانے کے لیے غسل خانے اور لمبے سفروں میں گاڑیوں کے ساتھ کھانے کے ڈبے بھی ہوتے ہیں۔٭…٭…٭