چندا کی نگری سے آ جا رے نندیا
اسپیشل فیچر
ایک زمانہ تھا جب ہندوستان اور پاکستان کی فلموں میں لوریوں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ ان لوریوں نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ بعض فلموں کی ریکارڈ کامیابی میں ان کا بھی اہم کردار تسلیم کیا گیا۔لوری دراصل وہ گیت ہے جو ماں یا باپ اپنے ننھے منے بچوں کو رات کو سُلانے کے لیے گاتے ہیں۔فلموں میں جو لوریاں گائی گئیں وہ اتنی پُر اثر اور شاندار تھیں کہ مائیں اپنی حقیقی زندگی میں بھی اپنے ننھے منے بچوں کو سلانے کے لیے رات کو انہیں گایا کرتی تھیں۔ان فلمی لوریوں کی شاعری اور موسیقی دلفریب تھی اور پھر جن گلوکاروں اور گلوکارائوں نے ان لوریوں کو اپنی آواز بخشی وہ بھی بے مثال تھے۔دراصل فلمی لوریاں ہمارے معاشرے میں اس لیے مقبول ہوتی تھیں کہ اس وقت انسانی اقدار کی پاسبانی کی جاتی تھی۔لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام کے جذبات پائے جاتے تھے۔ اور ان کے دل انسانیت کے درد سے معمور ہوتے تھے۔آج پورا معاشرہ خود غرضی اور بے حسی کی چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ ا س لیے کسی کو انسانیت کی بنیادی قدروں کا کوئی احساس نہیں۔احساس اگر ہے تو پھر کم لوگوں میں ہی ہے۔آج کل کی فلموں کا مزاج یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔آج ٹیکنالوجی کا دور ہے اور فلم کے موضوع سے زیادہ ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔نفسانفسی کے اس دور میں آج کل کی فلمیں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔فلموں میں ولن کو اتنا سفاک دکھایا جاتا ہے کہ اس کی سفاکی کے پتھر سے انسانی قدروں کا محل لرزنا شروع کر دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے شائقین فلم کی ترجیحات بھی یکسر بدل چکی ہیں۔وہ مشینی زندگی گزارنے کے اصول سیکھ رہے ہیں۔اور یہ اصول انہیں صرف اورصرف اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کرنا سکھاتے ہیں۔ان مقاصد میں سب سے پہلے ایک بالکل مختلف اسلوب زیست ہے جس کی پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف پیسہ کمانا ہے۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کی اکثریت پر اگر زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن سوار رہے تو اس کے پیچھے ان کی معاشی مجبوریاں بھی ہیں۔ہم اپنے قارئین کو فلموں کے اس سنہری دور کے بارے میں بتائیں گے جب اکثر مائیں صرف اور صرف لوریوں کے لیے سینمائوں کا رخ کرتی تھیں۔ہندوستان اور پاکستان کی فلموں میں بہت اعلیٰ درجے کی لوریاں گائی گئیں اور ان کی پکچرائزیشن بھی شائقین پر گہرا تاثر چھوڑتی تھی۔کچھ لوریاں اس انداز میں گائی گئیں اور پھر ان کی عکس بندی بھی اتنی مہارت سے کی گئی کہ شائقین کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ جوشائقین زیادہ حساس ہوتے تھے ان کی بسا اوقات ہچکی بندھ جاتی تھی۔ شاعر،گلوکار اور موسیقار کی وہ مشترکہ کوشش ہوتی تھی جو شائقین کے دل کے تاروں کو چھو لیتی تھی۔ذیل میں ان مشہور زمانہ اور یادگار لوریوں کا تذکرہ کیا جائے گا جو ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔جن فنکاروں نے ان لوریوں کی تخلیق میں اپنا حصہ ڈالا ان کا نام بھی روشن رہے گا۔پاکستانی فلموں میں بہت اعلیٰ پائے کی لوریاں گائی گئیں۔میڈم نورجہاں کی اس لوری کو تو خصوصی مقام حاصل ہے’’چندا کی نگری سے آ جاری نندیا‘‘یہ ایک بے مثال لوری ہے جو اب تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 1966میں تین فلموں کی لوریوں نے شائقین فلم سے بہت پذیرائی حاصل کی۔ فلم ’’تصویر‘‘میں حمایت علی شاعر کی لکھی ہوئی اس لوری کو بلقیس بیگم نے گایا جبکہ خلیل احمد نے موسیقی ترتیب دی تھی۔اس کے بول تھے سوجا میری آنکھوں کے تارے‘‘فلم ’’مجبور‘‘میں مجیب عالم اور مالا کی گائی ہوئی یہ لوری بھی بہت پسند کی گئی’’آجا پیاری نندیا‘‘اس کی موسیقی تصدق حسین نے دی۔فلم ’’لوری‘‘ میں ثریا حید ر آبادی کی گائی ہوئی اس لوری نے دھوم مچا دی’’چندا کے ہندولے میں ‘‘اگر یہ کہا جائے کہ اس لوری کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے تو غلط نہ ہو گا۔فلم ’’زہرِ عشق‘‘ میں مسرت نذیر ،حبیب اور ببّو نے کمال کی اداکاری کی تھی۔خاص طور پر مسرت نذیر کی اداکاری نے سب کو چونکا کے رکھ دیا تھا۔اس فلم میں قتیل شفائی کی لکھی گئی اس لوری نے بہت مقبولیت حاصل کی۔’’سوجا ،سوجا لال ہمارے‘‘ اسے زبیدہ خاتم نے گایا تھا۔جبکہ خورشید انور نے موسیقی دی تھی مذکورہ بالا فلموں میں جو لوریاں پیش کی گئیں وہ یقینا اعلیٰ معیار کی تھیں۔شاعر،گلوکار اور موسیقار عوام کی توقعات پر پورا اترے ۔ ان لوگوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی فلمی صنعت اس میدان میں کسی سے کم نہیں۔یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ ایک پاکستانی پنجابی فلم ’’چن جی‘‘ میں بے بدل نغمہ نگار بابا عالم سیاہ پوش کی لکھی ہوئی یہ لوری بھی اپنی مثال آپ تھی۔‘‘لوری دیواں لال نوں‘‘اس لوری کو مالا نے گایا جبکہ منظور اشرف نے اسے اپنی خوبصورت موسیقی سے مزیّن کیا۔ایک طویل مُدت بیت گئی۔پاکستانی فلموں سے لوریاں غائب ہو گئیں لیکن وہ ہماری فلمی تاریخ کا حصّہ تو ہیں۔ہمیں اس شاندار کام پر اپنے شاعروں ،گلو کارائوں اور سنگیت کاروں کا ممنون ہونا چاہیے۔1940ء میں فلم ’’زندگی‘‘میں کے ایل سہگل نے لوری گائی۔اس کے شاعر کیدار شرما تھے۔جبکہ پنکچ ملک نے موسیقی ترتیب دی تھی۔1945ء میں میڈم نورجہاں نے فلم ’’زینت‘‘کے لے لوری گائی۔یہ لوری بہت مقبول ہوئی۔1951ء میں ہندوستانی اداکار و ہدایت کار بھگوان کی فلم ’’البیلا‘‘ ریلیز ہوئی جو شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔اس مشہور ِزمانہ فلم میں راجندر کرشن کی لکھی ہوئی لوری نے شائقین سے بہت پذیرائی حاصل کی۔اسے چتلکر اور لتا منگیشکر نے گایا تھا جبکہ سی رام چندر اس کے موسیقار تھے۔اس کے بول تھے ’’دھیرے سے آ جا اکھیوں میں‘‘ 1955 میں ریلیز ہونے والی فلم’’وچن‘‘میں آشا بھونسلے نے لوری گائی۔اس کی موسیقی روی نے دی تھی جبکہ یہ لوری لکھی بھی انہوں نے تھی۔لوری کے بول تھے’’چندا ماما دور کے‘‘ساحر لدھیانوی نے فلم ’’جیون جیوتی‘‘کے لیے ایک لوری لکھی جسے لتا منگیشکر نے گایا۔یہ لوری بھی عوام نے بہت پسند کی۔ضیا سرحدی کی فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ میں خیام کی موسیقی میں لوری ’’سوجا میرے پیارے‘‘آشا بھونسلے نے بڑے متاثر کن انداز میں گائی جسے عوام نے بہت پسند کیا۔بمل رائے کی بے مثال فلم ’’دو بیگھہ زمین‘‘میں شیلندر کی لکھی ہوئی لوری کو لتا منگیشکر نے اپنی خوبصورت آواز دی۔سلیل چودھری کی موسیقی نے بھی غضب ڈھا دیا۔ اس لوری کے بول تھے ’’آجا رے آنندیا تو آ‘‘ 1958ء میں ریلیز ہونے والی کامیاب فلم ’’لاجونتی‘‘ میں مجروح سلطان پوری کی لکھی گئی لوری ’’چندا رے چندا رے چھپے رہنا‘‘ بہت پسند کی گئی۔لاثانی آواز کی مالکہ گیتا دت نے بھی ایک لوری گائی۔یہ لوری انہوں نے بمل رائے کی فلم ’’سجاتا‘‘کے لیے گائی۔مجروح سلطانپوری کی لکھی ہوئی اس لوری کی موسیقی ایس ڈی برمن نے ترتیب دی تھی۔1966ء میں شمی کپور کی مشہور فلم ’’برہمچاری‘‘ میں محمد رفیع نے لوری گائی جو ان کے لازوال فن کی مثال ہے۔اس لوری کے بول تھے۔ ’’میں گائوتم سو جائو‘‘محمد رفیع نے ایک اور لوری 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’کوشش‘‘کے لے گائی جس کے بول تھے ’’سوجا بابا رے سوجا‘‘یہ گلزار کی فلم تھی۔یہ لوری بھی محمد رفیع کے فن کا ایک نادر نمونہ تھی۔اس کی موسیقی مدن موہن نے ترتیب دی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں یہ لوری ایک اندھے شخص پر پکچرائز کی گئی جبکہ فلم میں اس بچے کے ماں باپ (جیا بہادری اورسنجیوکمار) گونگے اور بہرے افراد کے روپ میں جلوہ گرہوئے تھے۔اندھے شخص کا کردار اوم شیوپوری نے ادا کیا تھا اور ان تمام اداکاروں نے اس فلم میں یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس لوری کو فلم بینوں نے بے حد پسند کیا۔فلم ’’سنجوک‘‘میں لتا منگیشکر نے ایک شاندار لوری گائی جسے چند بہترین لوریوں میں سے ایک کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔یہ لوری جیا پرادا پر پکچرائز کی گئی جس کے بول تھے’’یشودھا کا نندلالا۔’’زُوزُوزُو‘‘۔اسی طرح فلم ’’مکتی‘‘ کی یہ لوری بھی بہت پسند کی گئی جس کے بول تھے ’’للّا للّا لوری دودھ کی کٹوری‘‘۔ شاہ رخ خان کی فلم ’’سوا دیس‘‘ میں جاوید اختر کی لکھی ہوئی اس لوری کو بھی فلم بینوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی جس کے بول تھے ’’آہستہ آہستہ نندیا تو آ‘‘اسے اُدتّ نارائن اورسادھنا سرگم نے گایا تھا جبکہ اِس کی موسیقی اے آر رحمان نے دی تھی ۔ اور پھر وقت نے دھارا بدلا۔پاکستانی فلموں کی طرح بھارتی فلموں سے بھی لوریاں غائب ہو گئیں۔کیا لوری کلچر دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔٭…٭…٭