جدید اردو شاعری میں طنزومزاح کے سالار : ضمیر جعفری کی یاد میں !
اسپیشل فیچر
ضمیر جعفری نے ہمیشہ فکر و خیال کے نئے پہلو پیشِ نظر رکھے،اُن کی ظریفانہ شاعری اس امر پر اصرار کرتی ہے کہ ہوائے جور و ستم میں بھی رخ وفا کو بجھنے نہ دیا جائے********** ضمیر جعفری( اصل نام: ضمیر حسین شاہ) ابتدائی عمر ہی سے شگفتہ مزاج تھے ۔وہ یکم جنوری 1916ء کوایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اُن کا خاندان علم و ادب کے حوالے سے پورے علاقے میں منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔زمانہ ٔ طالب ِعلمی ہی میں ضمیر جعفری نے تخلیق ِادب کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ سکول کی بزم ِادب کے فعال اور مستعد رکن تھے۔حاضر جوابی اور گل افشانی ٔ گفتار اُن کے امتیازی اوصاف تھے ۔گورنمنٹ ہائی سکول جہلم سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک)میں انٹر میڈیٹ کلاس میں داخل ہوئے۔انٹرمیڈیٹ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ شہر ادب و ثقافت ،لاہور پہنچے اور اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔اُنھوں نے 1938ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور روزگار کی تلاش میں نکل پڑے۔ضمیرجعفری نے عملی زندگی کا آغازایک دفتر میں عام کلرک کی حیثیت سے کیا،تاہم بعد ازاں حکومت ِ پاکستان نے اُنھیںسی ڈی اے میں ڈائریکٹر تعلقات ِعامہ مقرر کیا ۔اُنھوں نے اس عہدے پر پندرہ برس تک خدمات انجام دیں۔وہ کچھ عرصہ پاکستان نیشنل سنٹر کے ڈپٹی ڈ ائریکٹر جنرل اور پھر وزارت ِبحالیات افغان مہاجرین میں مشیر مقرر ہوئے ۔اُن کی زندگی کا یادگار دَوروہ تھا، جب اُنھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان ،اسلام آباد میں اہم خدمات انجام دیں،وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے علمی و ادبی مجلے ’’ ادبیات‘‘ کے مدیر اعلیٰ مقرر ہوئے ۔اُنھوں نے اس مجلے کو معیار اور وقار کی رفعت سے آشنا کیا ۔ قومی ،علاقائی اور عالمی ادب کی نمایندہ تحریریں ادبیات کی زینت بنتی رہیں ۔پاکستانی ادیبوں کی فلاح کے متعد دمنصوبے اُنھوں نے تجویز کیے اور ادیبوں کو کتب اور مضامین کی رائلٹی جیسے اہم مسائل کو حل کرایا۔اُن کی گراں قدر علمی،ادبی اور ملّی خدمات کے اعتراف میں اُنھیںمندرجہ ذیل اعزازات سے نوازا گیا:1۔ہمایوں گولڈ میڈل (بہ دست سر شیخ عبدالقادر) 1936ء2۔تمغۂ قائد اعظم 1967ء3۔صدارتی تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی 1985ء ضمیر جعفری کی تصانیف کی تعداد پچاس کے قریب ہے ۔اُن کا کلام ہر سطح پر نصاب میں شامل ہے ۔دُنیا بھر کی جامعات میں اُن کی شخصیت اور فن پر عالمانہ تحقیقی کام کا سلسلہ جاری ہے۔ اُن کی ظریفانہ شاعری کی مندرجہ ذیل کتب بہت مقبول ہیں:’’ما فی الضمیر‘‘،’’مسدس بد حالی‘‘ ، ’’ولایتی زعفران‘‘،’’نشاطِ تماشا‘‘ (کلیات)۔جب برصغیر نو آبادیاتی نظام کے چنگل میں پھنس چکا تھا اور برطانیہ کے زیر تسلط تھااس عرصے میں دوسری عالمی جنگ اس خطے کے باشندوں کے لیے دوہرے عذاب کا باعث بن گئی۔مقامی باشندوں کو برطانوی فوج میں بھرتی کرکے برطانیہ نے اپنی جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا ۔اسی عرصے میں وہ برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور اُن کی تعیناتی جنوب مشرقی کمان میں بہ حیثیت کپتان ہوئی۔وہ شعبۂ تعلقات ِعامہ سے وابستہ تھے اور اس کمان کا ہیڈ کوارٹر سنگاپور میں تھا۔دوسری عالمی جنگ کے دوران اُنھیں فوجی خدمات کے سلسلے میں دُنیا کے متعدد ممالک کی سیاحت کا بھی موقع ملا۔اس دوران عالمی ادب،تہذیب و ثقافت، سماجی اور عمرانی مسائل کا اُنھوں نے عمیق مطالعہ کیا،جب 1947ء میں برطانوی اقتدار کا سورج غروب ہوا، تو اُنھوں نے پاکستان بری فوج میں خدمات انجام دیں، تاہم ذاتی وجوہ کی بنا پر وہ 1949ء میں فوج سے الگ ہو گئے اور صحافت سے وابستہ ہو گئے ۔ صحافت سے اُنھوں نے جو عہد ِوفا استوار کیا، تما م عمر اُسے نبھایا او رمختلف اوقات میں متعد اخبارات اور جراید میں کالم لکھتے رہے ۔اخبارات میں اُنھوں نے جو کالم تحریر کیے، اُن میں وہ نہایت خلوص اور دردمندی سے زندگی کی مقتضیات کو زیر بحث لاتے تھے۔ ضمیر جعفری نے ہمیشہ فکر و خیال کے نئے پہلو پیش نظر رکھے نئے تجربات ،متنوع مو ضوعات اور شگفتہ پیرایہ اظہار اُن کے اُسلوب کے امتیازی اوصاف ہیں ۔اُن کی شگفتہ بیانی اپنی اصلیت کے اعتبار سے جہاں ہماری معاشرتی زندگی کی ذہنی استعداد کی مقیاس ہے،وہاں اس میں ہماری تہذیبی ،ثقافتی ،معاشرتی اور عمرانی اقدار و روایات کا احوال بھی مذکور ہے۔اُنھوںنے اپنی ظریفانہ شاعری کے ذریعے اپنے عہد کے تمام ارتعاشات کو جس فنی مہارت ،خلوص اور دردمندی کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے، وہ ایک منفرد تجربے کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اُن کی ایک نظم ’’ بیماری کا نام ‘‘ ملاحظہ ہو :زندگی ہے مختلف جذبوں کی ہمواری کا نامآدمی ہے شلجم و گاجر کی ترکاری کا نامعلم الماری کا، مکتب چاردیواری کا نامملٹن اک لٹھا ہے، مومن خان پنساری کا نامصاف کالر کے تلے معقول اجلی سی قمیصہے بہت ہی مختصر سا میری دشواری کا ناماس نے کی پہلے پہل پیمائش صحرائے نجدقیس ہے در اصل اک مشہور پٹواری کا نامعشق ہرجائی بھی ہو تو درد کم ہوتا نہیںاک ذرا تبدیل ہو جاتا ہے بیماری کا ناممدتوں دزدیدہ، دزدیدہ نظر سے دیکھناعشق بھی ہے اک طرح کی چور بازاری کا نامبات تو جب ہے بدل جائے سرشت انسان کیورنہ لکھنے کو تو لکھ دو اونٹ پر لاری کا نامدل ہو یا دلیا ہو، دانائی کہ بالائی ضمیرؔزندگی ہے بعض اشیا کی خریداری کا نام ضمیر جعفری نے اپنی زندگی کو خوشیوں اور راحتوں سے متمتع کرنے کے لیے بڑی جد و جہد کی ۔اُن کے احباب کی بڑی تعداد نامور ادیبوں پر مشتمل تھی ۔اُن میں کرنل محمد خان،بریگیڈئیر صدیق سالک ،محمد اسماعیل صدیقی،نذیر احمد شیخ،محمد خالد اختر،ڈاکٹر بشیر سیفی،ڈاکٹر نثار احمد قریشی،ڈاکٹر رحیم بخش شاہین،ڈاکٹر محمد ریاض، پروفیسر نظیر صدیقی، مجید لاہوری ،محسن احسان ، خاطر غزنوی،غفار بابر ، سید جعفر طاہر اور محمود اختر سعید کے نام قابل ذکر ہیں ، یہ احباب اُن کی پہچان تھے اوروہ اُنھیں دل و جان سے عزیز رکھتے تھے ۔ ضمیر جعفری نے تمام عمر ظلم و جبر کے ہر انداز پر خلاف لکھنا اپنا شعار بنایا۔وہ ایسے موضوعات اور واقعات کا انتخاب کرتے ہیں جن میں زندگی کے تمام نشیب و فراز حقیقی صورت میں ظریفانہ شاعری کے قالب میں ڈھل کر ایک ہمدردانہ شعور کو اُجاگر کرتے ہیں ۔اس شاعری کو پڑھ کر ہر طبقے کے لوگ اپنائیت محسوس کرتے ہیں ۔ایک زیرک تخلیق کار کی حیثیت سے اُنھوں نے ممولے کو شہباز سے ہم کلام ہونے کی ترغیب دی اور پست و بلند کے جملہ امتیازات کو تیشہ مزاح سے نیست و نابود کر دیا۔اُن کی ظریفانہ شاعری کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے نہیں بل کہ اس شاعری کا موضوع اس قدر فراواں اور عام زندگی سے منسلک ہے کہ تمام انسانیت کے مسائل اس میں سمٹ آئے ہیں :پیدا کرو شوق سے لخت جگر، نور نظر پیدا کروظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کروارتقا تہذیب کا یہ ہے کہ پھولوں کی بجائےتوپ کے دھڑ، بم کے سر، راکٹ کے پر پیدا کرومیری دشواری کا کوئی حل مرے چارہ گروجلد تر، آسان تر اور مختصر پیدا کروتیرے شعر تر کو یہ اولاد آدم کیا کرےنے نوازی ہو چکی اب نیش کر پیدا کرو میری درویشی کے جشن تاج پوشی کے لیےایک ٹوپی اور کچھ مرغی کے پر پیدا کروحضرت اقبال کا شاہیں تو ہم سے اُڑ چکااب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو اُردو کی ظریفانہ شاعری کا یہ آفتاب کب غروب ہوا ،اس بابت محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض کہ مطابق ضمیر جعفری کی وفات12مئی جب کہ کچھ 16مئی1999ء کو مستند گردانتے ہیں۔تاہم اُن کی وفات سے اُردو کی ظریفانہ شاعری کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔اُن کی شاعری اُنھیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کر چکی اورلوحِ زماں پر اُن کا نام ہمیشہ ثبت رہے گا ۔ اُن کے بارے میں احباب یہ کہا کرتے تھے کہ وہ اس لیے ہنستے ہیں کہ کہیں دیدہ ٔ گریاں کی نہر اُنھیں بہا نہ لے جائے۔ اب سیل ِزماں نے ہمارے ہنستے بولتے چمن کو مہیب سناٹوں اور جان لیوا دکھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔بقول شاعر:برس گیا بہ خرابات آرزو تیرا غمقدح قدح تیری یادیں سبو سبو تیرا غم ٭…٭…٭