صفائی و پاکیزگی کی اہمیت
اسپیشل فیچر
اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے اس نے اپنے ماننے والوں کو صاف ستھر ارہنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام اہل ایمان کو ہر حال میں پاک وصاف رہنے کا حکم دیتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے گھر، اپنے گلی محلوں، شہر، بستی، وطن کو بھی پاک وصاف رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی حضور نبی کریم ؐکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ ان کے کپڑے میلے تھے یہ دیکھ کر محبوب کریم ؐنے ان سے دریافت کیا کہ ’’کیا تم مال دار ہو ؟‘‘صحابیؓ نے عرض کیا ،جی ہاں یارسول ؐاللہ!یہ جواب سن کر رسول کریم ؐنے ان کے مال کی تفصیل دریافت فرمائی تو انہوں نے خدمت اقدس میں عرض کیا،اللہ نے مجھے اونٹ ،بکریاں ،گھوڑے، لونڈیاں،اور غلام غرض ہر طرح کے مال سے نواز رکھا ہے۔ اس پر اللہ کے محبوب کریم ؐنے فر مایا ’’جب اللہ نے تمہیں مال ودولت سے نوازا ہے تو اس کا اثر بھی تم پر نظر آنا چاہیے۔‘‘ اسی طرح رسول کریم ؐنے اپنے ایک اور صحابی کو اس حال میں دیکھا کہ ان کا حلیہ پراگندگی کا شکار تھا اور بال بھی بکھرے ہوئے تھے۔ آپؐ نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا’’ اس سے اتنا نہیں ہوتا کہ سر کے بال درست کر لے۔‘‘ اسی طرح ان کے کپڑے میلے دیکھے تو فرمایا’’ کیا اسے پانی نہیں ملتا کہ اپنے کپڑے ہی دھو لے۔‘‘ صفائی ستھرائی ایک ایسا عمل ہے جو سرور کونین ؐکے مزاج اور طبیعت کا حصہ تھا اس لئے آپؐ کو ہر برائی اور ہر کراہت آمیز چیز سے نفرت تھی ۔ آپ ؐ کو صفائی و ستھرائی بہت پسند تھی اسی لئے آپؐ نے فرمایا کہ ’’ دین اسلام کی بنیاد صفائی ستھرائی پر رکھی گئی ہے‘‘۔ ایک مقام پر حضور پر نورؐ ؐنے فرمایا ’’صفائی ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ حضور پاک ؐنے چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی تلقین فرمائی مثلاً جمعہ کیلئے خاص طور پر غسل کی تاکید کی اور اس کا سبب یہی تھا کہ چھوٹی مسجد کے سبب گرم موسم میں نمازیوں کے پسینے کی بو سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپؐ نے ناخن اور فالتو بالوں کو صاف کرنے کا حکم دیا اور کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تاکید اور صفائی اور طہارت کے مسائل کو واضح بیان فرمایا۔ یہ تمام باتیں اس لئے کیں کہ صفائی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اسی طرح ہماری زندگی کا بھی حصہ بن جائے۔ اسلام نے ہمیں صفائی ستھرائی کے واضح احکامات دئیے ہیں اس لئے اس پہلو پر ہماری توجہ ہو نی ضروری ہے۔ اس صفائی میں وہ تمام پہلو شامل ہیں جو انسانی زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں البتہ ان کی اہمیت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اس صفائی میں انسان کے جسم کی صفائی شامل ہے اس کے کپڑوں کی صفائی شامل ہے اور یہاں تک کہ اس کے گھر محلے بستی شہر کی صفائی شامل ہے اور ہمارا رویہ اس کے بارے میں اصلاح کا تقا ضا کرتا ہے۔ ہم عام طورپر اپنے گھروں کو اندر سے صاف کر کے ان کے باہر گندگی پھینک دیتے ہیں۔ اپنا کوڑا کرکٹ پڑوسی کے دروازے پر پھینکنا کتنی غیر اخلاقی حرکت ہے۔اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اس سے ایذائے مسلم بھی ہو تی ہے اور یہ فعل لڑائی جھگڑے کا بھی سبب بنتا ہے۔ اسلام تو صفائی کو انسانی نظافت کا حصہ بنانا چاہتا ہے کیونکہ انسان کی ظاہری صفائی کا اس کے باطن پر بھی اچھا خاصا اثر پڑتا ہے ۔ دوسری طرف ظاہری پراگندگی باطنی خرابیوں کو جنم دیتی ہے۔ باطن انسانی جسم کا وہ غیر مرئی حصہ ہے جس پر انسانی طبیعت کا سارا دارومدار ہے ۔وہ تمام برائیاں جو انسانی طبیعت اور مزاج کو براہ راست متاثر کرتی ہیں ان کا تعلق انسان کے باطن سے ہی ہوتا ہے۔ یہ بات عام مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہے کہ صفائی اور نظافت انسان کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ جو شخص اپنی ذاتی زندگی میں نظافت پسند ہو تا ہے اس کے مزاج میں بھی نظافت ہوتی ہے اور اس کا اثر اس کے ہر پہلو سے ظاہر ہو تا ہے ۔وہ اپنے گھر پر بھی اثر انداز ہو تا ہے اور گھر سے باہر معاشرے پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں اور اس سے ملنے جلنے والے بھی اس کے مثبت اثر کو قبول کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف خود صفائی ستھرائی کو پسند کرتا ہے بلکہ عملی طور پر صحت و صفائی کا داعی بھی ہوتا ہے ۔اسی طرح نظافت پسند انسان صرف اپنے جسم اور لباس کے معاملے میں ہی صفائی کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی صفائی پسندی اپنا اثر دکھاتی ہے ۔اس کی نشت و برخاست، خلوت و جلوت، تحریر وتقریر،رہن سہن سبھی میں صفائی کے اثرات نظر آتے ہیں وہ لکھتا ہے تو صاف و ستھرے اسلوب میں، تقریر کرتا ہے تو فصاحت وبلاغت اس کی بلائیں لیتی ہے ،لوگوں سے ملاقات کرتا ہے تو شائستگی اس کا حوالہ بنتی ہے۔ کسی سے معاملہ کرتا ہے تو معاملے کی شفافعیت انسانوں کی اس بھیڑ میں اسے دوسرو ں سے ممتاز کرتی ہے اور یوں صفائی اور ستھرائی کی عادت ہر صورت میں اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کا صاف ستھرا نہ رہنا ایک سماجی برائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کی پراگندگی کا اثر صرف ا س کے ظاہر تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ متعدی ہو کر پہلے اس کے گھر اور پھر بتدریج پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ صفائی انسانی مزاج اور طبیعت کا خاصہ ہے جسے پروان چڑھانا ایک صحت مند معاشرے کیلئے ازحد ضروری ہے۔ اسی لئے اسلام صفائی کو اولین ترجیح دیتا ہے اور یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی حضور پاکؐ نے بہت تاکید فرمائی ہے۔ پھر اس بات کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گندگی بیماریوں کو جنم دیتی ہے اور ایک صاف ستھرا معاشرہ زیادہ بہتر طور پر بیماریوں سے محفوظ اور صحت مند رہ سکتا ہے ۔اسلام کو تو وہی معاشرہ مطلوب ہے جو برائیوں ،بیماریوں اور ہر طرح کی کمزریوں سے پاک ہو۔ اللہ ہمیں دین اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق زندگیاں بسر کرنے والا پکا مسلمان بنادے۔ آمین ٭…٭…٭