تعلقات پر اثرانداز ہونے والے عوامل؟
اسپیشل فیچر
تعلقات کے بنانے اور نبھانے میں متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان عوامل کے جواب میں ہر بندے کا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ اور یہ ہر بندے کی ہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ صورت حال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ اس سوال کا جواب اس لیے آسان نہیں ہے کہ انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت، مختلف صورتوں میں مختلف قسم کے ردعمل دیتا ہے۔ اس عمل کی بہتر تفہیم کا مناسب ترین راستہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ تعلقات کے ارتقا اور مفاد کے حوالے سے کون سے عوامل ہمارے تعلق پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں: ٭دولت :ہم میں سے ہر شخص اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ دولت کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دولت طاقت کا علامتی اظہار ہے۔ دولت زندگی کی سرگرمی کو متحرک رکھنے کا ایک اہم عامل ہے۔ اس کا استعمال گھر میں اور معاشرے میں دوسروں کو متاثر کرنے اور ان کو متحرک رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میںرہے کہ دولت لازمی نہیں کہ ہر شخص ایمانداری سے کماتا ہو۔ ہر شخص بھر پور کوشش کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمائے۔ بہت سے رشتے صرف دولت کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ دولت کا مطلب ہے کہ آپ کی قوت خرید کیا ہے اور آپ معاشرے میں کتنے محفوظ ہیں۔ بلاشبہ زیادہ دولت لالچ کو بڑھاوادیتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ راحت کا سامان بھی ہے۔ دولت انسان کی دیانت اور شخصی مضبوطی کا امتحان بھی لیتی ہے اور اکثر مواقع پر انسان اس کے لیے ضمیر کی آواز کو دبا دیتا ہے اور اخلاقی اقدار پامال کر دیتا ہے۔ زندہ رہنے کے لیے دولت ضروری ہے مگر جب لوگ اسی دولت کی پوجا کرنا شروع کر دیتے ہیں تو زندگی مشکل ہوتی جاتی ہے۔ یادرکھیں دولت غلام ہوتو بہتر ہے اور آقا بن جائے تو اذیت… ہمیشہ دولت کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں اور اچھے تعلق کے لیے بروئے کار لائیں۔ ٭عہدہ: اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ان لوگوں سے تعلقات بنانے میںگہری دلچسپی لیتے ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائزہوتے ہیں۔ ایسا گھروں میں بھی ہوتا ہے اور دفتروں اور سماجی سرگرمیوں میں بھی اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگ عہدوں کی قدر کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بنا کر رکھتے ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں تاکہ جب کبھی ضرورت پڑے ان لوگوں سے کام نکالا جائے۔ گھروں میں لوگ کوشش کرتے ہیں کہ گھر کے سربراہ سے بنا کر رکھیں تاکہ اس کی نظر عنایت ان پر زیادہ رہے۔ دفتروں میںکون ایسا ہو گاجو اپنے باس سے اچھے تعلقات بنا کرنہ رکھتا ہو؟ باس سے اچھے تعلقات کا مطلب ہے کہ آپ کی دفتری زندگی سہل اورمحفوظ ہے۔ سماجی زندگی میں آپ میں سے اکثر کوشش کرتے ہیں کہ بڑے لوگوں سے تعلقات ہوں تاکہ بوقت ضرورت انہیں استعمال کرکے زندگی کو پر سکون اور راحت بخش بنایا جا سکے۔ ٭ذاتی ضرورتیں: انسان کی ذاتی ضرورتیں بھی اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ تعلقات بناکر رکھے۔ یہ تعلقات مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص روحانی سکون کا متلاشی ہے تو اسے لازماً روحانی مدد کیے لیے کسی پیر یا رہبرکی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ کسی روحانی شخصیت سے تعلق بنائے گا… بعض غریب لوگ معاشی کفالت اور بوقت ضرورت مالی مدد کی خواہش کے تحت امیروں اور سخی مزاج دولت مندوں سے تعلق بنانا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ حالات ہوتے ہیں جو انسان کو تعلقات استوار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی مرضی کے خلاف بھی کچھ تعلقات بناتے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ امر ذہن میںرکھنا چاہیے کہ انسانی ضرورتیںبھی تعلقات کی تعمیر کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ٭محبت اور احتیاط :بعض لوگ فطرتاً رحمدل اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں سے محبت کرتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اس عمل سے معاشرے میں ان کے مداحوں کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ لوگ اس قسم کے لوگوں سے طویل المیعاد تعلقات بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کی فطرت میں رحم اور ہمدردی کے جذبات ہوتے ہیں ایسے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں خیر سگالی کا پیغام ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ چیز اچھے تعلقات کے قیام میں مدد گار ثابت ہوتی ہے چاہے یہ تعلقات گھر کی سطح پر ہوں، دفتر کی سطح پر یا معاشرے کی سطح پر۔ ٭ذاتی دلکشی :وہ لوگ جو دلکش، مہربان اور زندہ دل مزاج کے حامل ہوتے ہیں، دیگرلوگ ان میں دلکشی محسوس کرتے ہیں۔ ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے لوگوں سے اچھے تعلقات پیدا کرے۔ دلکشی فطری بھی ہو سکتی ہے اور اس خصوصیت کو پیدا بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ شخصیت جو حقیقتاً دلکشی کی حامل ہوتی ہے، اس کا انحصار فطری نیکی اور اس طاقت کے حقیقی ادراک پر ہوتا ہے جو ہرشخص میں موجود ہے۔ انسان کی ذات میں پنہاں اس حقیقی طاقت کو محنت اور کوشش سے ابھارا جا سکتا ہے۔ جب یہ صلاحیت کسی میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ دیر پا اور مثبت تعلقات بنانے میں کامیاب رہتا ہے۔(پریم پی بھالا کی کتاب ’’اچھے تعلقات کے رہنما اصول‘‘ سے ماخوذ)٭…٭…٭