آخر سپورٹس کا مقصد کیا ہے
اسپیشل فیچر
دیکھا جائے تو کسی بھی کھیل اور خاص طور پرکرکٹ کو خلوص کے ساتھ اسکے اصولوں اور روح کے مطابق کھیلا جائے تو یہ انسان کی ہر حوالے سے بہتری کا سبب بن سکتا ہے *****کرس کینز کو پہلی بار میں نے 1996ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف کھیلتے دیکھا تھا ۔اب پوری کرکٹنگ دنیا اسے دیکھ رہی ہے ۔دراز قد ،لمبے لمبے بال ،بیٹنگ میں بلند و بالا چھکے لگانے کی صلاحیت ،انتہائی طاقت ور کھیل ،بولنگ میں تیز رفتار بولر ،کینز ایک کرکٹر کی حیثیت سے کرشماتی شخصیت رکھتے ہیں ۔اب لو ونسنٹ فکسنگ میں شمولیت پر اعترافی بیان اور اس سے قبل برینڈن میک کلم کی گواہی دونوں ہی کینز کے گھنائونے کردار کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔گو کہ ابھی تک لیگل وجوہات کی وجہ سے اس ہیرو کھلاڑی کا نام باضابطہ طور پر نہیں لیا جا رہا ہے۔مگر آثار یہ بتا رہے ہیں کہ کینز کے خلاف کیس مضبوط سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔لندن پولیس بھی جلد ہی اسکے خلاف فرد جرم عائد کر سکتی ہے ۔اپنے بچپن کے فیورٹ کھلاڑی کے کرتوت دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔اب کینز کی کہانی کھلی تو پتہ نہیں کس کس کا نام آئے گا اورکون کون ملوث ہو گا ۔ یہاں پر لو ونسنٹ کی بہادری اور دلیری کو داد دینا چاہئے ۔ونسنٹ نے جس جرات کے ساتھ اپنے آپ کو مجرم تسلیم کیا ہے وہ ہر کوئی نہیں کر سکتا ۔ہمارے اپنے کھلاڑی صاف پکڑے جانے کے باوجود بھی ابھی تک اگر مگر کر رہے ہیں ۔بلکہ الٹا دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں ۔خیر پاکستان کا تو مزاج ہی نرالا ہے ۔اپنے سابقہ پاکستان بنگلہ دیش کو ہی دیکھ لیں ۔وہاں پر بھی اشرفل نے اپنی غلطی مانی ۔یہاں پر پکے مجرم سلیم ملک ابھی تک یہ نہیں کہہ سکے کہ وہ میچ فکسر تھے، یا فکسنگ میں ملوث رہے تھے ،موصوف ابھی تک اپنی بے گناہی پر مصر ہیں ۔ہانسی کرونئے کی مثال بھی ذہن میں آتی ہے ۔کرونئے سے ابھی بھی جنوبی افریقن شائقین محبت رکھتے ہیں ۔یقیناً ان سب کو علم ہے کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث تھے مگر اپنی حادثاتی موت یا قتل سے قبل وہ اپنے جرم پر سخت شرمندہ تھے ۔اسی اخلاقی جرات کی وجہ سے کرونئے ابھی تک نفرت کا نشانہ نہیں بنے ۔ کھیل میں فکسنگ اور بے ایمانی دیکھ کر یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر سپورٹس کا مقصد کیا ہے ؟کیا کرکٹ ،فٹ بال ،ٹینس،رگبی،گالف ،باکسنگ اور دیگر مقبول کھیل صرف کھیل تماشا ہی ہیں ؟کیا انکی معاشرے کے لئے تفریح کے علاوہ بھی کوئی اہمیت ہے ؟کیا کھیل انسان کے لئے اہم ہے کہ نہیں ؟ کیا یہ صرف جسمانی ورزش کے لئے ہی فائدہ مند ہے ؟کیا اسکا کوئی روحانی یاکوئی اخلاقی پہلو بھی ہے ؟کیا یہ کارپوریٹ سیکٹر کے لئے پیسے کمانے کا آسان راستہ ہے ؟کیا یہ حب الوطنی کو پروموٹ کرنے والا ایک آلہ ہے ؟لوگ کیوں کھلاڑیوں کو پسند کرتے ہیں ؟کیوں لوگ دیوانہ وار فین بن جاتے ہیں ؟کیا یہ صرف میڈیا کی چکا چوند ہے ؟آپ بھی ان سوالوں پر غور کریں اور انکے جوابات تلاش کریں ،میں بھی اپنی کوشش کرتا ہوں ۔ کھیل اپنی بنیاد میں صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہے ۔نہ ہی اسکا سارا فوکس صرف جسمانی بہتری پر ہے ۔نہ ہی یہ صرف بڑی بڑی کمپنیوں کے لئے منافع کا اہم ترین واسطہ ہے ۔نہ یہ صرف حب الوطنی کا استعارہ ہے ۔یہ تمام پہلو یقیناً آج کے کھیلوں میں موجود ہیں ۔بد قسمتی سے لفظ \'سپورٹ \' فرنچ زبان کے لفظ \'ڈسپورٹ \' سے ماخوذ ہے ،پتہ نہیں فرنچ میں اسکو کیسے بولتے ہوں گے بہر حال انگلش میں اسکا مطلب تفریح ہی ہے ۔اسی وجہ سے کھیل کو تفریح تک ہی محدود کر دیا گیا ہے ۔حالانکہ کھیلوں کی جنم بھومی چین جہاں سے کھیلوں کی تاریخ کا سب سے پہلا سرا ملتا ہے وہاں کھیل صرف تفریح نہیں ہے ۔ بلکہ اب بھی چین اور جاپان میں کھیل کی جسمانی اور تفریحی اہمیت کے ساتھ ساتھ اسکی جذباتی ،نفسیاتی اور روحانی ویلیو بھی ہے ۔مارشل آرٹس اور اس نوع کے دیگر کھیل اسی اصول پر کھڑے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو مذہب کا مقصد انسان کے جسم ،خوراک اور اخلاق کی تربیت ہے ۔چین اور جاپان کی تہذیبوں میں بھی مختلف کھیلوں کو اسی مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی کیا جاتا ہے ۔کھیل کی جسمانی تندرستی کے حوالے سے اہمیت تو مسلمہ ہے ہی ۔آج کل نیو ٹریشنل حوالوں سے بھی عمدہ ڈائٹ کا رجحان کھیل اور کھلاڑیوں میں خوراک کے توازن کو لے آیا ہے ۔پھر ٹیم سپرٹ،فتح ،شکست ،مشکلات،کامیابی ،نا کامی یہ تمام جذباتی پہلو ہیں جن سے انسان کو کھیل کے دوران گزرنا پڑتا ہے جو کہ آخر کار انسان کی جذباتی ،نفسیاتی اور روحانی بہتری پر ختم ہوتا ہے ۔اس پہلو سے اگر دیکھا جائے تو کسی بھی کھیل اور خاص کر کرکٹ کو اگر خلوص کے ساتھ اسکے اصولوں اور روح کے مطابق کھیلا جائے تو یہ انسان کی ہر حوالے سے بہتری کا سبب بن سکتا ہے۔کرکٹ کو خاص اس لئے کہا کہ کرکٹ ہے ہی ایک خاص کھیل ۔لوگ کہتے ہیں کہ کرکٹ فٹ بال کی طرح پوری دنیا میں کیوں عام نہیں ہے ؟اسکا جواب یہی ہے کہ یہ عام کھیل ہی نہیں ہے ۔ہر کوئی کرکٹ نہیں کھیل سکتا ۔اسکے لئے قدرت کی طرف سے کچھ نہ کچھ ٹیلنٹ ہونا لازمی ہے جو کہ باقی کھیلوں میں بھی ضرورت ہوتا ہے مگر کرکٹ میں اسکی علیحدہ ہی اہمیت ہے ۔خیر کرکٹ کے خاص ہونے پر پھر کبھی لکھا جائے گا فی الحال بروس لی کی اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ کھیل انسان کے اظہار کا اور اپنی آگاہی کی سیڑھی ہے ۔آگے چل کر یہ عظیم فائٹر اور فلمسٹار مارشل آرٹس کے حوالے سے کہتا ہے کہ اپنے آپ کو پانی کی طرح بنا لو ،پانی کسی کپ میں ہو گا تو کپ بن جائے گا کسی بوتل میں ہو گا تو بوتل بن جائے گا ۔ ٭٭٭٭