دکن کی اسلامی سلطنتیں 1500 ء سے 1657ء تک
اسپیشل فیچر
بہمنی سلطنت کے بگڑنے پر دکن میں پٹھانوں کی پانچ ریاستیں قائم ہوئیں۔ وسط میں بیدر، شمال میں برار اور احمد نگر اور جنوب میں بیجا پور اور گولکنڈہ، بیجا پور، احمد نگر اور برار تینوں مل کر قدیم دیوگری یا مہاراشٹر کی سلطنت کے برابر تھیں۔ 1489ء میں یوسف عادل شاہ نے دکن کے مغربی حصے مہاراشٹر میں بیجا پور کی ریاست قائم کی۔ وہ مراد سلطان دوم کا بیٹا تھا۔ باپ کی وفات پر بھائی نے یوسف کو قتل کرنا چاہا مگر ماں نے جان بچانے کے خیال سے اسے فارس بھیج دیا تھا۔ یوسف غلامی کے حلقے میں آ کر فروخت ہوا اور بہمنی سلطان کے دربار میں پہنچا۔ یہاں عہدے پر عہدہ اور منصب پر منصب حاصل کر کے بیجاپور کا حاکم مقرر ہوا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب بہمنی سلطان کمزور ہو گیا ہے تو خود بیجا پور کا بادشاہ بن بیٹھا۔ علی عادل شاہ جس نے مشہور ملکہ چاند بی بی سے شادی کی تھی۔ اسی خاندان سے تھا۔ چاند بی بی نظام شاہ والیٔ احمد نگر کی بیٹی تھی۔ اس نے انتظام مملکت میں اپنے شوہر کی بڑی مدد کی اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساتھ میدان جنگ میں جاتی تھی۔ یہ عورت کھلے دربار میں بیٹھ کر سلطنت کا کاروبار کرتی تھی۔ رعایا برایا سب اس کی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ اورنگ زیب کے عہد میں سیواجی مرہٹہ مہاراشٹر کا راجہ ہوا اور بیجا پور کا بہت سا علاقہ اس نے اپنی قلمرو میں شامل کر لیا۔ 1686ء میں خود اورنگزیب نے بیجا پور پر حملہ کیا اور اسے فتح کر کے عادل شاہی خاندان کا خاتمہ کر دیا۔ احمد نگر کی سلطنت کا آغاز بھی بیجاپور کے ساتھ ساتھ 1489ء میں ہوا تھا۔ اس کا بانی نظام شاہ تھا۔ اس کا باپ اصل سے برہمن تھا، جو لڑکپن میں کر مسلمان ہو گیا تھا۔ اس نے احمد نگر آباد کیا اور سات برس کے محاصرے کے بعد دولت آباد فتح کیا۔ 1595ء میں شہنشاہ اکبر کے بیٹے مراد نے احمد نگر کا محاصرہ کیا۔ اس وقت احمد نگر کا کوئی بادشاہ نہ تھا۔ اس لیے احمد نگر کے لوگوں نے چاند بی بی سے جس کی عمر اس وقت 50 سال کی تھی۔ درخواست کی کہ آپ اس سلطنت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیں۔ چاند بی بی احمد نگر آئی اور بیجاپور کے بادشاہ کو لکھا کہ مغلوں کے پسپا کرنے میں اس کی مدد کرے۔ احمد نگر کی فصیل کی مرمت اور درستی کی اور فوج کو لے کر خود دشمن کے مقابلے پر آکھڑی ہوئی۔ مغلوںنے سرنگ لگا کر قلعے کی دیوار اڑا دی اور چاہا کہ اس راہ سے اندر گھس جائیں اور قلعہ لے لیں، مگر چاند بی بی سر تا پا زرہ بکتر پہنے ہاتھ میںتلوار لیے رخنے پر موجود تھی اور غنیم کے جو سپاہی قریب آتے تھے، خود ان کو پیچھے ہٹاتی تھی۔ احمد نگر کے لوگوں نے جب اس عورت کو اس ہمت اور جسارت کے ساتھ لڑتے دیکھا تو ان کے سینوں میں غیرت نے جوش مارا اور مغلوں کی فوج سے ایسے کٹ کٹ کر لڑے کہ آخر کار وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی۔ چاند بی بی نے راتوں رات فصیل کا رخنہ بند کرا دیا۔ صبح ہوتے ہی خبر آئی کہ بیجاپور کا بادشاہ فوج لیے اس کی کمک کو آتا ہے۔ مراد نے چاند بی بی کے ساتھ صلح کر لی اور برار کا علاقہ لے کر احمد نگر سے بالکل ہاتھ کھینچ لیا۔ کچھ دنوں بعد ایک سیاہ بخت باغی نے ملکہ چاند بی بی کو قتل کر دیا۔ پھر شہنشاہ اکبر خود دکن گیا اور احمد نگر کا قلعہ فتح کر لیا لیکن اس کے پیٹھ پھیرتے ہی ملک عنبر نے سارا ملک مغلوں کے پنجے سے چھڑا کر اپنے قبضے میں کر لیا۔ آخر کار شاہجہاں کے عہد میں ملک عنبر کے بیٹوں نے یہ ملک مغلوں کے حوالے کر دیا۔ گولکنڈے کی بِنا ایک ایرانی قطب شاہ نے 1510ء میں ڈالی تھی۔ اس کے جانشین محمد شاہ نے حیدر آباد بسایا۔ 1687ء میں اورنگزیب نے گولکنڈے کا محاصرہ کر لیا۔ قلعہ بند لوگوں نے محاصرین کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا مگر آخر کار گولکنڈہ فتح ہوا اور کل ملک سلطنتِ مغلیہ میں شامل ہوا۔ بیدر کی سلطنت کا بانی قاسم برید تھا جو شروع شروع میں ایک غلام تھا۔ یہ آخری بہمنی سلطان محمود کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے آقا کو قید کیا۔ اس کے خاندان کے ساتویں فرمانروا کے عہد میں سلطان بیجاپور نے بیدر کو فتح کیا اور 1688ء میں اورنگزیب نے بیدر کا قلعہ لے لیا۔ برار کی سلطنت سب سے چھوٹی تھی۔ اس کی بنیاد 1484ء میں عماد الملک نے ڈالی تھی۔ یہ کنڑا کا برہمن تھا جو بہمنی سلطان اور بجے نگر کے راجہ کی لڑائی میں قید ہوا تھا۔ اس نے دینِ اسلام اختیار کیا۔ عہدے پر عہدہ اور منصب پر منصب حاصل کرتا ہوا یہاں تک پہنچا کہ برار کا حاکم مقرر ہوا اور آخر کار وہاں کا بادشاہ بن بیٹھا۔ اس کا دارالخلافہ ایلج پور تھا۔ برار کا ملک 1572ء میں شاہ احمد نگر کے ہاتھ سے فتح ہوا اور پھر آخری عمر میں شہنشاہ اکبر نے اسے فتح کیا۔ 1565ء میں دکن کے چار مسلمان بادشاہوں نے مل کر بجے نگر کے ہندو راجہ رام راجہ پر جو بڑا ظالم اور مغرور تھا، حملہ کیا۔ دریائے کرشنا کے کنارے تلی کوٹ کے مقام پر بڑی بھاری لڑائی ہوئی۔ مسلمان غالب آئے۔ لاکھ کا خون ہوا اور شہر بجے نگر برباد اور تباہ ہوگیا۔ دریائے کرشنا کے جنوب میں بجے نگر کے راجہ کی طرف سے جتنے ہندو نائک اور پالیکار حکومت کرتے تھے، سب اپنے اپنے علاقے کے راجا ہو گئے۔ جو تشدد پٹھان بادشاہوں نے روا رکھا۔ اس کا ذکر پڑھتے ہوئے یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اس زمانے میں کیا ایشیا، کیا یورپ، بلکہ ساری دنیا کے بادشاہ ویسے ہی سخت گیر اور جابر تھے۔ وہ زمانہ ہی فساد، خونریزی اور جنگ و غارت کا عہد تھا۔ خدا کے فضل و کرم سے ہم امن و صلح کے زمانے میں رہتے ہیں، لیکن یہ اس زمانے کے لوگوں کی بدنصیبی تھی کہ انہیں وہ سب مصیبتیں جھیلنی پڑیں جن کا ذکر ہو چکا ہے۔(ای - مارسڈن کی کتاب ’’تاریخِ ہند‘‘ترجمہ:لالہ جیا رام/خلیفہ عماد الدین)٭…٭…٭