آلو بخار
اسپیشل فیچر
گٹھلی والا رسیلاپھل آلو بخارا مختلف رنگوں اور سائز میں ملتا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ مشہور قسموں میں پیلے رنگ والی اور کالے نیلے رنگ والی قسمیں شامل ہیں۔اس کی کلاؤڈ یا نامی قسم ہلکے یا گہرے سبزرنگ یا جامنی رنگ کی ہو تی ہے اور اسے ایک بہت ہی شاندار پھل تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ آلو بخارا خاص طور پر ایک لکجیٹو( پیٹ صاف کرنے والا) کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب انہیں اچھی طرح دھو کر چھلکے سمیت کھایا جاتا ہے۔ ان میں ریشہ بھی موجود رہتا ہے۔ جو انتڑیوںکو صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آلو بخارا کا استعمال پوری طرح پکے ہونے پر ہی کیا جانا چاہئے کیونکہ جب یہ سبز یعنی خام شکل میں ہوتے ہیں تو اپچ کی وجہ سے یہ ڈایریا پیدا کرسکتے ہیں۔ انہیں پکے طور پر ہی خرید نا چاہئے کیونکہ درختوں سے توڑے جانے کے بعد بھی یہ دوسرے پھلوں کی طرح پکے نہیں ہوتے۔اقسام:دنیا بھر میں آلو بخاروں کی دو ہزار قسمیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر سال کے الگ الگ وقت پر پکتی ہیں۔ گرمی کے موسم اور پت جھڑ میں آلو بخاروں کی صرف 12قسمیں ہی بازاروں میں ملتی ہیں۔ اس کی جاپانی قسم کے پھل بہت بڑے گول اور رس دار ہوتے ہیں۔ یہ لال جامنی اور سنتری گودے والے یا پیلے سنتری پیلے گودے والے ہو سکتے ہیں۔اس کا گہرے رنگ والا چھلکا عام طور پر بہت تلخ ہوتا ہے لیکن پیلا اور لال چھلکا بہت میٹھا ہوتا ہے۔ غذائی اقدار:آلو بخارہ بہت ہی رس دار، میٹھا، اچھی خوشبووالا پھل ہے۔ اس کی گٹھلی میں دو بیج ہوتے ہیں۔ یورپی آلو بخارہ کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلی کو زمرہ کو ئین کلاؤڈیا ، دوسری کو انڈاکار اور تیسری کو ڈی ہائڈر یٹ فروٹ تیار کرنے والا کہا جاتا ہے۔ ڈی ہائڈریشن کے لئے تیار کئے جانے والے آلو بخاروں کو مخصوص درجہ دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا سائز لمبا ہوتا ہے۔ رنگ جامنی ہوتاہے اور ان میں شوگر کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ ملکہ کلاؤڈیا زردیا سرخ ہوتا ہے۔ ان کا بیرونی چھلکا نرم اور چمکدار ہوتا ہے۔ انڈا آکارآلوبخارا کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ ان کا رنگ زرد سے لے کر لال تک ہوتا ہے۔ اور ان کا سائز بالکل انڈے جیسا ہوتا ہے۔غذائی حقیقت:آلوبخارو ںمیں شوگر کی شرح زیادہ مقدار میںپائی جاتی ہے۔ ان میں وٹامنز بھی بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا خاص مقوی جزوپوٹاشیم ہے۔ اس میں فائٹوسٹیرولس نامی جز ہوتے ہیں جو اینٹی وائرس یا اینٹی بیکٹیریل کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ کسی پھل کے مقابلے آلو بخارے میں زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس پائے جاتے ہیں۔ 100گرام آلو بخارا میں تقریباً 46کیلوریز پائی جاتی ہے۔فوائد:٭چونکہ آلوبخاروں میں شوگر کی مقدار زیاد ہ ہوتی ہے اس لئے یہ تو انائی کا بہت عمدہ ذریعہ بھی ہیں۔ اسی لئے جو لوگ زیادہ جسمانی کام کرتے ہیں یا جو کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں انہیں ان کے استعمال کی سفارش کی جاتی ہے۔ ا ن کا استعمال آریٹریل ہائپرٹینشن ، سیریبرووسکلر حادثات اور ڈلیوری کی علامات کو روکنے کے لئے کیا جاتا ہے۔٭ تازہ یا ڈی ہائڈریٹڈ آلو بخارا ایک بہت ہی شاندار قدرتی لیگجیٹو( پیٹ صاف کرنے والا ) ہے۔ 2یا3آلو بخارے لیں۔ رات بھر کے لئے انہیں ایک گلاس پانی میں ڈبوکر رکھ دیں اور اگلے دن ناشتے سے پہلے اس پانی کو پی لیں۔ جو حاملہ خواتین اور بچے قبض کے مسئلے سے دوچار رہے ہوں انہیں اس کا مشورہ دیا جانا چاہئے۔٭٭٭